Maarif-ul-Hadith 951

کتاب الصوم

951Maarif-ul-Hadith

یوم عاشورہ کا روزہ اور اس کی تاریخی اہمیت

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : « مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَرَّى صِيَامَ يَوْمٍ فَضَّلَهُ عَلَى غَيْرِهِ إِلَّا هَذَا اليَوْمَ ، يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، وَهَذَا الشَّهْرَ يَعْنِي شَهْرَ رَمَضَانَ » (رواه البخارى ومسلم)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نہیں دیکھا کہ آپ کسی فضیلت والے دن کے روزے کا بہت زیادہ اہتمام اور فکر کرتے ہوں، سوائے اس دن یوم عاشورہ کے اور سوائے اس ماہ مبارک رمضان کے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ کے طرز عمل سے حضرت ابن عباس ؓ نے یہی سمجھا کہ نفلی روزوں میں جس قدر اہتمام آپ یوم عاشورہ کے روزے کا کرتے تھے اتنا کسی دوسرے نفلی روزے کا نہیں کرتے تھے۔