عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ إِنْ عَلِمْتُ أَيُّ لَيْلَةٍ لَيْلَةُ القَدْرِ مَا أَقُولُ فِيهَا؟ قَالَ : قُولِي : اللَّهُمَّ إِنَّكَ عُفُوٌّ كَرِيْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي.
(رواه احمد والترمذى وابن ماجة)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے بتائیے کہ اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ کون رات شب قدر ہے تو میں اس رات اللہ سے کیا عرض کروں اور کیا دعا مانگوں؟ آپ نے فرمایا یہ عرض کرو:
إِنَّكَ عُفُوٌّ كَرِيْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي
اے میرے اللہ! تو بہت معاف فرمانے والا اور بڑا کرم فرما ہے، اور معاف کر دینا تجھے پسند ہے۔ پس تو میری خطائیں معاف فرما دے۔ (مسند احمد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
اس حدیث کی بناء پر اللہ کے بہت سے بندوں کا یہ معمول ہے کہ وہ ہر رات میں یہ دعا خصوصیت سے کرتے ہیں، اور رمضان مبارک کی راتوں میں اور ان میں سے بھی خاص کر آخری عشرہ کی طاق راتوں میں اس دعا کا اور بھی زیادہ اہتمام کرتے ہیں۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَن النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : يُغْفَرُ لِأُمَّتِهِ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ" قِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَهِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا يُوَفَّى أَجْرَهُ إِذَا قَضَى عَمَلَهُ "
(رواه احمد)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: رمضان کی آخری رات میں آپ کی امت کے لیے مغفرت اور بخشش کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا: یا رسول اللہ! کیا وہ شب قدر ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: شب قدر تو نہیں ہوتی، لیکن بات یہ ہے کہ عمل کرنے والا جب اپنا عمل پورا کر دے تو اس کو پوری اجرت مل جاتی ہے۔ (مسند احمد)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رمضان المبارک کی آخری رات بھی خاص مغفرت کے فیصلہ کی رات ہے لیکن اس رات میں مغفرت اور بخشش کا فیصلہ انہی بندوں کے لیے ہو گا جو رمضان مبارک کے عملی مطالبات کسی دررجہ میں پورے کر کے اس کا استحقات پیدا کر لیں، اللہ تعالی ہم سب کو اس کی توفیق دے۔
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : « أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَعْتَكِفُ العَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ ، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ »
(رواه البخارى ومسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے، وفات تک آپ کا یہ معمول رہا، آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات اہتمام سے اعتکاف کرتی رہیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
رمضان مبارک اور بالخصوص اس کے آخری عشرہ کے اعمال میں سے ایک اعتکاف بھی ہے .... اعتکاف کی حقیقت یہ ہے کہ ہر طرف سے یکسو اور سب سے منقطع ہو کر بس اللہ سے لو لگا کے اس کے در پہ (یعنی کسی مسجد کے کونہ میں) پڑ جانے، اور سب سے الگ تنہائی میں اس کی عبادت اور اسی کے ذکر و فکر میں مشغول رہے، یہ خواص بلکہ اخص الخواص کی عبادت ہے۔ اس عبادت کے لیے بہترین وقت رمضان مبارک اور خاص کر اس کا آخری عشرہ ہی ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس کو اس کے لیے انتخاب کیا گیا۔
نزول قرآن سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی طبیعت مبارک میں سب سے یکسو اور الگ ہو کر تنہائی میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے ذکر و فکر کا جو بیتابانہ جذبہ پیدا ہوا تھا جس کے نتیجہ میں آپ مسلسل کئی مہینے غارِ حرا میں میں خلوت کزینی کرتے رہے، یہ گویا آپ کا پہلا اعتکاف تھا اور اس اعتکاف ہی میں آپ کی روحانیت اس مقام تک پہنچ گئی تھی کہ آپ ﷺ پر قرآن کا نزول شروع ہو جائے۔ چنانچہ حرا کے اس اعتکام کے آخری ایام ہی میں اللہ کے حامل وحی فرشتے جبرئیل اورہ اقرأ کی ابتدائی آیتیں لے کر نازل ہوئے .... تحقیق یہ ہے کہ یہ رمضان المبارک کا مہینہ (1) اور اس کا آخری عشرہ تھا اور وہ رات شب قدر تھی، اس لیے بھی اعتکاف کے لیے رمضان مبارک کے آخری عشرہ کا انتخاب کیا گیا۔
روح کی تریبیت و ترقی اور نفسانی قوتوں پر اس کو غالب کرنے کے لیے پورے مہینے رمضان کے روزے تو تمام افراد امت پر فرض کیے گئے، گویا کہ اپنے باطن میں ملکوتیت کو غالب اور بہیمیت کو مغلوب کرنے کے لیے اتنا مجاہدہ اور نفسانی کواہشات کی اتنی قربانی تو ہر مسلمان کے لیے لازم کر دی گئی کہ وہ اس پورے محترم اور مقدس مہینے میں اللہ کے حکم کی تعمیل اور اس کی عبادت کی نیت سے دن کو نہ کھائے نہ پئے، نہ بیوی سے متمتع ہو، اور اسی کے ساتھ ہر قسم کے گناہوں بلکہ فضول باتوں سے بھی پرہیز کرےاور یہ پورا مہینہ ان پابندیوں کے ساتھ گزارے ..... جپس یہ تو رمضان مبارک میں روحانی تربیت و تزکیہ کا عوامی اور کمپلسری کورس مقرر کیا گیا، اور اس سے آگے تعلق باللہ میں ترقی اور ملاء اعلیٰ سے خصوصی مناسبت پیدا کرنے کے لیے اعتکاف رکھا گیا۔ اس اعتکاف میں اللہ کا بندہ سب سے کٹ کے اور سب سے ہٹ کر اپنے مالک و مولا کے آستانے پر اور گویا اسی کے قدموں میں پڑ جاتا ہے، اس کو یاد کرتا ہے، اسی کے دھیان میں رہتا ہے، اس کی تسبیح و تقدیس کرتا ہے، اس کے حضور میں توبہ و استغفار کرتا ہے، اپنے گناہوں اور قصوروں پر روتا ہے، اور رحیم و کریم مالک سے رحمت و مغفرت مانگتا ہے، اس کی رضا اور اس کا قرب چاہتا ہے۔ اسی حال میں اس کے دن گزرتے ہیں اور اسی حال میں اس کی راتیں .... ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر کسی بندے کی سعادت اور کیا ہو سکتی ہے ....
رسول اللہ ﷺ اہتمام سے ہر سال رمضان کے آخری عشرہ کا اعتکاف فرماتے تھے، بلکہ ایک سال کسی وجہ سے رہ گیا تو اگلے سال آپ نے دو عشروں کا اعتکاف فرمایا .... اس تمہید کے بعد اس سلسلے کی حدیثیں پڑھئے۔
تشریح ..... ازواج مطہرات اپنے حجروں میں اعتکاف فرماتی تھیں، اور خواتین کے لیے اعتکاف کی جگہ ان کے گھر کی وہی جگہ ہے جو انہوں نے نماز پڑھنے کی مقرر کر رکھی ہو، اگر گھر میں نماز کی کوئی خاص جگہ مقرر نہ ہو تو اعتکاف کرنے والی خواتین کو ایسی جگہ مقرر کر لینی چاہئے۔
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ، فَلَمْ يَعْتَكِفْ عَامًا ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ ، اعْتَكَفَ عِشْرِينَ".
(رواه الترمذى)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ ایک سال آپ اعتکاف نہیں کر سکے، تو اگلے سال بیس دن تک اعتکاف فرمایا۔ (جامع ترمذی)
تشریح
حضرت انس ؓ کی اس روایت میں یہ مذکور نہیں ہے کہ ایک سال اعتکاف نہ ہو سکنے کی کیا وجہ پیش ائی تھی۔ سنن نسائی اور سنن ابی داؤد وغیرہ میں حضرت ابی بن کعب کی ایک حدیث مروی ہے اس میں تصریح ہے کہ ایک سال رمضان کے عشرہ اخیر میں آپ ﷺ کو کوئی سفر کرنا پڑ گیا تھا اس کی وجہ سے اعتکاف نہیں ہو سکا تھا اس لیے اگلے سال آپ نے بیس دن کا اعتکاف فرمایا۔
اور صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ ؓ کی روایت سے مروی ہے کہ جس سال آپ ﷺ کا وصال ہوا اس سال کے رمضان میں بھی آپ ﷺ نے بیس دن کا اعتکاف فرمایا تھا۔ یہ بیس دن کا اعتکاف غالباً اس وجہ سے فرمایا تھا کہ آپ کو یہ اشارہ مل چکا تھا کہ عنقریب آپ کو اس دنیا سے اٹھا لیا جائے گا اس لیے اعتکاف جیسے اعمال کا شغف بڑھ جانا بالکل قدرتی بات تھی ؎
وعدہ وصل چوں شود نزدیک
آتش شوق تیز تر گردد
عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " السُّنَّةُ عَلَى الْمُعْتَكِفِ : أَنْ لَا يَعُودَ مَرِيضًا ، وَلَا يَشْهَدَ جَنَازَةً ، وَلَا يَمَسَّ امْرَأَةً ، وَلَا يُبَاشِرَهَا ، وَلَا يَخْرُجَ لِحَاجَةٍ ، إِلَّا لِمَا لَا بُدَّ مِنْهُ ، وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا بِصَوْمٍ ، وَلَا اعْتِكَافَ إِلَّا فِي مَسْجِدٍ جَامِعٍ "
(رواه ابوداؤد)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ معتکف کے لیے شرعی دستور اور ضابطہ یہ ہے کہ وہ نہ مریض کی عیادت کو جائے، نہ نماز جنازہ میں شرکت کے لیے باہر نکلے، نہ عورت سے صحبت کرنے، نہ بوس و کنار کرے اور اپنی ضرورتوں کے لیے بھی مسجد سے باہر نہ جائے سوائے ان حوائج کے جو بالکل ناگزیر ہیں (جیسے پیشاب پاخانہ وغیرہ) اور اعتکاف (روزہ کے ساتھ ہونا چاہئے) بغیر روزہ کے اعتکاف نہیں، اور مسجد جامع میں ہونا چاہئے، اس کے سوا نہیں۔ (سنن ابی داؤد)
تشریح
اس سلسلہ معارف الحدیث میں یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ صحابہ کرام ؓ میں سے جب کوئی یہ کہے کہ “ سنت ” یہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ شرعی مسئلہ یہ ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ارشاد یا طرز عمل سے جانا ہے۔ اس لیے یہ حدیث مرفوع ہی کے حکم میں ہوتا ہے، اس بناء پر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی اس حدیث میں اعتکاف کے جو مسائل بیان کئے گئے ہیں وہ نبوی ہدایات ہی کے حکم میں ہیں، اس کے بالکل آخر میں “ مسجد جامع ” کا جو لفظ ہے اس سے مراد جماعت والی مسجد ہے۔ یعنی ایسی مسجد جس میں پانچوں وقت جماعت پابندی سے ہوئی ہو .... حضرت امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک اعتکاف کے لیے روزہ بھی شرط ہے اور جماعت والی مسجد کا ہونا بھی۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمُعْتَكِفِ « هُوَ يَعْكِفُ الذُّنُوبَ ، وَيُجْرَى لَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ كَعَامِلِ الْحَسَنَاتِ كُلِّهَا »
(رواه ابن ماجة)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اعتکاف کرنے والے کے بارے میں فرمایا کہ وہ (اعتکاف کی وجہ سے مسجد میں مقید ہو جانے کی وجہ سے) گناہوں سے بچا رہتا ہے، اور اس کا نیکیوں کا حساب ساری نیکیاں کرنے والے بندے کی طرف جاری رہتا ہے، اور ن امہ اعمال میں لکھا جاتا رہتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ)
تشریح
جب بندہ اعتکاف کی نیت سے اپنے کو مسجد میں مقید کر دیتا ہے تو اگرچہ وہ عبادت اور ذکر و تلاوت وغیرہ کے راستہ سے اپنی نیکیوں میں خوب اضافہ کرتا ہے لیکن بعض بہت بڑی نیکیوں سے وہ مجبور بھی ہو جاتا ہے۔ مثلاً وہ بیماروں کی عیادت اور خدمت نہیں کر سکتا، کسی میت کو غسل نہیں دے سکتا، جو اگر ثواب کے لیے اور اخلاص کے ساتھ ہو تو بہت بڑے اجر کا کام ہے، اسی طرح نماز جنازہ کی شرکت کے لیے نہیں نکل سکتا، میت کے ساتھ قبرستان نہیں جا سکتا۔ جس کے ایک ایک قدم پر گناہ معاف ہوتے ہیں اور نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ لیکن اس حدیث میں اعتکاف والے کو بشارت سنائی گئی ہے ہے کہ اس کے حساب اور اس کی صحیفہ اعمال میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ سب نیکیاں بھی لکھی جاتی ہیں جن کے کرنے سے وہ اعتکاف کی وجہ سے مجبور ہو جاتا ہے، اور وہ ان کا عادی تھا ؎
کیا نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے
عَنِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ ذَكَرَ رَمَضَانَ فَقَالَ : « لاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلَالَ ، وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ »
(رواه البخارى ومسلم)
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے ایک موقع پر رمضان کا ذکر فرمایا، اس سلسلہ میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: رمضان کا روزہ اس وقت تک مت رکھو جب تک کہ چاند نہ دیکھ لو اور روزوں کا سلسلہ ختم نہ کرو جب تک شوال کا چاند نہ دیکھو لو، اور اگر (۲۹) کو چاند دکھائی نہ دے تو اس کا حساب پورا کرو (یعنی مہینے کو ۳۰ دن کا سمجھو) .... (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
شریعت اسلامی نے خاص اعمال و عبادات کے لیے جو مخصوص اوقات یا دن یا زمانے مقرر کئے ہیں ان کی تعیین میں اس بات کا خصوصیت سے لحاظ رکھا گیا ہے کہ اس وقت یا دن یا اس زمانہ کا جاننا پہچاننا کسی علم یا فلسفہ پر یا کسی آلہ کے استعمال پر موقوف نہ ہو، بلکہ ایک عامی اور بے پڑھا دیہاتی آدمی بھی مشاہدہ سے اس کو جان سکے۔ اسی طرح بند اور روزے کے اوقات سورج کے حساب سے مقرر کئے گئے۔ مثلاً فجر کا وقت صبح صادق سے لے کر طلوع آفتاب تک کا مقرر کیا گیا، ظہر کا وقت سورج کے نصف النہار سے ڈھل جانے کے بعد سے ایک مثل یا دو مثل سایہ ہو جانے تک اور عصر کا وقت اس کے بعد سے غروب آفتاب تک کا رکھا گیا، اسی طرح مغرب کا وقت غروب آفتاب کے بعد سے شفق کے رہنے تک اور عشاء کا شفق سے غائب ہو جانے کے بعد بتایا گیا۔ ایسا ہی روزہ کا وقت صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کا رکھا گیا .... ظاہر ہے کہ ان اوقات کو جاننے کے لیے کسی علم یا فلسفہ کی اور اور کسی آلہ کے استعمال کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ہر آدمی اپنے مشاہدہ سے اس کو جان سکتا ہے، اور جس طرح عوام کی سہولت کے پیش نظر نماز اور روزہ کو ان اوقات کے لیے سورج کے طلوع و غروب اور اتار چڑھاؤ کو معیار اور نشان قرار دیا گیا، اسی طرح زکوٰۃ اور حج اور روزہ وغیرہ ان اعمال اور عبادات کے لیے جن کا تعلق مہینے یا سال سے ہے چاند کو معیار قرار دیا گیا، اور بجائے شمسی سال اور مہینوں کے قمری سال اور مہینوں کا اعتبار کیا گیا، کیوں کہ عوام اپنے مشاہدہ سے قمری مہینوں ہی کو جان سکتے ہیں۔ شمسی مہینوں کے آغاز پر کوئی ایسی علامت آسمان یا زمین پر ظاہر نہیں ہوتی جو خود دیکھ کر ہر عام آدمی سمجھ سکے کہ اب پہلا مہینہ ختم ہو کر دوسرا مہینہ شروع ہو گیا، ہر قمری مہینوں کا آغاز چونکہ چاند نکلنے سے ہوتا ہے اس لیے ایک ان پڑھ دیہاتی بھی آسمان پر نیا چاند دیکھ کر جان لیتا ہے کہ پچھلا مہینہ ختم ہو کر اب اگلا مہینہ شروع ہو گیا۔
بہر حال شریعت اسلامی نے مہینے اور سال کے سلسلے میں نظام قمری کا جو اعتبار کیا ہے اس کی ایک خاص حکمت عوام کی یہ سہولت بھی ہے .... رسول اللہ ﷺ نے جب ماہ رمضان کے روزوں کی فرضیت کا حکم سنایا، تو یہ بھی بتایا کہ رمضان کے شروع یا ختم کا ضابطہ اور معیار کیا ہے۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ شعبان کے ۲۹ دن پورے ہونے کے بعد اگر چاند نظر آ جائے تو رمضان کے روزے شروع کر دو اور اگر ۲۹ویں کو چاند نظر نہ آئے تو مہینہ کے تیس دن پورے کر کے روزے شروع کرو، اور اسی طرح رمضان کے روزے ۲۹ یا ۳۰ رکھو .... پھر آپ ﷺ نے مختلف موقعوں پر رؤیت ہلال کے متعلق اور سب ضروری ہدایات دیں .... اس تمہید کے بعد مندرجہ ذیل حدیثیں پڑھئے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُبِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلاَثِينَ »
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: چاند دیکھ کر روزے رکھو اور چاند دیکھ کر روزے چھوڑ دو، اور اگر (۲۹ تاریخ کو) چاند دکھائی نہ دے تو شعبان کی ۳۰ کی گنتی پوری کرو .... (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ رمضان کے شروع ہونے اور ختم ہونے کا دار و مدار رؤیت ہلال (یعنی چاند دکھائی دینے پر ہے .... صرف کسی حساب یا قرینہ و قیاس کی بناء پر اس کا حکم نہیں لگایا جا سکتا .... پھر رؤیت ہلال کے ثبوت کی ایک شکل تو یہ ہے کہ خود ہم نے اپنی آنکھوں سے اس کو دیکھا ہو، اور دوسری صورت یہ ہے کہ کسی دوسرے نے دیکھ کر ہم کو بتایا ہو اور وہ ہمارے نزدیک قابل اعتبار ہو۔ خود رسول اللہ ﷺ کے زمانے مبارک میں بھی کبھی کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ ﷺ نے کسی دیکھنے والے کی اطلاع اور شہادت پر رؤیت ہلال کو مان لیا، اور روزہ رکھنے یا عید کرنے کا حکم دے دیا۔ جیسا کہ آگے درج ہونے والی بعض احادیث سے معلوم ہو گا۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَحْصُوا هِلاَلَ شَعْبَانَ لِرَمَضَانَ.
(رواه الترمذى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رمضان کے لحاظ سے شعبان کے چاند کو خوب اچھی طرح گنو۔ (جامع ترمذی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ رمضان کے پیش نظر شعبان کا چاند دیکھنے کا بھی خاص اہتمام کیا جائے اور اس کی تاریخیں یاد رکھنے کی خاص فکر اور کوشش کی جائے، اور جب ۲۹ دن پورے ہو جائیں تو رمضان کا چاند دیکھنے کی کوشش کی جائے۔
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : « كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَفَّظُ مِنْ شَعْبَانَ مَا لَا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ ، ثُمَّ يَصُومُ لِرُؤْيَةِ رَمَضَانَ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِ عَدَّ ثَلَاثِينَ يَوْمًا ثُمَّ صَامَ »
(رواه ابوداؤد)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ماہ شعبان کے دن اور اس کی تاریخیں جتنے اہتمام سے یاد رکھتے تھے اتنے اہتمام سے کسی دوسرے مہینے کی تاریخیں یاد نہیں رکھتے تھے، پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھتے تھے، اور اگر (۲۹ شعبان کو) چاند دکھائی نہ دیتا تو ۳۰ دن کی شمار پورا کر کے پھر روزے رکھتے تھے ..... (سنن ابی داؤد)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان مبارک کے اہتمام کی وجہ سے شعبان کا چاند دیکھنے اور اس کی تاریخیں یاد رکھنے کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔ پھر اگر ۲۹ شعبان کو رمضان کا چاند نظر آتا تو رمضان کے روزے رکھنے شروع فرما دیتے تھے، اور اگر نظر نہ آتا تو شعبان کے ۳۰ دن پورے کر کے روزے رکھتے تھے۔
خبر اور شہادت سے چاند کا ثبوت
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلَالَ ، فَقَالَ : « أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، قَالَ : نَعَمْ. أَتَشْهَدُ وَأَنِّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّهِ؟ » قَالَ : نَعَمْ. قَالَ : « يَا بِلَالُ ، اَذِّنْ فِي النَّاسِ ، أَنْ يَّصُومُوا غَدًا »
(رواه ابوداؤد والترمذى والنسائى وابن ماجه والدارمى)
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک بدوی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے بتایا کہ میں نے آج چاند دیکھا ہے (یعنی رمضان کا چاند) رسول اللہ ﷺ نے اس سے دریافت کیا: کیا تم لا الہ الا اللہ کی شہادت دیتے ہو؟ اس نے عرض کیا کہ: ہاں ً میں لا الہ الا اللہ کی شہادت دیتا ہوں۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا: اور کیا تم محمد الرسول اللہ کی شہادت دیتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں! میں اس کی بھی شہادت دیتا ہوں (یعنی میں توحید و رسالت پر ایمان رکھتا ہوں، مسلمان ہوں اس تصدیق کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حجرت بلال ؓ کو حکم دیا کہ لوگوں میں اس کا اعلان کر دو کہ کل سے روزے رکھیں) (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، مسند دارمی)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رؤیت ہلال کی شہادت یا اطلاع قبول کرنے کے لیے ضرور ہے کہ شہادت یا اطلاع دینے والا صاحب ایمان ہو، کیوں کہ وہی اس کی نزاکت اور اہمیت کو اور اس کی بھاری ذمہ داری کو محسوس کر سکتا ہے۔
خبر اور شہادت سے چاند کا ثبوت
عَنْ عَبْدِ اللهِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : « تَرَآ النَّاسُ الْهِلَالَ ، » فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنِّي رَأَيْتُهُ فَصَامَهُ ، وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ "
(رواه ابوداؤد والدارمى)
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں لوگوں نے رمضان کا چاند دیکھنے کی کوشش کی (لیکن عام طور سے لوگ دیکھ نہ سکے) تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی کہ میں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ بھی روزے رکھیں۔ (سنن ابی داؤد، مسند دارمی)
تشریح
ان دونوں حدیثوں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رمضان کا چاند ثابت ہونے کے لیے صرف ایک مسلمان کی شہادت اور اطلاع بھی کافی ہو سکتی ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کے مشہور قول کے مطابق ایک آدمی کی شہادت اس صوورت میں کافی ہوتی ہے جب کہ مطلع صاف نہ ہو، ابر یا غبار وغیرہ کا اثر ہو، یا وہ شخص بستی کے باہر سے یا کسی بلند علاقہ سے آیا ہو، لیکن اگر مطلع بالکل صاف ہو اور چاند دیکھنے والا آدمی باہر سے یا کسی بلند مقام سے بھی نہ آیا ہو، بلکہ اس بستی ہی میں چاند دیکھنے کا دعویٰ کرے جس میں باوجود کوشش کے اور کسی نے چاند نہ دیکھا ہو، تو ایسی صورت میں اس کی شہادت پر چاند ہو جانے کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس صورت میں دیکھنے والے اتنے آدمی ہونے چاہئیں جن کی شہادت پر اطمینان ہو جائے، امام ابو حنیفہ کا مشہور قول یہی ہے۔ لیکن ایک روایت امام صاحب سے یہ بھی ہے کہ رمضان کے چاند کے ثبوت کے لیے ایک دیندار اور قابل اعتبار مسلمان کی شہادت بہرحال کافی ہے، اور اکثر دوسرے ائمہ کا مسلک بھی یہی ہے۔
یہ جو کچھ ذکر کیا گیا اس کا تعلق رمجان کے چاند سے ہے، لیکن عید کے چاند کے ثبوت کے لیے جمہور ائمہ کے نزدیک کم سے کم ود دیندار اور قابل اعتبار مسلمانوں کی شہادت ضروری ہے ..... دار قطنی اور طبرانی نے اپنی اپنی سند کے ساتھ عکرمہ تابعی سے روایت کیا ہے کہ: ایک دفعہ مدینہ کے حاکم کے سامنے ایک آدمی نے رمضان کا چاند دیکھنے کی شہادت دی، اس وقت حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ دونوں مدینہ میں موجود تھے، والی مدینہ نے ان دونوں بزرگوں کی طرف رجوع کیا تو انہوں نے بتایا کہ اس ایک آدمی کی شہادت قبول کر لی جائے، اور رمضان ہونے کا اعلان کر دیا جائے اور ساتھ ہی فرمایا کہ:
إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجَازَ شَهَادَةَ وَاحِدٍ عَلَى رُؤْيَةِ هِلَالِ رَمَضَانَ، وَكَانَ لَا يُجِيزُ شَهَادَةً فِي الْإِفْطَارِ إِلَّا بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ
(رسول اللہ ﷺ نے رؤیت ہلال رمضان کی ایک آدمی کی شہادت کو بھی کافی مانا ہے، اور عید کے چاند کی شہادت دو آدمیوں سے کم کی آپ کافی نہیں قرار دیتے تھے)۔
رمضان سے ایک دو دن پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لاَ يَتَقَدَّمَنَّ أَحَدُكُمْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمَهُ ، فَلْيَصُمْ ذَلِكَ اليَوْمَ »
(رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابوہریرہ انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: تم میں سے کوئی آدمی رمضان کے ایک دن پہلے سے روزے نہ رکھے الا یہ کہ اتفاق سے وہ دن پڑ جائے جس میں روزہ رکھنے کا کسی آدمی کا معمول ہو تو وہ شخص اپنے معمول کے مطابق اس دن بھی روزہ رکھ سکتا ہے۔ (مثلاً ایک آدمی کا معمول ہے کہ وہ ہر جمعرات یا پیر کو روزہ رکھتا ہے تو اگر ۲۹، ۳۰ شعبان کو جمعرات یا پیر پڑ جائے تو اس آدمی کو اس دن روزہ رکھنے کی اجازت ہے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
شریعت اسلام میں پورے رمضان کے روزے فرض کیے گئے ہیں اور جیسا کہ ابھی معلوم ہو چکا یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ رمضان کا چاند دیکھنے کا خاص اہتمام کیا جائے، بلکہ اس مقصد سے شعبان کا چاند دیکھنے کا بھی خصوصی اہتمام کیا جائے تا کہ کسی دھوکہ یا غفلت سے رمضان کا کوئی روزہ چھوٹ نہ جائے۔ لیکن حدود و شریعت کی حفاظت کے لیے یہ بھی حکم دیا گیا ہے رمضان کے ایک دو دن پہلے سے روزے نہ رکھے جائین، اگر عبادت کے شوقین ایسا کریں گے تو خطرہ ہے کہ بیچارے ناواقف عوام اسی کو شریعت کا حکم اور مسئلہ سمجھنے لگیں، اس لئے اس کی ممانعت فرما دی گئی۔
رمضان سے ایک دو دن پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت
عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ مَنْ صَامَ اليَوْمَ الَّذِي يَشُكُّ فِيهِ النَّاسُ فَقَدْ عَصَى أَبَا القَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
(رواه ابوداؤد والترمذى والنسائى وابن ماجه والدارمى)
حضرت عمار بن یاسر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ: جس آدمی نےشک والے دن کا روزہ رکھا اس نے پیغمبر خدا ابو القاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔ (سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، مسند دارمی)
تشریح
“ شک والے دن ” سے مراد وہ دن ہے جس کے بارے میں شک ہو کہ یہ شاید رمضان کا دن ہو۔ مثلاً ۲۹ شعبان کو مطلع پر ابر یا غبار ہو اور چاند نظر نہ آئے تو اگلے دن کے بارے میں شک ہوتا ہے کہ شاید آج چاند ہو چکا ہو اور غبار یا ابر کی وجہ سے نظر نہ آیا ہو، اور اس لحاظ سے کل رمضان کا دن ہو ..... تو شریعت مین اس شک اور وہم کا اعتبار نہین ہے اور اس کی بناء پر اس دن روزہ رکھنے سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے، اور جیسا کہ اوپر درج ہونے والی بعض احادیث سے معلوم ہو چکا، ایسی سورت میں شعبان کے ۳۰ دن پورے کرنے کا حکم دیا ہے۔
سحر اور افطار کے بارے میں ہدایات
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَكَةً »
(رواه البخارى ومسلم)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سحری کھایا کرو کیوں کہ سحر میں برکت ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
سحر اور افطار کے بارے میں ہدایات
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ ، أَكْلَةُ السَّحَرِ »
(رواه مسلم)
حضرت عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان فرق کرنے والی چیز سحری کھانا ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب کے ہاں روزوں کے لیے سحری نہیں ہے، اور ہمارے ہاں سحری کھانے کا حکم ہے، اس لیے اس فرق اور امتیاز کو عملاً بھی قائم رکھنا چاہئے، اور اللہ کی اس نعمت کا کہ اس نے ہم کو یہ سہولت بخشی شکر ادا کرنا چاہئے۔
افطار میں تعجیل اور سحری میں تاخیر کا حکم
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ أَحَبَّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا.
(رواه الترمذى)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اپنے بندوں میں مجھے وہ بندہ زیادہ محبوب ہے جو روزہ کے افطار میں جلدی کرے۔ (یعنی غروب آفتاب کے بعد بالکل دیر نہ کرے)۔ (جامع ترمذی)
افطار میں تعجیل اور سحری میں تاخیر کا حکم
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : « لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ »
(رواه البخارى ومسلم)
حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ: جب تک میری امت کے لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے وہ اچھے حال میں رہیں گے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اسی مضمون کی حدیث مسند احمد میں حضرت ابو ذر غفاری ؓ سے مروی ہے اور اس میں مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ کے آگے وَأَخَّرُوا السُّحُورَ بھی ہے (یعنی اس امت کے حالات اس وقت تک اچھے رہیں گے جب تک کہ افطار میں تاخیر نہ کرنا بلکہ جلدی کرنا، اور سحری میں جلدی نہ کرنا بلکہ تاخیر کرنا اس کا طریقہ اور طرز عمل رہے گا۔ اس کا راز یہ ہے کہ افطار میں جلدی کرنا اور سحری میں تاخیر کرنا شریعت کا حکم اور اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے، اور اس میں عام بندگان خدا کے لیے سہولت اور آسانی بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نگاہ کرم کا ایک مستقل وسیلہ ہے اس لیے امت جب تک اس پر عامل رہے گی وہ اللہ تعالیٰ کی نظر کرم کی مستحق رہے گی اور اس کے حالات اچھے رہیں گے، اور اس کے برعکس افطار میں تاخیر اور سحری میں جلدی کرنے میں چونکہ اللہ کے تمام بندوں کے لیے مشقت ہے اور یہ ایک طرح کی بدعت اور یہود و نصاریٰ کا طریقہ ہے اس لیے وہ اس امت کے لیے بجائے رضا اور رحمت کے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث ہے، اس واسطے جب امت اس طریقے کو اپنائے گی تو اللہ تعالیٰ کی نظر کرم سے محرورم ہو گی اور اس کے حالات بگڑیں گئے۔ افطار میں جلدی کا مطلب یہ ہے کہ جب آفتاب غروب ہونے کا یقین ہو جائے تو پھر تاخیر نہ کی جائے اور اسی طرح سحری میں تاخیر کا مطلب یہ ہے کہ صبح صادق سے بہت پہلے سحری نہ کھا لی جائے بلکہ جب صبح صادق کا وقت قریب ہو تو اس وقت کھایا پیا جائے۔ یہی رسول اللہ ﷺ کا معمول اور دستور تھا۔
افطار میں تعجیل اور سحری میں تاخیر کا حکم
عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : « تَسَحَّرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلاَةِ » ، قُلْتُ : كَمْ كَانَ بَيْنَ الأَذَانِ وَالسَّحُورِ؟ " قَالَ : « قَدْرُ خَمْسِينَ آيَةً »
(رواه البخارى ومسلم)
حضرت انس زید بن ثابت ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ نے کے ساتھ سحری کھائی، پھر (جلد ہی) آپ ﷺ نماز فجر کے لیے کھڑے ہوگئے۔ حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ان سے دریافت کیا کہ سحری کھانے اور فجر کی اذان کے درمیان کتنا وقفہ رہا ہو گا؟ انہوں نے فرمایا: پچاس آیتوں کی تلاوت کے بقدر۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
صحت مخارج اور قواعد قرات کے لحاظ کے ساتھ پچاس آیات کی تلاوت میں پانچ منٹ سے بھی کم وقت صرف ہوتا ہے، اس بناء پر کہا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سحری اور اذان فجر کے درمیان صرف چار پانچ منٹ کا فصل تھا۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : « نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الوِصَالِ فِي الصَّوْمِ » فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : « وَأَيُّكُمْ مِثْلِي ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِىْ »
(رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صوم وصال سے لوگوں کو منع فرمایا تو ایک صحابی نے آپ ﷺ سے عرض کیا: حضرت (ﷺ) آپ خود تو صوم وصال رکھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کون میری طرح ہے (یعنی اس بارے میں میرے ساتھ اللہ تعالیٰ کا خاص معاملہ ہے جو دوسروں کے ساتھ نہیں ہے اور و ہ یہ ہے) میری رات اس طرح گزرتی ہے کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے (یعنی مجھے عالم غیب سے غذا ملتی ہے اس لیے اس معاملہ میں اپنے کو مجھ پر قیاس نہ کرو)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
“ صوم وصال ” یہ ہے کہ بغیر افطار اور سحری کے مسلسل روزے رکھے جائین اور دنوں کی طرح راتیں بھی بلا کھائے پئے گزریں، چونکہ اس طرح کے روزے سخت مشقت اور ضعف کا باعث ہوتے ہین، اور اس کا قوی خطرہ ہوتا ہے کہ آدمی اتنا کمزور ہو جائے کہ دوسرے فرائض اور دوسری ذمہ داریوں کو ادا نہ کر سکے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے امت کو اس طرح روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے، لیکن خود رسول اللہ ﷺ کا حال چونکہ یہ تھا کہ اس طرح روزے رکھنے سے آپ ﷺ کی صحت اور توانائی میں کوئی فرق نہیں آتا تھا اور آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک قسم کی غیر مادی غذا اور روحانی قوت ملتی رہتی تھی اس لیے آپ ﷺ خود ایسے روزے رکھتے تھے۔
تشریح ..... اس مضمون کی حدیثیں الفاظ کے خفیف فرق کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ، حضرت انس ؓ اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے بھی مروی ہیں۔ ان تمام روایات سے یہ بات ظاہر ہے کہ اس ممانعت کا مقصد اور منشاء یہی تھا کہ اللہ کے بندے مشقت اور تکلیف میں مبتلا ہوں اور ان کی صحتوں کو نقصان نہ پہنچے، بلکہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت میں تو یہ بات اور زیادہ صراحت کے ساتھ مذکور ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں:
نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الوِصَالِ رَحْمَةٌ لَّهُمْ
(بخارى ومسلم)
رسول اللہ ﷺ نے ترحم اور شفقت کی بناء پر صوم وصال سے منع فرمایا ہے۔
اور آگے درج ہونے والی حضرت ابو سعید خدری ؓ کی حدیث سے معلوم ہو گا کہ آپ ﷺ نے صوم وصال کا شوق رکھنے والوں کو سحر تک کے وصال کی اجازت بھی دے دی تھی۔