کتاب الصوم

Maarif-ul-Hadith · Chapter 7 · 84 hadiths · Page 2 of 5

905Maarif-ul-Hadith

اعتکاف

عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " السُّنَّةُ عَلَى الْمُعْتَكِفِ : أَنْ لَا يَعُودَ مَرِيضًا ، وَلَا يَشْهَدَ جَنَازَةً ، وَلَا يَمَسَّ امْرَأَةً ، وَلَا يُبَاشِرَهَا ، وَلَا يَخْرُجَ لِحَاجَةٍ ، إِلَّا لِمَا لَا بُدَّ مِنْهُ ، وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ ، وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ جَامِعٍ " (رواه ابوداؤد)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ معتکف کے لیے شرعی دستور اور ضابطہ یہ ہے کہ وہ نہ مریض کی عیادت کو جائے، نہ نماز جنازہ میں شرکت کے لیے باہر نکلے، نہ عورت سے صحبت کرنے، نہ بوس و کنار کرے اور اپنی ضرورتوں کے لیے بھی مسجد سے باہر نہ جائے سوائے ان حوائج کے جو بالکل ناگزیر ہیں (جیسے پیشاب پاخانہ وغیرہ) اور اعتکاف (روزہ کے ساتھ ہونا چاہئے) بغیر روزہ کے اعتکاف نہیں، اور مسجد جامع میں ہونا چاہئے، اس کے سوا نہیں۔ (سنن ابی داؤد) تشریح اس سلسلہ معارف الحدیث میں یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ صحابہ کرام ؓ میں سے جب کوئی یہ کہے کہ “ سنت ” یہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ شرعی مسئلہ یہ ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ارشاد یا طرز عمل سے جانا ہے۔ اس لیے یہ حدیث مرفوع ہی کے حکم میں ہوتا ہے، اس بناء پر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی اس حدیث میں اعتکاف کے جو مسائل بیان کئے گئے ہیں وہ نبوی ہدایات ہی کے حکم میں ہیں، اس کے بالکل آخر میں “ مسجد جامع ” کا جو لفظ ہے اس سے مراد جماعت والی مسجد ہے۔ یعنی ایسی مسجد جس میں پانچوں وقت جماعت پابندی سے ہوئی ہو .... حضرت امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک اعتکاف کے لیے روزہ بھی شرط ہے اور جماعت والی مسجد کا ہونا بھی۔

906Maarif-ul-Hadith

اعتکاف

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمُعْتَكِفِ « هُوَ يَعْكِفُ الذُّنُوبَ ، وَيُجْرَى لَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ كَعَامِلِ الْحَسَنَاتِ كُلِّهَا » (رواه ابن ماجة)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اعتکاف کرنے والے کے بارے میں فرمایا کہ وہ (اعتکاف کی وجہ سے مسجد میں مقید ہو جانے کی وجہ سے) گناہوں سے بچا رہتا ہے، اور اس کا نیکیوں کا حساب ساری نیکیاں کرنے والے بندے کی طرف جاری رہتا ہے، اور ن امہ اعمال میں لکھا جاتا رہتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ) تشریح جب بندہ اعتکاف کی نیت سے اپنے کو مسجد میں مقید کر دیتا ہے تو اگرچہ وہ عبادت اور ذکر و تلاوت وغیرہ کے راستہ سے اپنی نیکیوں میں خوب اضافہ کرتا ہے لیکن بعض بہت بڑی نیکیوں سے وہ مجبور بھی ہو جاتا ہے۔ مثلاً وہ بیماروں کی عیادت اور خدمت نہیں کر سکتا، کسی میت کو غسل نہیں دے سکتا، جو اگر ثواب کے لیے اور اخلاص کے ساتھ ہو تو بہت بڑے اجر کا کام ہے، اسی طرح نماز جنازہ کی شرکت کے لیے نہیں نکل سکتا، میت کے ساتھ قبرستان نہیں جا سکتا۔ جس کے ایک ایک قدم پر گناہ معاف ہوتے ہیں اور نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ لیکن اس حدیث میں اعتکاف والے کو بشارت سنائی گئی ہے ہے کہ اس کے حساب اور اس کی صحیفہ اعمال میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ سب نیکیاں بھی لکھی جاتی ہیں جن کے کرنے سے وہ اعتکاف کی وجہ سے مجبور ہو جاتا ہے، اور وہ ان کا عادی تھا ؎ کیا نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے

907Maarif-ul-Hadith

رؤیتِ ہلال

عَنِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ ذَكَرَ رَمَضَانَ فَقَالَ : « لاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلَالَ ، وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے ایک موقع پر رمضان کا ذکر فرمایا، اس سلسلہ میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: رمضان کا روزہ اس وقت تک مت رکھو جب تک کہ چاند نہ دیکھ لو اور روزوں کا سلسلہ ختم نہ کرو جب تک شوال کا چاند نہ دیکھو لو، اور اگر (۲۹) کو چاند دکھائی نہ دے تو اس کا حساب پورا کرو (یعنی مہینے کو ۳۰ دن کا سمجھو) .... (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح شریعت اسلامی نے خاص اعمال و عبادات کے لیے جو مخصوص اوقات یا دن یا زمانے مقرر کئے ہیں ان کی تعیین میں اس بات کا خصوصیت سے لحاظ رکھا گیا ہے کہ اس وقت یا دن یا اس زمانہ کا جاننا پہچاننا کسی علم یا فلسفہ پر یا کسی آلہ کے استعمال پر موقوف نہ ہو، بلکہ ایک عامی اور بے پڑھا دیہاتی آدمی بھی مشاہدہ سے اس کو جان سکے۔ اسی طرح بند اور روزے کے اوقات سورج کے حساب سے مقرر کئے گئے۔ مثلاً فجر کا وقت صبح صادق سے لے کر طلوع آفتاب تک کا مقرر کیا گیا، ظہر کا وقت سورج کے نصف النہار سے ڈھل جانے کے بعد سے ایک مثل یا دو مثل سایہ ہو جانے تک اور عصر کا وقت اس کے بعد سے غروب آفتاب تک کا رکھا گیا، اسی طرح مغرب کا وقت غروب آفتاب کے بعد سے شفق کے رہنے تک اور عشاء کا شفق سے غائب ہو جانے کے بعد بتایا گیا۔ ایسا ہی روزہ کا وقت صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کا رکھا گیا .... ظاہر ہے کہ ان اوقات کو جاننے کے لیے کسی علم یا فلسفہ کی اور اور کسی آلہ کے استعمال کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ہر آدمی اپنے مشاہدہ سے اس کو جان سکتا ہے، اور جس طرح عوام کی سہولت کے پیش نظر نماز اور روزہ کو ان اوقات کے لیے سورج کے طلوع و غروب اور اتار چڑھاؤ کو معیار اور نشان قرار دیا گیا، اسی طرح زکوٰۃ اور حج اور روزہ وغیرہ ان اعمال اور عبادات کے لیے جن کا تعلق مہینے یا سال سے ہے چاند کو معیار قرار دیا گیا، اور بجائے شمسی سال اور مہینوں کے قمری سال اور مہینوں کا اعتبار کیا گیا، کیوں کہ عوام اپنے مشاہدہ سے قمری مہینوں ہی کو جان سکتے ہیں۔ شمسی مہینوں کے آغاز پر کوئی ایسی علامت آسمان یا زمین پر ظاہر نہیں ہوتی جو خود دیکھ کر ہر عام آدمی سمجھ سکے کہ اب پہلا مہینہ ختم ہو کر دوسرا مہینہ شروع ہو گیا، ہر قمری مہینوں کا آغاز چونکہ چاند نکلنے سے ہوتا ہے اس لیے ایک ان پڑھ دیہاتی بھی آسمان پر نیا چاند دیکھ کر جان لیتا ہے کہ پچھلا مہینہ ختم ہو کر اب اگلا مہینہ شروع ہو گیا۔ بہر حال شریعت اسلامی نے مہینے اور سال کے سلسلے میں نظام قمری کا جو اعتبار کیا ہے اس کی ایک خاص حکمت عوام کی یہ سہولت بھی ہے .... رسول اللہ ﷺ نے جب ماہ رمضان کے روزوں کی فرضیت کا حکم سنایا، تو یہ بھی بتایا کہ رمضان کے شروع یا ختم کا ضابطہ اور معیار کیا ہے۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ شعبان کے ۲۹ دن پورے ہونے کے بعد اگر چاند نظر آ جائے تو رمضان کے روزے شروع کر دو اور اگر ۲۹ویں کو چاند نظر نہ آئے تو مہینہ کے تیس دن پورے کر کے روزے شروع کرو، اور اسی طرح رمضان کے روزے ۲۹ یا ۳۰ رکھو .... پھر آپ ﷺ نے مختلف موقعوں پر رؤیت ہلال کے متعلق اور سب ضروری ہدایات دیں .... اس تمہید کے بعد مندرجہ ذیل حدیثیں پڑھئے:

908Maarif-ul-Hadith

رؤیتِ ہلال

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلاَثِينَ »

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: چاند دیکھ کر روزے رکھو اور چاند دیکھ کر روزے چھوڑ دو، اور اگر (۲۹ تاریخ کو) چاند دکھائی نہ دے تو شعبان کی ۳۰ کی گنتی پوری کرو .... (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ رمضان کے شروع ہونے اور ختم ہونے کا دار و مدار رؤیت ہلال (یعنی چاند دکھائی دینے پر ہے .... صرف کسی حساب یا قرینہ و قیاس کی بناء پر اس کا حکم نہیں لگایا جا سکتا .... پھر رؤیت ہلال کے ثبوت کی ایک شکل تو یہ ہے کہ خود ہم نے اپنی آنکھوں سے اس کو دیکھا ہو، اور دوسری صورت یہ ہے کہ کسی دوسرے نے دیکھ کر ہم کو بتایا ہو اور وہ ہمارے نزدیک قابل اعتبار ہو۔ خود رسول اللہ ﷺ کے زمانے مبارک میں بھی کبھی کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ ﷺ نے کسی دیکھنے والے کی اطلاع اور شہادت پر رؤیت ہلال کو مان لیا، اور روزہ رکھنے یا عید کرنے کا حکم دے دیا۔ جیسا کہ آگے درج ہونے والی بعض احادیث سے معلوم ہو گا۔

909Maarif-ul-Hadith

رؤیتِ ہلال

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَحْصُوا هِلاَلَ شَعْبَانَ لِرَمَضَانَ. (رواه الترمذى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رمضان کے لحاظ سے شعبان کے چاند کو خوب اچھی طرح گنو۔ (جامع ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ رمضان کے پیش نظر شعبان کا چاند دیکھنے کا بھی خاص اہتمام کیا جائے اور اس کی تاریخیں یاد رکھنے کی خاص فکر اور کوشش کی جائے، اور جب ۲۹ دن پورے ہو جائیں تو رمضان کا چاند دیکھنے کی کوشش کی جائے۔

910Maarif-ul-Hadith

رؤیتِ ہلال

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : « كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَفَّظُ مِنْ شَعْبَانَ مَا لَا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ ، ثُمَّ يَصُومُ لِرُؤْيَةِ رَمَضَانَ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِ عَدَّ ثَلَاثِينَ يَوْمًا ثُمَّ صَامَ » (رواه ابوداؤد)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ماہ شعبان کے دن اور اس کی تاریخیں جتنے اہتمام سے یاد رکھتے تھے اتنے اہتمام سے کسی دوسرے مہینے کی تاریخیں یاد نہیں رکھتے تھے، پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھتے تھے، اور اگر (۲۹ شعبان کو) چاند دکھائی نہ دیتا تو ۳۰ دن کی شمار پورا کر کے پھر روزے رکھتے تھے ..... (سنن ابی داؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان مبارک کے اہتمام کی وجہ سے شعبان کا چاند دیکھنے اور اس کی تاریخیں یاد رکھنے کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔ پھر اگر ۲۹ شعبان کو رمضان کا چاند نظر آتا تو رمضان کے روزے رکھنے شروع فرما دیتے تھے، اور اگر نظر نہ آتا تو شعبان کے ۳۰ دن پورے کر کے روزے رکھتے تھے۔

911Maarif-ul-Hadith

خبر اور شہادت سے چاند کا ثبوت

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلَالَ ، فَقَالَ : « أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ : نَعَمْ. أَتَشْهَدُ وَأَنِّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّهِ؟ » قَالَ : نَعَمْ. قَالَ : « يَا بِلَالُ ، اَذِّنْ فِي النَّاسِ ، أَنْ يَّصُومُوا غَدًا » (رواه ابوداؤد والترمذى والنسائى وابن ماجه والدارمى)

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک بدوی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے بتایا کہ میں نے آج چاند دیکھا ہے (یعنی رمضان کا چاند) رسول اللہ ﷺ نے اس سے دریافت کیا: کیا تم لا الہ الا اللہ کی شہادت دیتے ہو؟ اس نے عرض کیا کہ: ہاں ً میں لا الہ الا اللہ کی شہادت دیتا ہوں۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: اور کیا تم محمد الرسول اللہ کی شہادت دیتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں! میں اس کی بھی شہادت دیتا ہوں (یعنی میں توحید و رسالت پر ایمان رکھتا ہوں، مسلمان ہوں اس تصدیق کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حجرت بلال ؓ کو حکم دیا کہ لوگوں میں اس کا اعلان کر دو کہ کل سے روزے رکھیں) (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، مسند دارمی) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رؤیت ہلال کی شہادت یا اطلاع قبول کرنے کے لیے ضرور ہے کہ شہادت یا اطلاع دینے والا صاحب ایمان ہو، کیوں کہ وہی اس کی نزاکت اور اہمیت کو اور اس کی بھاری ذمہ داری کو محسوس کر سکتا ہے۔

912Maarif-ul-Hadith

خبر اور شہادت سے چاند کا ثبوت

عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : « تَرَآ النَّاسُ الْهِلَالَ ، » فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنِّي رَأَيْتُهُ فَصَامَهُ ، وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ " (رواه ابوداؤد والدارمى)

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں لوگوں نے رمضان کا چاند دیکھنے کی کوشش کی (لیکن عام طور سے لوگ دیکھ نہ سکے) تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی کہ میں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ بھی روزے رکھیں۔ (سنن ابی داؤد، مسند دارمی) تشریح ان دونوں حدیثوں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رمضان کا چاند ثابت ہونے کے لیے صرف ایک مسلمان کی شہادت اور اطلاع بھی کافی ہو سکتی ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کے مشہور قول کے مطابق ایک آدمی کی شہادت اس صوورت میں کافی ہوتی ہے جب کہ مطلع صاف نہ ہو، ابر یا غبار وغیرہ کا اثر ہو، یا وہ شخص بستی کے باہر سے یا کسی بلند علاقہ سے آیا ہو، لیکن اگر مطلع بالکل صاف ہو اور چاند دیکھنے والا آدمی باہر سے یا کسی بلند مقام سے بھی نہ آیا ہو، بلکہ اس بستی ہی میں چاند دیکھنے کا دعویٰ کرے جس میں باوجود کوشش کے اور کسی نے چاند نہ دیکھا ہو، تو ایسی صورت میں اس کی شہادت پر چاند ہو جانے کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس صورت میں دیکھنے والے اتنے آدمی ہونے چاہئیں جن کی شہادت پر اطمینان ہو جائے، امام ابو حنیفہ کا مشہور قول یہی ہے۔ لیکن ایک روایت امام صاحب سے یہ بھی ہے کہ رمضان کے چاند کے ثبوت کے لیے ایک دیندار اور قابل اعتبار مسلمان کی شہادت بہرحال کافی ہے، اور اکثر دوسرے ائمہ کا مسلک بھی یہی ہے۔ یہ جو کچھ ذکر کیا گیا اس کا تعلق رمجان کے چاند سے ہے، لیکن عید کے چاند کے ثبوت کے لیے جمہور ائمہ کے نزدیک کم سے کم ود دیندار اور قابل اعتبار مسلمانوں کی شہادت ضروری ہے ..... دار قطنی اور طبرانی نے اپنی اپنی سند کے ساتھ عکرمہ تابعی سے روایت کیا ہے کہ: ایک دفعہ مدینہ کے حاکم کے سامنے ایک آدمی نے رمضان کا چاند دیکھنے کی شہادت دی، اس وقت حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ دونوں مدینہ میں موجود تھے، والی مدینہ نے ان دونوں بزرگوں کی طرف رجوع کیا تو انہوں نے بتایا کہ اس ایک آدمی کی شہادت قبول کر لی جائے، اور رمضان ہونے کا اعلان کر دیا جائے اور ساتھ ہی فرمایا کہ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَازَ شَهَادَةَ وَاحِدٍ عَلَى رُؤْيَةِ هِلَالِ رَمَضَانَ، وَكَانَ لَا يُجِيزُ شَهَادَةً فِي الْإِفْطَارِ إِلَّا بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ (رسول اللہ ﷺ نے رؤیت ہلال رمضان کی ایک آدمی کی شہادت کو بھی کافی مانا ہے، اور عید کے چاند کی شہادت دو آدمیوں سے کم کی آپ کافی نہیں قرار دیتے تھے)۔

913Maarif-ul-Hadith

رمضان سے ایک دو دن پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لاَ يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدُكُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمَهُ ، فَلْيَصُمْ ذَلِكَ اليَوْمَ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابوہریرہ انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: تم میں سے کوئی آدمی رمضان کے ایک دن پہلے سے روزے نہ رکھے الا یہ کہ اتفاق سے وہ دن پڑ جائے جس میں روزہ رکھنے کا کسی آدمی کا معمول ہو تو وہ شخص اپنے معمول کے مطابق اس دن بھی روزہ رکھ سکتا ہے۔ (مثلاً ایک آدمی کا معمول ہے کہ وہ ہر جمعرات یا پیر کو روزہ رکھتا ہے تو اگر ۲۹، ۳۰ شعبان کو جمعرات یا پیر پڑ جائے تو اس آدمی کو اس دن روزہ رکھنے کی اجازت ہے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح شریعت اسلام میں پورے رمضان کے روزے فرض کیے گئے ہیں اور جیسا کہ ابھی معلوم ہو چکا یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ رمضان کا چاند دیکھنے کا خاص اہتمام کیا جائے، بلکہ اس مقصد سے شعبان کا چاند دیکھنے کا بھی خصوصی اہتمام کیا جائے تا کہ کسی دھوکہ یا غفلت سے رمضان کا کوئی روزہ چھوٹ نہ جائے۔ لیکن حدود و شریعت کی حفاظت کے لیے یہ بھی حکم دیا گیا ہے رمضان کے ایک دو دن پہلے سے روزے نہ رکھے جائین، اگر عبادت کے شوقین ایسا کریں گے تو خطرہ ہے کہ بیچارے ناواقف عوام اسی کو شریعت کا حکم اور مسئلہ سمجھنے لگیں، اس لئے اس کی ممانعت فرما دی گئی۔

914Maarif-ul-Hadith

رمضان سے ایک دو دن پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت

عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ مَنْ صَامَ اليَوْمَ الَّذِي يَشُكُّ فِيهِ النَّاسُ فَقَدْ عَصَى أَبَا القَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (رواه ابوداؤد والترمذى والنسائى وابن ماجه والدارمى)

حضرت عمار بن یاسر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ: جس آدمی نےشک والے دن کا روزہ رکھا اس نے پیغمبر خدا ابو القاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، مسند دارمی) تشریح “ شک والے دن ” سے مراد وہ دن ہے جس کے بارے میں شک ہو کہ یہ شاید رمضان کا دن ہو۔ مثلاً ۲۹ شعبان کو مطلع پر ابر یا غبار ہو اور چاند نظر نہ آئے تو اگلے دن کے بارے میں شک ہوتا ہے کہ شاید آج چاند ہو چکا ہو اور غبار یا ابر کی وجہ سے نظر نہ آیا ہو، اور اس لحاظ سے کل رمضان کا دن ہو ..... تو شریعت مین اس شک اور وہم کا اعتبار نہین ہے اور اس کی بناء پر اس دن روزہ رکھنے سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے، اور جیسا کہ اوپر درج ہونے والی بعض احادیث سے معلوم ہو چکا، ایسی سورت میں شعبان کے ۳۰ دن پورے کرنے کا حکم دیا ہے۔

915Maarif-ul-Hadith

سحر اور افطار کے بارے میں ہدایات

عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سحری کھایا کرو کیوں کہ سحر میں برکت ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

916Maarif-ul-Hadith

سحر اور افطار کے بارے میں ہدایات

عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ ، أَكْلَةُ السَّحَرِ » (رواه مسلم)

حضرت عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان فرق کرنے والی چیز سحری کھانا ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب کے ہاں روزوں کے لیے سحری نہیں ہے، اور ہمارے ہاں سحری کھانے کا حکم ہے، اس لیے اس فرق اور امتیاز کو عملاً بھی قائم رکھنا چاہئے، اور اللہ کی اس نعمت کا کہ اس نے ہم کو یہ سہولت بخشی شکر ادا کرنا چاہئے۔

917Maarif-ul-Hadith

افطار میں تعجیل اور سحری میں تاخیر کا حکم

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ أَحَبَّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا. (رواه الترمذى)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اپنے بندوں میں مجھے وہ بندہ زیادہ محبوب ہے جو روزہ کے افطار میں جلدی کرے۔ (یعنی غروب آفتاب کے بعد بالکل دیر نہ کرے)۔ (جامع ترمذی)

918Maarif-ul-Hadith

افطار میں تعجیل اور سحری میں تاخیر کا حکم

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جب تک میری امت کے لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے وہ اچھے حال میں رہیں گے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اسی مضمون کی حدیث مسند احمد میں حضرت ابو ذر غفاری ؓ سے مروی ہے اور اس میں مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ کے آگے وَأَخَّرُوا السُّحُورَ بھی ہے (یعنی اس امت کے حالات اس وقت تک اچھے رہیں گے جب تک کہ افطار میں تاخیر نہ کرنا بلکہ جلدی کرنا، اور سحری میں جلدی نہ کرنا بلکہ تاخیر کرنا اس کا طریقہ اور طرز عمل رہے گا۔ اس کا راز یہ ہے کہ افطار میں جلدی کرنا اور سحری میں تاخیر کرنا شریعت کا حکم اور اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے، اور اس میں عام بندگان خدا کے لیے سہولت اور آسانی بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نگاہ کرم کا ایک مستقل وسیلہ ہے اس لیے امت جب تک اس پر عامل رہے گی وہ اللہ تعالیٰ کی نظر کرم کی مستحق رہے گی اور اس کے حالات اچھے رہیں گے، اور اس کے برعکس افطار میں تاخیر اور سحری میں جلدی کرنے میں چونکہ اللہ کے تمام بندوں کے لیے مشقت ہے اور یہ ایک طرح کی بدعت اور یہود و نصاریٰ کا طریقہ ہے اس لیے وہ اس امت کے لیے بجائے رضا اور رحمت کے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث ہے، اس واسطے جب امت اس طریقے کو اپنائے گی تو اللہ تعالیٰ کی نظر کرم سے محرورم ہو گی اور اس کے حالات بگڑیں گئے۔ افطار میں جلدی کا مطلب یہ ہے کہ جب آفتاب غروب ہونے کا یقین ہو جائے تو پھر تاخیر نہ کی جائے اور اسی طرح سحری میں تاخیر کا مطلب یہ ہے کہ صبح صادق سے بہت پہلے سحری نہ کھا لی جائے بلکہ جب صبح صادق کا وقت قریب ہو تو اس وقت کھایا پیا جائے۔ یہی رسول اللہ ﷺ کا معمول اور دستور تھا۔

919Maarif-ul-Hadith

افطار میں تعجیل اور سحری میں تاخیر کا حکم

عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : « تَسَحَّرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ » ، قُلْتُ : كَمْ كَانَ بَيْنَ الأَذَانِ وَالسَّحُورِ؟ " قَالَ : « قَدْرُ خَمْسِينَ آيَةً » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت انس زید بن ثابت ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ نے کے ساتھ سحری کھائی، پھر (جلد ہی) آپ ﷺ نماز فجر کے لیے کھڑے ہوگئے۔ حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے دریافت کیا کہ سحری کھانے اور فجر کی اذان کے درمیان کتنا وقفہ رہا ہو گا؟ انہوں نے فرمایا: پچاس آیتوں کی تلاوت کے بقدر۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح صحت مخارج اور قواعد قرات کے لحاظ کے ساتھ پچاس آیات کی تلاوت میں پانچ منٹ سے بھی کم وقت صرف ہوتا ہے، اس بناء پر کہا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سحری اور اذان فجر کے درمیان صرف چار پانچ منٹ کا فصل تھا۔

920Maarif-ul-Hadith

صوم وصال کی ممانعت

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : « نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الوِصَالِ فِي الصَّوْمِ » فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : « وَأَيُّكُمْ مِثْلِي ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِىْ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صوم وصال سے لوگوں کو منع فرمایا تو ایک صحابی نے آپ ﷺ سے عرض کیا: حضرت (ﷺ) آپ خود تو صوم وصال رکھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کون میری طرح ہے (یعنی اس بارے میں میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کا خاص معاملہ ہے جو دوسروں کے ساتھ نہیں ہے اور و ہ یہ ہے) میری رات اس طرح گزرتی ہے کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے (یعنی مجھے عالم غیب سے غذا ملتی ہے اس لیے اس معاملہ میں اپنے کو مجھ پر قیاس نہ کرو)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح “ صوم وصال ” یہ ہے کہ بغیر افطار اور سحری کے مسلسل روزے رکھے جائین اور دنوں کی طرح راتیں بھی بلا کھائے پئے گزریں، چونکہ اس طرح کے روزے سخت مشقت اور ضعف کا باعث ہوتے ہین، اور اس کا قوی خطرہ ہوتا ہے کہ آدمی اتنا کمزور ہو جائے کہ دوسرے فرائض اور دوسری ذمہ داریوں کو ادا نہ کر سکے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے امت کو اس طرح روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے، لیکن خود رسول اللہ ﷺ کا حال چونکہ یہ تھا کہ اس طرح روزے رکھنے سے آپ ﷺ کی صحت اور توانائی میں کوئی فرق نہیں آتا تھا اور آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک قسم کی غیر مادی غذا اور روحانی قوت ملتی رہتی تھی اس لیے آپ ﷺ خود ایسے روزے رکھتے تھے۔ تشریح ..... اس مضمون کی حدیثیں الفاظ کے خفیف فرق کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ، حضرت انس ؓ اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے بھی مروی ہیں۔ ان تمام روایات سے یہ بات ظاہر ہے کہ اس ممانعت کا مقصد اور منشاء یہی تھا کہ اللہ کے بندے مشقت اور تکلیف میں مبتلا ہوں اور ان کی صحتوں کو نقصان نہ پہنچے، بلکہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت میں تو یہ بات اور زیادہ صراحت کے ساتھ مذکور ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الوِصَالِ رَحْمَةٌ لَّهُمْ (بخارى ومسلم) رسول اللہ ﷺ نے ترحم اور شفقت کی بناء پر صوم وصال سے منع فرمایا ہے۔ اور آگے درج ہونے والی حضرت ابو سعید خدری ؓ کی حدیث سے معلوم ہو گا کہ آپ ﷺ نے صوم وصال کا شوق رکھنے والوں کو سحر تک کے وصال کی اجازت بھی دے دی تھی۔

921Maarif-ul-Hadith

صوم وصال کی ممانعت

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : « لاَ تُوَاصِلُوا ، فَأَيُّكُمْ أَرَادَ أَنْ يُوَاصِلَ ، فَلْيُوَاصِلْ حَتَّى السَّحَرِ » ، قَالُوا : فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : « لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي أَبِيتُ لِي مُطْعِمٌ يُطْعِمُنِي ، وَسَاقٍ يَسْقِينِىْ » (رواه البخارى)

حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ ارشاد فرماتے تھے کہ: تم لوگ صوم وصا نہ رکھو اور جو کوئی (اپنے شوق اور دل کے داعیہ اور جذبہ کی بناء پر) صوم وصال رکھنا ہی چاہے تو وہ بس سحر تک رکھے (یعنی سحر سے سحر تک قریباً ۲۴ گھنٹے کا)۔ بعض صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ: آپ خود تو صوم وصال رکھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: (اس معاملے میں) میرا حال تمہارا سا نہیں ہے، میں اس طرح رات گزارتا ہوں کہ ایک کھلانے والا مجھے کھلاتا ہے اور ایک پلانے والا مجھے پلاتا ہے۔ (صحیح بخاری) تشریح ان حدیثوں میں صوم وصال کی راتوں میں اللہ تعالیٰ کے کھلانے اور پلانے کا جو ذکر ہے اس کی کوئی وضاحت اور خاص صورت احادیث سے معلوم نہیں ہوتی، بعض حضرات نے اس سے یہ سمجھا ہے کہ آپ ﷺ کو صوم وصال میں خاص کر رات کے اوقات میں اللہ تعالیٰ کا جو خاص الخاص قرب حاصل ہوتا تھا اس سے آپ ﷺ کی روح اور قلب کو وہ طاقت اور توانائی ملتی تھی جو کھانے پینے کے قائم مقام ہو ج اتی تھی، اس کی تعبیر روحانی غذا سے بھی کی جا سکتی ہے .... اور بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب سمجھا ہے کہ صوم وصال کی راتوں میں آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت اور عالم غیب کے ماکولات و مشروبات کھلائے پلائے جاتے تھے .... لیکن یہ کھانا پینا اس عالم میں نہیں ہوتا تھا، اس وقت آپ کسی دوسرے عالم میں ہوتے تھے۔ ہم جیسے عوام خواب کے کھانے پینے میں غور کر کے اس کو سمجھ سکتے ہیں۔

922Maarif-ul-Hadith

افطار کے لیے کیا چیز بہتر ہے ؟

عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ صَائِمًا ، فَلْيُفْطِرْ عَلَى التَّمْرِ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدِ التَّمْرَ ، فَعَلَى الْمَاءِ فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ » (رواه احمد وابوداؤد والترمذى وابن ماجه والدارمى)

حضرت سلمان بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ کھجور سے افطار کرے، اگر کھجور نہ پائے تو پھر پانی ہی سے افطار کرے، اس لیے کہ پانی کو اللہ تعالیٰ نے طہور بنایا ہے۔ (مسند احمد، سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، مسند دارمی) تشریح اہل عرب خاص طور سے اہل مدینہ کے لیے کھجور بہترین غذا تھی اور سہل الحصول اور ارشاں بھی تھی، کہ غربا اور فقراء بھی اس کو کھاتے تھے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اس سے افطار کی ترغیب دی اور جس کو بروقت کھجور بھی نہ ملے اس کو پانی سے افطار کی ترغیب دی، اور اس کی یہ مبارک خصوصیت بتائی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو طہور قرار دیا ہے۔ اس سے افطار کرنے میں ظاہر و باطن کی طہارت کی نیک فالی بھی ہے۔

923Maarif-ul-Hadith

افطار کے لیے کیا چیز بہتر ہے ؟

عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى رُطَبَاتٍ ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ رُطَبَاتٌ فَتُمَيْرَاتٌ ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تُمَيْرَاتٌ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ. (رواه الترمذى وابوداؤد)

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مغرب کی نماز سے پہلے چند تر کھجوروں سے روزہ افطار فرماتے تھے، اگر تر کھجوریں بروقت موجود نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں سے افطار فرماتے تھے اور اگر خشک کھجوریں بھی نہ ہوتیں تو چند گھونٹ پانی پی لیتے تھے۔ (جامع ترمذی، سنن ابی داؤد)

924Maarif-ul-Hadith

افطار کی دعا

عَنْ مُعَاذِ بْنِ زُهْرَةَ ، أَنَّهُ بَلَغَهُ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ : « اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ ، وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ » (رواه ابوداؤد)

معاذ بن زہرہ تابعی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب روزہ افطار فرماتے تھے تو کہتے تھے: اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ، وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ (اے اللہ! میں نے تیرے ہی واسطے روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق سے افطار کیا)۔