کتاب الصوم

Maarif-ul-Hadith · Chapter 7 · 84 hadiths · Page 3 of 5

925Maarif-ul-Hadith

افطار کی دعا

عَنِ ابْنَ عُمَرَ قَالَ : كَانَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذَا أَفْطَرَ قَالَ : « ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ ، وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ » (رواه ابوداؤد)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب روزہ افطار فرماتے تھے تو کہتے تھے: پیاس چلی گئی، اور رگیں (جو سوکھ گئی تھیں وہ) تر ہو گئیں، اور خدا نے چاہا تو اجر و ثواب قائم ہو گیا۔ تشریح یعنی پیاس اور خشکی کی جو تکلیف ہم نے کچھ دیر اٹھائی وہ تو افطار کرتے ہی ختم ہو گئی، اب نہ پیاس باقی ہے اور نہ رگوں میں خشکی، اور ان شاء اللہ آخرت کا نہ ختم ہونے والا ثواب ثابت و قائم ہو گیا .... یہ اللہ کے حضور میں آپ ﷺ کا شکر بھی ہے اور دوسروں کو تعلیم و تلقین بھی کہ روزہ داروں کا احساس اور اذعان یہ ہونا چاہئے .... مندرجہ بالا دونوں دعاؤدں کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ افطار کے بعد یہ کلمات کہتے تھے۔ بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ افطار کے وقت دعا کرتے تھے: يَا وَاسِعَ الْفَضْل اغْفِرْ لِىْ (اے وسیع فضل و کرم والے مالک! میری مغفرت فرما)۔

926Maarif-ul-Hadith

روزہ افطار کرانے کا ثواب

عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا أَوْ جَهَّزَ غَازِيًا فَلَهُ مِثْلَ أَجْرِهِ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان ورواه محى السنة فى شرح السنة)

حضرت زید بن خالد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کسی نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا، یا کسی مجاہد کو جہاد کا سامان دیا (مثلاً اسلحہ وغیرہ) تو اس کو روزہ دار اور مجاہد کے مثل ہی ثواب ملے گا۔ (شعب الایمان للبیہقی و شرح السنۃ للبغوی) تشریح اللہ تعالیٰ کے کریمانہ قوانین میں سے یہ بھی ایک قانون ہے کہ کسی نیک عمل کی ترغیب دینے والے اور اس میں مدد دینے والے کو بھی اس عمل کے کرنے والے کا سا ثواب عطا فرماتے ہیں جو نا حقیقت شناس اللہ تعالیٰ کی شان کرم سے آشنا نہیں ہیں انہی کو اس طرح کی بشارتوں میں شکوک و شبہات ہوتے ہیں ..... اللهُمَّ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ.

927Maarif-ul-Hadith

مسافرت میں روزہ

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : إِنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيُّ قال لِلنَّبِىِّ : أَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ وَكَانَ كَثِيرَ الصِّيَامِ .... فَقَالَ : « إِنْ شِئْتَ فَصُمْ ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ حمزہ بن عمر اسلمی نے جو بہت روزے رکھا کرتے تھے .... رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ میں سفر میں روزے رکھ لیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ چاہو تو رکھو اور چاہو نہ رکھو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح قرآن مجید سورہ بقرہ میں جس جگہ رمضان کے روزوں کی فرضیت کا اعلان کیا گیا ہے وہیں مریضوں اور مسافروں کو رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت دی گئی ہے، اور حکم دیا گیا ہے کہ وہ سفر اور بیماری کے بعد اپنے روزے پورے کریں اور وہیں بتا دیا گیا ہے کہ یہ اجازت اور رخصت بندوں کی سہولت اور آسانی کے لیے دی گئی ہے۔ ارشاد ہے: فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ، يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ اليُسْرَ وَلاَ يُرِيدُ بِكُمُ العُسْرَ. (البقره، 158: 2) اور جو تم میں سے رمضان کا مہینہ پائے تو وہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے، اور جو مریض ہو یا سفر میں ہو تو اس کے ذمہ دوسرے دنوں میں رمضان کے دنوں کی گنتی پوری کرنی ہے۔ اللہ کو تمہارے لیے سہولت اور آسانی منظور ہے، وہ تمہارے واسطے دشواری نہیں چاہتا۔ اس آیت سے خود معلوم ہو گیا کہ یہ رخصت بندوں کی سہولت اور آسانی کے لیے اور تنگی اور دشواری سے ان کو بچانے کے لیے دی گئی ہے، اس لیے اگر کوئی شخص سفر میں ہونے کے باوجود روزے میں اپنے لیے کوئی خاص تکلیف اور دشواری محسوس نہ کرے تو وہ روزہ رکھ سکتا ہے اور چاہے تو رخصت پر بھی عمل کر سکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا طرز عمل چونکہ امت کے لیے اسوہ اور نمونہ ہے، اس لیے آپ ﷺ نے کبھی سفر میں روزے رکھے اور کبھی قضا کئے تا کہ امتی اپنے حالات کے مطابق جس طریقے پر چاہیں عمل کر سکیں .... اس سلسلے کے آپ ﷺ کے ارشادات اور طرز عمل سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ سفر میں روزہ رکھنے سے اگر دوسرے ضروری کاموں کا حرج اور نقصان ہوتا ہو تو روزہ قضا کرنا بہتر ہے اور اگر ایسی بات نہ ہو تو پھر روزہ رکھنا بہتر ہے۔

928Maarif-ul-Hadith

مسافرت میں روزہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنَ المَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَرَفَعَهُ إِلَى يَدَيْهِ لِيُرِيَهُ النَّاسَ ، فَأَفْطَرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ " ، فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ : « قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں آپ ﷺ برابر روزے رکھتے رہے، یہاں تک کہ آپ مقام عسفان تک پہنچ گئے (وہاں سے آپ ﷺ نے روزے رکھنے چھوڑ دئیے، اور سب پر یہ بات واضح کر دینے کے لیے) آپ ﷺ نے پانی منگوایا، پھر آپ ﷺ نے اس پانی کو ہاتھ میں لے کر اوپر اٹھایا، تا کہ سب لوگ دیکھ لیں (اس کے بعد آپ ﷺ نے اس کو پیا) پھر مکہ پہنچنے تک آپ نے روزے نہیں رکھے، اور یہ سب ماہ رمضان میں پیش آیا .... تو ابن عباس ؓ (اسی بناء پر) کہا کرتے تھے کہ: رسول اللہ ﷺ نے سفر میں روزے رکھے بھی ہیں اور قضاء بھی کئے ہیں، تو (گنجائش ہے) کہ جس کا جی چاہے سفر میں روزے رکھے اور جس کا جی چاہے قضا کرے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث میں مکہ کے جس سفر کا ذکر ہے یہ فتح مکہ والا سفر تھا جو رمضان ۸؁ھ میں ہوا تھا، اس م یں آپ ﷺ شروع میں روزے رکھتے رہے جب مقام عسفان پہ پہنچے (جو مکہ معظمہ سے قریباً ۳۵، ۳۶ میل پہلے ایک چشمہ پڑتا تھا) اور وہاں سے مکہ صرف دو منزل رہ گیا، اور اس کا امکان پیدا ہو گیا کہ قریبی وقت میں کوئی مزاحمت یا معرکہ پیش آ جائے تو آپ ﷺ نے سمجھا کہ روزے نہ رکھے جائیں اس لیے آپ ﷺ نے روزہ قضا کر دیا، اور سب کو دکھا کے پانی پیا تا کہ کسی کے لیے روزہ قضا کرنا گراں نہ ہو ..... رسول اللہ ﷺ کے اس طرز عمل سے معلوم ہوا کہ جب تک روزہ قضاء کرنے میں کوئی ایسی مصلحت نہ ہو تو روزہ رکھنا افضل ہے، اسی لیے آپ ﷺ نے عسفان تک برابر روزے رکھے، اگر بغیر کسی خاص مصلحت کے بھی سفر میں روزہ قضا کرنا ہی افضل ہوتا، تو آپ ﷺ شروع سفر ہی سے قضا کرتے۔ اسی اقعہ کے باتے میں حضرت جابر ؓ کی بھی ای روایت صحیح مسلم میں ہے، اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ بعض لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے اس طرح بالاعلان روزہ قضا کرنے اور سب کو دکھا کر پانی پینے کے بعد بھی روزے جاری رکھے۔ جب رسول خدا کے سامنے یہ بات آئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ “ یہ لوگ خطا کار اور گناہ گار ہیں ” (کیوں کہ انہوں نے منشاء نبوی ﷺ کے ظاہر ہونے کے بعد اس کی خلاف ورزی کی) اگر نادانستہ اور غلط فہمی سے کی، لیکن “ حسنات الأبرار سيئات المقربين ”

929Maarif-ul-Hadith

مسافرت میں روزہ

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : « غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسِتَّ عَشْرَةَ مَضَتْ مِنْ رَمَضَانَ ، فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ ، فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ » (رواه مسلم)

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ہم جہاد کے لیے چلے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سولہویں رمضان کو، تو ہم میں سے بعض نے روزے رکھے اور بعض نے رخصت سفر کی بناء پر قضاء کئے، تو نہ تو روزے رکھنے والوں نے قضاء سفر کرنے والوں پر اعتراض کیا اور نہ قضاء کرنے والوں نے روزے رکھنے والوں پر اعتراض کیا (یعنی ہر ایک نے دوسرے کے طرز عمل کو جائز اور شریعت کے مطابق سمجھا)۔

930Maarif-ul-Hadith

مسافرت میں روزہ

عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ ، فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ ، قَالَ : فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ ، فَسَقَطَ الصُّوَّامُوْنَ ، وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ ، فَضَرَبُوا الْأَبْنِيَةِ وَسَقَوْا الرِّكَابَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو ہم میں سے بعضے روزے رکھتے تھے، اور بعضے روزے قضاء کرتے تھے تو ایک دن جب کہ سخت گرمی تھی ہم ایک منزل پر اترے، تو روزے رکھنے والے تو گر گئے اور پڑ گئے اور جو روزے قضا کرنے والے تھے وہ اٹھے، انہوں نے سب کے لیے خیمے لگائے اور سب کی سواریوں کو (یعنی سواری کے اونٹوں) کو پانی پلایا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: آج روزے قجاء کرنے والے ثواب مار لے گئے۔ (یعنی انہوں نے زیادہ ثواب کما لیا)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

931Maarif-ul-Hadith

مسافرت میں روزہ

عَنْ جَابِرِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَرَأَى زِحَامًا وَرَجُلًا قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : « مَا هَذَا؟ » ، فَقَالُوا : صَائِمٌ ، فَقَالَ : « لَيْسَ مِنَ البِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے۔ آپ ﷺ نے لوگوں کی بھیڑ دیکھی اور ایک آدمی کو دیکھا جس پر سایہ کیا گیا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ: یہ صاحب روزہ دار ہیں (ان کی حالت غیر ہو رہی ہے اس لیے یہ سایہ کیا جا رہا ہے اور لوگ جمع ہو گئے) آپ ﷺ نے فرمایا: سفر کی حالت میں یہ روزہ تو کوئی نیکی کا کام نہیں ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ جب سفر میں اللہ تعالیٰ نے روزہ قضاء کرنے کی رخصت اور اجازت دی ہے اور میں خود بھی اس پر عمل کرتا ہوں تو پھر مسلمانوں میں سے کسی کو ایسے حال میں روزہ رکھنا کہ خود بھی گر جائیں اور دوسرے لوگ بھی ان کی دیکھ بھال میں لگ جائیں کوئی نیکی کی بات نہیں ہے، ایسی حالت میں تو رخصت پر عمل کر کے روزہ قضاء کرنا ضروری ہے اور اس میں اللہ کی رضا ہے ؎ گر طمع خواہد ز من سلطان دیںخاک بر فرق قناعت بعد ازیں

932Maarif-ul-Hadith

فرض روزوں کی قضا

عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ أَنَّهَا قَالَتْ : لِعَائِشَةَ مَا بَالُ الْحَائِضِ تَقْضِي الصَّوْمَ ، وَلَا تَقْضِي الصَّلَاةَ. قَالَتْ : « كَانَ يُصِيبُنَا ذَلِكَ ، فَنُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ ، وَلَا نُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ » (رواه مسلم)

معاذہ عدویہ (جو ایک تابعی خاتون ہیں) وہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے دریافت کیا کہ: یہ کیا بات ہے کہ ایام حیض میں جو روزے قضا ہوتے ہیں ان کی تو قضا ہو جاتی ہے اور جو نمازیں قجا ہوتی ہیں ان کی قضا نہیں پڑھی جاتی؟ ام المؤمنین نے فرمایا کہ: (بس اللہ و رسول کا حکم ہے) رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جب ہم اس میں مبتلا ہوتے تھے (اور اس کی وجہ سے ان دنوں میں روزہ نماز کچھ نہیں کر سکتے تھے) تو ہم کو ان دنوں کی قضا شدہ روزے رکھنے کا حکم دیا جاتا تھا اور قضا نماز پڑھنے کی حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ (صحیح مسلم)

933Maarif-ul-Hadith

نفس کی خواہش سے بلا عذر شرعی فرض روزہ توڑنے کا کفارہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ. قَالَ : « وَمَا لَكَ؟ » قَالَ : وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا؟ » قَالَ : لاَ ، قَالَ : « فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ » ، قَالَ : لاَ ، فَقَالَ : « فَهَلْ تَجِدُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا » . قَالَ : لاَ ..... قَالَ : اِجْلِسْ وَمَكَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهَا تَمْرٌ (وَالعَرَقُ المِكْتَلُ الضَّخْم) قَالَ : « أَيْنَ السَّائِلُ؟ » فَقَالَ : أَنَا ، قَالَ : « خُذْهَا ، فَتَصَدَّقْ بِهِ » فَقَالَ الرَّجُلُ : أَعَلَى أَفْقَرَ مِنِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَوَاللَّهِ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا - يُرِيدُ الحَرَّتَيْنِ - أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ، ثُمَّ قَالَ : « أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ایک آدمی آپ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں تو ہلاک ہو گیا (یعنی میں ایک ایسا کام کر بیٹھا ہوں جس نے مجھے ہلاک و برباد کر دیا ہے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا ہو گیا؟ اس آدمی نے کہا: میں نے روزہ کی حالت میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی (دوسری روایت میں ہے کہ یہ رمضان کا واقعہ ہے)۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو کیا تمہارے پاس اور تمہاری ملکیت میں کوئی غلام ہے جس کو تم اس غلطی کے کفارہ میں آزاد کر سکو؟ اس آدمی نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر کیا تم یہ کر سکتے ہو کہ متواتر دو مہینے کے روزے رکھو؟ اس نے عرض کیا کہ: یہ بھی میرے بس کی بات نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو کیا تمہارے پاس اتنا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکو؟ اس نے عرض کیا کہ: مجھے اس کی بھی مقدرت نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو بیٹھے رہو (شاید اللہ تعالیٰ کوئی سبیل تمہارے لیے پیدا کرے۔ ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ):۔ رسول اللہ ﷺ بھی وہیں تشریف فرما رہے اور ہم لوگ بھی ابھی وہیں حاضر تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کھجوروں کا ایک بہت بڑا بورا آیا۔ آپ ﷺ نے پکارا کہ: مسئلہ پوچھنے والا وہ آدمی کدھر ہے؟ اس آدمی نے عرض کیا کہ: میں حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اس بورے کو لے لو (اور اپنی طرف سے) صدقہ کر دو۔ اس نے عرض کیا کہ: یا رسول اللہ ﷺ! کیا ایسے محتاجوں پر صدقہ کروں جو مجھ سے زیادہ حاجت مند ہوں؟ خدا کی قسم! مدینہ کی دونوں طرف کی پتھریلی زمین کے درمیان (یعنی مدینہ کی پوری بستی) میں کسی گھر کے لوگ بھی میرے گھر والوں سے زیادہ حاجت مند نہیں ہیں (اس کی اس بات پر) رسول اللہ ﷺ کو (خلاف عادت) ایسی ہنسی آئی کہ آپ ﷺ کے دائیں بائیں کنارے والے دانت (کچلیاں) بھی ظاہر ہو گئیں (حالانکہ عادت مبارکہ صرف تبسم کی تھی) پھر آپ ﷺ نے اس آدمی سے فرمایا: اچھا! یہ کھجوریں اپنے اہل و عیال ہی کو کھلا دو ..... (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر آدمی رمضان کے روزہ میں نفس کی خواہش سے ایسی غلطی کر بیٹھے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کرنے کی مقدرت ہو تو غلام آزاد کرے، اگر اس کی مقدرت نہ ہو تو متواتر دو مہینے کے روزے رکھے، اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے .... جمہور ائمہ و فقہاء کا مسلک بھی یہی ہے، البتہ اس میں ائمہ کی رائے میں اختلاف ہو گیا ہے کہ یہ کفارہ کیا صرف اسی صورت میں واجب ہو گا جب کہ کسی نے رمضان کے روزہ میں جماع کیا ہو۔ یا اس صورت میں بھی واجب ہو گا جب کسی نے دانستہ کچھ کھا پی کے روزہ توٹ ڈالا ہو۔ حضرت امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک یہ کفارہ صرف جماع والی صورت کے ساتھ مخصوص ہے، کیوں کہ حدیث میں جو واقعہ مذکور ہے وہ جماع ہی کا ہے .... لیکن امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، سفیان ثوریؒ اور عبداللہ بن مبارکؒ وغیرہ ائمہ کا مسلک یہ ہے کہ یہ کفارہ دراصل رمضان کے روزہ کی بےحرمتی کا ہے اور اس جرم کی سزا ہے کہ اس نے اپنے نفس کی خواہش کے مقابلہ میں رمضان کے روزہ کا احترام نہیں کیا اور اس کو توڑ ڈالا، اور یہ جرم دونوں صورتوں میں یکساں ہے اس لیے اگر کسی نے دانستہ کھا پی کے روزہ توڑا تو اس پر بھی یہ کفارہ واجب ہو گا۔ اس واقعہ میں ایک عجیب و غریب بات یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان صاحب واقعہ صحابی کو کھجوروں کا جو بورا اس لیے عنایت فرمایا تھا کہ مساکین پر صدقہ کر کے وہ اپنا کفارہ ادا کریں، ان کے اس کہنے پر کہ مدینہ بھر میں مجھ سے اور میرے اہل و عیال سے زیادہ حاجت مند کوئی بھی نہیں ہے آپ ﷺ نے اس بارے میں ان کو اجازت دے دی کہ اس کو اپنے ہی کام میں لے آئیں .... اس کے بارے میں جمہور ائمہ کی رائے یہ ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس طرح ان کا کفارہ ادا ہو گیا، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی وقتی ضرورت اور حاجت مندی کا لحاظ کر کے ان کھجوروں کو اپنے خرچ میں لے آنے کی ان کو اس وقت اجازت دے دی اور کفارہ ان کےک ذمہ واجب رہا .... اور مسئلہ یہی ہے کہ اگر رمضان کا روزہ کوئی ایسا آدمی اس طرح توڑ ڈالے جو نہ تو فی الوقت غلام آزاد کر سکتا ہو، نہ دو مہینے متواتر روزے رکھ سکتا ہو اور نہ افلاس و غربت کی وجہ سے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہو تو کفارہ اس کے ذمہ واجب رہے گا، وہ اس کی ادائیگی کی نیت رکھے اور جب کبھی اس کو استطاعت ہو وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے .... اور امام زہری وغیرہ ائمہ کی رائے یہ ہے کہ عام شرعی قانون اور مسئلہ تو یہی ہے لیکن رسول اللہ ﷺ نے ان صحابی کے ساتھ ایک طرح کا استثنائی معاملہ کیا اور ان کا کفارہ اسی طرح ادا ہو گیا۔ یہ واقعہ صحیح بخاری و صحیح مسلم ہی میں کسی قدر اختصار کے ساتھ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے بھی مروی ہے۔ حافظ ابن حجرؒ نے “ فتح الباری ” شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ بعض علمائے کبار نے (جن کو ہمارے اساتذہ اور شیوخ نے دیکھا ہے) ابو ہریرہ ؓ والی اس حدیث کی شرح دو جلدوں میں لکھی ہے اور دکھایا ہے کہ اس حدیث سے ایک ہزار علمی فائدے اور نکتے پیدا ہوتے ہیں۔

934Maarif-ul-Hadith

کن چیزوں سے روزہ خراب نہیں ہوتا

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ ، فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللهُ وَسَقَاهُ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ: جس نے روزہ کی ھالت میں بھول کر کچھ کھا لیا یا پی لیا تو (اس سے اس کا روزہ نہیں ٹوٹا، اس لیے) وہ قاعدہ کے مطابق اپنا روزہ پورا کرے، کیوں کہ اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے (اس نے خود ارادہ کر کے روزہ نہیں توڑا ہے، اس لیے اس کا روزہ علیٰ حالہ ہے) (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح بعض چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں شبہ ہو سکتا ہے کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہو گا، یا اس میں کچھ خرابی آ جاتی ہو گی۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے اپنے ارشادات یا عمل سے واضح فرما دیا کہ ان چیزوں سے روزہ میں کوئی خرابی نہیں آتی۔ اس سلسلہ میں چند حدیثیں ذیل میں پڑھئے۔

935Maarif-ul-Hadith

کن چیزوں سے روزہ خراب نہیں ہوتا

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ثَلاَثٌ لاَ يُفْطِرْنَ الصَّائِمَ : الحِجَامَةُ ، وَالقَيْءُ ، وَالاِحْتِلاَمُ. (رواه الترمذى)

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان تین چیزوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ پچھنے لگوانا، قے ہو جانا اور احتلام۔ (جامع ترمذی)

936Maarif-ul-Hadith

کن چیزوں سے روزہ خراب نہیں ہوتا

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلً سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ ، « فَرَخَّصَ لَهُ » ، وَأَتَاهُ آخَرُ ، فَسَأَلَهُ ، « فَنَهَاهُ » ، فَإِذَا الَّذِي رَخَّصَ لَهُ شَيْخٌ ، وَالَّذِي نَهَاهُ شَابٌّ. (رواه ابوداؤد)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک صاحب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے روزے کی حالت میں بیوی کے ساتھ لیٹنے لپٹنے کے بارے میں سوال کیا (کہ اس کی گنجائش ہے یا نہیں) آپ ﷺ نے ان کو بتایا کہ گنجائش ہے، اور دوسرے ایک صاحب نے آ کر آپ ﷺ سے یہی سوال کیا تو آپ ﷺ نے ممانعت فرما دی (اور اجازت نہیں دی) تو جن کو آپ ﷺ نے گنجائش بتلائی تھی وہ بوڑھی عمر کے آدمی تھے اور جن کو ممانعت فرمائی وہ جواب تھے۔ (سنن ابی داؤد) تشریح فرق کی وجہ ظاہر ہے، جوان آدمی کے لیے چونکہ اس کا قوی خطرہ ہوتا ہے کہ نفس کی خواہش اس پر غالب آ جائے گی اور وہ روزہ خراب کر بیٹھے اس لیے آپ نے جوان سائل کو اجازت نہیں دی، اور بوڑھا آدمی چونکہ اس خطرے سے نسبتاً مامون ہوتا ہے اس لیے بوڑھے سائل کو آپ ﷺ نے رخصت اور گنجائش بتلا دی۔

937Maarif-ul-Hadith

کن چیزوں سے روزہ خراب نہیں ہوتا

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : اشْتَكَتْ عَيْنِي ، أَفَأَكْتَحِلُ وَأَنَا صَائِمٌ؟ قَالَ : نَعَمْ. (رواه الترمذى)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا کہ: میری آنکھ میں تکلیف ہے تو کیا میں روزہ کی حالت میں سرمہ لگا سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! لگا سکتے ہو۔ (جامع ترمذی) تشریح معلوم ہوا کہ آنکھ میں سرمہ یا کسی دوا کے لگانے سے روزہ پر اثر نہیں پڑتا۔

938Maarif-ul-Hadith

کن چیزوں سے روزہ خراب نہیں ہوتا

عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لاَ أُحْصِي يَتَسَوَّكُ وَهُوَ صَائِمٌ. (رواه الترمذى وابوداؤد)

حضرت عامر بن ربیعہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اتنی دفعہ کہ میں شمار بھی نہیں کر سکتا، روزہ کی حالت میں مسواک کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)

939Maarif-ul-Hadith

کن چیزوں سے روزہ خراب نہیں ہوتا

عَنْ بَعْضِ اَصْحَابِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِىَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ ، وَهُوَ صَائِمٌ مِنَ الْعَطَشِ ، أَوْ مِنَ الْحَرِّ. (رواه مالك وابوداؤد)

رسول اللہ ﷺ کے بعض اصحاب سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مقام عرج میں دیکھا، آپ ﷺ روزے سے تھے اور پیاس یا گرمی کی (شدت) کی وجہ سے سر مبارک پر پانی بہا رہے تھے۔ (مؤطا امام مالک، سنن ابی داؤد) تشریح معلوم ہوا کہ روزہ کی حالت میں پیاس یا گرمی کی شدت کم کرنے کے لیے سر پر پانی ڈالنا اور اس قسم کی دوسری تدابیر کرنا جائز ہے۔اور یہ روزہ کی روح کے بھی خلاف نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس طرح کے بعض اعمال اس لیے بھی کرتے تھے کہ اس طرز عمل سے اپنی عاجزی ظاہر ہوتی ہے جو بندگی کی روح ہے .... اللہ رحمتیں ہوں آپ ﷺ پر اور اس کا سلام۔ عرج، مدینہ سے مکہ جاتے ہوئے تین منزل پر ایک آباد موضع تھا، اس لیے یہ واقعہ کسی سفر کا ہے، ہو سکتا ہے کہ فتح مکہ والے سفر ہی کا ہو، جو رمضان مبارک میں ہوا تھا، اور آپ ﷺ نے مقام عسفان پہنچنے تک برابر روزے رکھے تھے۔

940Maarif-ul-Hadith

کن چیزوں سے روزہ خراب نہیں ہوتا

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : هَشَشْتُ ، فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا قَبَّلْتُ ، وَأَنَا صَائِمٌ ، قَالَ : « أَرَأَيْتَ لَوْ مَضْمَضْتَ مِنَ الْمَاءِ ، وَأَنْتَ صَائِمٌ » ، قُلْتُ : لَا بَأْسَ ، قَالَ : « فَمَهْ » (رواه ابوداؤد)

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب ؓ نے بیان کیا کہ ایک دفعہ (روزے کی حالت میں) میرے اندر سخت تقاجا اور جذبہ پیدا ہوا، اور میں نے (اپنی بیوی) کا بوسہ لے لیا۔ اس کے بعد میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ آج مجھ سے بہت بڑا قصور ہو گیا، میں نے روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: بتاؤ اگر تم پانی منہ میں لے کر کلی کرو (تو کیا اس سے تمہارے روزہ میں خرابی آئے گی؟) میں نے عرض کیا اس سے تو کوئی خرابی نہ آئے گی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (خالی بوسہ لینے سے) کیا ہوا۔ (سنن ابی داؤد) تشریح رسول اللہ ﷺ کے اس جواب سے صرف یہ جزئی مسئلہ ہی نہیں معلوم ہوا کہ خالی بوسہ لینے سے روزہ میں خرابی نہیں آتی، بلکہ ایک اصول اور قاعدہ کلیہ معلوم ہو گیا، اور وہ یہ کہ دراصل روزے کو توڑنے والی چیز کھانا پینا اور جماع ہے، اور جس طرح کھانے پینے کی کسی چیز کا صرف منہ میں رکھنا (جو کھانے پینے کا گویا مقدمہ اور دیباچہ ہوتا ہے) روزہ کو نہیں توڑتا، اسی طرح بوس و کنار وغیرہ (جو جماع کے صرف مقدمات ہوتے ہیں) روزے کو خراب نہیں کرتے .... ہاں جس آدمی کو یہ خطرہ ہو کہ وہ خواہش اور تقاضے سے مغلوب ہو کر کہیں جماع میں مبتلا نہ ہو جائے اس کو اس قسم کی باتوں سے ورزے میں پورا پرہیز کرنا چاہئے .... جیسا کہ اوپر کی بعض حدیثوں سے معلوم ہو چکا۔

941Maarif-ul-Hadith

نفلی روزے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، اللَّهِ صَلَّى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لِكُلِّ شَيْءٍ زَكَاةٌ ، وَزَكَاةُ الْجَسَدِ الصَّوْمُ » (رواه ابن ماجه)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر چیز کی زکوٰۃ ہے (جس کے نکالنے سے وہ چیز پاک ہو جاتی ہے) اور جسم کی زکوٰۃ روزے ہیں۔ (سنن ابن ماجہ) تشریح نماز اور زکوٰۃ کی طرح روزوں کا ایک نصاب اور کورس تو اسلام کا رکن اور گویا شرط لازم قرار دی گئی ہے۔ جس کے بغیر کسی مسلمان کی زندگی اسلامی زندگی نہیں بن سکتی، اور وہ رمضان کے پورے مہینے کے روزے ہیں۔ اس کے علاوہ شریعت اسلام میں روحانی تربیت اور تزکیہ کے لیے اور اللہ تعالیٰ کا خاص تقرب حاصل کرنے کے لیے دوسری نفلی عبادات کی طرح نفلی روزوں کی بھی تعلیم دی گئی ہے، اور بعض خاص دنوں اور تاریخوں کی خاص فضیلتیں اور برکتیں بیان فرما کے ان کے روزوں کی خصوصی ترغیب دی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ زبانی تعلیم و تلقین کے علاوہ اپنے عمل سے بھی امت کو ان نفلی روزوں کی ترغیب دیتے تھے، لیکن اسی کے ساتھ آپ ﷺ اس کی بھی پوری احتیاط فرماتے تھے کہ نفلی روزوں میں حد اعتدال سے آگے نہ بڑھیں، اور ان کا اہتمام اور پابندی فرض روزوں کی طرح نہ کریں، بلکہ حدود اللہ کا لحاظ رکھتے ہوئے اپنے فرائض کو فرائض کی طرح ادا کریں اور نوافل کو نوافل کے درجے میں رکھیں .... اس مختصر تمہید کے بعد اس سلسلے کی حدیثیں ذیل میں پڑھئے۔

942Maarif-ul-Hadith

ماہ شعبان میں نفلی روزوں کی کثرت

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ : لاَ يُفْطِرُ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ : لاَ يَصُومُ ، وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ ، وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَكْثَرَ مِنْهُ صِيَامًا فِي شَعْبَانَ " (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا دستور (نفلی روزوں کے بارے میں) یہ تھا کہ آپ (کبھی کبھی) مسلسل بلاناغہ روزے رکھنے شروع کرتے، یہاں تک کہ ہمیں خیال ہوتا کہ اب ناغہ ہی نہیں کریں گے، اور (کبھی اس کے برعکس ایسا ہوتا کہ) آپ روزے نہ رکھتے اور مسلسل بغیر روزے کے دن گزارتے، یہاں تک کہ ہمیں خیال ہوتا کہ اب آپ بلا روزے کے ہی رہا کریں گے .... اور فرماتی ہیں حضرت صدیقہ ؓ کہ .... میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے علاوہ کسی پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں، اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپ کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ نفلی روزے رکھتے ہوں (اس حدیث کی بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ آپ شعبان کے (قریباً) پورے مہینے ہی کے روزے رکھتے تھے)۔ تشریح حدیث کے پہلے جز کا مطلب تو یہ ہے کہ نفلی روزوں کے بارے میں آپ ﷺ کا کوئی لگاؤ بندھا دستور و معمول نہیں تھا، بلکہ کبھی آپ مسلسل بلا ناغہ روزے رکھتے تھے، اور کبھی مسلسل بغیر روزے کے رہتے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ امت کے لیے؟ آپ کی پیروی میں مشکل اور تنگی نہ ہو بلکہ وسعت کا راستہ کھلا رہے، اور ہر شخص اپنے حالات اور اپنی ہمت کے مطابق آپ کے کسی رویہ کی پیروی کر سکے۔ دوسرے جز کا مطلب یہ ہے کہ آپ پورے اہتمام سے پورے مہینے کے روزے صرف رمضان کے رکھتے تھے (جو اللہ نے فرض کئے ہیں) ہاں شعبان میں دوسرے مہینوں کی بہ نسبت زیادہ روزے رکھتے ہوں .... بلکہ اسی حدیث کی ایک روایت میں ہے کہ قریب قریب پورے مہینے شعبان کے روزے رکھتے تھے اور بہت کم دن ناغہ فرماتے تھے۔ ماہ شعبان میں رسول اللہ ﷺ کے زیادہ نفلی روزے رکھنے کے کئی سبب اور کئی حکمتیں بیان کی گئی ہیں جن میں سے بعض وہ ہیں جن کی طرف بعض حدیثوں میں بھی اشارہ ملتا ہے۔ چنانچہ حضرت اسامہ بن زید ؓ کی ایک حدیث میں ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: اسی مہینے میں بارگاہ الہی میں بندوں کے اعمال کی پیشی ہوتی ہے، میں پسند کرتا ہوں کہ جب میرے اعمال کی پیشی ہو تو میں روزے سے ہوں۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک حدیث مروی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ماہ شعبان میں بہت زیادہ روزے اس لیے رکھتے تھے کہ پورے سال میں مرنے والوں کی فہرست اسی مہینے میں ملک الموت کے حوالہ کی جاتی ہے، آپ چاہتے تھے کہ جب آپ کی وفات کے بارے میں ملک الموت کو احکام دئیے جا رہے ہوں تو اس وقت آپ روزے سے ہوں۔ اس کے علاوہ رمضان کا قرب اور اس کے خاص انوار و برکات سے مزید مناسبت پیدا کرنے کا شوق اور داعیہ بھی غالباً اس کا سبب اور محرک ہو گا، اور شعبان کے ان روزوں کو رمضان کے روزوں سے وہی نسبت ہو گی جو فرض نمازوں سے پہلے پڑھے جانے والے نوافل کو فرضوں سے ہوتی ہے، اور اسی طرح رمضان کے بعد شوال میں چھ نفلی روزوں کی تعلیم و ترغیب جو آگے درج ہونے والی حدیث میں آ رہی ہے، اس کو رمجان کے روزوں سے وہی نسبت ہو گی، جو فرض نمازوں کے بعد والی سنتوں اور نفلوں کو فرضوں سے ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔

943Maarif-ul-Hadith

رمضان کے بعد شوال کے چھ روزے

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : « مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ ، كَانَ كَصِيَامِ الدَّهْرِ » (رواه مسلم)

حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جس نے ماہ رمضان کے روزے رکھے اس کے بعد ماہ شوال میں چھ نفلی روزے رکھے تو اس کا یہ عمل ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہو گا۔ (صحیح مسلم) تشریح رمضان کا مہینہ اگر ۲۹ ہی دن کا ہو تب بھی اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے ۳۰ روزوں کا ثواب دیتے ہیں اور شوال کے ۶ نفلی روزے شامل کرنے کے بعد روزوں کی تعداد ۳۶ ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے کریمانہ قانون “ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ” (ایک نیکی کا ثواب دس گنا) کے مطابق کا دس گنا ۳۶۰ ہو جاتا ہے اور پورے سال کے دن ۳۶۰ سے کم ہی ہوتے ہیں .... پس جس نے پورے رمضان مبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال میں ۶ نفلی روزے رکھے وہ اس حساب سے ۳۶۰ روزوں کے ثواب کا مستحق ہو گا پس اجر و ثواب کے لحاظ سے یہ ایسا ہی ہوا جیسے کوئی بندہ سال کے ۳۶۰ دن برابر روزے رکھے۔

944Maarif-ul-Hadith

ہر مہینہ میں تین نفلی روزے کافی ہیں

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ العَاصِ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « يَا عَبْدَ اللَّهِ ، أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ؟ » ، فَقُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : « فَلاَ تَفْعَلْ صُمْ وَأَفْطِرْ ، وَقُمْ وَنَمْ ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، لاَ صَامَ مَنْ صَامَ الدَّهْرَ ، صَوْمُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ » ، صُمْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ صُمْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ وَاقْرَإِ القُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ » ، قُلْتُ : أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : « صُمْ أَفْضَلَ الصَّوْمِ صَوْمَ دَاوُدَ صِيَامُ يَوْمٍ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ ، وَاقْرَأْ فِي كُلِّ سَبْعِ لَيَالٍ مَرَّةً وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ: مجھے بتایا گیا ہے کہ تم نے یہ معمول بنا رکھا ہے کہ تم ہمیشہ دن کو روزہ رکھتے ہو اور رات بھر نوافل پڑھتے ہو (کیا واقعہ ایسا ہی ہے؟) میں نے عرض کیا کہ: ہاں حضرت! میں ایسا ہی کرتا ہ۲وں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ طریقہ چھوڑ دو روزے بھی رکھا کرو اور ناغہ بھی کیا کرو، اسی طرح رات کو نماز بھی پڑھا کرو اور سویا بھی کرو کیاں کہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے (تمہیں اس کی اجازت نہیں ہے کہ جسم پر حد سے زیادہ بوجھ ڈالو اور اس کے ضروری تقاضے بھی پورے نہ کرو) اسی طرح تمہاری آنکھ کا بھی تم پر حق ہے (کہ تم اس کو سونے اور آرام لینے کا موقع دو) اسی طرح بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے ملاقاتیوں مہمانوں کا بھی تم پر حق ہے (تم کو جائز نہیں کہ ان کی حق تلفی کر کے) اللہ کی عبادت کرو۔ سنو! جو ہمیشہ بلا ناغہ روزہ رکھے اس نے گویا روزہ رکھا ہی نہیں، ہر مہینے میں تین دن کے نفلی روزے رکھ لینا ہمیشہ روزہ رکھنے کے حکم میں ہے، اس لئے تم ہر مہینے بس تین روزے رکھ لیا کرو، اور مہینے میں ایک قرآن (تہجد میں) ختم کر لیا کرو۔ (عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں) میں نے عرض کیا کہ: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں (اس لیے مجھے زیادہ کی اجازت مرحمت فرمائیے۔) آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر تم داؤد علیہ السلام کے روزوں کا طریقہ اختیار کر لو، اور یہ کہ ایک دن روزہ اور ایک دن افطار (یعنی روزہ کا ناغہ) اور تہجد میں سات راتوں میں ایک قرآن ختم کر لیا کرو، اور اس سے زیادہ نہ کرو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کا ذوق عبادت بہت بڑھا ہوا تھا وہ ہمیشہ دن کو روزہ رکھتے اور رات بھر نوافل پڑھتے اور اس میں روزونہ پورا قرآن مجید ختم کر لیتے۔ رسول اللہ ﷺ کو جب اس کی اطلاع ہوئی تو آپ ﷺ نے ان کو وہ ہدایت فرمائی جو حدیث میں مذکور ہوئی اور اس کی عبادت میں اعتدال اور میانہ روی کا حکم دیا اور فرمایا کہ: تم پر اپنے جسم و جان اور اپنے اہل تعلق کی بھی ذمہ داریاں ہیں اور ان کی بھی رعایت اور ادائیگی ضروری ہے۔ آپ ﷺ نے پہلے انہیں مہینے میں تین نفلی روزے رکھنے اور تہجد میں پورے مہینے میں ایک قرآن پڑھنے کے لیے فرمایا، اور جب انہوں نے عرض کیا کہ میں با آسانی اس سے زیادہ کر سکتا ہوں لہٰذا کچھ زیادہ کی مجھے اجازت دے دیجئے تو آپ ﷺ نے ان کو صوم داؤد کی (یعنی ہمیشہ ایک دن روزہ اور ایک دن افطار کی) اور ہفتہ میں ایک قرآن مجید رات کے نوافل میں پورا کر لینے کی اجازت مرحمت فرما دی اور اس سے زیادہ کے لیے منع فرما دیا .... لیکن اس حدیث سے یہ بات ظاہر ہے کہ آپ ﷺ کی ممانعت کا منشاء یہ نہیں تھا کہ زیادہ عبادت کرنا کوئی بری بات ہے، بلکہ یہ ممانعت بر بنائے شفقت تھی (جس طرح چھوٹے بچوں کو زیادہ بوجھ اٹھانے سے منع کیا جاتا ہے) یہی وجہ ہے کہ ان کے یہ عرض کرنے پر کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں آپ ﷺ نے ان کو مہینہ میں صرف تین روزوں کے بجائے صوم داؤد کی یعنی ۱۵ دن روزہ اور ۱۵ دن افطار کی اور مہینہ میں قرآن ختم کرنے کے بجائے ہفتہ میں قرآن ختم کرنے کی اجازت دے دی۔ بلکہ ترمذی کی روایت کے مطابق بعد میں صرف پانچ دن میں قرآن مجید ختم کرنے کی بھی اجازت دے دی تھی اور بعض صحابہ کو حضور ﷺ نے تین دن میں قرآن ختم کرنے کی اجازت دی ہے۔