عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَمِعَ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَائِهِمْ يَقُولُ لَمْ يَکُنْ فِي عِيدِ الْفِطْرِ وَلَا فِي الْأَضْحَی نِدَائٌ وَلَا إِقَامَةٌ مُنْذُ زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْيَوْمِ قَالَ مَالِک وَتِلْکَ السُّنَّةُ الَّتِي لَا اخْتِلَافَ فِيهَا عِنْدَنَا
کہا مالک نے کہ میں نے سنا ہے بہت سارے علماء سے کہتے تھے عید الفطر اور عید الضحی میں اذان اور اقامت نہ تھی رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے اب تک مالک نے کہا ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں۔
Yahya related to me from Malik that he had heard more than one of their men of knowledge say, "There has been no call to prayer or iqama for the id al-Fitr or the id al-Adha since the time of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace." Malik said, "That is the sunna about which there is no disagreement among us."
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَغْتَسِلُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ إِلَی الْمُصَلَّی
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر غسل کرتے تھے عید فطر کے دن قبل عید گاہ جانے کے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to do ghusl on the day of Fitr before going to the place of prayer.
نماز عید کی قبل خطبے کے پڑھنا
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الْأَضْحَی قَبْلَ الْخُطْبَةِ عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ كَانَا يَفْعَلَانِ ذَلِكَ
روایت ہے ابن شہاب سے کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھتے عید الفطر اور عید الضحی کی قبل خطبے کے (یعنی خطبہ عیدین کا بعد نماز عیدین کے) پڑھتے تھے۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت ابوبکر اور عمر بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to pray on the day of Fitr and the day of Adha before the khutba.
نماز عید کی قبل خطبے کے پڑھنا
عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَی ابْنِ أَزْهَرَ قَالَ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَصَلَّی ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ إِنَّ هَذَيْنِ يَوْمَانِ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِهِمَا يَوْمُ فِطْرِکُمْ مِنْ صِيَامِکُمْ وَالْآخَرُ يَوْمٌ تَأْکُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُکِکُمْ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَجَائَ فَصَلَّی ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ وَقَالَ إِنَّهُ قَدْ اجْتَمَعَ لَکُمْ فِي يَوْمِکُمْ هَذَا عِيدَانِ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْ أَهْلِ الْعَالِيَةِ أَنْ يَنْتَظِرَ الْجُمُعَةَ فَلْيَنْتَظِرْهَا وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَرْجِعَ فَقَدْ أَذِنْتُ لَهُ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ ثُمَّ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ فَجَائَ فَصَلَّی ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ
ابو عبید سے جو مولیٰ ہیں عبدالرحمن بن ازہر کے روایت ہے کہ میں حاضر ہوا عید کے روز عمر بن خطاب کے ساتھ تو نماز پڑھی حضرت عمر نے پھر فارغ ہوئے اور خطبہ پڑھا تو کہا کہ یہ دو دن وہ دن ہیں کہ منع کیا رسول اللہ ﷺ نے روزہ رکھنے سے ان دنوں میں یہ عید الفطر کا دن ہے جس دن تم روزہ موقوف کرتے ہو اور عید الضحی وہ دن ہے کہ اس دن اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو ابوعبید نے کہا کہ پھر حاضر ہوا میں عید کو عثمان بن عفان کے ساتھ تو انہوں نے آکر نماز پڑھی پھر نماز سے فارغ ہو کر خطبہ پڑھا اور کہا کہ آج کے روزہ دو عید ہیں تو جس شخص کا جی چاہے باہر والوں سے تو ٹھہر جائے جمعہ کے واسطے اور جو چاہے کہ اپنے گھر جائے تو چلا جائے میں نے اجازت دی کہا ابوعبید نے پھر حاضر ہوا میں عید کو ساتھ علی بن ابی طالب کے اور عثمان گھرے ہوئے تھے تو حضرت علی نے آکر نماز پڑھائی پھر نماز سے فارغ ہو کر خطبہ پڑھا۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Abu Ubayd, the mawla of Ibn Azhar said, "I was present at an id with Umar ibn al-Khattab. He prayed, and then after he had prayed he gave a khutba to the people and said, The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade fasting on these two days - the day you break your fast (after Ramadan), and the day you eat from your sacrifice (after Hajj) . " Abu Ubaydcontinued,"Then I was present at an id with Uthman ibn Affan. He came and prayed, and when he had finished he gave a khutba and said, Two ids have been joined together for you on this day of yours. If any of the people of al-Aliyya (the hills outlying Madina) want to wait for the jumua they can do so, and if any of them want to return, I have given them permission. Abu Ubayd continued, "Then I was present at an id with AIi ibn Abi Talib (at the time when Uthman was being detained). He came and prayed, and then after he had prayed he gave a khutba."
عیدالفطر میں نماز کو جانے کے اول کچھ کھالینا
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ يَأْکُلُ يَوْمَ عِيدِ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ
عروہ بن زبیر عیدالفطر کے روز کھانا کھالیتے قبل نماز کو جانے کے۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that he used to eat on the day of the id al-Fitr before going out.
عیدالفطر میں نماز کو جانے کے اول کچھ کھالینا
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّاسَ کَانُوا يُؤْمَرُونَ بِالْأَکْلِ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ الْغُدُوِّ قَالَ مَالِک وَلَا أَرَی ذَلِکَ عَلَی النَّاسِ فِي الْأَضْحَی
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ لوگوں کو حکم ہوتا تھا کھانا کھا لینے کا قبل نماز کو جانے کے۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Said al-Musayyab told him that people used to be told to eat on the day of Fitr before setting out. Malik said that he did not consider that people had to do that for Adha.
عیدین کی تکبیرات اور قرأت کا بیان
عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ مَا کَانَ يَقْرَأُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَضْحَی وَالْفِطْرِ فَقَالَ کَانَ يَقْرَأُ بِ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ وَاقْتَرَبَتْ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ
عمر بن خطاب نے پوچھا ابو واقد لیثی سے کہ رسول اللہ ﷺ کون سی سورتیں پڑھتے تھے عیدین میں بو لے سورت قاف اور سورت قمر۔
Yahya related to me from Malik from Damra ibn Said al-Mazini from Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utba ibn Masud that Umar ibn al-Khattab asked Abu Waqid al-Laythi what the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to recite in the prayers of Adha and Fitr. He said, "He used to recite Qaf (Sura 50) and al-lnshiqaq (Sura84)."
عیدین کی تکبیرات اور قرأت کا بیان
عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ شَهِدْتُ الْأَضْحَی وَالْفِطْرَ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَکَبَّرَ فِي الرَّکْعَةِ الْأُولَی سَبْعَ تَکْبِيرَاتٍ قَبْلَ الْقِرَائَةِ وَفِي الْآخِرَةِ خَمْسَ تَکْبِيرَاتٍ قَبْلَ الْقِرَائَةِ
نافع سے روایت ہے کہ میں نے نماز پڑھی عید الضحی اور عید الفطر کی ساتھ ابوہریرہ ؓ کے تو پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہیں قبل قرأت کے اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں قبل قرأت کے۔
Yahya related to me from Malik that Nafi, the mawla of Abdullah ibn Umar said, "I was at Adha and Fitr with Abu Hurayra and he said Allah is greater seven times in the first raka, before the recitation, and five times in the second, before the recitation."
عیدین کی نماز کے اول اور بعد نفل نہ پڑھنا
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ لَمْ يَکُنْ يُصَلِّي يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَا بَعْدَهَا عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ کَانَ يَغْدُو إِلَی الْمُصَلَّی بَعْدَ أَنْ يُصَلِّيَ الصُّبْحَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نہیں نفل پڑھتے تھے قبل نماز عید کے اور نہ بعد نماز کے۔ مالک کو پہنچا کہ سعید بن مسیب عید گاہ کو جاتے تھے نماز صبح کی پڑھ کر قبل طلوع آفتاب کے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar did not pray either before the prayer or after it on the day of Fitr.
قبل نماز عید کے اور بعد اس کے نفل پڑھنے کی اجازت۔
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ أَنَّ أَبَاهُ الْقَاسِمَ کَانَ يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ إِلَی الْمُصَلَّی أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ
قاسم بن محمد قبل عیدگا جانے کے چار رکعتیں نفل اپنے گھر میں پڑھ کر جاتے تھے۔
Yahya related to me from Malik from Abd ar-Rahman ibn al-Qasim that his father used to pray four rakas before he went to the place of prayer.
قبل نماز عید کے اور بعد اس کے نفل پڑھنے کی اجازت۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ يُصَلِّي يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ الصَّلَاةِ فِي الْمَسْجِدِ
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ وہ نفل پڑھتے تھے قبل نماز عید کے مسجد میں۔
Yahya related to me from Hisham ibn Urwa that his father used to pray on the day of Fitr before the prayer in the mosque. 10.7 The Coming of the Imam on the Day of the Id and Waiting for the Khutba
امام کا نماز عید کو جانے کا وقت اور انتظار کرنا خطبے کا۔
قَالَ مَالِک مَضَتْ السُّنَّةُ الَّتِي لَا اخْتِلَافَ فِيهَا عِنْدَنَا فِي وَقْتِ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَی أَنَّ الْإِمَامَ يَخْرُجُ مِنْ مَنْزِلِهِ قَدْرَ مَا يَبْلُغُ مُصَلَّاهُ وَقَدْ حَلَّتْ الصَّلَاةُ
کہا مالک نے وہ سنت جس میں ہمارے نزدیک اختلاف نہیں ہے یہ کہ عید الفطر اور عید الضحی کے لئے اس وقت گھر سے نکلے کہ عید گاہ تک پہنچتے پہنچتے نماز کا وقت آجائے۔
Yahya related to me that Malik said, "The sunna concerning the time of prayer on the ids of Fitr and Adha - and there is no disagreement amongst us about it - is that the imam leaves his house and as soon as he has reached the place of prayer the prayer falls due." Yahya said that Malik was asked whether a man who prayed with the imam could leave before the khutba, and he said, "He should not leave until the imam leaves."
عَمَّنْ صَلَّی مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَصَفَّتْ طَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ فَصَلَّی بِالَّتِي مَعَهُ رَکْعَةً ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ وَجَائَتْ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَی فَصَلَّی بِهِمْ الرَّکْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِ ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ
روایت ہے اس شخص سے جس نے نماز پڑھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں خوف کی کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کچھ لوگ کھڑے ہوئے نماز کو اور کچھ لوگ دشمن کے سامنے رہے تو پہلے آپ ﷺ نے ایک رکعت پڑھی ان لوگوں کے ساتھ پھر آپ ﷺ کھڑے رہے اور وہ لوگ اپنی نماز پوری کر کے چلے گئے اور جو لوگ دشمن کے سامنے تھے وہ آئے ان کے ساتھ آپ نے ایک رکعت پڑھی پھر آپ بیٹھے رہے اور ان لوگوں نے ایک رکعت پڑھی جب آپ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا
Yahya related to me from Malik from Yazid ibn Ruman from Salih ibn Khawwat from someone who had prayed (the prayer of fear) with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, on the day of Dhat ar-Riqa that one group had formed a row with him and one group had formed a row opposite the enemy. He then prayed one raka with the group he was with, and then remained standing while they finished by themselves. They then left and formed a row opposite the enemy, and then the other group came and he prayed the remaining raka of his prayer with them, and then remained sitting while they finished by themselves. Then he said the taslim with them.
عَنْ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ صَلَاةَ الْخَوْفِ أَنْ يَقُومَ الْإِمَامُ وَمَعَهُ طَائِفَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَطَائِفَةٌ مُوَاجِهَةٌ الْعَدُوَّ فَيَرْکَعُ الْإِمَامُ رَکْعَةً وَيَسْجُدُ بِالَّذِينَ مَعَهُ ثُمَّ يَقُومُ فَإِذَا اسْتَوَی قَائِمًا ثَبَتَ وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ الرَّکْعَةَ الْبَاقِيَةَ ثُمَّ يُسَلِّمُونَ وَيَنْصَرِفُونَ وَالْإِمَامُ قَائِمٌ فَيَکُونُونَ وِجَاهَ الْعَدُوِّ ثُمَّ يُقْبِلُ الْآخَرُونَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُکَبِّرُونَ وَرَائَ الْإِمَامِ فَيَرْکَعُ بِهِمْ الرَّکْعَةَ وَيَسْجُدُ ثُمَّ يُسَلِّمُ فَيَقُومُونَ فَيَرْکَعُونَ لِأَنْفُسِهِمْ الرَّکْعَةَ الْبَاقِيَةَ ثُمَّ يُسَلِّمُونَ
سہل بن ابی حثمہ سے روایت ہے انہوں نے کہا نماز خوف کی اس طرح پر ہے کہ امام کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ نماز کے لئے کھڑا کرلے اور کچھ لوگ دشمن کے سامنے رہیں تو امام ایک رکعت پڑھے اور سجدہ کرے جب سجدہ سے کھڑا ہو تو امام کھڑا رہے اور مقتدی اپنی ایک رکعت جو باقی ہے پڑھ کو سلام پھیر کر چلے جائیں دشمن کے سامنے اور دشمن کے سامنے جو لوگ تھے وہ آکر تکبیر تحریمہ کہہ کر امام کے ساتھ شریک ہوں تو امام رکوع اور سجدہ سے فارغ ہو کر سلام پھیر دے اور لوگ کھڑے ہو کر ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیریں۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from al-Qasim ibn Muhammad from Salih ibn Khawwat that Sahl ibn Abi Hathma related to him that the form of the prayer of fear was that the imam stood with a group of his companions, while another group faced the enemy. The imam prayed one raka with them, including the prostration, and then stood. He remained standing while they completed the remaining raka by themselves. They then said the taslim, left, and formed up opposite the enemy while the imam remained standing. Then the others who had not prayed came forward and said the takbir behind the imam and he prayed one raka with them, including the prostration. He then said the taslim, while they stood up and prayed the remaining raka by themselves. Then they said the taslim.
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ الْخَوْفِ قَالَ يَتَقَدَّمُ الْإِمَامُ وَطَائِفَةٌ مِنْ النَّاسِ فَيُصَلِّي بِهِمْ الْإِمَامُ رَکْعَةً وَتَکُونُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ لَمْ يُصَلُّوا فَإِذَا صَلَّی الَّذِينَ مَعَهُ رَکْعَةً اسْتَأْخَرُوا مَکَانَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا وَلَا يُسَلِّمُونَ وَيَتَقَدَّمُ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا فَيُصَلُّونَ مَعَهُ رَکْعَةً ثُمَّ يَنْصَرِفُ الْإِمَامُ وَقَدْ صَلَّی رَکْعَتَيْنِ فَتَقُومُ کُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْ الطَّائِفَتَيْنِ فَيُصَلُّونَ لِأَنْفُسِهِمْ رَکْعَةً رَکْعَةً بَعْدَ أَنْ يَنْصَرِفَ الْإِمَامُ فَيَکُونُ کُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْ الطَّائِفَتَيْنِ قَدْ صَلَّوْا رَکْعَتَيْنِ فَإِنْ کَانَ خَوْفًا هُوَ أَشَدَّ مِنْ ذَلِکَ صَلَّوْا رِجَالًا قِيَامًا عَلَی أَقْدَامِهِمْ أَوْ رُکْبَانًا مُسْتَقْبِلِي الْقِبْلَةِ أَوْ غَيْرَ مُسْتَقْبِلِيهَا قَالَ مَالِک قَالَ نَافِعٌ لَا أَرَی عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ إِلَّا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر سے جب سوال ہوتا نماز خوف کا کہتے امام آگے بڑھے نماز کو اور کچھ لوگ اس کے پیچھے ہوں تو ان کو امام ایک رکعت پڑھائے اور کچھ لوگ دشمن کے سامنے ہوں تو جب وہ لوگ جو امام کے پیچھے تھے ایک رکعت پڑھ چکیں دشمن کے سامنے چلے جائیں اور سلام نہ پھیریں اور وہ لوگ چلے آئیں جہنوں نے نماز نہیں شروع کی اب وہ لوگ امام کے پیچھے ایک رکعت پڑھیں پھر امام سلام پھیر دے اور باری باری ہر ہر گروہ کے لوگ آکر ایک ایک رکعت اور پڑھ کر نماز اپنی تمام کریں تاکہ ہر ایک گروہ کی دو دو رکعتیں ہوجائیں اور اگر خوف بہت سخت ہو تو کھڑے کھڑے پیادے نماز پڑھ لیں اشارے سے اور سوار سواری پر اگرچہ منہ ان کا قبلہ کی طرف نہ ہو۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar, when asked about the fear prayer said, "The imam and a group of people go forward and the imam prays a raka with them, while another group, who have not yet prayed, position themselves between him and the enemy. When those who are with him have prayed a raka they draw back to where those who have not prayed are, and do not say the taslim. Then those who have not prayed come forward and pray a raka with him. Then the imam leaves, as he has now prayed two rakas. Everyone else in the two groups stands and prays a raka by himself after the imam has left. In this way each of the two groups will have prayed two rakas. If the fear is greater than that, then the men pray standing on their feet or mounted, either facing the qibla or otherwise." Malik said that Nafi said, "I do not believe that Abdullah ibn Umar related it from anyone other than the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace."
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ مَا صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّی غَابَتْ الشَّمْسُ قَالَ مَالِک وَحَدِيثُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر اور عصر کی نماز نہیں پڑھی جنگ خندق میں یہاں تک کہ ڈوب گیا آفتاب۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said that Said ibn al-Musayyab said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, did not pray dhuhr and asr on the day of the Trench until after the sun had set." Malik said, "The hadith of al-Qasim ibn Muhammad from Salih ibn Khawwat is the one I like most out of what I have heard about the fear prayer."
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ خَسَفَتْ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوعَ ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّکْعَةِ الْآخِرَةِ مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِکَ فَادْعُوا اللَّهَ وَکَبِّرُوا وَتَصَدَّقُوا ثُمَّ قَالَ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرَ مِنْ اللَّهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَکَيْتُمْ کَثِيرًا
حضرت ام المومنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ گہن لگا سورج کو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تو نماز پڑھائی آپ ﷺ نے ساتھ لوگوں کے پس کھڑے ہوئے بہت دیر تک پھر رکوع کیا بڑی دیر تک پھر کھڑے ہوئے بڑی دیر تک لیکن اول سے کچھ کم پھر رکوع کیا بڑی دیر تک لیکن اول رکوع سے کچھ کم پھر سر اٹھایا یا رکوع کیا پھر سجدہ کیا پھر دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا جب نماز سے فارغ ہوئے تو آفتاب روشن ہوگیا تھا پھر خطبہ پڑھا اور حمد وثناء کی اللہ جل جلالہ کی پھر فرمایا کہ سورج اور چاند دونوں نشانیاں ہیں پروردگار کی نشانیوں سے کسی کی موت یا زیست کے واسطے ان میں گہن نہیں لگتا تو جب دیکھو تو گہن پس دعا کرو اللہ سے اور تکبیر کہو اور صدقہ دو پھر فرمایا آپ ﷺ نے امت محمد ﷺ قسم اللہ کی اللہ جل جلالہ سے کسی کو زیادہ غیرت نہیں ہے اس امر میں کہ اس کا بندہ یا اس کی لونڈی زنا کرے اے امت محمد اگر تم جانتے ہوتے جو میں جانتا ہوں تو ہنستے تم تھوڑا اور روتے بہت۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "There was an eclipse of the sun in the time of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, led the people in prayer. He stood, and did so for a long time. Then he went into ruku, and made the ruku long. Then he stood again, and did so for a long time, though not as long as the first time. Then he went into ruku, and made the ruku long, though not as long as thefirst time. Then he rose, and went down into sajda. He then did the same in the second raka, and by the time he had finished the sun had appeared. He then gave a khutba to the people, in which he praised Allah and then said, The sun and the moon are two of Allahs signs. They do not eclipse for anyones death nor for anyones life. When you see an eclipse, call on Allah and say, "Allah is greater" and give sadaqa. Then he said, O community of Muhammad ﷺ ! ByAllah, there is no-one more jealous than Allah of a male or female slave of his who commits adultery. O community of Muhammad ﷺ ! By Allah, if you knew what I knew, you would laugh little and weep much."
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ خَسَفَتْ الشَّمْسُ فَصَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ قَالَ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ فَقَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِکَ فَاذْکُرُوا اللَّهَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاکَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا فِي مَقَامِکَ هَذَا ثُمَّ رَأَيْنَاکَ تَکَعْکَعْتَ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ الْجَنَّةَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَکَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتْ الدُّنْيَا وَرَأَيْتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ کَالْيَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ وَرَأَيْتُ أَکْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَائَ قَالُوا لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِکُفْرِهِنَّ قِيلَ أَيَکْفُرْنَ بِاللَّهِ قَالَ وَيَکْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَيَکْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَی إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ کُلَّهُ ثُمَّ رَأَتْ مِنْکَ شَيْئًا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ مِنْکَ خَيْرًا قَطُّ
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ گہن لگا سورج میں تو نماز پڑھی رسول اللہ ﷺ اور لوگوں نے ساتھ آپ ﷺ کے پھر کھڑے ہوئے آپ ﷺ دیر تک جیسے سورت بقرہ پڑھنے میں دیر ہوتی ہے پھر رکوع کیا ایک لمبا رکوع پھر سر اٹھایا پھر کھڑے ہوئے آپ ﷺ بڑی دیر تک لیکن پہلے قیام سے کچھ کم پھر رکوع کیا ایک رکوع لمبا لیکن اول رکوع سے کچھ کم پھر سجدہ کیا پھر کھڑے ہوئے آپ ﷺ بڑی دیر تک لیکن اول قیام سے کچھ کم پھر رکوع کیا لمبا رکوع لیکن اول رکوع سے کم پھر سر اٹھایا پھر کھڑے ہوئے بڑی دیر تک لیکن اول قیام سے کچھ کم پھر رکوع کیا ایک لمبا رکوع لیکن اول رکوع سے کچھ کم پھر سجدہ کیا تو فارغ ہوئے آپ ﷺ نماز سے اور آفتاب روشن ہوگیا تھا پس فرمایا آپ ﷺ نے سورج اور چاند دو نشانیاں ہیں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے، نہیں گہن لگتا ان میں سے کسی کی زندگی اور موت سے جب تم ایسا دیکھو تو ذکر کرو اللہ کا صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہم نے آپ ﷺ کو دیکھا نماز میں آپ ﷺ آگے بڑھے کسی چیز کو لینے کے لئے پھر پیچھے ہٹ آئے آپ ﷺ نے فرمایا پس دیکھا میں نے جنت کو پس لینا چاہا میں نے اس میں سے ایک گچھا اگر میرے ہاتھ لگ جاتا تو تم اس میں سے کھایا کرتے جب تک دنیا باقی رہتی اور میں نے دیکھا جہنم کو ایسی ہو لناک اور ہیبت صورت کہ کبھی میں نے ایس صورت نہ دیکھی ہے نہ دیکھی تھی اور میں نے دیکھا کہ جہنم میں عورتیں زیادہ ہیں صحابہ نے کہا کیوں یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے فرمایا کہ عورتوں کی نا شکری نے ان کو جہنم میں ڈالا کہا صحابہ نے کیا کفر کرتی تھیں ساتھ اللہ کے فرمایا آپ ﷺ نے کفر کرتی ہیں یعنی نا شکری کرتی ہیں خاوند کی اور بھول جاتی ہیں احسان کو اگر کسی عورت کے ساتھ ساری عمر احسان کرو پھر کوئی رنج اس کو پہنچے تو کہنے لگتی ہے خاوند سے مجھے کبھی تجھ سے بھلائی نہیں پہنچی۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar that Abdullah ibn Abbas said, "There was an eclipse of the sun and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, prayed, and the people prayed with him. He stood for a long time, nearly as long as (it takes to recite) Surat al-Baqara (Sura 2), and then went into ruku for a long time. Then he rose and stood for a long time, though less than the first time.Then he went into ruku for a long time, though less than the first time. Then he went down into sajda. Then he stood for a long time, though less than the first time. Then he went into ruku for a long time, though less than the first time. Then he rose and stood for a long time, though less than the firsttime. Then he went into ruku for a long time, though less than the first time. Then he went down into sajda, and by the time he had finished the sun had appeared. Then he said, The sun and the moon are two of Allahs signs. They do not eclipse for anyones death nor for anyones life. When you see an eclipse, remember Allah. They said, Messenger of Allah, we saw you reach out for something while you were standing here and then we saw you withdraw. He said, I saw the Garden and I reached out for a bunch of grapes from it, and if I had taken it you would have been able to eat from it for as long as this world lasted. Then I saw the Fire - and I have never seen anything more hideous than what I saw today - and I saw that most of its people were women. They said, Why, Messenger of Allah? ﷺ He said, Because of their ungratefulness (kufr). Someone said, Are they ungrateful toAllah? He said, They are ungrateful to their husbands and they are ungrateful for good behaviour (towards them) . Even if you were to behave well towards one of them for a whole lifetime and then she were to see you do something (that she did not like) she would say that she had never seen anything good from you. "
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ يَهُودِيَّةً جَائَتْ تَسْأَلُهَا فَقَالَتْ أَعَاذَکِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُعَذَّبُ النَّاسُ فِي قُبُورِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِذًا بِاللَّهِ مِنْ ذَلِکَ ثُمَّ رَکِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ مَرْکَبًا فَخَسَفَتْ الشَّمْسُ فَرَجَعَ ضُحًی فَمَرَّ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ الْحُجَرِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي وَقَامَ النَّاسُ وَرَائَهُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّکُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَتَعَوَّذُوا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
حضرت ام المومنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت آئی ان کے پاس مانگنے کو تو کہا اس نے اللہ بچائے تجھ کو قبر کے عذاب سے پس پوچھا میں نے رسول اللہ ﷺ سے کیا لوگوں کو عذاب ہوگا قبروں میں فرمایا آپ ﷺ نے میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے اس عذاب سے پھر سوار ہوئے آپ ﷺ ایک دن سواری پر سو گہن لگا آفتاب کو اور لوٹے آپ ﷺ حجروں کے پیچھے سے پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے اور لوگ آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہوئے پھر قیام کیا آپ ﷺ نے بڑی دیر تک پھر سر اٹھایا اور قیام کیا بڑی دیر تک لیکن پہلے قیام سے کچھ کم پھر رکوع کیا بڑی دیر تک لیکن پہلے رکوع سے کچھ کم پھر سر اٹھا کر سجدہ کیا پھر قیام کیا آپ نے بڑی دیر تک لیکن اول رکعت کے قیام سے کچھ کم پھر رکوع کیا لمبا رکوع لیکن پہلے رکوع سے کچھ کم پھر سر اٹھا کر سجدہ کیا پھر نماز سے فارغ ہو کر جو کچھ اللہ تعالیٰ نے چاہا باتیں کیں پھر حکم کیا ان کو کہ پناہ مانگیں اللہ سے قبر کے عذاب سے۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Amra bint Abd ar-Rahman from Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, that a jewish woman came to beg from her and said, "May Allah give you refuge from the punishment of the grave." So Aisha asked the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, "Are people punished in their graves?", and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, took refuge in Allah from that. Then one morning the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, went out on a journey and there was an eclipse of the sun, and he returned in the late morning and passed through his apartments. Then he stood and prayed, and the people stood behind him. He stood for a long time, and then went into ruku for a long time. Then he rose and stood for a long time, though less than the first time, and then went into ruku for a long time, though less than the first time. Then he rose, and went down into sajda. Then he stood for a long time, though less than the time before, and then went into ruku for a long time, though less than the time before. Then he rose and stood for a long time, though less than the time before, and then went into ruku for a long time, though less than the time before. Then he rose, and went down into sajda. When he had finished he said what Allah willed him to say, and then he told them to seek protection for themselves from the punishment of the grave."
اس چیز کا بیان جو نماز کسوف کے میں آئی ہے۔
عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّهَا قَالَتْ أَتَيْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَسَفَتْ الشَّمْسُ فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ يُصَلُّونَ وَإِذَا هِيَ قَائِمَةٌ تُصَلِّي فَقُلْتُ مَا لِلنَّاسِ فَأَشَارَتْ بِيَدِهَا نَحْوَ السَّمَائِ وَقَالَتْ سُبْحَانَ اللَّهِ فَقُلْتُ آيَةٌ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ نَعَمْ قَالَتْ فَقُمْتُ حَتَّی تَجَلَّانِي الْغَشْيُ وَجَعَلْتُ أَصُبُّ فَوْقَ رَأْسِي الْمَائَ فَحَمِدَ اللَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا مِنْ شَيْئٍ کُنْتُ لَمْ أَرَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّی الْجَنَّةُ وَالنَّارُ وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّکُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ مِثْلَ أَوْ قَرِيبًا مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ لَا أَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَتْ أَسْمَائُ يُؤْتَی أَحَدُکُمْ فَيُقَالُ لَهُ مَا عِلْمُکَ بِهَذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوْ الْمُوقِنُ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِکَ قَالَتْ أَسْمَائُ فَيَقُولُ هُوَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ جَائَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَی فَأَجَبْنَا وَآمَنَّا وَاتَّبَعْنَا فَيُقَالُ لَهُ نَمْ صَالِحًا قَدْ عَلِمْنَا إِنْ کُنْتَ لَمُؤْمِنًا وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوْ الْمُرْتَابُ لَا أَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَتْ أَسْمَائُ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ
اسما بنت ابی بکر سے روایت ہے کہ میں آئی عائشہ کے پاس جس وقت گہن لگا آفتاب کو تو دیکھا میں نے لوگوں کو نماز پڑھتے ہوئے اور عائشہ بھی کھڑی ہوئی نماز پڑھ رہی تھیں تو میں نے کہا کیا ہوا لوگوں کو تو اشارہ کیا حضرت عائشہ نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی طرف اور سبحان اللہ کہا میں نے کہا کوئی نشانی ہے انہوں نے اشارہ سے کہا ہاں کہا اسما نے تو میں کھڑی ہوئی یہاں تک کہ مجھ کو غشی آنے لگی اور میں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی اور رسول اللہ ﷺ نے تعریف کی اللہ کی اور ثنا کی اس کی پھر فرمایا جو چیز میں نے دیکھی تھی وہ آج میں نے سیکھ لی اس جگہ یہاں تک کہ جنت اور دوزخ کو بھی دیکھا اور مجھے وحی سے معلوم ہوا کہ قبر کے بارے میں تم فتنہ میں پڑجاؤ گے مثل فتنہ دجال کے یا اس کے قریب معلوم نہیں اسماء نے کیا کہا آئیں گے اس کے پاس فرشتے تو پوچھیں گے اس سے تو کیا سمجھتا ہے اس شخص کو جو ایمان رکھتا ہے یا یقین رکھتا ہے معلوم نہیں کیا کہا اسما نے وہ کہے گا یہ شخص محمد ﷺ ہیں اللہ جل جلالہ کے بھیجے ہوئے ہمارے پاس کھلی کھلی نشانیاں اور ہدایت یعنی کلام اللہ لے کر پس قبول کیا ہم نے اور ایمان لائے ہم اور پیروی کی ہم نے ان کی تب فرشتے اس سے کہیں گے سو رہ اچھی طرح ہم تو پہلے ہی جانتے تھے کہ تو مومن ہے اور منافق جس کو شک ہے حضرت کی رسالت میں معلوم نہیں کیا کہا اسما نے وہ کہے گا میں نہیں جانتا لوگوں سے میں نے جو سنا وہ کہا۔
Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from Fatima bint al Mundhir that Asma bint Abi Bakr as-Siddiq said, "I went to Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, during an eclipse of the sun, and everybody was standing in prayer, and she too was standing praying. I said, What is everybody doing? She pointed towards the sky with her hand and said, Glory be to Allah. I said, A sign? She nodded Yes with her head." She continued, "I stood until I had almost fainted, and I began to pour water over my head. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, praised Allah and spoke well of Him, and then said, There is nothing which I had previously not seen beforehand that I have not now seen while standing - even the Garden and the Fire. It has been revealed to me that you will be tried in your graves with a trial, like, or near to, the trial of the Dajjal (I do not know which one Asma said). Every one of you will have someone who comes to him and asks him, What do you know about this man? A mumin, or one who has certainty (muqin) (I do not know which one Asma said), will say, He is Muhammad, the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, who came to us with clear proofs and guidance, and we answered and believed and followed. He will then be told, Sleep in a good state. We know now that you were a mumin. A hypocrite, however, or one who has doubts (l do not know which one Asma said), will say, I do not know, I heard everybody saying something and I said it. "