ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی بیویاں اکٹھا ہوئیں اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہی، اتنے میں فاطمہ ؓ آئیں، ان کی چال رسول اللہ ﷺ کی چال کی طرح تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: میری بیٹی! خوش آمدید پھر انہیں اپنے بائیں طرف بٹھایا، اور چپکے سے کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں، پھر چپکے سے آپ ﷺ نے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں، عائشہ ؓ کہتی ہیں: میں نے ان سے پوچھا کہ تم کیوں روئیں؟ تو انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے راز کو فاش نہیں کرنا چاہتی، میں نے کہا: آج جیسی خوشی جو غم سے قریب تر ہو میں نے کبھی نہیں دیکھی، جب فاطمہ روئیں تو میں نے ان سے کہا: رسول اللہ ﷺ نے کوئی خاص بات تم سے فرمائی ہے، جو ہم سے نہیں کہی کہ تم رو رہی ہو، اور میں نے پوچھا: آخر آپ ﷺ نے کیا فرمایا؟ انہوں نے یہی جواب دیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کا راز فاش کرنے والی نہیں، رسول اللہ ﷺ کے انتقال کے بعد میں نے ان سے پھر پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ پہلے آپ ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ جبرائیل مجھ سے ہر سال ایک بار قرآن کا دور کراتے تھے اب کی سال دو بار دور کرایا، تو میں سمجھتا ہوں کہ میری موت کا وقت قریب آگیا ہے، اور تم میرے رشتہ داروں میں سب سے پہلے مجھ سے ملو گی، اور میں تمہارے لیے کیا ہی اچھا پیش رو ہوں یہ سن کر میں روئی پھر آپ ﷺ نے آہستہ سے مجھ سے فرمایا: کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تم مومنوں کی عورتوں کی یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہوگی، یہ سن کر میں ہنسی ١ ؎۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "The wives of the Prophet ﷺ gathered together and not one of them lagged behind. Fatimah came, and her gait was like that of the Messenger of Allah ﷺ . He said, Welcome to my daughter: Then he made her sit to his left, and he whispered something to her, and Fatimah wept. Then he whispered something to her, and she smiled. I said to her: What made you weep? She said: I will not disclose the secret of the Messenger of Allah ﷺ I said: I never saw joy so close to grief as I saw today: When she wept I said: Did the Messenger of Allah ﷺ teU you some special words that were not for us, then you wept? And I asked her about what he had said. She said: I will not disclose the secret of the Messenger of Allah ﷺ After he had died [ asked her what he had said, and she said: He told me that Jibrail used to review the Quran with him once each year, but he had reviewed it with rum twice that year, (and he said:) "I do not think but that my time is near. You will be the first of my family to join me, and what a good predecessor I am for you." So I wept. Then he whispered to me and said: "Will you not be pleased to be the leader of the believing women, or the women of this Ummah?" So I smiled:" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: دوسری روایت میں یوں ہے کہ جب آپ نے فرمایا: میری وفات ہونے والی ہے تو میں روئی، آپ نے پھر فرمایا: تم سب سے پہلے مجھے ملو گی تو میں ہنسی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٥ (٣٦٢٣)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٥ (٢٤٥٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٦١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٨٢) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو موت کے وقت دیکھا، آپ ﷺ کے پاس پانی کا ایک پیالہ تھا، آپ اپنا ہاتھ پیالہ میں داخل کرتے، اور پانی اپنے منہ پر ملتے، پھر فرماتے: اے اللہ! موت کی سختیوں میں میری مدد فرما ۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ when he was dying, and there was a bowl of water next to him. He put his hand in the vessel and wiped his face with the water, and said: O Allah, help me to bear the agonies of death. (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٨ (٩٧٨)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٦٤، ٧٠، ٧٧، ١٥١) (ضعیف) (سند میں موسیٰ بن سرجس مستور ہیں )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا آخری دیدار مجھے دوشنبہ کے دن ہوا، آپ نے (اپنے حجرہ کا) پردہ اٹھایا، میں نے آپ کا چہرہ مبارک دیکھا، تو گویا مصحف کا ایک ورق تھا، لوگ اس وقت ابوبکر ؓ کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، ابوبکر ؓ نے اپنی جگہ سے ہٹنے کا ارادہ کیا، لیکن آپ ﷺ نے ان کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو، اور پردہ گرا دیا، پھر اسی دن کی شام کو آپ کا انتقال ہوگیا ١ ؎۔
It was narrated that Zuhri heard Anas bin Malik (RA) say: "The last glance that I had of the Messenger of Allah ﷺ was when he drew back the curtain on Monday, and I saw his face as if it was a page of the Mushaf (Quran), and the people were praying behind Abu Bakr. He (Abu Bakr) wanted to move, but he (the Prophet ﷺ ) gestured to him to stand firm. Then he let the curtain fall, and he died at the end of that day." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ہرچند نماز میں التفات کرنا (یعنی ادھر ادھر دیکھنا) منع ہے، لیکن صحابہ کرام ؓ کو نبی اکرم ﷺ سے اس قدر محبت تھی کہ نماز کی حالت میں بےاختیاری کی وجہ سے آپ کے دیدار میں محو ہوگئے، دوسری روایت میں یوں ہے کہ قریب تھا کہ ہم فتنہ میں پڑجائیں، یعنی نماز بھول جائیں آپ کے دیدار کی خوشی میں، سبحان اللہ۔ ایمان صحابہ ہی کا ایمان تھا کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں ایسے غرق تھے جیسے حدیث شریف میں وارد ہے کہ کوئی مومن نہیں ہوتا جب تک نبی کریم ﷺ کی محبت ماں باپ اور تمام اعزہ و اقارب سے زیادہ نہ ہو، افسوس اس زمانہ میں ایسے کامل الایمان لوگ کہاں ہیں؟ اب تو دنیا کے حقیر فائدہ کے لئے اور ادنی ادنی امیروں اور نوابوں کو خوش کرنے کے لئے سنت نبوی سے اعراض اور تغافل کرتے ہیں۔
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اس مرض میں کہ جس میں آپ کا انتقال ہوگیا، فرما رہے تھے: الصلاة وما ملکت أيمانکم نمسش کا، اور لونڈیوں اور غلاموں کا خیال رکھنا آپ برابر یہی جملہ کہتے رہے، یہاں تک کہ آپ کی زبان مبارک رکنے لگی ١ ؎۔
It was narrated from Umm Salamah that the Messenger of Allah ﷺ used to say, during the illness that would be his last: "The prayer; and those whom your right hands possess."!: And he kept on saying it until his tongue could no longer utter any words. (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کو نماز کا بڑا خیال تھا کیونکہ نماز توحید باری تعالیٰ کے بعد اسلام کا سب سے اہم اور بنیادی رکن ہے، اسی لئے وفات کے وقت بھی آپ نے اس کے لئے وصیت فرمائی، مطلب یہ تھا کہ نماز کی محافظت کرو، وقت پر پڑھو، شرائط اور ارکان کے ساتھ ادا کرو، دوسرا اہم مسئلہ لونڈی اور غلام کا تھا، آپ کی وصیت کا مقصد یہ تھا کہ لوگ لونڈیوں اور غلاموں کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں اور ان پر ظلم نہ کریں۔ جو لوگ غلامی کی وجہ سے اسلام پر تنقید کرتے ہیں ان کو یہ خبر نہیں ہوئی کہ درحقیقت غلامی کیا ہے گویا فرزندی میں لینا ہے اور اپنی اولاد کی طرح ایک بےوارث شخص کی پرورش کرنا ہے، اس میں عقلاً کون سی قباحت ہے؟ بلکہ قیدیوں کے گزارے کے لئے اس سے بہتر دوسری کوئی صورت عقل ہی میں نہیں آتی، البتہ اس زمانہ میں بعض جاہل لوگ لونڈیوں اور غلاموں کے ساتھ جو وحشیانہ سلوک کرتے تھے تو یہ بری بات ہے، مگر دین اسلام پر یہ تنقید صحیح نہیں ہے کیونکہ اسلام نے تو ایسے برتاؤ سے منع کیا ہے، اور ان کے ساتھ بار بار نیک سلوک کرنے کی وصیت کی ہے یہاں تک نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک اسی پر بےقابو ہوگئی، اور آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی ﷺ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨١٥٤، ومصباح الزجاجة: ٥٩٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٩٠، ٣١١، ٣١٥، ٣٢١) (صحیح )
اسود کہتے ہیں کہ لوگوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے بیان کیا کہ علی ؓ رسول اللہ ﷺ کے وصی تھے، تو عائشہ ؓ نے کہا: آپ نے ان کو کب وصیت کی؟ میں تو آپ کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے تھی، یا گود میں لیے ہوئے تھی، آپ ﷺ نے طشت منگوایا، پھر آپ میری گود میں لڑھک گئے، اور وفات پا گئے، مجھے محسوس تک نہ ہوا، پھر آپ نے وصیت کب کی؟۔
It was narrated that Aswad said: "They said in Aisha (RA) s presence that Ali was appointed (by the Prophet ﷺ before he died),I! and she said: When was he appointed? He (the Prophet ﷺ ) was resting against my bosom, or in my lap, and he called for a basin, then he became limp in my lap and died, and I did not realize it. So when did he ﷺ appoint him?" (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی تو اس وقت ابوبکر ؓ اپنی بیوی کے ساتھ جو کہ خارجہ کی بیٹی تھیں عوالی مدینہ میں تھے، لوگ کہنے لگے کہ نبی اکرم ﷺ کا انتقال نہیں ہوا بلکہ وحی کے وقت جو حال آپ کا ہوا کرتا تھا ویسے ہی ہوگیا ہے، آخر ابوبکر ؓ آئے، آپ کا چہرہ مبارک کھولا اور آپ کی پیشانی کا بوسہ لیا، اور کہا: آپ اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ معزز و محترم ہیں کہ آپ کو دو بار موت دے ١ ؎، قسم اللہ کی! رسول اللہ ﷺ وفات پاچکے ہیں، اس وقت عمر ؓ مسجد کے ایک گوشہ میں یہ کہہ رہے تھے کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ مرے نہیں ہیں، اور نہ آپ مریں گے، یہاں تک کہ بہت سے منافقوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹیں گے، آخر ابوبکر ؓ کھڑے ہوئے، منبر پر چڑھے اور کہا: جو کوئی اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے، مرا نہیں، اور جو کوئی محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد وفات پا گئے، (پھر یہ آیت پڑھی) : وما محمد إلا رسول قد خلت من قبله الرسل أفإن مات أو قتل انقلبتم على أعقابکم ومن ينقلب على عقبيه فلن يضر الله شيئا وسيجزي الله الشاکرين (سورة آل عمران: 144) محمد صرف ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول آئے، اگر آپ کا انتقال ہوجائے یا قتل کر دئیے جائیں، تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے، اور جو پھر جائے گا وہ اللہ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچائے گا، اور اللہ شکر کرنے والوں کو بدلہ دے گا ۔ عمر ؓ نے کہا کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اس دن سے پہلے کبھی اس آیت کو میں نے پڑھا ہی نہیں تھا۔
It was narrated that Aisha (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ passed away, Abu Bakr (RA) was with his wife, the daughter of Kharijah, in villages surrounding Al-Madinah. They started to say: The Prophet ﷺ has not died, ra ther he has been overcome with what used to overcome him at the time of Revelation. Then Abu Bakr (RA) came and uncovered his (the Prophets) face, kissed him between the eyes and said: You are too noble before Allah for Him to cause you to die twice. By Alla h, the Messenger of Allah ﷺ has indeed died. Umar was in a corner of the Masjid saying: By Allah, the Messenger of Allah ﷺ has not died and he will never die until the hands and feet of most of the hypocrites are cut off. Then Abu Bakr (RA) stood up, ascended the pulpit and said: Whoever used to worship Allah, Allah is alive and will never die. Whoever used to worship Muhammad, Muhammad is dead. "Muhammad is no more than a Messenger, and indeed (many) Messengers have passed away before him. If he dies or is killed, will you then tum back on your heels (as disbelievers)? And he who turns back on his heels, not the least harm will he do to Allah; and Allah will give reward to those who are grateful." Umar said: It was as if I had never read (that Verse) before that day." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ کہہ کر ابوبکر ؓ نے ان لوگوں کا رد کیا جو کہتے تھے کہ نبی کریم ﷺ پھر دنیا میں لوٹ کر آئیں گے، اور منافقوں کے ہاتھ پیر کاٹیں گے کیونکہ اگر ایسا ہو تو اس کے بعد پھر وفات ہوگی، اس طرح دو موتیں جمع ہوجائیں گی۔ اور بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اب آپ ﷺ کو کوئی تکلیف نہ ہوگی، ایک دنیا کی موت تھی جو ہر بشر کو لازم تھی وہ آپ کو بھی ہوئی نیز اس کے بعد پھر آپ کو راحت ہی راحت ہے۔ اور بعض نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ آپ کا نام اور آپ کا دین ہمیشہ قائم رہے گا، کبھی ختم ہونے والا نہیں، حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ میت کا بوسہ لینا جائز ہے، اور میت کو موت کے بعد ایک چادر سے ڈھانپ دینا چاہیے تاکہ لوگ اس کی صورت دیکھ کر گھبرائیں نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٣ (١٢٤١)، المغازي ٨٣ (٤٤٥٢)، سنن النسائی/الجنائز ١١ (١٨٤٢)، (تحفة الأشراف: ٦٦٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١١٧) (صحیح) (البانی صاحب کہتے ہیں کہ وحی کے جملہ کے علاوہ حدیث صحیح ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے لیے قبر کھودنے کا ارادہ کیا، تو ابوعبیدہ بن جراح ؓ کو بلوا بھیجا، وہ مکہ والوں کی طرح صندوقی قبر کھودتے تھے، ابوطلحہ ؓ کو بھی بلوا بھیجا، وہ مدینہ والوں کی طرح بغلی قبر کھودتے تھے، صحابہ کرام ؓ نے دونوں کے پاس قاصد بھیج دئیے، اور دعا کی کہ اے اللہ! تو اپنے رسول کے لیے بہتر اختیار فرما، بالآخر ابوطلحہ ؓ ملے، اور ان کو لایا گیا، ابوعبیدہ بن جراح ؓ نہیں ملے، لہٰذا نبی اکرم ﷺ کے لیے بغلی قبر کھودی گئی، عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب لوگ منگل کے دن آپ کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوگئے، تو آپ اپنے گھر میں تخت پر رکھے گئے، اور لوگوں نے جماعت در جماعت اندر آنا شروع کیا، لوگ نماز جنازہ پڑھتے جاتے تھے، جب سب مرد فارغ ہوگئے، تو عورتیں جانے لگیں جب عورتیں بھی فارغ ہوگئیں، تو بچے جانے لگے، اور آپ کے جنازے کی کسی نے امامت نہیں کی۔ پھر لوگوں نے اختلاف کیا کہ آپ کی قبر کہاں کھودی جائے، بعض نے کہا کہ آپ کو مسجد میں دفن کیا جائے، بعض نے کہا کہ آپ کو آپ کے ساتھیوں کے پاس مقبرہ بقیع میں دفن کیا جائے، ابوبکر ؓ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جس نبی کا بھی انتقال ہوا اسے وہیں دفن کیا گیا جہاں پہ اس کا انتقال ہوا، صحابہ کرام ؓ نے یہ حدیث سن کر آپ ﷺ کا بستر اٹھایا جس پر آپ کا انتقال ہوا تھا، لوگوں نے آپ کے لیے قبر کھودی، پھر آپ کو بدھ کی آدھی رات میں دفن کیا گیا، آپ کی قبر میں علی بن ابی طالب، فضل بن عباس، ان کے بھائی قثم بن عباس، اور رسول اللہ ﷺ کے غلام شقران ؓ اترے۔ ابولیلیٰ اوس بن خولہ ؓ نے علی بن ابی طالب ؓ سے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم اور اپنی اس صحبت کی قسم دیتا ہوں جو ہم کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاصل ہے، (مجھ کو بھی قبر میں اترنے دیں) تو علی ؓ نے ان سے کہا: اتر جاؤ، اور شقران جو آپ کے غلام تھے، نے ایک چادر لی جس کو آپ اوڑھا کرتے تھے، اسے بھی آپ کے ساتھ قبر میں دفن کردیا اور کہا: قسم اللہ کی! اس چادر کو آپ کے بعد کوئی نہ اوڑھے، چناچہ اسے بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دفن کردیا گیا۔
It was narrated that Ibn ‘Abbás said: “When they wanted to dig a grave for the Messenger of Allah ﷺ , they sent for Abu ‘Ubaidah bin Jarrâh, who used to dig graves hi the manner of the people of Makkah, and they sent for Abu Talhah, who used to dig graves for the people of Al Madinah, and he used to make a niche in the grave. They sent two messengers to both of them, and they said: ‘O Allah, choose what is best for Your Messenger.’ They found Abu Talhah and brought him, but they did not find Abu ‘Ubaidah. So he dug a grave with a niche for the Messenger of Allah When they had finished preparing him, on Tuesday, he was placed on his bed in his house. Then the people entered upon the Messenger of Allah ﷺ in groups and offered the funeral prayer for him, and when they finished the women entered, and when they finished the children entered, and no one led the people in offering the funeral prayer for the Messenger of Allah… The Muslims differed concerning the place where he should be buried. Some said that he should be buried in his mosque. Others said that he should be buried with his Companions. Then Abu Bakr (RA) said: ‘I heard the Messenger of Allah ﷺ say: “No Prophet ﷺ ever passed away but he was buried where he died.” So they lifted up the bed of the Messenger of Allah ﷺ , on which he had died, and dug the grave for him, then he was buried in the middle of Tuesday night. ‘Ali bin Abu Tâ FadI bin ‘Abbâs and his brother Qutham, and Shuqrân the freed slave of the Messenger of AllAh went down in his grave. Aws bin Khawli, who was Abu Laila, said to ‘All bin Abi Talib: ‘I adjure you by Allah Give us our share of the Messenger of Allah ﷺ ‘ So ‘Ali said to him: ‘Come down.’ Shuqran, his freed slave, had taken a Qatifah which the Messenger of Allah ﷺ , used to wear. He buried it in his grave and said, ‘By Allah, no one will ever Wear it after you.’ So it was buried With the Messenger of Allah ﷺ .“ (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٠٢٢، ومصباح الزجاجة: ٥٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٨، ٢٦٠، ٢٩٢) (ضعیف) (سند میں حسین بن عبد اللہ متروک ہے، لیکن شقاق اور لاحد کا قصہ ثابت ہے، اور ایسے ہی مَا قُبِضَ نَبِيٌّ إِلا دُفِنَ حَيْثُ يُقْبَضُ کا لفظ ثابت ہے، نیز ملاحظہ ہو: احکام الجنائز: ١٣٧ - ١٣٨ )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے موت کی سختی محسوس کی تو فاطمہ ؓ کہنے لگیں: ہائے میرے والد کی سخت تکلیف ١ ؎، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آج کے بعد تیرے والد پر کبھی سختی نہ ہوگی، اور تیرے والد پر وہ وقت آیا ہے جو سب پر آنے والا ہے، اب قیامت کے دن ملاقات ہوگی ٢ ؎۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "When the Messenger of Allah ﷺ suffered the agonies of death that he suffered, Fatimah said: O my father, what severe agony! The Messenger of Allah ﷺ said: Your father will suffer no more agony after this day. There has come to your father that which no one can avoid, the death that everyone will encounter until the Day of Resurrection." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: فاطمہ ؓ کے یہ الفاظ نوحہ میں داخل نہیں ہیں کیونکہ یہ الفاظ اس وقت کے ہیں جب آپ ابھی زندہ تھے، اور جان کنی کے عالم میں تھے جیسا کہ اس سے پہلے کی روایت سے ظاہر ہے، اور بعض لوگوں نے کہا کہ میت میں جو خوبیاں فی الواقع موجود رہی ہوں ان کو بیان کرنا نوحہ نہیں ہے، بلکہ نوحہ میت میں ایسی خوبیاں ذکر کرنے کا نام ہے جو اس میں نہ رہی ہوں۔ ٢ ؎: حالانکہ ملاقات مرنے کے بعد ہی عالم برزخ میں ہوجاتی ہے جیسا کہ دوسری حدیثوں سے ثابت ہے، پھر اس کا کیا مطلب ہوگا؟ یہاں یہ اشکال ہوتا ہے، اور ممکن ہے کہ ملاقات سے دنیا کی طرح ہر وقت کی یکجائی اور سکونت مراد ہو اور یہ قیامت کے بعد ہی جنت میں ہوگی جیسے دوسری روایت میں ہے کہ ایک بار نبی کریم ﷺ فاطمہ ؓ کے مکان میں تشریف لے گئے، علی ؓ کو سوتا پایا، ارشاد ہوا کہ یہ سونے والا، اور میں اور تو جنت میں ایک مکان میں ہوں گے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علی ؓ کا درجہ آخرت میں بہت بلند ہوگا کیونکہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک مکان میں رہیں گے، اور ظاہر ہے نبی کریم ﷺ کا مقام جنت الفردوس میں سب سے بلند ہوگا، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٥٠، ومصباح الزجاجة: ٥٩٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي ٨٣ (٤٤٤٨)، مسند احمد (٣/١٤١) (حسن صحیح) (سند میں عبد اللہ بن الزبیر مقبول ہیں، اور مسند احمد میں مبارک بن فضالہ نے ان کی متابعت کی ہے، اصل حدیث صحیح البخاری میں ہے، صحیح البخاری میں:إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ کا جملہ نہیں ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٧٣٨ )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے فاطمہ ؓ نے کہا: اے انس! تمہارے دل کو کیسے گوارا ہوا کہ تم رسول اللہ ﷺ پر مٹی ڈالو؟
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "Fatimah said to me: O An as, how did you manage to scatter dust on the Messenger of Allah ﷺ ?" And Thabit narrated to us from Anas that Fatimah said: "When the Messenger of Allah ﷺ passed away: O my father! To Jibrail we announce his death; a my father, how much closer he is now to his Lord; a my father, the Paradise of Firdaws is his abode; a my father, he has answered the call of his Lord." (Sahih) (One of the narrators) Hammad said: "I saw Thdbit, when he narrated this Haditn, weeping until I could see his ribs moving up and down."
انس ؓ نے کہا: جب نبی اکرم ﷺ کی وفات ہوئی، تو فاطمہ ؓ نے کہا: ہائے میرے والد، میں جبرائیل کو ان کے مرنے کی خبر دیتی ہوں، ہائے میرے والد، اپنے رب کے کتنے نزدیک ہوگئے، ہائے میرے والد، جنت الفردوس میں ان کا ٹھکانہ ہے، ہائے میرے والد، اپنے رب کا بلانا قبول کیا۔ حماد نے کہا: میں نے ثابت کو دیکھا کہ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد روئے یہاں تک کہ ان کی پسلیاں اوپر نیچے ہونے لگیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کی وفات کے چھ ماہ بعد ا ٓ پ کی صاحبزادی فاطمہ ؓ کا انتقال ا ٓ پ کی پیش گوئی کے مطابق ہوگیا، اور چہیتی بیٹی اپنے باپ سے جا ملیں، اب کوئی یہ نہ سمجھے کہ فاطمہ ؓ نے جو یہ کلمات سخت رنج کی حالت میں فرمائے یہ نیاحت میں داخل ہیں جب کہ وہ منع ہے واضح رہے کہ نیاحت وہ ہے جو چلا کر بلند ا ٓ واز سے ہو، نہ وہ جو ا ٓ ہستہ سے کہا جائے، اور اگر یہ نیاحت ہوتی تو فاطمہ ؓ اسے ہرگز نہ کرتیں۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جس دن رسول اللہ ﷺ مدینہ میں داخل ہوئے اس دن مدینہ کی ہر چیز روشن ہوگئی، اور جس وقت آپ کا انتقال ہوا ہر چیز پر اندھیرا چھا گیا، اور ہم لوگوں نے ابھی آپ کے کفن دفن سے ہاتھ بھی نہیں جھاڑا تھا کہ ہم نے اپنے دلوں کو بدلہ ہوا پایا۔
It was narrated that Anas said: "On the day when the Messenger of Allah ﷺ entered Al-Madinah, everything was lit up, and on the day when he died, everything went dark, and no sooner had we dusted off our hands (after burying him) but we felt that our hearts had changed: (Hasan)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اپنی عورتوں سے باتیں کرنے اور ان سے بہت زیادہ بےتکلف ہونے سے پرہیز کرتے تھے کہ ہمارے سلسلے میں کہیں قرآن نہ اتر جائے، جب رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوا تو ہم باتیں کرنے لگے۔
It was narrated that Ibn Umar said: "We used to be guarded in our speech even with our wives at the time of the Messenger of Allah ﷺ fearing that Quran may be revealed amongst us, bu t when the Messenger of Allah ﷺ died, we began to speak freely." (Sahih)
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، تو ہم سب ایک رخ تھے، لیکن جب آپ کا انتقال ہوگیا تو پھر ہم ادھر ادھر دیکھنے لگے۔
It was narrated that Ubayy bin Kab said: "We were with the Messenger of Allah ﷺ and we all had a single focus, but when he passed away we started to look here and there (i.e., have different interests)." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١، ومصباح الزجاجة: ٥٩٣) (ضعیف) (اس کی سند میں حسن بصری مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، نیز اس سند میں حسن بصری اور ابی بن کعب ؓ کے درمیان انقطاع ہے )
ام المؤمنین ام سلمہ بنت ابی امیہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں لوگوں کا حال یہ تھا کہ جب مصلی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا تو اس کی نگاہ اس کے قدموں کی جگہ سے آگے نہ بڑھتی، پھر جب رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی، تو لوگوں کا حال یہ ہوا کہ جب کوئی ان میں سے نماز پڑھتا تو اس کی نگاہ پیشانی رکھنے کے مقام سے آگے نہ بڑھتی، پھر ابوبکر ؓ کی وفات کے بعد عمر ؓ کا زمانہ آیا تو لوگوں کا حال یہ تھا کہ ان میں سے کوئی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا تو اس کی نگاہ قبلہ کے سوا کسی اور طرف نہ جاتی تھی، پھر عثمان ؓ کا زمانہ آیا اور مسلمانوں میں فتنہ برپا ہوا تو لوگوں نے دائیں بائیں مڑنا شروع کردیا۔
It was narrated that Umm Salamah bint Abi Umayyah the wife of the Prophet ﷺ said: "At the time of the Messenger of Allah ﷺ if a person stood to pray, his gaze would not go beyond his feet. When the Messenger of Allah ﷺ died, if a person stood to pray, his gaze would not go beyond the place where he put his forehead when prostrating. Then Abu Bakr (RA) died and it was Umar (the caliph). So, when any person stood to pray his gaze would not go beyond the Qiblah. Then came the time of Uthman bin Affan, and there was Fitnah (tribulation, turmoil), and the people started to look right and left." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٢١٣، ومصباح الزجاجة: ٥٩٤) (ضعیف) (اس کی سند میں موسیٰ بن عبداللہ مجہول ہیں )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ابوبکر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد عمر ؓ سے کہا: چلئے، ہم ام ایمن (بر کہ) ؓ سے ملنے چلیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ ان سے ملنے جایا کرتے تھے، انس ؓ کہتے ہیں کہ جب ہم ام ایمن ؓ کے پاس پہنچے، تو وہ رونے لگیں، ان دونوں نے ان سے پوچھا کہ آپ کیوں رو رہی ہیں؟ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس کے رسول کے لیے بہتر ہے، انہوں نے کہا: میں جانتی ہوں کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس کے رسول کے لیے بہتر ہے، لیکن میں اس لیے رو رہی ہوں کہ آسمان سے وحی کا سلسلہ بند ہوگیا، انس ؓ نے کہا: تو ام ایمن ؓ نے ان دونوں کو بھی رلا دیا، وہ دونوں بھی ان کے ساتھ رونے لگے ١ ؎۔
It was narrated that Anas said: "After the Messenger of Allah ﷺ had died, Abu Bakr (RA) said to Umar (RA) : Let us go and visit Umm Ayman as the Messenger of Allah ﷺ used to visit her: He said: When we reached her she wept.: They said: Why are you weeping? What is with Allah is better for His Messenger. She said: I know that what is with Allah is better for His Messenger, but I am weeping because the Revelation from heaven has ceased. She moved them to tears and they started to weep with her."(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ابوبکر ؓ نے اپنی خلافت میں نبی کریم ﷺ کے طرز عمل سے ذرہ برابر بھی انحراف کرنا گوارا نہ کیا یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ جن لوگوں سے ملنے جاتے ابوبکر ؓ بھی ان سے ملنے گئے، پس ابوبکر ؓ کی خلافت گویا زمانہ نبوت کی تصویر تھی اور یہی وجہ تھی کہ ابوبکر ؓ نے فدک اور بنو نضیر وغیرہ سے حاصل مال کو فاطمہ ؓ کی طلب پر ان کے حوالہ نہیں کیا بلکہ جس طرح نبی کریم ﷺ ان اموال کو خرچ کرتے تھے اسی طرح خرچ کرتے رہے، اور ذرہ برابر آپ ﷺ کے طریق کار کو بدلنا گوارا نہ کیا، اصل بات یہ ہے، نہ وہ کہ ابوبکر ؓ نے معاذ اللہ طمع و لالچ سے ایسا کیا، اور فاطمہ ؓ کو تکلیف پہنچائی، یہ سب لغو اور بیہودہ الزام ہے، ابوبکر ؓ دنیا کی ایک بڑی حکومت کے سربراہ تھے، خود انہوں نے نبی کریم ﷺ پر اپنا سارا مال نچھاور کردیا، اور آپ کی محبت میں جان کو خطرے میں ڈالنے سے بھی دریغ نہ کیا، کیا ایسے شخص کے بارے میں یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ وہ کھجور کے چند درختوں کو ناحق لے لے گا اور نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی کو ناراض کرے گا؟
اوس بن اوس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا ہوئے، اسی دن صور پھونکا جائے گا، اور اسی دن لوگ بیہوش ہوں گے، لہٰذا اس دن کثرت سے میرے اوپر درود (صلاۃ وسلام) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے، تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا؟ جب کہ آپ بوسیدہ ہوچکے ہوں گے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے ۔
It was narrated from Aws bin Aws that the Messenger of Allah ﷺ said: The best of your days is Friday. On it Adam was created; on it shall be the Najakhah}l on it all creation will swoon. So send a great deal of blessing upon me on this day, for your blessing will be presented to me. A man said: "O Messenger of Allah ﷺ How will our blessing be presented to you when you have disintegrated?" He said: "Allah has forbidden the earth to consume the bodies of the Prophets." (Daif)
ابوالدرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ جمعہ کے دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجو، اس لیے کہ جمعہ کے دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور جو کوئی مجھ پر درود بھیجے گا اس کا درود مجھ پر اس کے فارغ ہوتے ہی پیش کیا جائے گا میں نے عرض کیا: کیا مرنے کے بعد بھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، مرنے کے بعد بھی، بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کردیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے، اللہ کے نبی زندہ ہیں ان کو روزی ملتی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu- Darda that the Messenger of Allah ﷺ said. "Send a great deal of blessing upon me on Fridays, for it is witnessed by the angels. No one sends blessing upon me but his blessing will be presented to me, until he finishes them." A man said: "Even after death?" He said: "Even after death, for Allah has forbidden the earth to consume the bodies of the Prophets, so the Prophet ﷺ of Allah is alive and receives provision."(Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جنت کے کھانے ان کو کھلائے جاتے ہیں جو روحانی ہیں، یہاں زندگی سے دنیوی زندگی مراد نہیں ہے۔ اس لئے کہ دنیاوی زندگی قبر کے اندر قائم نہیں رہ سکتی، یہ برزخی زندگی ہے جس میں اور دنیاوی زندگی میں فرق ہے، مگر ہر حال میں نبی کریم ﷺ اپنی قبر شریف کے پاس درود وسلام سنتے ہیں، بلکہ یہ برزخی زندگی بہت باتوں میں دنیاوی زندگی سے زیادہ قوی اور بہتر ہے، صلے اللہ علیہ وسلم وآلہ و اصحابہ و بارک وسلم تسلیما کثیراً
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٩٤٧، ومصباح الزجاجة: ٥٩٦) (حسن) (سند میں زید بن ایمن اور عبادہ کے درمیان نیز عبادہ اور ابو الدرداء ؓ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن اکثر متن حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ١ / ٣٥، تراجع الألبانی: رقم: ٥٦٠ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انسان کی ہر نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: سوائے روزے کے اس لیے کہ وہ میرے لیے خاص ہے، اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، آدمی اپنی خواہش اور کھانا میرے لیے چھوڑ دیتا ہے، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک افطار کے وقت اور دوسری اپنے رب سے ملنے کے وقت، اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک کی بو سے بہتر ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Every good deed of the son of Adam will be multiplied manifold. A good deed will be multiplied ten times up to as many as seven hundred times, or as much as Allah wills. Allah says: Except for fasting, which is for Me and I shall reward for it. He gives up his desire and his food for My sake. The fasting person has two joys, one when he breaks his fast and another when he meets his Lord. The smell that comes from the mouth of a fasting person is better before Allah than the fragrance of musk." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ روزہ دار کے سوا دوسری نیکیوں کا ثواب معین اور معلوم ہے، یا ان کا ثواب دینا فرشتوں کو سونپ دیا گیا ہے اور روزے کا ثواب اللہ تعالیٰ نے خاص اپنے علم میں رکھا ہے، اور وہ خود ہی قیامت کے دن روزہ دار کو عنایت فرمائے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اور نیکیوں میں ریا کی گنجائش ہے، روزہ ریا سے پاک ہے، آدمی اسی وقت روزہ رکھے گا اور حیوانی و نفسانی خواہشات سے اسی وقت باز رہے گا جب اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کا ڈر ہوگا، ورنہ روزہ نہ رکھے گا اور لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو روزہ دار ظاہر کرے گا۔ خلوف سے مراد وہ بو ہے جو سارے دن بھوکا پیاسا رہنے کی وجہ سے روزہ دار کے منہ سے آتی ہے۔
Takhrij · تخریج
حدیث وکیع عن الأعمش قد أخرجہ: صحیح مسلم/الصوم ٣٠ (١١٥١)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٢٠)، وحدیث أبي معاویہ عن الأعمش قد أخرجہ: صحیح مسلم/الصوم ٣٠ (١١٥١)، (تحفة الأشراف: ١٢٤٧٠)، مسند احمد (٢/٢٣٢، ٢٥٧، ٢٦٦، ٢٧٣، ٢٩٣، ٣٥٢، ٤٤٣، ٤٤٥، ٤٧٥، ٤٧٧، ٤٨٠، ٥٠١)، سنن الدارمی/ الصوم ٥٠ (١٨١١) (صحیح )
قبیلہ عامر بن صعصعہ کے مطرف نامی ایک فرد بیان کرتے ہیں کہ عثمان بن ابی العاص ثقفی ؓ نے انہیں پلانے کے لیے دودھ منگایا، تو انہوں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں، اس پر عثمان ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: روزہ جہنم سے ڈھال ہے جیسے تم میں سے کسی کے پاس لڑائی میں ڈھال ہوتی ہے ۔
Mutarrif from the tribe of Banu Amir bin Sa sa ah narrated that "Uthman bin Abul- As Ath-Thaqafi invited him to drink some milk that he poured for him.Mutarrif said: "I am fasting." "Uthman said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Fasting is a shield against the Fire just like the shield of anyone of you against fighting." (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الصیام ٤٣ (٢٢٣٢)، (تحفة الأشراف: ٩٧٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٢، ٢١٧) (صحیح )