Mauwatta Imam Malik

All 1,740 hadiths in order · Page 15 of 87

281Mauwatta Imam Malik

کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کی فضلیت کا بیان بیٹھ کر پڑھنے سے

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ نَالَنَا وَبَائٌ مِنْ وَعْکِهَا شَدِيدٌ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی النَّاسِ وَهُمْ يُصَلُّونَ فِي سُبْحَتِهِمْ قُعُودًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ الْقَاعِدِ مِثْلُ نِصْفِ صَلَاةِ الْقَائِمِ

عبداللہ بن عمر العاص سے روایت ہے کہ کہ جب آئے ہم مدینہ میں تو بخار وبائی بہت سخت ہوگیا ہم کو پس آئے رسول اللہ ﷺ لوگوں کے پاس اور وہ نفل نمازیں بیٹھ کر پڑھ رہے تھے سو فرمایا آپ ﷺ نے جو بیٹھ کر پڑھے گا اس کو کھڑے ہو کر پڑھنے والے کا آدھا ثواب ملے گا

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Abdullah ibn Amr ibn al As said, "When we arrived at Madina we were struck down by a severe epidemic which debilitated us greatly. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came out to the people while they were praying nawafil prayers sitting down. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, The prayer of the one sitting is equal to only half the prayer of the one standing. "

282Mauwatta Imam Malik

نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان

عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا قَطُّ حَتَّی کَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ فَکَانَ يُصَلِّي فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا وَيَقْرَأُ بِالسُّورَةِ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّی تَکُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا

حضرت ام المومنین حفصہ سے روایت ہے کہ نہیں دیکھا میں نے رسول اللہ ﷺ کو نفل بیٹھ کر پڑھتے ہوئے کبھی مگر وفات سے ایک سال پہلے آپ ﷺ نفل بیٹھ کر پڑھتے اور سورت کو اس قدر خوبی سے ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ وہ بڑی سے بڑی ہوجاتی۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from as-Saib ibn Yazid from al Muttalib ibn Abi Wadaa as-Sahmi that Hafsa, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "I never saw the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, praying nawafil sitting, until a year before his death, when he began to pray them sitting. He would recite the sura with a measured slowness so that it would seem to be longer than other suras which were actually longer than it."

283Mauwatta Imam Malik

نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان

عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا لَمْ تَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ اللَّيْلِ قَاعِدًا قَطُّ حَتَّی أَسَنَّ فَکَانَ يَقْرَأُ قَاعِدًا حَتَّی إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْکَعَ قَامَ فَقَرَأَ نَحْوًا مِنْ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً ثُمَّ رَکَعَ

حضرت ام المومنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کبھی نہیں دیکھا رسول اللہ ﷺ کو تہجد کی نماز بیٹھ کر پڑھتے ہوئے مگر جب سن آپ ﷺ کا زیادہ ہوگیا تو بیٹھ کر پڑھنے لگے پھر بھی تیس یا چالیس آیتیں رکوع سے پہلے کھڑے ہو کر پڑھ لیتے پھر رکوع کرتے۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, told him that she had never seen the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, doing night prayers sitting down until he was getting on in years. He would recite sitting down until when he wanted to go into ruku, he would stand up and recite about thirty or forty ayats and then go into ruku.

284Mauwatta Imam Malik

نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان

عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي جَالِسًا فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَائَتِهِ قَدْرُ مَا يَکُونُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ رَکَعَ وَسَجَدَ ثُمَّ صَنَعَ فِي الرَّکْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِکَ عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ کَانَا يُصَلِّيَانِ النَّافِلَةَ وَهُمَا مُحْتَبِيَانِ

عائشہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ بیٹھ کر نماز پڑھتے تو پڑھا کرتے کلام اللہ کو بیٹھے بیٹھے جب تیس یا چالیس آیتیں باقی رہتیں تو کھڑے ہو کر ان کو پڑھتے پھر رکوع اور سجدہ کرتے اور دوسری رکعت میں اسی طرح کرتے۔ امام مالک کو پہنچا عروہ بن زبیر اور سعید بن مسیب سے کہ وہ نفل نماز پڑھتے بیٹھ کر دونوں پاؤں کو کھڑا کر کے اور سرین زمین سے لگا کر۔

Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Yazid al-Madani and from Abun Nadr from Abu Salama ibn Abd ar-Rahman from Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to pray sitting. He would recite sitting, and then, when about thirty or forty ayats of what he was reciting remained, he would stand up and recite standing and then go into ruku and sajda. He would do the same in the second raka.

285Mauwatta Imam Malik

نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان

عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَی عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهُ قَالَ أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنْ أَکْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا ثُمَّ قَالَتْ إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فَآذِنِّي حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَی وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَيَّ حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَی وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ قَالَتْ عَائِشَةُ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابو یونس سے روایت ہے کہ حکم کیا مجھ کو ام المومنین حضرت عائشہ نے کلام کے لکھنے کا اور کہا کہ جب تم اس آیت پر پہنچو (حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى) 2۔ البقرۃ: 238) تو مجھ کو خبر کردینا پس جب پہنچا میں اس آیت کو تو خبر دے دی میں نے ان کو، کہا انہوں نے یوں لکھو حافظو علی الصلوت والصلوہ الوسطی والصلوہ العصر یعنی محافظت کرو نمازوں پر اور وسطی نماز پر اور عصر کی نماز پر کہا عائشہ سے کہ میں نے سنا اس کو رسول اللہ ﷺ سے۔

Yahya related to me from Malik that he had heard that Urwa ibn az-Zubayr and Said ibn al-Musayyab used to pray voluntary prayers sitting.

286Mauwatta Imam Malik

نماز وسطی کا بیان

عَنْ عَمْرِو بْنِ رَافِعٍ أَنَّهُ قَالَ کُنْتُ أَکْتُبُ مُصْحَفًا لِحَفْصَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَتْ إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فَآذِنِّي حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَی وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَيَّ حَافِظُوا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَی وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ

عمرو بن رافع سے روایت ہے کہ کلام اللہ لکھتا تھا حضرت ام المومنین حفصہ کے واسطے تو کہا انہوں نے جب تم اس آیت پر پہنچو (حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰی) 2۔ البقرۃ: 238) تو مجھے اطلاع کرنا پس جب پہنچا اس آیت پر خبر کی میں نے ان کو تو لکھوایا انہوں نے اس طرح حافظوا علی الصلوات والصلوہ الوسطی وصلوہ العصر وقومو اللہ قانتین یعنی محافظت کرو نمازوں پر اور بیچ والی نماز پر اور عصر کی نماز پر اور کھڑے رہو اللہ کے سامنے چپ اور خاموش۔

Yahya related to me from Malik from Zayd ibn Aslam from al-Qaqa ibn Hakim that Abu Yunus, the mawla of Aisha, umm al-muminin said, Aisha ordered me to write out a Quran for her. She said, When you reach this ayat, let me know, "Guard the prayers carefully and the middle prayer and stand obedient to Allah." When I reached it I told her, and she dictated to me, Guard the prayers carefully and the middle prayer and the asr prayer and stand obedient to Allah. Aisha said, I heard it from the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace. "

287Mauwatta Imam Malik

نماز وسطی کا بیان

حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ عَنْ ابْنِ يَرْبُوعٍ الْمَخْزُومِيِّ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ يَقُولُ الصَّلَاةُ الْوُسْطَی صَلَاةُ الظُّهْرِ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ کَانَا يَقُولَانِ الصَّلَاةُ الْوُسْطَی صَلَاةُ الصُّبْحِ قَالَ مَالِک وَقَوْلُ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِکَ

عبدالرحمن بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا زید بن ثابت ؓ سے کہتے تھے صلوہ الوسطی ظہر کی نماز ہے۔ امام مالک کو پہنچا حضرت علی بن ابی طالب اور عبدا اللہ بن عباس سے وہ دونوں صاحب فرماتے تھے کہ صلوہ وسطی صبح کی نماز ہے۔

Yahya related to me from Malik from Daud ibn al-Husayn that Ibn Yarbu al-Makhzumi said, "I heard Zayd ibn Thabit say, The middle prayer is the prayer of dhuhr. "

288Mauwatta Imam Malik

ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان

عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهُ رَأَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُشْتَمِلًا بِهِ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَی عَاتِقَيْهِ

عمر بن ابی سلمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے دیکھا رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے ایک کپڑے میں لپیٹتے تھے آپ ﷺ اس کو اور دونوں کنارے اس کے دونوں کندھوں پر تھے حضرت ام سلمہ کے گھر میں

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that Umar ibn Abi Salama saw the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, praying in one garment in the house of Umm Salama. He was completely covered by it, and had put both ends over his shoulders.

289Mauwatta Imam Malik

ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ سَائِلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَ لِکُلِّکُمْ ثَوْبَانِ

ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا رسول اللہ ﷺ سے کہ نماز درست ہے ایک کپڑے میں فرمایا آپ ﷺ نے کیا تم میں سے ہر کسی کو دو کپڑے ملتے ہیں۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Said ibn al-Musayyab from Abu Hurayra that some one asked the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace about praying in one garment. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Do you all have two garments?"

290Mauwatta Imam Malik

ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ أَبُو هُرَيْرَةَ هَلْ يُصَلِّي الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَقَالَ نَعَمْ فَقِيلَ لَهُ هَلْ تَفْعَلُ أَنْتَ ذَلِکَ فَقَالَ نَعَمْ إِنِّي لَأُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَإِنَّ ثِيَابِي لَعَلَی الْمِشْجَبِ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ کَانَ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ پوچھے گئے ابوہریرہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے سے کہا درست ہے پس کہا گیا ان سے کیا تم بھی ایسا کرتے ہو جواب دیا ہاں میں ایک کپڑے میں نماز پڑھتا ہوں باوجود اس بات کے کہ میرے کپڑے تپائی پر رکھے ہوتے ہیں۔ امام مالک کو پہنچا کہ جابر بن عبداللہ انصاری نماز پڑھتے تھے ایک کپڑے میں۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Said ibn al-Musayyab said that Abu Hurayra was asked, "May a man pray in one garment?" He said, "Yes." The man then said to him "Do you do that?" and he replied, "Yes, I pray in one garment while my clothes are on the clothes-rack."

291Mauwatta Imam Malik

ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان-r-nعورت کی نماز فقط کرتے اور سر بندھن میں ہوجانے کا بیان

عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ کَانَ يُصَلِّي فِي الْقَمِيصِ الْوَاحِدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَمْ يَجِدْ ثَوْبَيْنِ فَلْيُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُلْتَحِفًا بِهِ فَإِنْ کَانَ الثَّوْبُ قَصِيرًا فَلْيَتَّزِرْ بِهِ بَاب الرُّخْصَةِ فِي صَلَاةِ الْمَرْأَةِ فِي الدِّرْعِ عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تُصَلِّي فِي الدِّرْعِ وَالْخِمَارِ

ربیعہ بن عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ محمد بن عمرو بن حزم نماز پڑھتے تھے صرف کرتہ پہن کر۔ جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص نہ پائے تو نماز پڑھے ایک کپڑا لپیٹ کر اگر کپڑا چھوٹا ہو تو اس کی تہ بند کرلے۔ امام مالک کو پہنچا کہ حضرت ام المومنین عائشہ نماز پڑھتی تھیں کرتہ اور سر بندھن میں

Yahya related to me from Malik from Rabia ibn Abi Abd ar-Rahman that Muhammad ibn Amr ibn Hazm used to pray in a single long shirt.

292Mauwatta Imam Malik

عورت کی نماز فقط کرتے اور سر بندھن میں ہوجانے کا بیان

عَنْ أُمِّهِ أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاذَا تُصَلِّي فِيهِ الْمَرْأَةُ مِنْ الثِّيَابِ فَقَالَتْ تُصَلِّي فِي الْخِمَارِ وَالدِّرْعِ السَّابِغِ إِذَا غَيَّبَ ظُهُورَ قَدَمَيْهَا عَنْ بُکَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَسْوَدِ الْخَوْلَانِيِّ وَکَانَ فِي حَجْرِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَيْمُونَةَ کَانَتْ تُصَلِّي فِي الدِّرْعِ وَالْخِمَارِ لَيْسَ عَلَيْهَا إِزَارٌ

ام حرام سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا حضرت ام سلمہ ؓ سے کہ عورت کس قدر کپڑوں میں نماز پڑھ سکتی ہے تو جواب دیا کہ خمار اور کرتہ میں ایسا لمبا ہو کہ اس سے پاؤں ڈھپ جائیں۔ عبیداللہ خولانی جو لے پالک تھے حضرت میمونہ ام المومنین کے ان سے روایت ہے کہ حضرت میمونہ نماز پڑھتی تھیں کرتہ اور خمار یعنی سر بندھن میں اور ازار نہیں پہنے ہوتی تھیں۔

Yahya related to me from Malik from Muhammad ibn Zayd ibn Qunfudh that his mother asked Umm Salama, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, "What clothes can a woman wear in prayer?" She said, "She can pray in a shift that reaches down and covers the top of her feet."

293Mauwatta Imam Malik

عورت کی نماز فقط کرتے اور سر بندھن میں ہوجانے کا بیان

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ امْرَأَةً اسْتَفْتَتْهُ فَقَالَتْ إِنَّ الْمِنْطَقَ يَشُقُّ عَلَيَّ أَفَأُصَلِّي فِي دِرْعٍ وَخِمَارٍ فَقَالَ نَعَمْ إِذَا کَانَ الدِّرْعُ سَابِغًا

عروہ بن زبیر سے ایک عورت نے پوچھا کہ ازار باندھنا دشوار ہوتا ہے مجھ کو کیا نماز پڑھ لوں کرتہ اور سر بندھن میں جواب دیا عروہ نے کہ ہاں جب کرتہ خوب بڑا ہو۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father that a woman asked him for a decision, saying, "Waist-wrappers are painful to me. Can I pray in a shift and head-covering?" He replied, "Yes, if the shift is long."

294Mauwatta Imam Malik

دو نمازوں کے جمع کرنے کا بیان سفر اور حضر میں

عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي سَفَرِهِ إِلَی تَبُوکَ

اعرج سے روایت ہے کہ رسول اللہ جمع کرتے تھے ظہر اور عصر کو سفر تبوک میں

Yahya related to me from Malik from Daud ibn al-Husayn from al-Araj from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, joined dhuhr and asr on his journey to Tabuk.

295Mauwatta Imam Malik

دو نمازوں کے جمع کرنے کا بیان سفر اور حضر میں

عَنْ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوکَ فَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ قَالَ فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ دَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ جَمِيعًا ثُمَّ قَالَ إِنَّکُمْ سَتَأْتُونَ غَدًا إِنْ شَائَ اللَّهُ عَيْنَ تَبُوکَ وَإِنَّکُمْ لَنْ تَأْتُوهَا حَتَّی يَضْحَی النَّهَارُ فَمَنْ جَائَهَا فَلَا يَمَسَّ مِنْ مَائِهَا شَيْئًا حَتَّی آتِيَ فَجِئْنَاهَا وَقَدْ سَبَقَنَا إِلَيْهَا رَجُلَانِ وَالْعَيْنُ تَبِضُّ بِشَيْئٍ مِنْ مَائٍ فَسَأَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ مَسِسْتُمَا مِنْ مَائِهَا شَيْئًا فَقَالَا نَعَمْ فَسَبَّهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَهُمَا مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ثُمَّ غَرَفُوا بِأَيْدِيهِمْ مِنْ الْعَيْنِ قَلِيلًا قَلِيلًا حَتَّی اجْتَمَعَ فِي شَيْئٍ ثُمَّ غَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ أَعَادَهُ فِيهَا فَجَرَتْ الْعَيْنُ بِمَائٍ کَثِيرٍ فَاسْتَقَی النَّاسُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِکُ يَا مُعَاذُ إِنْ طَالَتْ بِکَ حَيَاةٌ أَنْ تَرَی مَا هَاهُنَا قَدْ مُلِئَ جِنَانًا

معاذ بن جبل سے روایت ہے کہ صحابہ نکلے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے غزوہ تبوک کے سال تو رسول اللہ ﷺ جمع کرتے ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کو پس ایک دن تاخیر کی ظہر کی پھر نکل کر ظہر اور عصر کو ایک ساتھ پڑھا پھر داخل ہوئے ایک مقام میں پھر وہاں سے نکل کر مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ پڑھا پھر فرمایا کہ کل اگر اللہ چاہے تو تم پہنچ جاؤں گے تبوک کے چشمہ پر سو تم ہرگز نہ پہنچو گے یہاں تک کہ دن چڑھ جائے گا اگر تم میں سے کوئی اس چشمہ پر پہنچے تو اس کا پانی نہ چھوئے جب تک میں نہ آلوں پھر پہنچے ہم اس چشمہ پر اور ہم سے آگے دو شخص وہاں پہنچ چکے تھے اور چشمہ میں کچھ تھوڑا سا پانی چمک رہا تھا پس پوچھا ان دونوں شخصوں سے رسول اللہ ﷺ نے کیا چھوا تم نے اس کا پانی بولے ہاں سو خفا ہوئے رسول اللہ ﷺ ان دونوں پر سخت کہا ان کو اور جو منظور تھا اللہ کو وہ کہا ان سے پھر لوگوں نے چلووں سے تھوڑا تھوڑا پانی چشمہ سے نکال کر ایک برتن میں اکٹھا کیا اور رسول اللہ ﷺ انے اپنے منہ اور ہاتھ دونوں اس میں دھو کر وہ پانی پھر اس چشمہ میں ڈال دیا پس چشمہ خوب بھر کر بہنے لگا سو پیا لوگوں نے پانی اور پلایا جانوروں کو بعد اس کے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قریب ہے اے معاذ اگر زندگی تیری زیادہ ہو تو دیکھے گا تو یہ پانی بھر دے گا باغوں کو۔

Yahya related to me from Malik from Abuz-Zubayr al-Makki from Abut-Tufayl Amir ibn Wathila that Muadh ibn Jabal told him that they went out with the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, in the year of Tabuk, and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, joined dhuhr with asr and maghrib with isha. Muadh said, "One day he delayed the prayer, and then came out and prayed dhuhr and asr together. Then he said, Tomorrow you will come, insha llah, to the spring of Tabuk. But you will not get there until well into the morning. No one who arrives should touch any of its water until I come. We came to it and two men had got to it before us and the spring was dripping with a little water. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, asked them, Have you touched any of its water? They said, Yes. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, reviled them and said what Allah wished him to say. Then they took water with their hands from the spring little by little until it had been collected in something. Then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, washed his face and hands in it. Then he put it back into the spring and the spring flowed with an abundance of water and the people drew water from it. The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, If you live long enough, Muadh, you will soon see this place filled with gardens. "

296Mauwatta Imam Malik

دو نمازوں کے جمع کرنے کا بیان سفر اور حضر میں

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے کہا رسول اللہ ﷺ کو جب جلدی چلنا سفر میں منظور ہوتا تو جمع کرلیتے مغرب اور عشاء کو۔

3 Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to join maghrib and isha together when it was urgent to travel."

297Mauwatta Imam Malik

دو نمازوں کے جمع کرنے کا بیان سفر اور حضر میں

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَائَ جَمِيعًا فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلَا سَفَرٍ قَالَ مَالِک أُرَی ذَلِکَ کَانَ فِي مَطَرٍ

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ پڑھیں ہمارے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے ظہر اور عصر ایک ساتھ اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ بغیر خوف اور بغیر سفر کے امام مالک نے کہا میرے نزدیک شاید یہ واقعہ بارش کے وقت ہوگا۔

Yahya related to me from Malik from Abuz Zubayr al-Makki from Said ibn Jubayr that Abdullah ibn Abbas said, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, prayed dhuhr and asr together and maghrib and isha together, and not out of fear nor because of travelling." Malik said, "I believe that was during rain."

298Mauwatta Imam Malik

دو نمازوں کے جمع کرنے کا بیان سفر اور حضر میں

عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا جَمَعَ الْأُمَرَائُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ فِي الْمَطَرِ جَمَعَ مَعَهُمْ

نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر جمع کرلیتے حاکموں کے ساتھ مغرب اور عشاء بارش کے وقت میں۔

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar used to join the prayer along with the amirs if they joined maghrib and isha in the rain.

299Mauwatta Imam Malik

دو نمازوں کے جمع کرنے کا بیان سفر اور حضر میں

عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ هَلْ يُجْمَعُ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ نَعَمْ لَا بَأْسَ بِذَلِکَ أَلَمْ تَرَ إِلَی صَلَاةِ النَّاسِ بِعَرَفَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَسِيرَ يَوْمَهُ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسِيرَ لَيْلَهُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ

ابن شہاب نے پوچھا سالم بن عبداللہ بن عمر سے کیا سفر میں ظہر اور عصر جمع کی جائیں بولے کچھ حرج نہیں ہے کیا تم نے عرفات میں نہیں دیکھا ظہر اور عصر کو جمع کرتے ہیں۔ امام زین العابدین سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب دن کو چلنا چاہتے ظہر اور عصر کو جمع کرلیتے اور جب رات کو چلنا چاہتے مغرب اور عشاء کو جمع کرلیتے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that he had asked Salim ibn Abdullah, "Can you join dhuhr and asr when travelling?" He said, "Yes, there is no harm in that. Havent you seen the people pray on Arafa?"

300Mauwatta Imam Malik

سفر میں نماز قصر کرنے کا بیان

عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّا نَجِدُ صَلَاةَ الْخَوْفِ وَصَلَاةَ الْحَضَرِ فِي الْقُرْآنِ وَلَا نَجِدُ صَلَاةَ السَّفَرِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ يَا ابْنَ أَخِي إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَعْلَمُ شَيْئًا فَإِنَّمَا نَفْعَلُ کَمَا رَأَيْنَاهُ يَفْعَلُ

امیہ بن عبداللہ نے پوچھا عبداللہ بن عمر سے کہ ہم پاتے ہیں خوف کی نماز اور حضرت کی نماز کو قرآن میں اور نہیں پاتے ہیں ہم سفر کی نماز کو قرآن میں عبداللہ بن عمر نے جواب دیا کہ اے بھتیجے میرے اللہ جل جلالہ نے بھیجا ہمارے طرف حضرت محمد ﷺ کو اس وقت میں کہ ہم کچھ نہ جانتے تھے پس کرتے ہیں ہم جس طرح ہم نے دیکھا حضرت محمد ﷺ کو کرتے ہوئے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from a man of the family of Khalid ibn Asid that he said to Abdullah ibn Umar, "Abu Abd ar-Rahman, we find the fear prayer and the prayer when settled mentioned in the Quran, but we do not find any mention of the travelling prayer in it." Ibn Umar (RA) said, "Son of my brother! Allah the Mighty and Majestic sent us Muhammad, may Allah bless him and grant him peace, and we know nothing. We only do as we saw him doing."