ذکر الہی کی فضیلت کا بیان
قَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِکُمْ وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِکُمْ وَأَزْکَاهَا عِنْدَ مَلِيکِکُمْ وَخَيْرٍ لَکُمْ مِنْ إِعْطَائِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَخَيْرٍ لَکُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّکُمْ فَتَضْرِبُوا أَعْنَاقَهُمْ وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَکُمْ قَالُوا بَلَی قَالَ ذِکْرُ اللَّهِ تَعَالَی عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ مَا عَمِلَ ابْنُ آدَمَ مِنْ عَمَلٍ أَنْجَى لَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ
ابو الدردا نے کہا کیا تم کو نہ بتاؤں وہ کام جو تمہارے سب کاموں سے بہتر ہے تمہارے لئے اور درجہ میں سب سے زیادہ بلند ہے اور تمہارے مالک کے نزدیک سب کاموں سے زیادہ عمدہ ہے اور بہتر ہے سونا اور چاندی خرچ کرنے سے اور بہتر ہے اس سے کہ تم اپنے دشمن سے لڑ کر اس کی گردن مارو اور وہ تمہاری گردن مارے کہا صحابہ نے ہاں بتاؤ کہا انہوں نے ذکر اللہ سبحانہ کا۔ معاذ بن جبل نے کہا آدمی نے کوئی عمل ایسا نہیں کیا جو زیادہ نجات دینے والا ہو اس کو اللہ کے عذاب سے سوا ذکر الٰہی کے۔
Yahya related to me from Malik that Ziyad ibn Abi Ziyad said that Abud-Darda had said, "Shall I not tell you the best of your deeds, and those that give you the highest rank, and those that are the purest with your King, and are better for you than giving gold and silver, and better for you than meeting your enemy and striking their necks?" They said, "Of course." He said, "Remembrance (dhikr) of Allah ta ala."
ذکر الہی کی فضیلت کا بیان
عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ أَنَّهُ قَالَ کُنَّا يَوْمًا نُصَلِّي وَرَائَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنْ الرَّکْعَةِ وَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَالَ رَجُلٌ وَرَائَهُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ حَمْدًا کَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَکًا فِيهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ الْمُتَکَلِّمُ آنِفًا فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ مَلَکًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَکْتُبُهُنَّ أَوَّلا
رفاعہ بن رافع سے روایت ہے کہ ہم ایک روز نماز پڑھ رہے تھے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے تو جب سر اٹھایا آپ ﷺ نے رکوع سے اور کہا سمع اللہ لمن حمدہ ایک شخص بولا ربنا لک الحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ پس جب فارغ ہوئے رسول اللہ ﷺ نماز سے فرمایا کون شخص بولا تھا ابھی اس شخص نے کہا میں تھا یا رسول اللہ ﷺ تب فرمایا آپ ﷺ نے میں نے دیکھا کہ تیس سے زیادہ کچھ فرشتے جلدی کر رہے تھے کہ کون پہلے لکھے اس کو۔
Malik related to me from Nuaym ibn Abdullah ibn al-Mujmir from AIi ibn Yahya az-Zuraqi from his father that Rifaa ibn Rafi said, "One day we were praying behind the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, when the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, raised his head from ruku and said, Allah hears the one who praises Him (Sami Allahu liman hamidah). A man behind him said, Our Lord, praise belongs to you - blessed, pure and abundant praise (Rabbana wa lakal hamd kathiran tayiban mubarakan fihi). When the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, had finished, he said, Who was it who spoke just now? The man said, I did, Messenger of Allah, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, I saw more than thirty angels rushing to it to see which one of them would record it first. "
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِکُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ يَدْعُو بِهَا فَأُرِيدُ أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي فِي الْآخِرَةِ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ہر نبی کے لئے ایک دعا مقرر ہے جو ضرور قبول ہوتی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس دعا کو اٹھا رکھوں اپنی امت کی شفاعت کے واسطے دن آخرت کے۔
Yahya related to me from Malik from Abuz-Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Every prophet is given a supplication (dua), and I wish to preserve my dua as intercession for my community in the next world.
عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فَيَقُولُ اللَّهُمَّ فَالِقَ الْإِصْبَاحِ وَجَاعِلَ اللَّيْلِ سَكَنًا وَالشَّمْسِ وَالْقَمَرِ حُسْبَانًا اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ وَأَغْنِنِي مِنْ الْفَقْرِ وَأَمْتِعْنِي بِسَمْعِي وَبَصَرِي وَقُوَّتِي فِي سَبِيلِكَ
یحییٰ بن سعید کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ دعا مانگتے تھے پس فرماتے تھے اے اللہ پیدا کرنے والے صبح کو اور رات کو راحت بنانے والے اور سورج اور چاند کے حساب سے چلانے والے ادا کر تو قرض میرا اور غنی کر مجھ کو محتاجی سے اور فائدہ دے مجھ کو میرے کان اور آنکھ سے اور میری قوت سے اپنی راہ میں۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that he had heard that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to say the following dua, "O Allah, it is You who makes the dawn break and makes the night a time for rest and appoints the sun and moon to reckon by. Relieve me of debt and enrich me from poverty and let me enjoy my hearing, my sight and my strength in Your way." Allahumma faliqal isbah, wa ja ilal-layli sakana, wash-shamsi wal-qamari husbana. Iqda anniy addayna, waghnaniy minal faqr. Namti aniy bi samiy wa basariy, wa quwwatiy fi sabilik.
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقُلْ أَحَدُکُمْ إِذَا دَعَا اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ لِيَعْزِمْ الْمَسْأَلَةَ فَإِنَّهُ لَا مُکْرِهَ لَهُ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کوئی تم میں سے دعا کرے تو یوں نہ کہے یا اللہ بخش دے مجھ کو اگر چاہے تو اور رحم کر ہم پر اگر چاہے تو بلکہ یوں کہے بخش دے مجھ کو اس لئے کہ اللہ جل جلالہ پر کوئی جبر کرنے والا نہیں ہے۔
Yahya related to me from Malik from Abuz Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, When you are making dua do not say; O Allah, forgive me if You wish. O Allah, forgive me if you wish. You should be firm in your asking, for there is no compelling Him."
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُسْتَجَابُ لِأَحَدِکُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ فَيَقُولُ قَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِي
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے دعا قبول ہوتی ہے جب تک دعا مانگنے والا جلدی نہ کرے اور یہ کہنے لگے کہ میں نے دعا کی سو دعا میری قبول نہ ہوئی۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Abu Ubayd, the mawla of Ibn Azhar, from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "You will be answered as long as you are not impatient and say, I have made a dua and I have not been answered . "
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَتَعَالَی کُلَّ لَيْلَةٍ إِلَی السَّمَائِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَی ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ فَيَقُولُ مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اترتا ہے رب ہمارا ہر رات کو آسمان دنیا تک جب تہائی رات باقی رہتی ہے سو فرماتا ہے کون شخص ہے جو دعا کرے مجھ سے اور قبول کروں میں دعا اس کی، کون شخص ہے مانگے مجھ سے پس دوں میں اس کو، کون شخص ہے جو بخشش چاہے مجھ سے سو بخش دوں اس کو۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Abu Abdullah al-Agharr and from Abu Salama from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Our Lord, the Blessed and Exalted, descends every night to the heaven of this world when the last third of the night is still to come and says, Who will call on Me so that I may answer him? Who will ask Me so that I may give him? Who will ask forgiveness of Me so that I may forgive him? "
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ کُنْتُ نَائِمَةً إِلَی جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَقَدْتُهُ مِنْ اللَّيْلِ فَلَمَسْتُهُ بِيَدِي فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَی قَدَمَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ يَقُولُ أَعُوذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَبِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوبَتِکَ وَبِکَ مِنْکَ لَا أُحْصِي ثَنَائً عَلَيْکَ أَنْتَ کَمَا أَثْنَيْتَ عَلَی نَفْسِکَ
محمد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ ام المومنین نے کہا میں سو رہی تھی رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں سو نہ پایا میں نے ان کو پس چھوا میں نے آپ کو تو رکھا میں نے ہاتھ آپ ﷺ کے قدموں پر اور آپ ﷺ سجدہ میں تھے فرماتے تھے پناہ مانگتا ہوں ہو تیری رضامندی کی تیرے غصے سے اور تیری عفو کی تیرے عتاب سے اور تجھ سے میں تیری تعریف نہیں کرسکتا تو ایسا ہے جس طرح تو نے اپنی تعریف خود کی ہے۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Muhammad ibn Ibrahim ibn al-Harith at-Taymi that Aisha, umm al-muminin said, "I was sleeping by the side of the Messenger of Allah, mayAllah bless him and grant him peace, and I missed him in the night, so I felt for him with my hand and I put my hand on his feet and he was in sajda saying, I seek refuge in Your pleasure from Your wrath, and in Your pardon from Your punishment, and in You from You. I cannot enumerate Your praises as You praise Yourself. " Audhu bi ridaka min sakhatika, wa bi muafatika min uqubatika wa bika minka, la uhsiy thanaan alayka, anta kama athnayta ala nafsika.
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ کَرِيزٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْضَلُ الدُّعَائِ دُعَائُ يَوْمِ عَرَفَةَ وَأَفْضَلُ مَا قُلْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ مِنْ قَبْلِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيکَ لَهُ
طلحہ بن عبیداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا افضل دعاؤں میں دعا عرفہ کے دن کی ہے اور افضل ان سب کلمات میں جو میں نے کہے ہیں اور اگلے پیغمبروں نے لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے۔
Yahya related to me from Malik from Ziyad ibn Abi Ziyad from Talha ibn Ubaydullah ibn Kariz that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The best dua is dua on the day of Arafa, and the best thing that I or the Prophets before me have said is There is no god but Allah, alone, without any partner (La ilaha illallah, wahdahu la sharika lah.)"
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَائَ کَمَا يُعَلِّمُهُمْ السُّورَةَ مِنْ الْقُرْآنِ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سکھاتے تھے ان کو یہ دعا جیسے سکھاتے تھے ان کو ایک سورت قرآن کی فرماتے تھے اے اللہ پناہ مانگتا ہوں میں تیری جہنم کے عذاب سے اور پناہ مانگتا ہوں تیری دجال کے فتنہ سے اور پناہ مانگتا ہوں تیری زندگی اور موت کے فتنہ سے۔
Yahya related to me from Malik from AbuzZubayr al-Makki from Tawus al-Yamani from Abdullah ibn Abbas that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to teach this dua in the same way that he would teach them a sura of the Quran, "O Allah, I seek refuge in You from the torment of Jahannam, and I seek refuge in You from the trial of the Dajjal, and I seek refuge in You from the trial of life and death." Allahumma inniy audhu bika min adhabi jahannama, wa audhu bika min adhabil-qabri, wa audhu bika min fitnatil-mahya wa mamati.
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا قَامَ إِلَی الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَکَ الْحَمْدُ أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُکَ الْحَقُّ وَوَعْدُکَ الْحَقُّ وَلِقَاؤُکَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ اللَّهُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ وَبِکَ آمَنْتُ وَعَلَيْکَ تَوَکَّلْتُ وَإِلَيْکَ أَنَبْتُ وَبِکَ خَاصَمْتُ وَإِلَيْکَ حَاکَمْتُ فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کھڑے ہوتے نماز کو عین رات میں فرماتے یا اللہ سب تعریفیں تیرے لئے ہیں، تو نور ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور سب تعریفیں تیرے لئے ہیں اور تو ہی قائم رکھنے والا ہے آسمانوں اور زمینوں کو اور سب تعریفیں تیرے لئے ہیں اور تو ہی پروردگار ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور ان کا جو آسمان اور زمین کے بیچ میں ہیں تو حق ہے تیرا قول سچا ہے تیرا وعدہ برحق ہے تجھ سے ملنا حق ہے جنت و جہنم حق ہے قیامت حق ہے اے پروردگار تیرے حکم کا میں تابعدار ہوں اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھ ہی پر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف متوجہ ہوا اور تیری مدد سے میں لڑا کفار سے اور تجھ کو میں نے حاکم بنایا جب اختلاف ہوا سو بخش دے میرے اگلے اور پچھلے اور چھپے اور کھلے گناہ تو میرا معبود ہے تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے۔
Yahya related to me from Malik from Abuz Zubayr al-Makki from Tawus al-Yamani from Abdullah ibn Abbas that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to say, when he rose for prayer in the middle of the night, "O Allah, praise belongs to You. You are the light of the heavens and the earth and praise belongs toYou.You are the Sustainer of the heavens and the earth and praise belongs to You. You are the Lord of the heavens and the earth and whoever is in them. You are the Truth, and Your words are true. Your promise is true, and the meeting with You is true. The Garden is true and the Fire is true and the Hour is true. O Allah, I submit toYou and I accept You and I trust in You and I turn to You and I argue by You and I summon toYou for judgement. Forgive me what I have sent before me and what I have left behind, what I have kept secret and what I have proclaimed, You are my god - there is no god but You." Allahumma lakal-hamdu anta nurus-samawati wal-ardi, wa lakal-hamdu anta qayamus-Samawati wal-ardi, wa lakal-hamdu anta rabbus-Samawati wal-ardi,wamanfihina.Antal-haqqu,waqawlukalhaqqu, wa wadukal-haqqu, wa liqauka haqqun, wa jannatu haqqun, wa naru haqqun, wa sactu haqqun. Allahumma laka aslamtu, wa bikaamantu, waalayka tawakaltu, wa ilayka anabtu, wa bika khasamtu, wa ilayka hakamtu, faghfirliy ma qadamtu wa akhartu wa asrartu, wa alantu. Anta ilahiy, la ilaha illa ant.
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيکٍ أَنَّهُ قَالَ جَائَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فِي بَنِي مُعَاوِيَةَ وَهِيَ قَرْيَةٌ مِنْ قُرَی الْأَنْصَارِ فَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ أَيْنَ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَسْجِدِکُمْ هَذَا فَقُلْتُ لَهُ نَعَمْ وَأَشَرْتُ لَهُ إِلَی نَاحِيَةٍ مِنْهُ فَقَالَ هَلْ تَدْرِي مَا الثَّلَاثُ الَّتِي دَعَا بِهِنَّ فِيهِ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَأَخْبِرْنِي بِهِنَّ فَقُلْتُ دَعَا بِأَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ وَلَا يُهْلِکَهُمْ بِالسِّنِينَ فَأُعْطِيَهُمَا وَدَعَا بِأَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ فَمُنِعَهَا قَالَ صَدَقْتَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَلَنْ يَزَالَ الْهَرْجُ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ
عبداللہ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر ہمارے پاس آئے بنی معاویہ میں اور وہ ایک گاؤں ہے انصار کے گاؤں میں سے تو پوچھا مجھ سے تم کو معلوم ہے کس جگہ پر نماز پڑھی رسول اللہ ﷺ نے میں نے کہا ہاں عبداللہ بن عمر نے کہا بتاؤ مجھ کو میں نے کہا دعا کی آپ ﷺ نے اس امر کی، کہ مسلمانوں پر کوئی دشمن ان کی غیر قوم کا یعنی کافروں میں سے مسلط نہ کرنا اور ان کو قحط سے ہلاک نہ کرنا تو یہ دونوں دعائیں قبول ہوگئیں تیسری دعا یہ ہے کہ مسلمانوں کی آپس میں خون اور جنگ نہ ہو تو یہ دعا قبول نہ ہوئی عبداللہ بن عمر نے کہا سچ کہا تو نے پھر کہا کہ اب قیامت تک فساد آپس میں چلتا جائے گا
Yahya related to me from Malik that Abdullah ibn Abdullah ibn Jabir ibn Atik said that Abdullah ibn Umar had come to them in Bani Muawiya, one of the villages of the Ansar, and said, "Do you know where the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, prayed in this mosque of yours? "I told him, "Yes," and I pointed out a place near where he was. He said, "Do you know the three things for which he made dua here?" I said "Yes." He said, "Tell me them then." I said, "He asked that He would not make an enemy from among the non-believers triumph over the believers and that He would not destroy the believers by bad harvests, and he was given both these things. And he asked that He would not make the believers fight among themselves, and that was refused." Ibn Umar (RA) said, "You have told the truth," and he added, "Turmoil will not cease until the day of rising."
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ مَا مِنْ دَاعٍ يَدْعُو إِلَّا کَانَ بَيْنَ إِحْدَی ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ يُسْتَجَابَ لَهُ وَإِمَّا أَنْ يُدَّخَرَ لَهُ وَإِمَّا أَنْ يُکَفَّرَ عَنْهُ
زید بن اسلم سے روایت ہے وہ کہتے تھے جو شخص دعا کرتا ہے تو اس کی دعا تین حال سے خالی نہیں ہوتی یا قبول ہوجاتی ہے یا رکھ لی جاتی ہے قیامت کے دن پر یا گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہے۔
Yahya related to me from Malik that Zayd ibn Aslam used to say, "No-one makes a dua without one of three things happening. Either it is answered, or it is stored up for him, or wrong actions are atoned for by it."
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ قَالَ رَآنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا أَدْعُو وَأُشِيرُ بِأُصْبُعَيْنِ صَبْعٍ مِنْ کُلِّ يَدٍ فَنَهَانِي
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ دیکھا مجھ کو عبداللہ بن عمر نے دعا کرتے ہوئے اور میں دو انگلیوں سے اشارہ کرتا تھا ہر ایک ہاتھ کی ایک ایک انگلی تھی سو منع کیا مجھ کو۔
Yahya related to me from Malik that Abdullah ibn Dinar said, "Abdullah ibn Umar saw me when I was making dua and I was pointing with two fingers, one from each hand, and he forbade me."
عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ کَانَ يَقُولُ إِنَّ الرَّجُلَ لَيُرْفَعُ بِدُعَائِ وَلَدِهِ مِنْ بَعْدِهِ وَقَالَ بِيَدَيْهِ نَحْوَ السَّمَائِ فَرَفَعَهُمَا
سعید بن مسیب کہتے تھے بیشک آدمی کا درجہ بلند ہوجاتا ہے اس کے لڑکے کے دعا کرنے سے بعد اس کے مرجانے کے اور اشارہ کیا آپ ﷺ نے دونوں ہاتھوں سے آسمانوں کی طرف پھر اٹھایا ان کو۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Said ibn al-Musayyab used to say, "A man is raised by the dua of his son after his death." He spoke with his hands turned upwards, and then lifted them up.
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِکَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِکَ سَبِيلًا فِي الدُّعَائِ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَدْعُو فَيَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِينِ وَإِذَا أَرَدْتَ فِي النَّاسِ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْکَ غَيْرَ مَفْتُونٍ عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فَيَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَإِذَا أَرَدْتَ فِي النَّاسِ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُونٍ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ دَاعٍ يَدْعُو إِلَى هُدًى إِلَّا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ اتَّبَعَهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَا مِنْ دَاعٍ يَدْعُو إِلَى ضَلَالَةٍ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ أَوْزَارِهِمْ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ أَئِمَّةِ الْمُتَّقِينَ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ كَانَ يَقُومُ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَيَقُولُ نَامَتْ الْعُيُونُ وَغَارَتْ النُّجُومُ وَأَنْتَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ أَئِمَّةِ الْمُتَّقِينَ عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ كَانَ يَقُومُ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَيَقُولُ نَامَتْ الْعُيُونُ وَغَارَتْ النُّجُومُ وَأَنْتَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ یہ آیت (وَلَا تَجْ هَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا) 17۔ الاسراء: 110) دعا میں اتری ہے۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ دعا مانگتے تھے یا اللہ میں مانگتا ہوں تجھ سے نیک کام کرنا اور برے کاموں کو چھوڑنا اور محبت غریبوں کی اور جب تو کسی مصیبت کو لوگوں میں اتارنا چاہے تو مجھے اپنے پاس بلا لے اس مصیبت سے بچا کر۔ امام مالک کو پہنچا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص ہدایت کی طرف بلائے اس کو مثل اس کے ثواب ملے گا جو اس کی پیروی کرے کچھ کم نہ ہوگا اس کے ثواب سے اور جو شخص گمراہی کی طرف بلائے اس پر اتنا گناہ ہوگا جتنا پیروی کرنے والے پر ہوگا کچھ کم نہ ہوگا پیروی کرنے والے کے گناہ سے۔ امام مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن عمر کہتے تھے یا اللہ مجھ کو متقیوں کا پیشوا بنانا۔ امام مالک کو پہنچا ہے ابودرداء سے جب اٹھتے تھے رات کو کہتے تھے سو گئیں آنکھیں اور غائب ہوگئے تارے اور تو اے پروردگار زندہ ہے بیدار ہے۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that his father said, "The following ayat was sent down about dua - And do not be loud in your prayer and do not be silent in it, but seek a way between these. " (Sura 17 ayat 110) Yahya said that Malik was asked about making dua in obligatory prayers and he said, "There is no harm in making dua in them."
بعد صبح اور عصر کے نماز پڑھنے کی ممانعت
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ وَمَعَهَا قَرْنُ الشَّيْطَانِ فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا ثُمَّ إِذَا اسْتَوَتْ قَارَنَهَا فَإِذَا زَالَتْ فَارَقَهَا فَإِذَا دَنَتْ لِلْغُرُوبِ قَارَنَهَا فَإِذَا غَرَبَتْ فَارَقَهَا وَنَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّلَاةِ فِي تِلْکَ السَّاعَاتِ
عبداللہ صنابحی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب آفتاب نکلتا ہے تو شیطان اس کے نزدیک ہوتا ہے اور جب بلند ہوجاتا ہے تو اس سے الگ ہوجاتا ہے پھر جب سر پر آجاتا ہے نزدیک ہوجاتا ہے پھر جب ڈھل جاتا ہے تو الگ ہوجاتا ہے پھر جب ڈوبنے لگتا ہے تو نزدیک ہوجاتا ہے پھر جب ڈوب جاتا ہے الگ ہوجاتا ہے اور منع کیا رسول اللہ ﷺ نے ان ساعتوں میں نماز پڑھنے سے۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar from Abdullah as-Sunabihi that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The sun rises and with it is a horn of Shaytan and when the sun gets higher the horn leaves it. Then when the sun reaches the meridian the horn joins it and when the sun declines the horn leaves it, and when the sun has nearly set it joins it again." The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade prayer at these times.
بعد صبح اور عصر کے نماز پڑھنے کی ممانعت
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّی تَبْرُزَ وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّی تَغِيبَ
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جب کنارہ آفتاب کا نکلے تو نماز میں تو قف کرو یہاں تک کہ پورا آفتاب نکل آئے اور جب کنارہ آفتاب کا ڈوب جائے تو توقف کرو یہاں تک کہ پورا آفتاب ڈوب جائے۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa that his father said that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to say, "Delay the prayer when the edge of the sun appears until it is completely in view, and delay the prayer when the edge of the sun is disappearing until it has completely disappeared."
بعد صبح اور عصر کے نماز پڑھنے کی ممانعت
عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ بَعْدَ الظُّهْرِ فَقَامَ يُصَلِّي الْعَصْرَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ ذَکَرْنَا تَعْجِيلَ الصَّلَاةِ أَوْ ذَکَرَهَا فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تِلْکَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ تِلْکَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ تِلْکَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِينَ يَجْلِسُ أَحَدُهُمْ حَتَّی إِذَا اصْفَرَّتْ الشَّمْسُ وَکَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيْ الشَّيْطَانِ أَوْ عَلَی قَرْنِ الشَّيْطَانِ قَامَ فَنَقَرَ أَرْبَعًا لَا يَذْکُرُ اللَّهَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا
علاء بن عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ ہم گئے انس بن مالک کے پاس بعد ظہر کے تو کھڑے ہوئے وہ نماز عصر کے واسطے پس جب فارغ ہوئے نماز سے بیان کیا ہم نے یا انہوں نے نماز جلد پڑھنے کا حال تو کہا انس نے سنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرماتے تھے یہ نماز منافق کی ہے کہ بیٹھے رہتا ہیں جب آفتاب زرد ہوجاتا ہے یا اس کے اوپر ہوتا ہے تو کھڑے ہو کر چار ٹھونگے لگا لیتا ہے اس میں، نہیں یاد کرتا اللہ کو مگر تھوڑا۔
Yahya related to me from Malik that al-Ala ibn Abd ar-Rahman said, "We visited Anas ibn Malik after dhuhr and he stood up and prayed asr. When he had finished his prayer, we mentioned doing prayers early in their time, or he mentioned it, and he said that he had heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, the prayer of the hypocrites, the prayer of the hypocrites, the prayer of the hypocrites is that one of them sits until the sun becomes yellow and is between the horns of Shaytan, or on the horn of Shaytan, and then gets up and rattles off four rakas, hardly remembering Allah in them at all. "
بعد صبح اور عصر کے نماز پڑھنے کی ممانعت
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَتَحَرَّ أَحَدُکُمْ فَيُصَلِّيَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی تم میں سے قصد کر کے نماز نہ پڑھے آفتاب کے طلوع اور غروب کے وقت۔
Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "You should not intend to pray either at sunrise or sunset."