جو شخص نماز پڑھ کر یا دو رکعتیں پڑھ کر کھڑا ہوجائے اسکا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّهُ قَالَ صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَامَ فِي اثْنَتَيْنِ وَلَمْ يَجْلِسْ فِيهِمَا فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ
عبداللہ بن بحینہ سے روایت ہے کہ نماز پڑھائی رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی پھر کھڑے ہوگئے دو رکعتیں پڑھ کر اور نہ بیٹھے تو جب پورا کرچکے نماز کو دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا بعد اس کے۔
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Abd ar-Rahman ibn Hurmuz that Abdullah ibn Buhayna said, "The Messengerof Allah, may Allah bless him and grant him peace, prayed dhuhr with us and he stood straight up after two rakas without sitting. When he had finished the prayer, he did two sajdas and then said the taslim after that." Malik said, concerning someone who forgot in his prayer and stood up after he had completed four rakas and recited and then went into ruku and then, when he raised his head from ruku, remembered that he had already completed (his prayer), "He returns to a sitting position and does not do any sajda. If he has already done one sajda I do not think he should do the other. Then when his prayer is finished he does two sajdas from the sitting position after saying the taslim."
نماز میں اس چیز کی طرف دیکھنے کا بیان جو غافل کر دے نماز سے
حَدَّثَنِي يَحْيَی عَنْ مَالِک عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ عَنْ أُمِّهِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَهْدَی أَبُو جَهْمِ بْنُ حُذَيْفَةَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةً شَامِيَّةً لَهَا عَلَمٌ فَشَهِدَ فِيهَا الصَّلَاةَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ رُدِّي هَذِهِ الْخَمِيصَةَ إِلَی أبِي جَهْمٍ فَإِنِّي نَظَرْتُ إِلَی عَلَمِهَا فِي الصَّلَاةِ فَکَادَ يَفْتِنُنِي
مرجانہ سے روایت ہے کہ عائشہ نے فرمایا کہ ابوجہم بن حذیفہ نے تحفہ بھیجی ایک چادر شام کی رسول اللہ ﷺ کے واسطے جس میں نقش تھے تو نماز کو آئے آپ ﷺ اس کو اوڑھ کر پھر جب فارغ ہوئے نماز سے فرمایا کہ پھیر دے یہ چادر ابوجہم کو کیونکہ میں نے دیکھا اس کے بیل بوٹوں کو نماز میں پس قریب تھا کہ غافل ہوجاؤں میں۔
Yahya related to me from Malik from AIqama ibn Abi AIqama from his mother that Aisha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "Abu Jahm ibn Hudhayfa gave the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, a fine striped garment from Syria and he did the prayer in it. When he had finished he said, Give this garment back to Abu Jahm. I lookedat its stripes in the prayer and they almost distracted me. "
نماز میں اس چیز کی طرف دیکھنے کا بیان جو غافل کر دے نماز سے
حَدَّثَنِي مَالِک عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِسَ خَمِيصَةً لَهَا عَلَمٌ ثُمَّ أَعْطَاهَا أَبَا جَهْمٍ وَأَخَذَ مِنْ أَبِي جَهْمٍ أَنْبِجَانِيَّةً لَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلِمَ فَقَالَ إِنِّي نَظَرْتُ إِلَی عَلَمِهَا فِي الصَّلَاةِ
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک چادر شام کی بنی ہوئی نقشی بھیجی پھر وہ چادر ابوجہم کو دے دی اور ایک چادر موٹی سادی لے لی تو ابوجہم نے کہا کیوں ایسا یا رسول اللہ ﷺ؟ فرمایا میں نے نماز میں اس کو نقش ونگار کی طرف دیکھا۔
Malik related to me from Hisham ibn Urwa from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, wore a fine striped garment f rom Syria, and then gave it to Abu Jahm and took a plain, rough, garment in return. Abu Jahm asked, "Messenger of Allah! Why?" He said, "I looked at its stripes in the prayer."
نماز میں اس چیز کی طرف دیکھنے کا بیان جو غافل کر دے نماز سے
حَدَّثَنِي مَالِک عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ کَانَ يُصَلِّي فِي حَائِطِهِ فَطَارَ دُبْسِيٌّ فَطَفِقَ يَتَرَدَّدُ يَلْتَمِسُ مَخْرَجًا فَأَعْجَبَهُ ذَلِکَ فَجَعَلَ يُتْبِعُهُ بَصَرَهُ سَاعَةً ثُمَّ رَجَعَ إِلَی صَلَاتِهِ فَإِذَا هُوَ لَا يَدْرِي کَمْ صَلَّی فَقَالَ لَقَدْ أَصَابَتْنِي فِي مَالِي هَذَا فِتْنَةٌ فَجَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ لَهُ الَّذِي أَصَابَهُ فِي حَائِطِهِ مِنْ الْفِتْنَةِ وَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ صَدَقَةٌ لِلَّهِ فَضَعْهُ حَيْثُ شِئْتَ
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ ابوطلحہ انصاری نماز پڑھ رہے تھے باغ میں تو ایک چڑیا اڑی اور ڈھونڈے لگی راہ نکلنے کی کیونکہ باغ اس قدر گنجان تھا اور پیڑ آپس میں ملے ہوئے تھے کہ چڑیا کو جگہ نکلنے کی نہ ملتی تھی پس پسند آیا ان کو یہ امر اور خوش ہوئے اپنے باغ کا یہ حال دیکھ کر تو ایک گھڑی تک اس طرف دیکھتے رہے پھر خیال آیا نماز کا سو بھول گیا کہ کتنی رکعتیں پڑھیں تب کہا مجھے آزمایا اللہ جل جلالہ نے اس مال سے تو آئے رسول اللہ ﷺ کے پاس اور بیان کیا جو کچھ باغ میں قصہ ہوا تھا اور کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ باغ صدقہ ہے واسطے اللہ کے اور صرف کریں اس کو جہاں آپ ﷺ چاہیں۔
Malik related to me from Abdullah ibn Abi Bakr that Abu Talha al-Ansari was praying in his garden when a wild pigeon flew in and began to fly to and fro trying to find a way out. The sight was pleasing to him and he let his eyes follow the bird for a time and then he went back to his prayer but could not remember how much he had prayed. He said, "A trial has befallen me in this property of mine." So he came to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and mentioned the trial that had happened to him in his garden and said, "Messenger of Allah, it is a sadaqa for Allah, so dispose of it wherever you wish."
نماز میں اس چیز کی طرف دیکھنے کا بیان جو غافل کر دے نماز سے
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ کَانَ يُصَلِّي فِي حَائِطٍ لَهُ بِالْقُفِّ وَادٍ مِنْ أَوْدِيَةِ الْمَدِينَةِ فِي زَمَانِ الثَّمَرِ وَالنَّخْلُ قَدْ ذُلِّلَتْ فَهِيَ مُطَوَّقَةٌ بِثَمَرِهَا فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَأَعْجَبَهُ مَا رَأَی مِنْ ثَمَرِهَا ثُمَّ رَجَعَ إِلَی صَلَاتِهِ فَإِذَا هُوَ لَا يَدْرِي کَمْ صَلَّی فَقَالَ لَقَدْ أَصَابَتْنِي فِي مَالِي هَذَا فِتْنَةٌ فَجَائَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ فَذَکَرَ لَهُ ذَلِکَ وَقَالَ هُوَ صَدَقَةٌ فَاجْعَلْهُ فِي سُبُلِ الْخَيْرِ فَبَاعَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ بِخَمْسِينَ أَلْفًا فَسُمِّيَ ذَلِکَ الْمَالُ الْخَمْسِينَ
عبداللہ بن ابی بکر سے روایت ہے کہ ایک شخص انصار میں سے نماز پڑھ رہا تھا اپنے باغ میں اور وہ باغ قف میں تھا جو نام ہے ایک وادی کا جو مدینہ کی وادیوں میں سے ہے ایسے موسم میں کہ کھجور پک کر لٹک رہی تھی گویا پھلوں کے طوق شاکوں کے گلوں میں پڑے تھے تو اس نے نماز میں اس طرف دیکھا اور نہایت پسند کیا پھلوں کو پھر جب خیال کیا نماز کا تو بھول گیا کتنی رکعتیں پڑھیں تو کہا کہ مجھے اس مال میں آزمائش ہوئی اللہ جل جلالہ کی پس آیا حضرت عثمان کے پاس اور وہ ان دنوں خلیفہ تھے رسول اللہ ﷺ کے اور بیان کیا ان سے یہ قصہ پھر کہا کہ وہ صدقہ ہے تو صرف کرو اس کو نیک راہوں میں پس بیچا اس کو حضرت عثمان نے پچاس ہزار کا اور اس مال کا نام ہوگیا پچاس ہزارہ۔
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr that a man from the Ansar was praying in a garden of his in Quff, one of the valleys of Madina, during the date season and the palms branches were weighed down with fruit on all sides. He looked at them and what he saw of their fruits amazed him. Then he went back to his prayer and he did not know how much he had prayed. He said, "A trial has befallen me in this property of mine." So he went toUthman ibn Affan, who was the khalifa at the time, and mentioned it to him and said, "It is sadaqa, so give it away in the paths of good." Uthman ibn Affan sold it for fifty thousand and so that property became known as the Fifty.
نماز میں بھول جانے کا علاج
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي جَائَهُ الشَّيْطَانُ فَلَبَسَ عَلَيْهِ حَتَّی لَا يَدْرِيَ کَمْ صَلَّی فَإِذَا وَجَدَ ذَلِکَ أَحَدُکُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي لَأَنْسَی أَوْ أُنَسَّی لِأَسُنَّ عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ فَقَالَ إِنِّي أَهِمُ فِي صَلَاتِي فَيَكْثُرُ ذَلِكَ عَلَيَّ فَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ امْضِ فِي صَلَاتِكَ فَإِنَّهُ لَنْ يَذْهَبَ عَنْكَ حَتَّى تَنْصَرِفَ وَأَنْتَ تَقُولُ مَا أَتْمَمْتُ صَلَاتِي
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک تم میں سے جب کوئی کھڑا ہوتا ہے نماز کو تو آتا ہے شیطان اس کے پاس پھر بھلا دیتا ہے اس کو یہاں تک کہ اس کو یاد نہیں رہتا کہ کتنی رکعتیں پڑھیں تو جب تم میں سے کسی کو ایسا اتفاق ہو تو وہ سجدے کرے بیٹھے بیٹھے۔ امام مالک کو پہنچا کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے میں بھولتا ہوں یا بھلایا جاتا ہوں تاکہ اپنی امت کے لئے ایک راہ پیدا کروں۔ امام مالک کو پہنچا کہ ایک شخص نے قاسم بن محمد بن ابوبکر صدیق سے پوچھا کہ مجھے نماز میں وہم ہوتا ہے اور بہت وہم ہوتا ہے تو قاسم نے کہا کہ تو نماز اپنی پڑھے جا اور وہم کی طرف مت خیال کر اس لئے کہ تجھے وہم کبھی نہ چھوڑے گا جب تک تو نماز سے فارغ نہ ہو اور دل میں یہ خیال رہے کہ میں نے پوری نماز پڑھی۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Abu Salama ibn Abdar-Rahman ibn Awf from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When you stand in prayer, Shaytan comes to you and confuses you until you do not know how much you have prayed. If you find that happening do two sajdas from the sitting position."
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْأُولَی فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ کَبْشًا أَقْرَنَ وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ حَضَرَتْ الْمَلَائِکَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّکْرَ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جو شخص غسل کرے جمعہ کے دن مانند غسل جنابت کے پھر جائے مسجد کو پہلی ساعت میں تو گویا اس نے صدقہ دیا ایک اونٹ اور جو جائے دوسری ساعت میں تو گویا اس نے صدقہ دیا ایک بیل یا گائے اور جو جائے تیسری ساعت تو گویا اس نے صدقہ دیا ایک مینڈھا سینگ دار اور چوتھی ساعت میں جائے تو گویا اس نے صدقہ دیا ایک مرغ اور جو پانچویں ساعت میں جائے تو صدقہ دیا اس نے ایک انڈا پھر جس وقت امام نکلتا ہے خطبہ کو فرشتے آتے ہیں خطبہ سننے کو۔
Yahya related to me from Malik from Sumayy, the mawla of Abu Bakr (RA) ibn Abd ar-Rahman, from Abu Salih as-Sammani from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "If someone does ghusl for major ritual impurity on the day of jumua and then goes in the first part of the time, it is as if he had offered up a camel. If he goes in the second part of the time, it is as if he had offered up a cow. If he goes in the third part of the time, it is as if he had offered up a horned ram. If he goes in the fourth part of the time, it is as if he had offered up a hen. If he goes in the fifth part of the time, it is as if he had offered up an egg. And when the imam comes out, the angels settle down listening to the dhikr (remembrance of Allah)."
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَی کُلِّ مُحْتَلِمٍ کَغُسْلِ الْجَنَابَةِ
ابوہریرہ کہتے تھے جمعہ کے روز غسل کرنا واجب ہے ہر بالغ پر مثل غسل جنابت کے۔
Yahya related to me from Malik from Said ibn Abi Said al-Maqburi that Abu Hurayra used to say, "Doing ghusl as prescribed for major ritual impurity is incumbent (wajib) on the day of jumua on every male who has reached puberty."
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ فَقَالَ عُمَرُ أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ انْقَلَبْتُ مِنْ السُّوقِ فَسَمِعْتُ النِّدَائَ فَمَا زِدْتُ عَلَی أَنْ تَوَضَّأْتُ فَقَالَ عُمَرُ وَالْوُضُوئَ أَيْضًا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ایک شخص آئے اصحاب میں سے رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں جمعہ کے دن اور حضرت عمر خطبہ پڑھ رہے تھے تو بولے حضرت عمر کیا وقت ہے یہ آنے کا جواب دیا اس شخص نے کہ میں لوٹا بازار سے تو سنا میں نے اذان کو پس وضو کیا اور چلا آیا تو کہا حضرت عمر نے یہ دوسرا قصور ہے تم نے صرف وضو کیا حالانکہ تم کو معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ حکم کرتے تھے غسل کا۔
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Salim ibn Abdullah said, "One of the companions of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, came into the mosque on the day of jumua and Umar ibn al Khattab was already giving the khutba. Umar said, What (kind of) time is this (to arrive)? He said, Amir al-muminin, I returned from the market and heard the call to prayer, so I did no more than do wudu. Umar said, You only did wudu as well? You know that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to tell people to do ghusl. "
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ غُسْلُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَی کُلِّ مُحْتَلِمٍ
ابو سعیدخدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا غسل جمعہ کا واجب ہے ہر شخص بالغ پر۔
Yahya related to me from Malik from Safwan ibn Sulaym from Ata ibn Yasar from Abu Said al-Khudri that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Ghusl on the day of jumua is incumbent on every male who has reached puberty."
و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جو شخص آئے جمعہ کو تو غسل کر کے آئے یا جو شخص نماز جمعہ کا ارادہ کرے تو غسل کرلے۔
Yahya related to me from Malik from Nafi from Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "When you come to jumua, do ghusl." Malik said, "It is not enough for someone to do a
جمعہ کے دن خطبہ ہو تو چپ رہنا چاہئے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِکَ أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَدْ لَغَوْتَ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جس وقت امام خطبہ پڑھتا ہے اگر تو اپنے پاس والے سے کہے چپ رہ تو تو نے بھی ایک لغو حرکت کی۔
جمعہ کے دن خطبہ ہو تو چپ رہنا چاہئے۔
عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِکٍ الْقُرَظِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ کَانُوا فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يُصَلُّونَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حَتَّی يَخْرُجَ عُمَرُ فَإِذَا خَرَجَ عُمَرُ وَجَلَسَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُونَ قَالَ ثَعْلَبَةُ جَلَسْنَا نَتَحَدَّثُ فَإِذَا سَکَتَ الْمُؤَذِّنُونَ وَقَامَ عُمَرُ يَخْطُبُ أَنْصَتْنَا فَلَمْ يَتَکَلَّمْ مِنَّا أَحَدٌ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَخُرُوجُ الْإِمَامِ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ وَکَلَامُهُ يَقْطَعُ الْکَلَامَ
ثعلبہ بن ابی مالک قرظی سے روایت ہے کہ لوگ نماز پڑھا کرتے تھے جمعہ کے دن یہاں تک کہ نکلیں عمر بن خطاب پھر جب نکلتے عمر اور بیٹھے ہوئے باتیں کیا کرتے جب مؤذن چپ ہو رہتے اور عمر کھڑے ہو کر خطبہ پڑھتے تو کوئی بات نہ کرتا کہا ابن شہاب نے جب امام نکلے خطبے کے لئے تو نماز موقوف کرنا چاہئے اور جب خطبہ شروع کرے تو بات موقوف کرنا چاہئے۔
جمعہ کے دن خطبہ ہو تو چپ رہنا چاہئے۔
عَنْ مَالِکِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ کَانَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ قَلَّ مَا يَدَعُ ذَلِکَ إِذَا خَطَبَ إِذَا قَامَ الْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَاسْتَمِعُوا وَأَنْصِتُوا فَإِنَّ لِلْمُنْصِتِ الَّذِي لَا يَسْمَعُ مِنْ الْحَظِّ مِثْلَ مَا لِلْمُنْصِتِ السَّامِعِ فَإِذَا قَامَتْ الصَّلَاةُ فَاعْدِلُوا الصُّفُوفَ وَحَاذُوا بِالْمَنَاکِبِ فَإِنَّ اعْتِدَالَ الصُّفُوفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ ثُمَّ لَا يُکَبِّرُ حَتَّی يَأْتِيَهُ رِجَالٌ قَدْ وَکَّلَهُمْ بِتَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ فَيُخْبِرُونَهُ أَنْ قَدْ اسْتَوَتْ فَيُکَبِّرُ
مالک بن ابی عامر سے روایت ہے کہ عثمان بن عفان جب خطبہ کو کھڑے ہوئے تو اکثر کہا کرتے بہت کم چھوڑ دیتے یہ بات اے لوگو! جب امام کھڑا ہو خطبہ کے لئے تو سنو خطبہ کو اور چپ رہو کیونکہ جو شخص چپ رہے گا اور خطبہ اس کو نہ سنائی دے گا اس کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا اس شخص کو ملے گا جو چپ رہے اور خطبہ اس کو سنائی دے اور جب تکبیر ہو نماز کی تو برابر کرو صفوں کو اور برابر کرو مونڈھوں کو کیونکہ صفیں برابر کرنا نماز کا تتمہ ہے پھر تکبیر تحریمہ نہ کہتے تھے عثمان یہاں تک کہ خبر دیتے آکر ان کو وہ لوگ جن کو مقرر کیا تھا صفیں برابر کرنے پر اس بات کی صفیں برابر ہوگئیں اس وقت تکبیر تحریمہ کہتے تھے۔
جمعہ کے دن خطبہ ہو تو چپ رہنا چاہئے۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَأَی رَجُلَيْنِ يَتَحَدَّثَانِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَحَصَبَهُمَا أَنْ اصْمُتَا حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا عَطَسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَشَمَّتَهُ إِنْسَانٌ إِلَی جَنْبِهِ فَسَأَلَ عَنْ ذَلِکَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِکَ وَقَالَ لَا تَعُدْ
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے دیکھا دو مردوں کو خطبہ کے وقت باتیں کر رہے ہیں تو کنکر پھینکے ان پر اس لئے کہ چپ رہیں۔ امام مالک کو پہنچا کہ ایک شخص چھینکا دن جمعہ کے اور امام خطبہ پڑھتا تھا تو جواب دیا اس کو ایک آدمی نے پھر پوچھا سعید بن مسیب سے تو منع کیا انہوں نے اس سے اور کہا کہ پھر ایسا نہ کرنا۔
جمعہ کے دن خطبہ ہو تو چپ رہنا چاہئے۔
حَدَّثَنِي عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ الْکَلَامِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذَا نَزَلَ الْإِمَامُ عَنْ الْمِنْبَرِ قَبْلَ أَنْ يُکَبِّرَ فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ لَا بَأْسَ بِذَلِکَ
امام مالک سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا ابن شہاب زہری سے کہا جب امام منبر سے اترے خطبہ پڑھ کر تو قبل تکبیر کے بات کہنا کیسا ہے کہ ابن شہاب نے کچھ قباحت نہیں ہے۔
جس نے امام کے ساتھ ایک رکعت جمعہ کی پائی اس کا بیان
حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مَنْ أَدْرَكَ مِنْ صَلَاةِ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً فَلْيُصَلِّ إِلَيْهَا أُخْرَى قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَهِيَ السُّنَّةُ
ابن شہاب سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے جو شخص جمعہ کی نماز کی ایک رکعت پائے تو وہ ایک رکعت ادا کرے یہی سنت ہے۔
عَنْ مَالِک أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَی ذِکْرِ اللَّهِ فَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقْرَؤُهَا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَامْضُوا إِلَی ذِکْرِ اللَّهِ
امام مالک نے پوچھا ابن شہاب سے کہ اس آیت کی تفسیر کیا ہے اذانودی للصلوہ من یوم الجمعہ فاسعو الی ذکر اللہ تو ابن شہاب نے جواب دیا کہ حضرت عمر بن خطاب اس آیت کو یوں پڑھتے تھے اذانودی للصلوہ من یوم الجمعہ فامضوا (فاسعوا) 62۔ الجمعہ: 9) الی ذکر اللہ۔
جمعہ کے دن اس ساعت کا بیان جس میں دعا قبول ہوتی ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ فِيهِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ يُقَلِّلُهَا
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ذکر کیا جمعہ کا پھر کہا کہ اس میں ایک ساعت ایسی ہے کہ نہیں پاتا اس کا بندہ مسلمان اور وہ نماز میں کھڑا ہوتا ہے اور مانگتا ہے اللہ سے کچھ مگر دیتا ہے اللہ اس چیز کو اس کو اور اشارہ کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے کہ وہ ساعت تھوڑی ہے۔
جمعہ کے دن اس ساعت کا بیان جس میں دعا قبول ہوتی ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ خَرَجْتُ إِلَی الطُّورِ فَلَقِيتُ کَعْبَ الْأَحْبَارِ فَجَلَسْتُ مَعَهُ فَحَدَّثَنِي عَنْ التَّوْرَاةِ وَحَدَّثْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَانَ فِيمَا حَدَّثْتُهُ أَنْ قُلْتُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُهْبِطَ مِنْ الْجَنَّةِ وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ وَفِيهِ مَاتَ وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ مُصِيخَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينِ تُصْبِحُ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ شَفَقًا مِنْ السَّاعَةِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ قَالَ کَعْبٌ ذَلِکَ فِي کُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ فَقُلْتُ بَلْ فِي کُلِّ جُمُعَةٍ فَقَرَأَ کَعْبٌ التَّوْرَاةَ فَقَالَ صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَلَقِيتُ بَصْرَةَ بْنَ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيَّ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ فَقُلْتُ مِنْ الطُّورِ فَقَالَ لَوْ أَدْرَکْتُکَ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ مَا خَرَجْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُعْمَلُ الْمَطِيُّ إِلَّا إِلَی ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ إِلَی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِلَی مَسْجِدِي هَذَا وَإِلَی مَسْجِدِ إِيلِيَائَ أَوْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ يَشُکُّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ کَعْبِ الْأَحْبَارِ وَمَا حَدَّثْتُهُ بِهِ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَقُلْتُ قَالَ کَعْبٌ ذَلِکَ فِي کُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ کَذَبَ کَعْبٌ فَقُلْتُ ثُمَّ قَرَأَ کَعْبٌ التَّوْرَاةَ فَقَالَ بَلْ هِيَ فِي کُلِّ جُمُعَةٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ صَدَقَ کَعْبٌ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتَ لَهُ أَخْبِرْنِي بِهَا وَلَا تَضَنَّ عَلَيَّ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ وَکَيْفَ تَکُونُ آخِرَ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي وَتِلْکَ السَّاعَةُ سَاعَةٌ لَا يُصَلَّی فِيهَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ حَتَّی يُصَلِّيَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ بَلَی قَالَ فَهُوَ ذَلِکَ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ میں گیا کوہ طور پر تو ملا میں کعب بن الاحبار سے اور بیٹھا میں ان کے پاس پس بیان کیں کعب الاحبار نے مجھ سے باتیں تورات کی اور میں نے بیان کیں باتیں ان سے رسول اللہ ﷺ کی تو جو باتیں میں نے ان سے کہیں ان میں ایک یہ بھی تھی کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے بہتر سب دنوں میں جن میں سورج نکلا ہے جمعہ کا دن ہے اسی دن پیدا ہوئے آدم اور اسی دن اتارے گئے جنت سے اور اسی دن معاف ہوا گناہ ان کا اور اسی دن قیامت قائم ہوگی اور کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جو کان نہ لگائے جمعہ کے دن آفتاب نکلنے تک قیامت کے خوف سے مگر جنات اور آدمی غافل رہتے ہیں اور جمعہ میں ایک ساعت ایسی ہے کہ نہیں پاتا اس کا مسلمان بندہ نماز میں اور وہ مانگے اللہ سے کچھ مگر دے اللہ جل جلالہ اس کو کعب الاحبار نے کہا یہ تو ہر سال میں ایک دن ہوتا ہے میں نے کہا نہیں بلکہ ہر جمعہ کو تو کعب نے تورات کو پڑھا پھر کہا سچ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہا ابوہریرہ ؓ نے پھر ملا میں بصرہ بن ابی بصرہ غفاری سے تو کہا انہوں نے کہاں سے آتے ہو میں نے کہا کہ کوہ طور سے کہا انہوں نے اگر قبل طور جانے کے تم مجھ سے ملتے تو تم نہ جاتے سنا میں نے رسول اللہ ﷺ سے فرماتے تھے نہ تیار کئے جائیں اونٹ مگر تین مسجدوں کے لئے ایک مسجد الحرام دوسری میری مسجد یہ تیسری مسجد ایلیا یا بیت المقدس شک ہے راوی کو کہا ابوہریرہ ؓ نے پھر ملا میں عبداللہ بن سلام سے اور بیان کیا میں نے ان سے جو گفتگو کی تھی میں نے کعب الاحبار سے جمعہ کے باب میں اور میں نے یہ کہا کہ کعب الاحبار نے کہا یہ دن ہر سال میں ایک بار ہوتا ہے تو عبداللہ بن سلام نے کہا کہ جھوٹ بولا کعب نے پھر میں نے کہا کہ کعب نے تورات کو پڑھ کر یہ کہا کہ بیشک یہ ساعت ہر جمعہ کو ہوتی ہے تب عبداللہ بن سلام نے کہا کہ سچ کہا کعب نے پھر کہا عبداللہ بن سلام نے میں جانتا ہوں اس ساعت کو وہ کونسی ہے ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ بتاؤ مجھ کو اور بخل نہ کرو عبداللہ بن سلام نے کہا کہ وہ آخر ساعت ہے جمعہ کی ابوہریرہ ؓ نے کہا کیونکہ آخر ساعت ہوگی حالانکہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہا نہیں پاتا اس کو مسلمان بندہ نما میں مگر جو مانگتا ہے اللہ سے دیتا ہے اس کو یہ ساعت تو ایسی ہے کہ اس میں نماز نہیں ہوسکتی ہے تو جواب دیا عبداللہ بن سلام نے کیا نہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جو شخص بیٹھے نماز کے انتظار میں تو وہ نماز میں ہے یہاں تک کہ نماز پڑھے ابوہریرہ ؓ نے کہا ہاں عبداللہ بن سلام نے کہا پس یہی مطلب ہے۔