عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَذَهَبَ عَقْلُهُ فَلَمْ يَقْضِ الصَّلَاةَ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر بےہوش ہوگئے ان کی عقل جاتی رہی پھر انہوں نے نماز کی قضا نہ پڑھی
Yahya related to me from Malik from Nafi that one time Abdullah ibn Umar fainted and lost his senses and he did not make up the prayer. Malik commented, "We consider that that was because, and Allah knows best, the time had passed. Someone who recovers within the time has to pray."
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَفَلَ مِنْ خَيْبَرَ أَسْرَى حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ عَرَّسَ وَقَالَ لِبِلَالٍ اكْلَأْ لَنَا الصُّبْحَ وَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَكَلَأَ بِلَالٌ مَا قُدِّرَ لَهُ ثُمَّ اسْتَنَدَ إِلَى رَاحِلَتِهِ وَهُوَ مُقَابِلُ الْفَجْرِ فَغَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا بِلَالٌ وَلَا أَحَدٌ مِنْ الرَّكْبِ حَتَّى ضَرَبَتْهُمْ الشَّمْسُ فَفَزِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِلَالٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْتَادُوا فَبَعَثُوا رَوَاحِلَهُمْ وَاقْتَادُوا شَيْئًا ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ ثُمَّ قَالَ حِينَ قَضَى الصَّلَاةَ مَنْ نَسِيَ الصَّلَاةَ فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ فِي كِتَابِهِ أَقِمْ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي
سعید بن المسیب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب لوٹے جنگ خیبر سے رات کو چلے جب اخیر رات ہوئی تو آپ ﷺ اتر پڑے اور بلال سے فرمایا صبح کی نماز کا تم خیال رکھو اور آپ ﷺ سو رہے اور جب تک اللہ کو منظور تھا بلال جاگتے رہے پھر بلال نے تکیہ لگایا اپنے اونٹ پر اور منہ اپنا صبح کی طرف کئے رہے اور لگ گئی آنکھ بلال کی تو نہ جاگے رسول اللہ ﷺ اور نہ بلال اور نہ کوئی شتر سوار یہاں تک کہ پڑنے لگی ان پر تیزی دھوپ کی تب چونک اٹھے رسول اللہ ﷺ اور فرمایا کیا ہے یہ اے بلال کہا بلال نے زور کیا مجھ پر اس چیز نے جس نے آپ ﷺ پر زور کیا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کوچ کرو تو لادے لوگوں نے کجاوے اپنے۔ تھوڑٰی دور چلے تھے کہ حکم کیا رسول اللہ ﷺ نے بلال کو تکبیر کہنے کا تو تکبیر کہی بلال نے نماز کی پھر نماز پڑھی رسول اللہ ﷺ نے فجر کی۔ بعد اس کے فرمایا جب نماز پڑھ چکے جو شخص بھول جائے نماز کو تو چاہیے کہ پڑھ لے اس کو جب یاد آئے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قائم کر نماز کو جس وقت یاد کرے مجھ کو۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Said ibn al-Musayyab that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, travelled by night on the way back from Khaybar.Towards the end of the night he stopped for a rest and told Bilal (RA) to stay awake to keep watch for the subh prayer. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and his companions slept. Bilal (RA) stayed on guard as long as was decreed for him and then he leant against his riding camel facing the direction of the dawn and sleep overcame him and neither he nor the Messenger of Allah ﷺ nor any of the party woke up until the suns rays had struck them. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, was alarmed. Bilal (RA) excused himself, saying, "Messenger of Allah! The One who took your self was the One who took myself. "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered the party to move on and so they roused thei r mounts and rode on a short distance. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered Bilal (RA) to give the iqama and then led them in the subh prayer. When he had finished he said, "Anyone who forgets a prayer should pray it when he remembers. Allah theBlessed and Exalted says in His book, Establish the prayer to remember Me."
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّهُ قَالَ عَرَّسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً بِطَرِيقِ مَکَّةَ وَوَکَّلَ بِلَالًا أَنْ يُوقِظَهُمْ لِلصَّلَاةِ فَرَقَدَ بِلَالٌ وَرَقَدُوا حَتَّی اسْتَيْقَظُوا وَقَدْ طَلَعَتْ عَلَيْهِمْ الشَّمْسُ فَاسْتَيْقَظَ الْقَوْمُ وَقَدْ فَزِعُوا فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرْکَبُوا حَتَّی يَخْرُجُوا مِنْ ذَلِکَ الْوَادِي وَقَالَ إِنَّ هَذَا وَادٍ بِهِ شَيْطَانٌ فَرَکِبُوا حَتَّی خَرَجُوا مِنْ ذَلِکَ الْوَادِي ثُمَّ أَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْزِلُوا وَأَنْ يَتَوَضَّئُوا وَأَمَرَ بِلَالًا أَنْ يُنَادِيَ بِالصَّلَاةِ أَوْ يُقِيمَ فَصَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْهِمْ وَقَدْ رَأَی مِنْ فَزَعِهِمْ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ قَبَضَ أَرْوَاحَنَا وَلَوْ شَائَ لَرَدَّهَا إِلَيْنَا فِي حِينٍ غَيْرِ هَذَا فَإِذَا رَقَدَ أَحَدُکُمْ عَنْ الصَّلَاةِ أَوْ نَسِيَهَا ثُمَّ فَزِعَ إِلَيْهَا فَلْيُصَلِّهَا کَمَا کَانَ يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ثُمَّ الْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ فَقَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ أَتَی بِلَالًا وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَأَضْجَعَهُ فَلَمْ يَزَلْ يُهَدِّئُهُ کَمَا يُهَدَّأُ الصَّبِيُّ حَتَّی نَامَ ثُمَّ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَخْبَرَ بِلَالٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ الَّذِي أَخْبَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَکْرٍ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ أَشْهَدُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّهِ
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ رات کو اترے راہ میں مکہ کے رسول اللہ ﷺ اور مقرر کیا بلال کو اس پر کہ جگا دیں ان کو واسطے نماز کے تو سو گئے بلال اور سو گئے لوگ پھر جاگے اور سورج نکل آیا تھا اور گھبرائے لوگ تو حکم کیا رسول اللہ ﷺ نے سوار ہونے کا تاکہ نکل جائیں اس وادی سے اور فرمایا کہ اس وادی میں شیطان ہے پس سوار ہوئے اور نکل گئے اس وادی سے تب حکم کیا ان کو رسول اللہ ﷺ نے اترنے کا اور وضو کرنے کا اور حکم کیا بلال کو اذان کا یا تکبیر کا پھر متوجہ ہوئے آپ ﷺ لوگوں کی طرف اور دیکھا ان کی گھبراہٹ کو تو فرمایا آپ ﷺ نے لوگوں کو۔ بیشک روک رکھا تھا اللہ تعالیٰ نے ہماری جانوں کو اور اگر چاہتا تو وہ پھیر دیتا ہماری جانوں کو سوا اس وقت کے اور کسی وقت تو جب سو جائے کوئی تم میں سے نماز سے یا بھول جائے اس کی پھر گھبرا کے اٹھے نماز کے لئے تو چاہئے کہ پڑھ لے اس کو جیسے پڑھتا ہے اس کو وقت پر پھر شیطان آیا بلال کے پاس اور وہ کھڑے ہوئے نماز پڑھتے تھے تو لٹا دیا ان کو پھر لگا تھپکنے ان کو جیسے تھپکتے ہیں بچے کو یہاں تک کہ سو رہے وہ پھر ہلایا رسول اللہ ﷺ نے بلال کو پس بیان کیا بلال نے اسی طرح جیسے فرمایا تھا آپ ﷺ نے حال ان کو پس بیان کیا بلال نے اسی طرح جیسے فرمایا آپ ﷺ نے حال ان کا ابوبکر سے تو کہا ابوبکر نے میں گواہی دیتا ہوں اس امر کی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
Yahya related to me from Malik that Zayd ibn Aslam said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, stopped for a rest one night on the way to Makka and appointed Bilal (RA) to wake them up for the prayer. Bilal (RA) slept and everyone else slept and none of them woke up until the sun had risen. When they did wake up they were all alarmed. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered them to ride out of the valley, saying that there was a shaytan in it. So they rode out of the valley and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, ordered them to dismount and do wudu and he told Bilal (RA) either to call the prayer or to give the iqama. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, then led them in the prayer. Noticing their uneasiness, he went to them and said, O people! Allah seized our spirits (arwah) and if He had wished He would have returned them to us at a time other than this. So if you sleep through the time for a prayer or forget it and then are anxious about it, pray it as if you were praying it in its time. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, turned to Abu Bakr (RA) and said, Shaytan came to Bilal (RA) when he was standing in prayer and made him lie down and lulled him to sleep like a small boy. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, then called Bilal (RA) and told him the same as he had told Abu Bakr. Abu Bakr (RA) declared, I bear witness that you are the Messenger of Allah. "
ٹھیک دوپہر کے وقت نماز کی ممانعت کا بیان
عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنْ الصَّلَاةِ وَقَالَ اشْتَکَتْ النَّارُ إِلَی رَبِّهَا فَقَالَتْ يَا رَبِّ أَکَلَ بَعْضِي بَعْضًا فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ فِي کُلِّ عَامٍ نَفَسٍ فِي الشِّتَائِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے تیزی گرمی کی جہنم کے جوش سے ہے تو جب تیز ہو گرمی تاخیر کرو نماز میں ٹھنڈک تک اور فرمایا آپ نے شکوہ کیا آگ نے اپنے پروردگار سے اور کہا اے پروردگار میں اپنے آپ کو کھانے لگی تو اذن دیا اس کو پروردگار نے دو سانس کا ہر سانس لینے کا جاڑے میں اور سانس نکالنے کا گرمی میں۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from Ata ibn Yasar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Scorching heat is a part of the blast of Jahannam. So, when the heat is fierce, delay the prayer until it gets cooler." He added in explanation, "The Fire complained to its Lord and said, My Lord, part of me has eaten another part, so He allowed it two breaths in every year, a breath in winter and a breath in summer."
ٹھیک دوپہر کے وقت نماز کی ممانعت کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنْ الصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ وَذَکَرَ أَنَّ النَّارَ اشْتَکَتْ إِلَی رَبِّهَا فَأَذِنَ لَهَا فِي کُلِّ عَامٍ بِنَفَسَيْنِ نَفَسٍ فِي الشِّتَائِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تیز گرمی ہو تو تاخیر کرو نماز کی ٹھنڈک تک اس لئے کہ تیزی گرمی کی جہنم کے جوش سے ہے اور فرمایا آپ ﷺ نے کہ آگ نے گلہ کیا پروردگار سے تو اذن دیا پروردگار نے اس کو دو سانسوں کا ایک سانس جاڑے میں اور ایک سانس گرمی میں۔
Malik related to us from Abdullah ibn Yazid the mawla of al-Aswad ibn Sufyan, from Abu Salama ibn Abd ar-Rahman from Muhammad ibn Abd ar-Rahman ibn Thawban from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When the heat is fierce delay the prayer until it gets cooler, for scorching heat is a part of the blast of Jahannam." He added, "The Fire complained to its Lord, so He allowed it two breaths in each year, a breath in winter and a breath in summer."
ٹھیک دوپہر کے وقت نماز کی ممانعت کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنْ الصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جب تیز گرمی ہو تو تاخیر کرو نماز کی ٹھنڈک تک کیونکہ تیزی گرمی کی جہنم کے جوش سے ہے۔
Yahya related to me from Malik from Abuz Zinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When the heat is fierce, wait until it gets cooler before you do the prayer, for scorching heat is from the blast of Jahannam."
مسجد میں لہسن کھا کر جانے کی ممانعت کا بیان اور نماز میں منہ ڈھاپنے کی ممانعت کا بیان
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَکَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَلَا يَقْرُبْ مَسَاجِدَنَا يُؤْذِينَا بِرِيحِ الثُّومِ
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جس شخص نے کھایا اس درخت میں سے (یعنی لہسن میں سے) تو نزدیک نہ ہو ہماری مسجدوں کے تاکہ ہم کو تکلیف دے اس کی بو سے۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Said ibn al-Musayyab that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Anyone who eats this plant should not come near our mosques. The smell of the garlic will offend us."
مسجد میں لہسن کھا کر جانے کی ممانعت کا بیان اور نماز میں منہ ڈھاپنے کی ممانعت کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُجَبَّرِ أَنَّهُ کَانَ يَرَی سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ إِذَا رَأَی الْإِنْسَانَ يُغَطِّي فَاهُ وَهُوَ يُصَلِّي جَبَذَ الثَّوْبَ عَنْ فِيهِ جَبْذًا شَدِيدًا حَتَّی يَنْزِعَهُ عَنْ فِيهِ
عبدالرحمن بن مجبر سے روایت ہے کہ سالم بن عبداللہ بن عمر جب کسی کو دیکھتے تھے کہ منہ اپنا ڈھانپے ہے نماز میں کھینچ لیتے تھے کپڑا زور سے یہاں تک کہ کھل جاتا اس کا منہ۔
Yahya related to me from Malik from Abd ar-Rahman ibn al-Mujabbar that he used to see Salim ibn Abdullah pull the cloth away fiercely from the mouth of any man he saw covering his mouth while praying.
عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی الْمَازِنِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَی الْمَازِنِيِّ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي کَيْفَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ نَعَمْ فَدَعَا بِوَضُوئٍ فَأَفْرَغَ عَلَی يَدِهِ فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَی الْمِرْفَقَيْنِ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِهِمَا إِلَی قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا حَتَّی رَجَعَ إِلَی الْمَکَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ
عمرو بن یحییٰ المازنی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن زید ؓ سے جو دادا ہیں عمرو بن یحییٰ کے اور اصحاب میں سے ہیں رسول اللہ ﷺ کے کیا تم مجھ کو دکھا سکتے ہو کس طرح وضو کرتے تھے رسول اللہ ﷺ کہا انہوں نے ہاں تو منگایا انہوں نے پانی وضو کا پھر ڈالا اس کو اپنے ہاتھ پر اور دھویا دونوں ہاتھوں کو دو دو بار پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا تین بار پھر دونوں ہاتھ دھوئے کہینوں تک دو دو بار پھر مسح کیا سر کا دونوں ہاتھوں سے آگے سے لے گئے اور پیچھے سے لائے یعنی دونوں ہاتھوں سے مسح شروع کیا پیشانی سے گدی تک پھر لائے گدی سے پیشانی تک پھر دونوں پیر دھوئے۔
Yahya related to me from Malik from Amr ibn Yahya al-Mazini that his father once asked Abdullah ibn Zayd ibn Asim, who was the grandfather of Amr ibn Yahya al-Mazini and one of the companions of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, if he could show him how the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, did wudu. Abdullah ibn Zayd ibn Asim agreed to do so and asked for water to do wudu. He poured some out on to his hand and washed each hand twice and then rinsed his mouth and snuffed water up his nose and blew it out three times.Then he washed hisface three times and both of his arms up to the elbows twice. He then wiped his head with both hands, taking his hands from hisforehead to the nape of his neck and then bringing them back to where he had begun. Then he washed his feet.
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُکُمْ فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ مَائً ثُمَّ لِيَنْثِرْ وَمَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جب وضو کرے تم میں سے کوئی تو پانی ڈال کر چھینکے اور ڈھیلے لے واسطے استنجاء کے تو طاق لے۔
Yahya related to me from Malik from AbuzZinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When you do wudu, snuff water into your nose and blow it out, and if you use stones to clean your private parts use an odd number."
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ وَمَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ قَالَ يَحْيَی سَمِعْت قَوْله تَعَالَی يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْثِرُ مِنْ غَرْفَةٍ وَاحِدَةٍ إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِکَ عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ قَدْ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَسْبِغْ الْوُضُوءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنْ النَّارِ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جو شخص وضو کرے تو ناک چھنکے اور جو ڈھیلے لے تو طاق لے۔ کہا یحییٰ نے سنا میں نے مالک سے کہتے تھے اگر کوئی شخص ایک ہی چلو لے کر کلی کرے اور ناک میں بھی پانی ڈالے تو کچھ حرج نہیں ہے۔ امام مالک روایت کرتے ہیں کہ مجھ کو پہنچا کہ عبدالرحمن بن ابی ابکر صدیق گئے ام المومنین کے پاس جس دن مرے سعد بن ابی وقاص تو منگایا عبدالرحمن نے پانی وضو کا پس کہا عائشہ نے پورا کرو وضو کو کیونکہ میں نے سنا ہے رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ فرماتے تھے خرابی ہے ایڑیوں کو آگ سے۔
Yahya related to me from Ibn Shihab from Abu Idris al-Khawlani from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "The person doing wudu should snuff water up his nose and blow it out again."
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَتَوَضَّأُ بِالْمَائِ لِمَا تَحْتَ إِزَارِهِ قَالَ يَحْيَى سُئِلَ مَالِك عَنْ رَجُلٍ تَوَضَّأَ فَنَسِيَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ قَبْلَ أَنْ يَتَمَضْمَضَ أَوْ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَ وَجْهَهُ فَقَالَ أَمَّا الَّذِي غَسَلَ وَجْهَهُ قَبْلَ أَنْ يَتَمَضْمَضَ فَلْيُمَضْمِضْ وَلَا يُعِدْ غَسْلَ وَجْهِهِ وَأَمَّا الَّذِي غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ قَبْلَ وَجْهِهِ فَلْيَغْسِلْ وَجْهَهُ ثُمَّ لْيُعِدْ غَسْلَ ذِرَاعَيْهِ حَتَّى يَكُونَ غَسْلُهُمَا بَعْدَ وَجْهِهِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ فِي مَكَانِهِ أَوْ بِحَضْرَةِ ذَلِكَ قَالَ يَحْيَى و سُئِلَ مَالِك عَنْ رَجُلٍ نَسِيَ أَنْ يَتَمَضْمَضَ وَيَسْتَنْثِرَ حَتَّى صَلَّى قَالَ لَيْسَ عَلَيْهِ أَنْ يُعِيدَ صَلَاتَهُ وَلْيُمَضْمِضْ وَيَسْتَنْثِرْ مَا يَسْتَقْبِلُ إِنْ كَانَ يُرِيدُ أَنْ يُصَلِّيَ
عبدالرحمن بن عثمان سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب کہتے تھے کہ پانی سے دھوئے اپنے ستر کو۔ کہا یحی نے پوچھا گیا امام مالک سے اس شخص کے بارے میں جس نے وضو کیا تو بھول کر قبل کلی کرنے کے منہ دھو لیا یا پہلے ہاتھ دھو لئے اور منہ نہ دھویا کہا امام مالک نے جس شخص نے منہ دھو لیا کلی کرنے سے پیشتر تو وہ کلی کرلے اور دوبارہ منہ نہ دھوئے لیکن جس نے ہاتھ دھولئے منہ دھونے سے پیشتر تو اس کو چاہئے کہ منہ دھو کر ہاتھوں کو دوبارہ دھوئے تاکہ دھونا ہاتھ کا بعد دھونے منہ کے ہوجائے جب تک وضو کرنے والا اپنی جگہ میں ہے یا قریب اس کے۔ کہا یحییٰ نے پوچھے گئے امام مالک اس شخص سے جو وضو میں کلی کرنا یا ناک میں پانی ڈالنا بھول گیا اور نماز پڑھ لی کہا مالک نے ہوگئ نماز اس کی دوبارہ پھر نماز پڑھنا لازم نہیں لیکن آئندہ کی نماز کے واسطے کلی کرلے یا ناک میں پانی ڈال لے۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Muhammad ibn Talhafrom Uthman ibn Abd ar-Rahman that his father related to him that he had heard that Umar ibn al-Khattab used to wash what was beneath his waist wrapper with water.
جو کوئی سو کر نماز کے لئے اٹھے اسکے وضو کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُکُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلْيَغْسِلْ يَدَهُ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي وَضُوئِهِ فَإِنَّ أَحَدَکُمْ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جب سو کر اٹھے کوئی تم میں سے تو پہلے اپنے ہاتھ دھو کر پانی میں ہاتھ ڈالے اس لئے کہ معلوم نہیں کہا رہی ہتھیلی اس کی۔
Yahya related to me from Malik from AbuzZinad from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When you wake up from sleep to pray, wash your hands before you put them in the wudu water, for you do not know where your hands have spent the night."
جو کوئی سو کر نماز کے لئے اٹھے اسکے وضو کا بیان
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ إِذَا نَامَ أَحَدُکُمْ مُضْطَجِعًا فَلْيَتَوَضَّأْ
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ کہا عمر بن خطاب نے جو شخص تم میں سے سو جائے لیٹ کر تو وضو کرے۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam that Umar ibn al-Khattab said, "If you fall asleep Iying down you must do wudu ( before you pray) . "
جو کوئی سو کر نماز کے لئے اٹھے اسکے وضو کا بیان
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ تَفْسِيرَ هَذِهِ الْآيَةِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَکُمْ وَأَيْدِيَکُمْ إِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُئُوسِکُمْ وَأَرْجُلَکُمْ إِلَی الْکَعْبَيْنِ أَنَّ ذَلِکَ إِذَا قُمْتُمْ مِنْ الْمَضَاجِعِ يَعْنِي النَّوْمَ
زید بن اسلم نے کہا یہ جو فرمایا اللہ جل جلالہ نے جب اٹھو تم نماز کے لئے تو دھؤو منہ اپنا اور ہاتھ اپنے کہنیوں تک اور مسح کرو سروں پر اور دھؤو پاؤں اپنے ٹخنوں تک اس سے یہ غرض ہے کہ جب اٹھو نماز کے لئے سو کر۔
Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam that the ayat "You who believe! When you rise for prayer wash your faces, and your arms to the elbows, and wipe over your heads and your feet up to the ankles," refers to rising from bed, meaning sleep.
جو کوئی سو کر نماز کے لئے اٹھے اسکے وضو کا بیان
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ يَنَامُ جَالِسًا ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ
ابن عمر سے روایت ہے کہ وہ بیٹھے بیٹھے سو جاتے تھے پھر نماز پڑھتے تھے اور وضو نہیں کرتے تھے۔
Yahya related to me from Malik from Nafithat Ibn Umar (RA) used to sleep sitting and then would pray without doing wudu.
عَنْ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرْکَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنْ الْمَائِ فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول اللہ ﷺ کے پاس تو کہا اس نے یا رسول اللہ ﷺ ہم سوار ہوتے ہیں سمندر میں اور اپنے ساتھ پانی تھوڑا رکھتے ہیں اگر اسی سے وضو کریں تو پیاسے رہیں کیا سمندر کے پانی سے ہم وضو کریں فرمایا آپ ﷺ نے پاک ہے پانی اس کا حلال ہے مردہ اس کا۔
Yahya related to me from Malik from Safwan ibn Sulaym from Said ibn Salama of the Bani Azraq from al-Mughira ibn Abi Burda of the tribe of Bani Abd ad-Dar that he had heard Abu Hurayra speak about a man who came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and said, "Messenger of Allah! We travel by sea and we do not carry much fresh water with us so if we do wudu with it we go thirsty. Can we do wudu with seawater?" The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, replied, "lts water is pure, and its dead creatures are halal."
عَنْ کَبْشَةَ بِنْتِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ وَکَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهَا أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَکَبَتْ لَهُ وَضُوئًا فَجَائَتْ هِرَّةٌ لِتَشْرَبَ مِنْهُ فَأَصْغَی لَهَا الْإِنَائَ حَتَّی شَرِبَتْ قَالَتْ کَبْشَةُ فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي قَالَتْ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّمَا هِيَ مِنْ الطَّوَّافِينَ عَلَيْکُمْ أَوْ الطَّوَّافَاتِ
کبشہ بنت کعب سے روایت ہے کہ ابوقتادہ انصاری گئے ان کے پاس تو رکھا کبشہ نے ایک برتن میں پانی ان کے وضو کے لئے پس آئی بلی اس میں سے پینے کو تو جھکا دیا برتن کو ابوقتادہ نے یہاں تک کہ پی لیا بلی نے پانی۔ کہا کبشہ نے دیکھ لیا ابوقتادہ نے کہ میں ان کی طرف تعجب سے دیکھتی ہوں تو پوچھا ابوقتادہ نے کیا تعجب کرتی ہو؟ اے بھتیجی میری میں نے کہا ہاں۔ تو کہا ابوقتادہ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے بلی ناپاک نہیں ہے وہ رات دن پھرنے والوں میں سے ہے تم پر۔
Yahya related to me from Malik from Ishaq ibn Abdullah ibn Abi Talha from Humayda bint Abi Ubayda ibn Farwa that her maternal aunt Kabsha bint Kab ibn Malik, who was the wife of the son of Abu Qatada al-Ansari, told her that once Abu Qatada was visiting her and she poured out some water for him to do wudu with. Just then a cat came to drink from it, so he tilted the vessel towards it to let it drink. Kabsha continued, "He saw me looking at him and said, Are you surprised, daughter of my brother? I said, Yes. He replied that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, cats are not impure. They intermingle with you . " Yahya said that Malik said, "There is no harm in that unless one sees impurities on the cats mouth."
عَنْ يَحْيَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ فِي رَکْبٍ فِيهِمْ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ حَتَّی وَرَدُوا حَوْضًا فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِصَاحِبِ الْحَوْضِ يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ هَلْ تَرِدُ حَوْضَکَ السِّبَاعُ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ لَا تُخْبِرْنَا فَإِنَّا نَرِدُ عَلَی السِّبَاعِ وَتَرِدُ عَلَيْنَا
یحییٰ بن عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ عمر بن خطاب نکلے چند سواروں میں ان میں عمر وبن عاص بھی تھے راہ میں ایک حوض ملا تو عمرو بن عاص نے حوض والے سے پوچھا کہ تیرے حوض پر درندے جانور پانی پینے کو آتے ہیں تو کہا عمر بن خطاب نے اے حوض والے مت بتا ہم کو کس لئے کہ درندے کبھی ہم سے آگے آتے ہیں اور کبھی ہم درندوں سے آگے آتے ہیں۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Muhammad ibn Ibrahim ibn alHarith at-Taymi from Yahya ibn Abd ar-Rahman ibn Hatib that Umar ibn al-Khattab set out on one occasion with a party of riders, one of whom was Amr ibn al-As. They came to a watering place and Amr ibn al-As asked the man who owned it whether wild beasts drank from it. Umar ibn al-Khattab told the owner of the watering place not to answer, since the people drank after the wild beasts and the wild beasts drank after them.
عَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ إِنْ کَانَ الرِّجَالُ وَالنِّسَائُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَتَوَضَّئُونَ جَمِيعًا
عبداللہ بن عمر کہتے تھے کہ مرد اور عورتیں وضو کرتی تھیں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اکٹھا۔
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to say that men and their wives used to do wudu together in the time of the Messenger of Allah.