وہ دن جن میں نفلی روزہ رکھنا منع ہے
عَنْ نُبَيْشَةَ الْهُذَلِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْر اللهِ »
نبیشۃ ھذلی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: ایام تشریق (۱۱، ۱۲، ۱۳ ذی الحجہ) کھانے پینے کے اور اللہ کی یاد کے دن ہیں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حضرت ابو سعید خدری، حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عمر بن الخطاب ؓکی مندرجہ بالا حدیثوں میں یوم الفطر اور یوم النحر کے دنوں میں روزہ رکھنے کی صریح ممانعت فرمائی گئی ہے، اور حضرت عمر ؓ کے ارشاد میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ یوم الفطر کا روزہ تو اس لیے منع ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے رمضان کے بعد “ فطر کا دن ” یعنی روزہ نہ رکھنے اور کھانے پیننے کا دن قرار دیا ہے اس لیے اس دن روزہ رکھنے میں منشاء الٰہی کی مخالفت ہے اور یوم النحر کا روزہ اس لیے منع ہے کہ وہ قربانی کا گوشت کھانے کا دن ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ کی مرضی یہ ہے کہ اس دن جو قربانیاں اللہ تعالیٰ کے لیے کی جائیں اس کے بندے ان قربانیوں کا گوشت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اس کی ضیافت سمجھ کر اور اس کے در کے فقیر بن کر شکر کے ساتھ کھائیں، اور وہ بندہ بلا شبہ بڑا متکبر اور کافر نعمت ہے جو اللہ کی عام ضیافت کے دن دانستہ روزہ رکھ لے، اور چونکہ ذی الحجہ کی گیارھویں اور بارہویں بھی قربانی کے دن ہیں، اس لیے ان کا حکم بھی یہی ہے .... اور نبیشۃ ہذلی کی آخری حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے پورے ایام تشریق کو کھانے پینے کے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ضیافت کے دن فرمایا ہے جس میں ۱۳ ذی الحجہ بھی شامل ہے، اس لئے ۱۰ ذی الحجہ سے ۱۳ ذی الحجہ تک پانچوں دن روزہ رکھنا ممنوع قرار دیا گیا ہے، اب ان دنوں میںروزہ رکھنا عبادت نہیں بلکہ معصیت ہو گا۔ ؎
چوں طمع خواہد ز من سلطان دیں
خاک بر فرقِ قناعت بعد ازیں
نفلی روزہ توڑا بھی جا سکتا ہے
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : دَخَلَ عَلَىَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟ " فَقُلْنَا : لَا ، قَالَ : " فَإِنِّي إِذًا صَائِمٌ " ، ثُمَّ اَتَانَا يَوْمًا آخَرَ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللهِ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَقَالَ : أَرِنِيْهِ فَلَقَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا ، فَأَكَلَ " (رواه مسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کیا تمہارے ہاں کھانے کے لیے اس وقت کچھ ہے؟ ہم نےعرض کیا کہ: اس وقت تو کچھ بھی نہیں ہے! آپ ﷺ نے فرمایا: تو اب ہم روزہ رکھتے ہیں .... پھر ایک اور دن آپ ﷺ تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا کہ: آج ہمارے ہاں حنیس (خرما اور مکھن کا ملیدہ) ہدیہ آیا ہے، اس کو نوش فرما لیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: دکھاؤ! ہم نے آج روزے کی نیت کر لی تھی .... پھر آپ ﷺ نے اس میں سے نوش فرمایا اور روزہ نہیں رکھا۔ (صحیح مسلم)
تشریح
رمضان کا روزہ اگر بغیر عذر شرعی توڑ دیا جائے تو اس کا بہت بھاری کفارہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے، جس کا تفصیلی بیان اپنے موقع پر گزر چکا ہے۔ لیکن نفلی روزہ رکھنے والا اگر چاہے تو توڑ بھی سکتا ہے، اس پر کفارہ واجب نہیں ہو گا اور وہ گناہ گار بھی نہیں ہو گا .... رسول اللہ ﷺ نے کبھی کبھی خود ایسا کیا ہے، اور دوسروں کو بھی یہ مسئلہ بتلایا ہے۔
تشریح ..... اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوئیں: ایک یہ کہ نفلی روزے کی نیت دن میں بھی کی جا سکتی ہے، اور دوسری یہ کہ نفلی روزے کی نیت کر لینے کے بعد اگر رائے بدل جائے تو اس کو توڑا بھی جا سکتا ہے .... اگلی حدیثوںسے یہ بات اور زیادہ صراحت کے ساتھ معلوم ہو گی۔
نفلی روزہ توڑا بھی جا سکتا ہے
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ فَتْحِ مَكَّةَ ، جَاءَتْ فَاطِمَةُ ، فَجَلَسَتْ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمُّ هَانِئٍ عَنْ يَمِينِهِ ، قَالَتْ : فَجَاءَتِ الْوَلِيدَةُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ ، فَنَاوَلَتْهُ فَشَرِبَ مِنْهُ ، ثُمَّ نَاوَلَهُ أُمَّ هَانِئٍ ، فَشَرِبَتْ مِنْهُ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ أَفْطَرْتُ ، وَكُنْتُ صَائِمَةً ، فَقَالَ لَهَا : « أَكُنْتِ تَقْضِينَ شَيْئًا؟ » ، قَالَتْ : لَا ، قَالَ : « فَلَا يَضُرُّكِ إِنْ كَانَ تَطَوُّعًا » (رواه ابوداؤد والترمذى والدارمى)
حضرت ام ہانی بنت ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے بعد (جب کہ رسول اللہ ﷺ مکہ معظمہ میں تشریف فرما تھے) حضرت فاطمہ زہرا ؓ آئیں اور رسول اللہ ﷺ کے بائیں جانب بیٹھ گئیں اور ام ہانی ؓ آپ ﷺ کے داہنی جانب تھیں کہ ایک بچی آپ ﷺ کے پینے کے لیے کوئی مشروب لے کر آئی اور آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ ﷺ نے اس میں سے کچھ پی لیا اور پھر ام ہانی ؓ کی طرف بڑھا دیا۔ انہوں نے بھی اس میں سے پی لیا اور پھر حضور ﷺ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں روزے سے تھی اور میں نے یہ پی کر روزہ توڑ دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اس روزے کے ذریعے کسی فرض یا واجب کو ادا کرنا چاہتی تھیں؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں (بلکہ صرف نفلی روزہ تھا)۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر نفلی تھا، تو پھر کوئی مضائقہ نہیں۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن دارمی)
تشریح
اس حدیث میں تصریح ہے کہ نفلی روزہ توڑ دینے سے کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ اسی حدیث کی ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں: الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِيرُ نَفْسِهِ، إِنْ شَاءَ صَامَ، وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ (یعنی نفل روزہ رکھنے والے کو اختیار ہے کہ چاہے تو روزہ پورا کرے اور کسی وجہ سے توڑنا چاہے تو توڑ دے)۔
مندرجہ بالا دونوں حدیثوں سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ نفلی روزہ توڑ دینے کی صورت میں اس کی جگہ دوسرا روزہ رکھنا پڑے گا یا نہیں .... آگے درج ہونے والی حدیث میں اس کی قضا رکھنے کا بھی حکم ہے۔
نفلی روزہ توڑا بھی جا سکتا ہے
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كُنْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ ، فَعُرِضَ لَنَا طَعَامٌ اشْتَهَيْنَاهُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ قَالَتْ حَفْصَةُ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا كُنَّا صَائِمَتَيْنِ ، فَعُرِضَ لَنَا طَعَامٌ اشْتَهَيْنَاهُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ ، قَالَ : اقْضِيَا يَوْمًا آخَرَ مَكَانَهُ. (رواه الترمذى)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ: میں اور حفصہ ؓ دونوں نفلی روزے سے تھے، ہمارے سامنے کھانا پیش کیا گیا جس کو کھانے کا ہمارا جی چاہا، اور ہم نے اس کو کھا لیا۔ پھر حفصہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم دونوں روزے سے گھے، ہمارے سامنے کھانا آیا، جس کو کھانے کے لیے ہمارا جی چاہا، تو ہم نے اس میں سے کچھ کھا لیا (اور روزہ توڑ دیا)۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس کی جگہ کسی دن قضا روزہ رکھو۔ (جامع ترمذی)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نفلی روزہ توڑ دینے کی صورت میں اس کی قضاکے طور پر روزہ رکھنا چاہئے۔ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک یہ قضا واجب ہے، اور امام شافعیؒ کے نزدیک واجب نہیں صرف مستحب ہے۔
تَمَّ كِتَابُ الصَّوْمِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ