کتاب الصوم

Maarif-ul-Hadith · Chapter 7 · 84 hadiths · Page 4 of 5

945Maarif-ul-Hadith

ہر مہینہ میں تین نفلی روزے کافی ہیں

عَنْ أَبِي قَتَادَةَ : أَنَّ رَجُلٌ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : كَيْفَ تَصُومُ؟ فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، غَضَبَهُ ، قَالَ : رَضِينَا بِاللهِ رَبًّا ، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا ، نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ غَضَبِ اللهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ ، فَجَعَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُرَدِّدُ هَذَا الْكَلَامَ حَتَّى سَكَنَ غَضَبُهُ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ؟ قَالَ : « لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ » أَوْ قَالَ « لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ » قَالَ : كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ : « وَيُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ؟ » قَالَ : كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ : « ذَاكَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام » قَالَ : كَيْفَ مَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ؟ قَالَ : « وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ » ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « ثَلَاثٌ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ ، فَهَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ ، صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ ، أَحْتَسِبُ عَلَى اللهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ ، وَالسَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ ، وَصِيَامُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ ، أَحْتَسِبُ عَلَى اللهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ » (رواه مسلم)

حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور اس نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ: آپ روزے کس طرح رکھتے ہیں؟ (یعنی نفلی روزے رکھنے کے بارے میں آپ کا کیا معمول و دستور ہے؟) اس کے اس سوال پر رسول اللہ ﷺ کو ناگواری ہوئی (یعنی چہرہ مبارک پر تکدر اور برہمی کے آثار ظاہر ہوئے) حضرت عمر ؓ نے (جو حاضر تھے) جب آپ کی ناگواری کی کیفیت کو محسوس کیا تو کہا: رَضِينَا بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ غَضَبِ اللهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ ہم راضی ہیں اللہ کو اپنا رب مان کر اور اسلام کو اپنا دین بنا کر اور محمد علیہ السلام کو نبی مان کر، اللہ کی پناہ اس کی ناراضی سے اور اس کے رسول کی ناراضی سے۔ حضرت عمر ؓ بار بار اپنی یہی بات دہراتے رہے، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے مزاج مبارک میں جو ناگواری پیدا ہو گئی تھی اس کا اثر زائل ہو گیا۔ تو حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ: یا رسول اللہ ﷺ! وہ شخص کیسا ہے جو ہمیشہ بلا ناغہ روزے رکھے، اور اس کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہ اس نے روزہ رکھا نہ افطار کیا۔ پھر حضرت عمرؓ نے عرض کیا اور اس آدمی کے بارے میں کیا ارشاد ہے جو دو دن روزے رکھے اور اییک دن ناغہ کرے یعنی بغیر روزے کے رہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا کسی میں اس کی طاقت ہے؟ (یعنی یہ بہت مشکل ہے ہمیشہ روزہ رکھنے سے بھی زیادہ مشکل ہے اس لیے اس کا ارادہ نہ کرنا چاہئے) حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ اور اس کے بارے میں کیا ارشاد ہے: جو ہمیشہ ایک دن روزے رکھے اور ایک دن ناغہ کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ صوم داؤد ہے (یعنی حضرت داؤد علیہ السلام جن کو اللہ نے غیر معمولی جسمانی قوت بخشی تھی ان کا معمول یہی تھا کہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے) حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ: اس آدمی کے بارے میں کیا ارشاد ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن ناغہ کرے؟ اور اس طرح اوسطاً ہر مہینے میں دن دن روزہ رکھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: میرا جی چاہتا ہے کہ مجھے اس کی طاقت عطا فرمائی جائے .... پھر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہر مہینے کے تین نفلی روزے اور رمضان تا رمضان یہ (یہ اجر و ثواب کے لحاظ سے) ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہے (لہذا جو صوم دہر کا ثواب حاصل کرنا چاہے وہ اس کو اپنا معمول بنا لے) اور یوم عرفہ (۹ ذی الحجہ) کے روزے کے بارے میں، میں امید کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے کرم سے کہ وہ صفائی کر دے گا اس سے پہلے ساتل کی اور بعد کے سال کی (یعنی اس کی برکت سے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کی گندگیاں دھل جائیں) اور یوم عاشورا (۱۰ محرم) کے روزے کے بارے میں میں امید کرتا ہوں اللہ تعالیٰ سے کہ وہ صفائی کر دے گا اس سے پہلے سال کی۔ (صحیح مسلم) تشریح حدیث کا اصل مفہوم و مقصد تو ظاہر ہے لیکن چند ضمنی باتیں وضاحت طلب ہیں، انہی کے بارے میں کچھ عرض کیا جاتا ہے۔ حدیث کے بالکل شروع میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ: آپ کس طرح روزے رکھتے ہیں؟ (یعنی نفلی روزوں کے بارے میں خود آپ کا معمول اور طریقہ کیا ہے) آپ کو اس سوال پر ناراضی اور ناگواری ہوئی .... یہ ناراضی اور ناگواری ایسی ہی تھی جیسی شفیق استاد اور مربی کو کسی شاگرد اور زیر تربیت طالب و مرید کے غلط اور نامناسب سوال سے ہوتی ہے۔ سوال کرنے والے کو اصل بات دریافت کرنی چاہئے تھی۔ یعنی یہ پوچھنا چاہئے تھا کہ میرے لیے نفلی روزوں کے بارے میں کیا طرز عمل مناسب ہے؟ اس نے بجائے اس کے حضور ﷺ کا معمول دریافت کیا تھا۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ زندگی کے بہت سے شعبوں میں ان بہت سے اسباب کی بناء پر جو آپ کے منصب نبوت اور مصالح امت سے تعلق رکھتے تھے ایسا طرز عمل بھی اختیار کرتے تھے جس کی تقلید ہر ایک کے لیے مناسب نہیں ہے اس لیے سائل کو آپ کا معمول دریافت کرنے کے بجائے اصل مسئلہ دریافت کرنا چاہئے تھا ..... استاذ اور مربی کی اس طرح کی ناگواری بھی در اصل تربیت ہی کا ایک جز ہے۔ حضرت عمر ؓ نے اس سوال سے حضور ﷺ کی ناگواری کو محسوس کر کے مسلمانوں کی طرف سے عرض کیا: رَضِينَا بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ غَضَبِ اللهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ اس کے بعد آپ نے نفلی روزوں ہی کے بارے میں صحیح طریقے پر سوال کئے اور رسول اللہ ﷺ نے ان کے جوابات مرحمت فرمائے۔ جو شخص ہمیشہ بلا ناغہ روزہ رکھے اس کے بارے میں آپ ﷺ نے جو فرمایا کہ 44: لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ (نہ اس نے روزہ رکھا نہ افطار کیا) اس سے آپ کا مقصد ناپسندیدگی کا اظہار ہے اور مطلب یہ ہے کہ یہ غلط ہے، نہ صوم ہے نہ افطار ہے۔ حضرت عمر ؓ کے سوالات کے جوابات کے بعد آپ ﷺ نے اپنی طرف سے جو مزید فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ روزہ کے باب میں عام مسلمین کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ وہ رمضان کے فرض روزے رکھا کریں، اس کے علاوہ ہر مہینے میں تین نفلی روزے رکھ لیا کریں جو الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا کے حساب سے ثواب میں تیس روزوں کے برابر ہوں گے اور اس طرح ان کو صوم دہر کا ثواب مل جائے گا .... مزید نفع مندی اور کمائی کے لیے یوم عرفہ اور یوم عاشورا کے دو روزے بھی رکھ لیا کریں۔ حضور ﷺ نے امید ظاہر فرمائی کہ رب کریم کے کرم سے مجھے امید ہے کہ یوم عرفہ کا روزہ ایک سال پہلی اور ایک سال بعد کی خطاکاریوں کا اور یوم عاشورا کا روزہ پہلے سال کی غلط کاریوں کا کفارہ بن جائے گا۔ واضح رہے کہ عرفہ کے دن جو دراصل حج کا دن ہے روزہ کی یہ فضیلت اور ترغیب غیر حاجیوں کے لیے ہے، حاجیوں کی اس دن کی خاص الخاص اور مقبول ترین عبادت میدان عرفات کا وقوف ہے جس کے لیے ظہر و عصر کی نماز مختصر اور ایک ساتھ پڑھ لینے کا حکم ہے اور ظہر کی سنتیں بھی اس دن چھوڑ دینے کا حکم ہے، اگر حاجی لوگ اس دن روزہ رکھیں گے تو ان کے لیے عرفات میں وقوف اور آفتاب غروب ہوتے ہی مزدلفہ کو چل دینا مشکل ہو گا، اس لیے حاجیوں کے لیے عرفہ کے دن روزہ رکھنا پسندیدہ نہیں ہے (بلکہ ایک حدیث میں ممانعت بھی وارد ہوئی ہے) اور رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں اپنے عمل سے بھی اس کی تعلیم امت کو دی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے عرفہ کے دن ٹھیک اس وقت جب کہ آپ میدان عرفات میں اپنے اونٹ پر تھے اور وقوف فرما رہے تھے سب کے سامنے دودھ نوش فرمایا تا کہ سب دیکھ لیں کہ آپ آپ روزے سے نہیں ہیں۔ غیر حاجیوں کے لیے یوم عرفہ کا روزہ در اصل اس دن کی ان رحمتوں اور برکتوں میں شریک اور حصہ دار ہونے ہی کے لیے ہے جو عرفات میں حجاج پر نازل ہوتی ہیں، اور اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اللہ کے جو صاحب ایمان بندے حج میں شریک نہیں ہیں وہ اس پورے دن میں روزہ رکھ کر اس دن کی خاص الخاص رحمتوں اور برکتوں میں کسی درجے کا حصہ لے لیں۔ اسی طرح یوم النحر یعنی بقر عید کے دن غیر حاجیوں کو قربانی کا جو حکم دیا گیا ہے اس کا راز بھی یہی ہے۔ واللہ اعلم۔ یوم عاشورا کا روزہ نفلی روزوں میں اس لحاظ سے سب سے زیادہ اہم ہے کہ رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت سے پہلے وہی فرض تھا۔ جب رمضان المبارک کے روزے فرض کئے گئے تو اس کی فرضیت منسوخ ہو گئی اور صرف نفلی درجہ رہ گیا۔ اس کے بارے میں احادیث آگے مستقل عنوان کے تحت ان شاء اللہ درج ہوں گی۔

946Maarif-ul-Hadith

مہینہ کے تین روزوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول

عَنْ حَفْصَةَ ، قَالَتْ : " أَرْبَعٌ لَمْ تَكُنْ يَدَعُهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صِيَامَ عَاشُورَاءَ ، وَالْعَشْرَ ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَرَكْعَتَانِ قَبْلَ الْفَجْرِ. (رواه النسائى)

حضرت حفصہ ؓ سے روایت ہے کہ چار چیزیں وہ ہیں جن کو رسول اللہ ﷺ کبھی نہیں چھوڑتے تھے .... (۱) عاشورا کا روزہ، (۲) عشرہ ذی الحجہ (یعنی یکم ذی الحجہ سے یوم العفرہ نویں ذی الحجہ تک) کے روازے، (۳) ہر مہینے کے تین روزے، (اور قبل فجر کی دو رکعتیں) (سنن نسائی) تشریح مطلب یہ ہے کہ یہ چار چیزیں اگرچہ فرض یا واجب نہیں ہیں لیکن رسول اللہ ﷺ ان کا اتنا اہتمام اور ایسی پابندی فرماتے تھے کہ کبھی یہ چیزیں ترک نہیں ہوتی تھیں۔

947Maarif-ul-Hadith

مہینہ کے تین روزوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول

عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةُ أَنَّهَا قَالَتْ : سَأَلَتْ عَائِشَةَ « أَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ؟ » قَالَتْ : « نَعَمْ » ، فَقُلْتُ لَهَا : « مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ كَانَ يَصُومُ؟ » قَالَتْ : « لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ يَصُومُ » (رواه مسلم)

معاذہ عدویہ سے روایت ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ ہر مہینے تین روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! آپ ہر مہینے تین روزے رکھتے تھے۔ معاذہ نے پوچھا کہ: مہینے کے کس حصے میں (اور کن تاریخوں) میں رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ: اس کی فکر نہیں فرماتے تھے کہ مہینہ کے کس حصے میں رکھیں۔ (و صحیح مسلم) تشریح بعض روایات میں ہر مہینے کے شروع میں روزے رکھنے کا حضور ﷺ کا معمول ذکر کیا گیا ہے اور بعض روایات میں مہینہ کی تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں کا، اور بعض روایات میں ہفتہ کے خاص خاص تین دنوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے لیکن حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے اس بیان سے جیسا کہ معلوم ہوا ان میں سے کوئی بھی آپ کا دوامی معمول نہیں تھا۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ آپ ﷺ کو سفر اور اس کے علاوہ بھی دوسری چیزیں بکثرت پیش آتی رہتی تھیں جس کی وجہ سے آپ کے لیے خاص تاریخوں یا دنوں کی پابندی مناسب نہیں تھی۔ دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ آپ کا خاص تاریخوں اور خاص دنوں میں ہمیشہ روزے رکھنا امت کے مختلف الحال لوگوں کے لئے باعث زحمت ہوتا اور اس سے یہ غلط فہمی بھی ہو سکتی تھی کہ یہ روزے واجبات میں سے ہیں۔ الغرض اس طرح کی مصلحتوں کی وجہ سے آپ خود کاص تاریخوں اور دنوں کی پابندی نہیں فرماتے تھے، اور آپ کے حق میں یہی افضل اور اولیٰ تھا، لیکن صحابہ کرام کو آپ مہینے کے تین دن کے روزوں کے سلسلے میں اکثر ایام بیض (۱۳، ۱۴، ۱۵ تاریخ) کی ترغیب دیتے تھے جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیثوں سے معلوم ہو گا۔

948Maarif-ul-Hadith

ایام بیض کے روزے

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا صُمْتَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَصُمْ ثَلاَثَ عَشْرَةَ ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ. (رواه الترمذى والنسائى)

حضرت ابو ذر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مجھ سے فرمایا کہ: اے ابو ذر! جب تم مہینے کے تین روزے رکھو تو تیرھویں، چودھویں، پندرھویں کے روزے رکھا کرو۔ (جامع ترمذی، سنن نسائی) تشریح (قریب قریب اسی مضمون کی ایک حدیث سنن نسائی میں حضرت ابو ہریرہ ؓ سے بھی مروی ہے، اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت ابو ہریرہ ؓ کو بھی یہی ہدایت فرمائی تھی)۔

949Maarif-ul-Hadith

ایام بیض کے روزے

عَنْ قَتَادَةَ ابْنِ مِلْحَانَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا أَنْ نَصُومَ الْبِيضَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ وَقَالَ « هُوَ كَهَيْئَةِ الدَّهْرِ » (رواه ابوداؤد والنسائى)

حضرت قتادہ بن ملحان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہم لوگوں کو حکم فرماتے تھے کہ ہم ایام بیض یعنی مہینہ کی تیرھویں، چودھویں، پندرھویں کو روزہ رکھا کریں۔ اور فرماتے تھی کہ میہنے کے ان تین دنوں کے روزے رکھنا اجر و ثواب کے لحاظ سے ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہے۔ (سنن ابی داؤد، سنن نسائی) تشریح یہاں تک جو حدیثیں درج ہوئی ان سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ ہر مہینے تین نفلی روزے رکھنے والا صاحب ایمان بندہ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا کے کریمانہ قانون کے حساب سے مہینے کے تیس دن یعنی ہمیشہ روزے رکھنے کے ثواب کا مستحق ہو گا۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ زیادہ بہتر یہ ہے کہ روزے تیرھویں، چودھویں، پندرھویں کو رکھے جائیں۔ تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ خود رسول اللہ ﷺ ان اہم دینی مسالح کی وجہ سے جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ ان تاریخوں کی پابندی نہیں فرماتے تھے، اور آپ کے حق میں یہی افضل اور اولیٰ تھا۔

950Maarif-ul-Hadith

یوم عاشورہ کا روزہ اور اس کی تاریخی اہمیت

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ صِيَامًا ، يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَهُ؟ » فَقَالُوا : هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ ، أَنْجَى اللهُ فِيهِ مُوسَى وَقَوْمَهُ ، وَغَرَّقَ فِرْعَوْنَ وَقَوْمَهُ ، فَصَامَهُ مُوسَى شُكْرًا ، فَنَحْنُ نَصُومُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « فَنَحْنُ أَحَقُّ وَأَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ فَصَامَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو آپ نے یہود کو یوم عاشورہ (۱۰ محرم) کا روزہ رکھتے دیکھا۔ آپ نے ان سے دریافت کیا (تمہاری مذہبی روایات میں) یہ کیا خاص دن ہے (اور اس کی کیا خصوصیت اور اہمیت ہے) کہ تم اس کا روزہ رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ: ہمارے ہاں یہ بڑی عظمت والا دن ہے، اس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰؑ اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو نجات دی تھی اور فرعون اور اس کے لشکر کو غرق آب کیا تھا تو موسیٰؑ نے اللہ تعالیٰ کے اس انعام کے شکر میں اس دن کا روزہ رکھا تھا اس لیے ہم بھی (ان کی پیروی میں) اس دن روزہ رکھتے ہیں .... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ کے پیغمبر موسیٰؑ سے ہمارا تعلق تم سے زیادہ ہے اور ہم اس کے زیادہ حقدار ہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے خود بھی عاشورہ کا روزہ رکھا اور امت کو بھی اس دن کے روزے کا حکم دیا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اوپر جو حدیثیں ہر مہینہ میں تین دن کے نفلی روزوں کے بارے میں درج ہوئیں، ان میں سے بھی بعض یوم عاشورہ کے روزے کی فضیلتے اور ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کے خصوصی اہتمام و پابندی کا ذکر ضمناً آ چکا ہے۔ ذیل میں چند حدیثیں درج کی جا رہی ہیں جو خاص اسی سے متعلق ہیں، اور جن سے اس دن کی خصوصیت اور تاریخی اہمیت بھی معلوم ہو گی۔ تشریح ..... اس حدیث کے ظاہری الفاظ سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے بعد مدینہ پہنچ کر ہی عاشورہ کے دن روزہ رکھنا شروع فرمایا۔ حالانکہ صحیح بخاری و صحیح مسلم ہی میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی صریح روایت موجود ہے کہ قریش مکہ میں قبل از اسلام بھی یومِ عاشورہ کے روزے کا رواج تھا اور خود رسول اللہ ﷺ بھی ہجرت سے پہلے مکہ معظمہ میں یہ روزہ رکھا کرتے تھے۔ پھر جب آپ نے مدینہ ہجرت فرمائی تو یہاں آ کر آپ نے خود بھی یہ روزہ رکھا اور مسلمانوں کو اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ اصل واقعہ یہ ہے کہ یوم عاشورہ زمانہ جاہلیت میں قریش مکہ کے نزدیک بھی بڑا محترم دن تھا اسی دن خانہ کعبہ پر نیا غلاف ڈالا جاتا تھا اور قریش اس دن روزہ رکھتے تھے۔ قیاس یہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ و اسماعیلؑ کی کچھ روایات اس دن کے بارے میں ان تک پہنچی ہو گی اور رسول اللہ ﷺ کا دستور تھا کہ قریش ملت ابراہیمی کی نسبت سے جو اچھے کام کرتے تھے ان میں آپ ﷺ ان سے اتفاق اور اشتراک فرماتے تھے۔ اسی بناء پر حج میں بھی شرکت فرماتے تھے۔ پس اپنے اس اصول کی بناء پر آپ قریش کے ساتھ عاشورہ کا روزہ بھی رکھتے تھے، لیکن دوسروں کو اس کا حکم نہیں دیتے تھے .... پھر جب آپ مدینہ طیبہ تشریف لائے اور یہاں کے یہود کو بھی آپ ﷺ نے عاشورہ کا روزہ رکھتے دیکھا اور ان سے آپ کو یہ معلوم ہوا کہ وہ یہ مبارک تاریخی دن ہے جس میں حضرت موسیٰؑ اور ان کی قوم کو اللہ نے نجات فرمائی تھی اور فرعون اور اس کے لشکر کو غرقاب کیا تھا (اور مسند احمد وغیرہ کی روایت کے مطابق اسی یوم عاشورہ کو حضرت نوحؑ کی کشتی جودی پہاڑ پر لگی تھی) تو آپ ﷺ نے اس دن کے روزے کا زیادہ اہتمام فرمایا، اور مسلمانوں کو عمومی حکم دیا کہ وہ بھی اس دن روزہ رکھا کریں۔ بعض احادیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے اس کا ایسا تاکیدی حکم دیا جیسا حکم فرائض اور واجبات کے لیے دیا جاتا ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ربیع بن معوذ بن عفراء ؓ اور سلمہ بن الاکوع سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یوم عاشورہ کی صبح مدینہ کے آس پاس کی ان بستیوں میں جن میں انصار رہتے تھے یہ اطلاع بھجوائی کہ جن لوگوں نے ابھی کچھ کھایا پیا نہ ہو وہ آج کے دن روزہ داروں کی طرح رہیں ..... ان حدیثوں کی بناء پر بہت سے ائمہ نے یہ سمجھا ہے کہ شروع مین عاشورہ کا روزہ واجب تھا، بعد میں جب رمضان مبارک کے روزے فرض ہوئے تو عاشورہ کے روزے کی فرضیت منسوخ ہو گئی اور اس کی حیثیت ایک نفلی روزے کی رہ گئی ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد ابھی اوپر گزر چکا ہے کہ “ مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ اس کی برکت سے پہلے ایک سال کے گناہوں کی صفائی ہو جائے گی۔ ” اور صوم یوم عاشورہ کی فرضیت منسوخ ہو جانے کے بعد بھی رسول اللہ ﷺ کا معمول یہی رہا کہ آپ رمضان مبارک کے فرض روزوں کے علاوہ سب سے زیادہ اہتمام نفلی روزوں میں اسی کا کرتے تھے۔

951Maarif-ul-Hadith

یوم عاشورہ کا روزہ اور اس کی تاریخی اہمیت

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : « مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى صِيَامَ يَوْمٍ فَضَّلَهُ عَلَى غَيْرِهِ إِلَّا هَذَا اليَوْمَ ، يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، وَهَذَا الشَّهْرَ يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نہیں دیکھا کہ آپ کسی فضیلت والے دن کے روزے کا بہت زیادہ اہتمام اور فکر کرتے ہوں، سوائے اس دن یوم عاشورہ کے اور سوائے اس ماہ مبارک رمضان کے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ کے طرز عمل سے حضرت ابن عباس ؓ نے یہی سمجھا کہ نفلی روزوں میں جس قدر اہتمام آپ یوم عاشورہ کے روزے کا کرتے تھے اتنا کسی دوسرے نفلی روزے کا نہیں کرتے تھے۔

952Maarif-ul-Hadith

یوم عاشورہ کا روزہ اور اس کی تاریخی اہمیت

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : حِينَ صَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ يَوْمٌ يُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ إِنْ شَاءَ اللهُ صُمْنَا يَوْمَ التَّاسِعِ ". قَالَ : فَلَمْ يَأْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (رواه مسلم)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے یوم عاشورہ میں روزہ رکھنے کو اپنا اصول و معمول بنا لیا اور مسلمانوں کو بھی اس کا حکم دیا تو بعض صحابہ نے عرض کیا کہ: یا رسول اللہ! اس دن کو تو یہود و نصاریٰ بڑے دن کی حیثیت سے مناتے ہیں (اور یہ گویا ان کا قومی و مذہبی شعار ہے اور خاص اس دن ہمارے روزہ رکھنے کے ان کے ساتھ اشتراک اور تشابہ ہوتا ہے، تو کیا اس میں کوئی ایسی تبدیلی ہو سکتی ہے جس کے بعد یہ اشتراک اور تشابہ والی بات باقی نہ رہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: ان شاء اللہ! جب اگلا سال آئے گا تو ہم نویں کو روزہ رکھیں گے .... عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں لیکن اگلے سال کا ماہ محرم آنے سے پہلے ہی رسول اللہ ﷺ کی وفات واقع ہو گی۔ (صحیح مسلم) تشریح ظاہر ہے کہ صحابہ کرام ؓ کے اشکال عرض کرنے پر یہ بات رسول اللہ ﷺ نے وفات شریف سے کچھ ہی پہلے فرمائی، اتنی پہلے کہ اس کے بعد محرم کا مہینہ آیا ہی نہیں، اور اس لیے اس نئے فیصلے پر عمل درآمد حضور ﷺ کی حیات طیبہ میں نہیں ہو سکا، لیکن امت کو رہنمائی مل گئی کہ اس طرح کے اشتراک اور تشابہ سے بچنا چاہئے .... چنانچہ اسی مقصد سے آپ ﷺ نے یہ طے فرمایا کہ ان شاء اللہ آئندہ سال سے ہم نویں کا روزہ رکھیں گے۔ نویں کا روزہ رکھنے کا آپ نے جو فیصلہ فرمایا اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں اور علماء نے دونوں بیان کئے ہیں۔ ایک یہ کہ آئندہ سے ہم بجائے دسویں محرم کے یہ روزہ نویں محرم ہی کو رکھا کریں گے اور دوسرا یہ کہ آئندہ سے ہم دسویں محرم کے ساتھ نویں کا بھی روزہ رکھا کریں گے، اور اس طرح سے ہمارے اور یہود و نصاریٰ کے طرز عمل میں فرق ہو جائے گا .... اکثر عملاء نے اسی دوسرے مطلب کو ترجیح دی ہے اور یہ کہا ہے کہ یوم عاشورہ کے ساتھ اس سے پہلے نویں کا روزہ بھی رکھا جائے اور اگر نویں کو کسی وجہ سے نہ رکھا جا سکے تو اس کے بعد کے دن گیارہویں کو رکھ لیا جائے۔ یہ عاجز عرض کرتا ہے کہ ہمارے زمانہ میں چونکہ یہود و نصاریٰ وغیرہ یوم عاشورہ (دسویں محرم) کو روزہ نہیں رکھتے، بلکہ ان کا کوئی کام بھی قمری مہینوں کے حساب سے نہیں ہوتا، اس لیے اب کسی اشتراک اور تشابہ کا سوال ہی نہیں رہا، لہذا فی زمانہ ارفع تشابہ کے لیے نویں یا گیارہویں کا روزہ رکھنے کی ضرورت نہ ہونی چاہئے۔ واللہ اعلم۔

953Maarif-ul-Hadith

عشرہ ذی الحجہ اور یوم العرفہ کا روزہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبُّ إِلَى اللهِ أَنْ يُتَعَبَّدَ فِيهَا مِنْ عَشْرِ ذِي الحِجَّةِ ، يَعْدِلُ صِيَامُ كُلِّ يَوْمٍ بِصِيَامِ سَنَةٍ ، وَقِيَامُ كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْهَا بِقِيَامِ لَيْلَةِ القَدْرِ. (رواه الترمذى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: دنوں میں سے کسی دن میں بھی بندے کا عبادت کرنا اللہ تعالیٰ کو اتنا محبوب نہیں جتنا کہ عشرہ ذی الحجہ میں محبوب ہے (یعنی ان دنوں کی عبادت اللہ تعالیٰ کو دوسرے تمام دنوں سے زیادہ محبوب ہے) اس عشرہ کے ہر دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہے اور اس کی ہر رات کے نوافل شب قدر کے نوافل کے برابر ہیں۔ (جامع ترمذی) تشریح اس سے پہلے بھی ایک حدیث میں ضمنی طور پر عشرہ ذی الحجہ کے نفلی روزوں کا ذکر آ چکا ہے اور وہاں یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ اس سے مراد یکم ذی الحجہ سے نویں ذی الحجہ تک کے ۹ دن ہیں، کیوں کہ عید کے دن تو روزہ رکھنے سے منع فرمایا گیا ہے۔

954Maarif-ul-Hadith

عشرہ ذی الحجہ اور یوم العرفہ کا روزہ

عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صِيَامُ يَوْمِ عَرَفَةَ ، إِنِّي أَحْتَسِبُ عَلَى اللهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الَّتِي بَعْدَهُ وَالسَّنَةَ الَّتِي قَبْلَهُ. (رواه الترمذى)

حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں عرفہ کے دن کا روزہ اس کے بعد والے سال اور پہلے والے سال کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا۔ (جامع ترمذی) تشریح حضرت ابو قتادہ کی ایک طویل حدی ث صحیح مسلم کے حوالہ سے زیر عنوان “ ہر مہینہ کے تین نفلی روزے ” پہلے گزر چکی ہے، اس میں یہ مضمون بھی قریب قریب انہی الفاظ میں آ چکا ہے اور وہاں دوسری احادیث کی روشنی میں یہ وضاحت بھی کی جا چکی ہے کہ یوم عرفہ کے روزہ کی فضیلت اور ترغیب ان حجاج کے لیے نہیں ہے جو اداء حج کے لیے عرجہ کے دن میدان عرفات میں حاضر ہوں، ان کے لیے وہاں روزہ نہ رکھنا افضل ہے .... اور وہیں اس کی حکمت بھی بیان کی جا چکی ہے۔ فائدہ .... بعض لوگ ایسی حدیثوں میں شک کرنے لگتے ہیں جن میں کسی عمل کا ثواب اور ثمرہ ان کے خیال کے لحاظ سے بہت زیادہ اور غیر معموملی بیان کیا گیا ہو، جس طرح کہ اس حدیث میں عرفہ کے روزے کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ “ اس کی برکت سے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کے معاف ہو جانے کی امید ہے۔ ” اس میں شک کی بنیاد ارحم الراحمین کی رحمت و کرم کی وسعت سے نا آشنائی ہے۔ اللہ تعالیٰ انتہائی کریم اور مختار مطلق ہے جس دن کے جس عمل کی اپنے کرم سے جتنی بڑی چاہے قیمت مقرر فرمائے۔ سال کی ایک رات “ لَيْلَةُ الْقَدْرِ ” کو اس نے “ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ ” ہزار مہینوں یعنی قریباً تیس ہزار دنوں اور راتوں سے بہتر قرار دیا ہے، یہ اس کی کریمی ہے .... الغرض جب حدیث صحیح ہو تو اس طرح کے وساوس مومن کو نہ ہونے چاہئیں۔

955Maarif-ul-Hadith

پندرھویں شعبان کا روزہ

عَنْ عَلِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ ، فَقُومُوا لَيْلَهَا وَصُومُوا نَهَارَهَا ، فَإِنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ فِيهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، فَيَقُولُ : أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِي فَأَغْفِرَ لَهُ أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ أَلَا مُبْتَلًى فَأُعَافِيَهُ أَلَا كَذَا أَلَا كَذَا ، حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ " (رواه ابن ماجه)

حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب شعبان کی پندرھویں رات آئے تو اس رات میں اللہ کے حضور میں نوافل پڑھو اور اس دن کو روزہ رکھو کیوں کہ اس رات میں آفتاب غروب ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کی خاص تجلی اور رحمت پہلے آسمان پر اترتی ہے اور وہ ارشاد فرماتا ہے کہ کوئی بندہ ہے جو مجھ سے مغفرت اور بخشش طلب کرے اور میں اس کی مغفرت کا فیصلہ کروں، کوئی بندہ ہے جو روزی مانگے اور میں اس کو روزی دینے کا فیصلہ کروں، کوئی مبتلائے مصیبت بندہ ہے جو مجھ سے صحت و عافیت کا سوال کرے اور میں اس کو عافیت عطا کروں، اسی طرح مختلف قسم کے حاجت مندوں کو اللہ پکارتا ہے کہ وہ اس وقت مجھ سے اپنی حاجتیں مانگیں اور میں عطا کروں۔ غروب آفتاب سے لے کر صبح صادق تک اللہ تعالیٰ کی رحمت اسی طرح انے بندوں کو اس رات میں پکارتی رہتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ) تشریح اس حدیث کی بناء پر اکثر بلاد اسلامیہ کے دیندار حلقوں میں پندرھویں شعبان کے نفلی روزے کا رواج ہے، لیکن محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ حدیث سند کے لحاظ سے نہایت ضعیف قسم کی ہے۔ اس کے ایک راوی ابو بکر بن عبداللہ کے متعلق ائمہ جرح و تعدیل نے یہاں تک کہا ہے کہ وہ حدیثیں وضع کیا کرتا تھا۔ پندرھویں شعبان کے روزے کے متعلق تو صرف یہی ایک حدیث روایت کی گئی ہے، البتہ شعبان کی پندرھویں شب میں عبادت اور دعا و استغفار کے متعلق بعض کتب حدیث میں اور بھی متعدد حدیثیں مروی ہیں لیکن ان میں کوئی بھی ایسی نہیں ہے جس کی سند محدثین کے اصول و معیار کے مطابق قابل اعتماد ہو، مگر چونکہ یہ متعدد حدیثیں ہیں اور مختلف صحابہ کرام سے مختلف سندوں سے روایت کی گئی ہیں اس لیے ابن الصلاح وغیرہ بعض اکابر محدثین نے لکھا ہے کہ غالباً اس کی کوئی بنیاد ہے۔ واللہ اعلم۔

956Maarif-ul-Hadith

خاص دنوں میں نفلی روزے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تُعْرَضُ الأَعْمَالُ يَوْمَ الاِثْنَيْنِ وَالخَمِيسِ ، فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ. (رواه الترمذى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پیر کو اور جمعرات کو اعمال کی ایک پیشی ہوتی ہے میں یہ چاہتا ہوں کہ جب میرے عمل کی پیشی ہو تو میں اس دن روزہ سے ہوں۔ (جامع ترمذی) تشریح جس طرح اب تک کی درج ہونے والی حدیثوں میں سال کے بعض متعین مہینوں اور مہینوں کی بعض مخصوص تاریخوں میں نفلی روزے رکھنے کی خاص ترغیب دی گئی ہے اسی طرح ہفتہ کے بعض مخصوص دنوں کے لیے بھی یہ ترغیب دی گئی ہے اور خود رسول اللہ ﷺ کے عمل سے بھی اس بارے میں رہنمائی ملتی ہے۔

957Maarif-ul-Hadith

خاص دنوں میں نفلی روزے

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ. (رواه الترمذى والنسائى)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ (جامع ترمذی، سنن نسائی)

958Maarif-ul-Hadith

خاص دنوں میں نفلی روزے

عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِ الِاثْنَيْنِ؟ فَقَالَ : « فِيهِ وُلِدْتُ وَفِيهِ أُنْزِلَ عَلَيَّ » (رواه مسلم)

حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: میں پیر ہی کے دن پیدا ہوا، اور پیر ہی کے دن سے مجھ پر قرآن کا نزول شروع ہوا۔ (صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ پیر کا دن بڑی برکت اور رحمت والا دن ہے، اسی دن میں تمہارے نبی ﷺ کی پیدائش ہوئی اور اسی دن کتاب اللہ کا نزول شروع ہوا، پھر اس دن کے روزے کا کیا پوچھنا! .... اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ جو پیر کے دن (کبھی کبھی یا اکثر) روزہ رکھتےتھے تو اس کا ایک محرک تو وہ تھا جس کا اوپر کی حدیث میں ذکر آیا، یعنی یہ کہ “ اس دن اعمال کی ایک پیشی ہوتی ہے اور آپ چاہتے تھے کہ اس پیشی کے دن آپ روزہ کی حالت میں ہوں ”۔ اور دوسرا محرک اللہ تعالیٰ کی ان دو عظیم نعمتوں (ولادت اور وحی و نبوت) کے شکر کا جذبہ بھی تھا جو آپ ﷺ کو پیر ہی کے دن عطا ہوئیں اور جو ساری دنیا کے لیے بھی نعمت اور رحمت ہے .... وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ

959Maarif-ul-Hadith

خاص دنوں میں نفلی روزے

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : « قَلَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ » (رواه الترمذى والنسائى)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ کم ایسا ہوتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن روزہ نہ رکھتے تھے۔ (جامع ترمذی، سنن نسائی) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے دن اکثر و بیشتر آپ ﷺ کا روزہ ہوتا تھا، لیکن دوسری حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ اس سے منع فرماتے تھے کہ جمعہ کی فضیلت اور خصوصیت کی وجہ سے لوگ ایسا کرنے لگیں کہ نفلی روزے جمعہ ہی کو رکھیں اور شب بیداری اور عبادت کے لیے شب جمعہ ہی کو مخصوص کریں۔

960Maarif-ul-Hadith

خاص دنوں میں نفلی روزے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لَا تَخْتَصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي ، وَلَا تَخُصُّوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ مِنْ بَيْنِ الْأَيَّامِ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي صَوْمٍ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ » (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: تم لوگ راتوں میں سے جمعہ کی رات کو نماز اور عبادت کے لیے مخصوص نہ کرو اور اسی طرح دنوں میں سے جمعہ کے دن کو روزہ کے لیے مخصوص نہ کرو، الا یہ کہ جمعہ کسی ایسی تاریخ کو پڑ جائے جس کو تم میں سے کوئی روزہ رکھتا ہو (اس صورت میں اس جمعہ کے نفلی روزے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ (صحیح مسلم) تشریح جمعہ کے دن اور اس کی راقت کی خاص فضیلت کی وجہ سے چونکہ اس کا امکان زیادہ تھا کہ فضیلت پسند لوگ اس دن نفلی روزہ رکھنے کا اور اس کی رات میں شب بیداری اور عبادت کا بہت زیادہ اہتمام کرنے لگیں اور جس چیز کو اللہ و رسول نے فرض و واجب نہیں بتایا اس کے ساتھ فرض و واجب کا سا معاملہ ہونے لگے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے یہ ممانعت فرمائی .... اس کے علاوہ اس ممانعت کے علمائے کرام نے اور بھی بعض مصالح لکھنے ہیں۔ بہر حال یہ ممانعت انتظامی ہے اور منشاء یہ ہے کہ جمعہ کا روزہ اور شب جمعہ کی شب بیداری ایک زائد رسم نہ بن جائے۔ واللہ اعلم۔

961Maarif-ul-Hadith

خاص دنوں میں نفلی روزے

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ السَّبْتَ ، وَالأَحَدَ ، وَالاِثْنَيْنِ ، وَمِنَ الشَّهْرِ الآخَرِ الثُّلاَثَاءَ ، وَالأَرْبِعَاءَ ، وَالخَمِيسَ. (رواه الترمذى)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (ایسا بھی کرتے تھے کہ) ایک مہینہ میں سینچر، اتوار اور پیر کا روزہ رکھتے، اور دوسرے مہینہ میں منگل، بدھ اور جمعرات کا۔ (جامع ترمذی) تشریح حضرت عائشہ صدیقہ ؓکی روایت سے معلوم ہو چکا ہے کہ مہینہ کے تین روزوں کے بارے میں حضور ﷺ کا کوئی لگا بندھا معمول نہیں تھا اس لیے آپ ﷺ کی اس روایت کا مطلب صرف یہ ہے کہ آپ ایسا بھی کرتے تھے کہ ایک مہینہ میں آپ ﷺ نے کبھی ہفتہ کے پہلے تین دنوں سینچر، اتوار، پیر کا روزہ رکھ لیا اور دوسرے مہینہ میں بعد والے تین دنوں منگل، بدھ اور جمعرات کا .... (اور جمعہ کے بارے میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا بیان گزر ہی چکا کہ آپ جمعہ کے دن اکثر و بیشتر روزہ رکھتے تھے) .... گویا علاوہ ان مخصوص تاریخوں اور دنوں کے جن کے روزہ کی خاص فضیلت ہے۔ آپ اس کا بھی اہتمام فرماتے تھے کہ آپ کا نفلی روزہ ہفتہ کے ہر دن میں پڑ جائے تا کہ لوگ جان لیں کہ اللہ کے بنائے ہوئے ساتوں دن مبارک اور عبادت کے دن ہیں۔

962Maarif-ul-Hadith

وہ دن جن میں نفلی روزہ رکھنا منع ہے

عَنْ أَبِي سَعِيدِ نِ الْخُدْرِىِّ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الفِطْرِ وَالنَّحْرِ. (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا: یوم الفطر کے روزے، اور قربانی کے دن کے روزہ رکھنے سے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح سال میں بعض مخصوص دن وہ بھی ہیں جن میں روزہ رکھنے کی ممانعت ہے، اور اللہ تعالیٰ حاکم مطلق ہے، اس نے نماز کو عظیم عبادت بھی قرار دیا اور بعض خاص اوقات میں (مثلاً طلوع و غروب اور استواء کے وقت) نماز کی ممانعت بھی فرما دی۔ اسی طرح اس نے روزہ کو محبوب ترین عبادت اور روحانی ترقی کا خاص وسیلہ بھی قرار دیا، اور بعض خاص دنوں میں روزہ رکھنا حرام بھی کر دیا، یہ بات حاکم مطلق کی شان حاکمیت کے عین مطابق ہے اور ہم بندوں کا کام بس حکم کی تعمیل اور فرمانبرداری ہے۔

963Maarif-ul-Hadith

وہ دن جن میں نفلی روزہ رکھنا منع ہے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ « أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْأَضْحَى ، وَيَوْمِ الْفِطْرِ » (رواه مسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا: یوم الاضحیٰ اور یوم الفطر میں روزہ رکھنے سے۔ (صحیح مسلم)

964Maarif-ul-Hadith

وہ دن جن میں نفلی روزہ رکھنا منع ہے

عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ ، أَنَّهُ قَالَ : شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَجَاءَ فَصَلَّى ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَقَالَ : « إِنَّ هَذَانِ يَوْمَانِ ، نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِهِمَا ، يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ ، وَالْآخَرُ يَوْمٌ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ » (رواه مسلم)

ابو عبید مولیٰ ابن ازہر تابعی سے روایت ہے کہ میں نے عید کی نماز حضرت عمر ؓ کی اقتداء میں پڑھی۔ انہوں نے نماز پڑھائی، نماز سے فارغ ہو کر خطبہ دیا، اس میں فرمایا کہ: دید کے یہ دونوں دن وہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ ان میں سے ایک دن تو (پورے مہینے رمضان کے روزوں کے بعد) تمہارے فطر کا دن ہے، اور دوسرا اپنی قربانیوں کے گوشت کھانے کا دن ہے۔ (صحیح مسلم)