Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 81 of 218

1601Sunan Ibne-Majah

مصیبت زدہ کو تسلی دیئے کا ثواب

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ أَبُو عُمَارَةَ مَوْلَى الْأَنْصَارِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُعَزِّي أَخَاهُ بِمُصِيبَةٍ إِلَّا كَسَاهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ مِنْ حُلَلِ الْكَرَامَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

محمد بن عمرو بن حزم ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو کسی مصیبت میں تسلی دے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عزت کا جوڑا پہنائے گا ۔

Qais, Abu Umarah. The freed slave of the Ansar, said: "I heard Abdullah bin Abu Bakr (RA) bin Muhammad bin Amr bin Hazm narrating from his father, from his grandfather, that the Prophet ﷺ said: There is no believer who consoles his brother for a calamity, but Allah will clothe him with garments of honor on the Day of Resurrection:" (Daif)

Takhrij · تخریج
(ابو عمارہ قیس میں کلام ہے، اور عبد اللہ بن أبی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم عن أبیہ عن جدہ میں جد (دادا) محمد بن عمر و بن حزم ہیں، جن کو رویت حاصل ہے، لیکن صرف صحابہ کرام سے ہی سماع ہے، رسول اکرم ﷺ سے سماع نہیں ہے، لیکن انس ؓ کے شاہد سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٧٦٤، وسلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٩٥، تراجع الألبانی: رقم: ٥٥ )
1602Sunan Ibne-Majah

مصیبت زدہ کو تسلی دیئے کا ثواب

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ عَزَّى مُصَابًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی مصیبت زدہ کو تسلی دے، تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا (جتنا مصیبت زدہ کو ملے گا) ۔

It was narrated that ,Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever consoles a person stricken by calamity will have a reward equal to his. (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٧٢ (١٠٧٣)، (تحفة الأشراف: ٩١٦٦) (ضعیف) (سند میں علی بن عاصم ضعیف ہے، ابن الجوزی نے اس حدیث کو الموضوعات میں داخل کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٧٦٥ )
1603Sunan Ibne-Majah

جس کا بچہ مرجائے اس کا ثواب

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَمُوتُ لِرَجُلٍ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَيَلِجَ النَّارَ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص کے تین بچے انتقال کر جائیں، وہ جہنم میں داخل نہیں ہوگا مگر قسم پوری کرنے کے لیے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "No man who loses three of his children will ever enter the Fire, except in fulfillment of the oath (of Allah)." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس وعدہ کو پورا کرنے کے لئے جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے، وَإِن مِّنكُمْ إِلا وَارِدُهَا (سورة مريم: 71) یعنی کوئی تم میں سے ایسا نہیں ہے جس کا گزر جہنم سے نہ ہو، اور یہ وعدہ تب ہے کہ وہ ان بچوں کی موت پر صبر کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٦ (١٢٥١)، الأیمان والنذور ٩ (٦٦٥٦)، صحیح مسلم/البروالصلة ٤٧ (٢٦٣٢)، (تحفة الأشراف: ١٣١٣٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز ٦٤ (١٠٦٠)، سنن النسائی/الجنائز ٢٥ (١٨٧٦)، موطا امام مالک/الجنائز ١٣ (٣٨)، مسند احمد (٢/٢٤٠، ٢٧٦، ٤٧٣، ٤٧٩) (صحیح )
1604Sunan Ibne-Majah

جس کا بچہ مرجائے اس کا ثواب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ شُفْعَةَ، قَالَ: لَقِيَنِي عُتْبَةُ بْنُ عَبْدٍ السُّلَمِيُّ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا تَلَقَّوْهُ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ دَخَلَ.

عتبہ بن عبد سلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جس مسلمان کے تین بچے (بلوغت سے پہلے) مرجائیں، تو وہ اس کو جنت کے آٹھوں دروازوں سے استقبال کریں گے، جس میں سے چاہے وہ داخل ہو ١ ؎۔

Utbah bin Abd Sulami said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: There is no Muslim, three of whose children die before reaching the age of puberty, but they will meet him at the eight gates of Paradise and whichever one he wants he will enter through it." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی باپ کو اختیار ہوگا کہ جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس دروازہ سے چاہے اندر جائے، اس کے چھوٹے بچے جو بچپن میں مرگئے تھے اس کو اندر لے جائیں گے، اور اس دروازہ پر اپنے باپ سے ملیں گے، سبحان اللہ اولاد کا مرنا بھی مومن کے لئے کم نعمت نہیں ہے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے بچے جنتی ہیں، نووی کہتے ہیں کہ معتبر اہل اسلام نے اس پر اجماع کیا ہے، اور بعض نے اس کے بارے میں توقف کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٧٥٤، ومصباح الزجاجة: ٥٨١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٨٣، ١٨٤) (حسن) (لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، شرحبیل بن شفعہ مجہول ہیں )
1605Sunan Ibne-Majah

جس کا بچہ مرجائے اس کا ثواب

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يُتَوَفَّى لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَةِ اللَّهِ إِيَّاهُمْ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس مسلمان مرد و عورت کے تین بچے (بلوغت سے پہلے) مرجائیں، تو اللہ تعالیٰ ایسے والدین اور بچوں کو اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا ۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Prophet ﷺ said: "There are no two Muslims (mother and father), three of whose children die before reaching the age of puberty, but Allah will admit them to Paradise by virtue of His mercy towards them," (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٦ (١٢٤٨)، ٩١ (١٣٨١)، سنن النسائی/الجنائز ٢٥ (١٨٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٥٢) (صحیح )
1606Sunan Ibne-Majah

جس کا بچہ مرجائے اس کا ثواب

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَدَّمَ ثَلَاثَةً مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ كَانُوا لَهُ حِصْنًا حَصِينًا مِنَ النَّارِ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: قَدَّمْتُ اثْنَيْنِ، قَالَ: وَاثْنَيْنِ، فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ أَبُو المُنْذرِ كَعْبٍ سَيِّدُ الْقُرَّاءِ قَدَّمْتُ وَاحِدًا، قَالَ: وَوَاحِدًا.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے تین نابالغ بچے آگے بھیجے، تو وہ اس کے لیے جہنم سے بچاؤ کا مضبوط قلعہ ہوں گے ابوذر ؓ نے کہا: میں نے دو بچے آگے بھیجے ہیں، آپ نے فرمایا: اور دو بھی ، پھر قاریوں کے سردار ابی بن کعب ؓ نے کہا: میں نے تو ایک ہی آگے بھیجا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اور ایک بھی ۔

It was narrated from ,Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever sends forth three of his children who had not reached the age of poberty, they will be a strong fortification for him against the Fire." Abu Dharr (RA) said: "I sent forth two:" He said: And two." Ubayy bin Kab, the chief of the reciters, said: "I sent forth one." He said: "Even one" (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجنائز ٦٥ (١٠٦١)، (تحفة الأشراف: ٩٦٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٧٥، ٤٢٩، ٤٥١) (ضعیف) (سند میں ابو محمد مجہول ہیں )
1607Sunan Ibne-Majah

جس کسی کا حمل ساقط ہوجائے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَسِقْطٌ أُقَدِّمُهُ بَيْنَ يَدَيَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ فَارِسٍ أُخَلِّفُهُ خَلْفِي.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ناتمام بچہ جسے میں آگے بھیجوں، میرے نزدیک اس سوار سے زیادہ محبوب ہے جسے میں پیچھے چھوڑ جاؤں ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: A miscarried fetus sent before me is dearer to me than a horseman whom I leave behind." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: عربی میں سقط اس ادھورے اور ناقص بچے کو کہتے ہیں جو مدت حمل تمام ہونے سے پہلے پیدا ہو اور اس کے اعضاء پورے نہ بنے ہوں، اکثر ایسا بچہ پیدا ہو کر اسی وقت یا دو تین دن کے بعد مرجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٨٣١، ومصباح الزجاجة: ٥٨٢) (ضعیف) (یزید بن رومان کا سماع ابوہریرہ ؓ سے نہیں ہے، اور یزید بن عبد الملک ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٣٠٧ )
1608Sunan Ibne-Majah

جس کسی کا حمل ساقط ہوجائے ؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق أَبُو بكر البكائي، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْدَلٌ، عَنْالْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ النَّخَعِيِّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهَا، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ السِّقْطَ لَيُرَاغِمُ رَبَّهُ إِذَا أَدْخَلَ أَبَوَيْهِ النَّارَ، فَيُقَالُ: أَيُّهَا السِّقْطُ الْمُرَاغِمُ رَبَّهُ أَدْخِلْ أَبَوَيْكَ الْجَنَّةَ فَيَجُرُّهُمَا بِسَرَرِهِ حَتَّى يُدْخِلَهُمَا الْجَنَّةَ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ساقط بچہ اپنے رب سے جھگڑا کرے گا ١ ؎، جب وہ اس کے والدین کو جہنم میں ڈالے گا، تو کہا جائے گا: رب سے جھگڑنے والے ساقط بچے! اپنے والدین کو جنت میں داخل کر، وہ ان دونوں کو اپنی ناف سے کھینچے گا یہاں تک کہ جنت میں لے جائے گا ١ ؎۔ ابوعلی کہتے ہیں: يُراغم ربه کے معنی (یغاضب ) یعنی اپنے رب سے جھگڑا کرنے کے ہیں۔

It was narrated that Ali said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The miscarried fetus will plead with his Lord if his parents are admitted to Hell. It will be said: "O fetus who pleads with your Lord! Admit your parents to Paradise." So he will drag them out with his umbilical cord until he admits them to Paradise:" (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: جھگڑا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے با اصرار سفارش کرے گا، اور اپنے والدین کو بخشوانے کی جی جان سے کوشش کرے گا یہاں تک کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠١٣٢، ومصباح الزجاجة: ٥٨٣) (ضعیف) (اس کی سند میں مندل بن علی ضعیف ہیں )
1609Sunan Ibne-Majah

جس کسی کا حمل ساقط ہوجائے ؟

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ السِّقْطَ لَيَجُرُّ أُمَّهُ بِسَرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ إِذَا احْتَسَبَتْهُ.

معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ساقط بچہ اپنی ماں کو اپنی ناف سے جنت میں کھینچے گا جب کہ وہ ثواب کی نیت سے صبر کرے ۔

It was narrated from Muadh bin Jabal that the Prophet ﷺ said: "By the One in Whose Hand is my soul! The miscarried fetus will drag his mother by his umbilical cord to Paradise, if she (was patient and) sought reward (for her loss)." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٣٣٠، ومصباح الزجاجة: ٥٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٤١) (صحیح) (لیکن شاہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، اس کی سند میں یحییٰ بن عبید اللہ بن موھب ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ٥٩٧ )
1610Sunan Ibne-Majah

میّت کے گھر کھانا بھیجنا

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اصْنَعُوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا فَقَدْ أَتَاهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ، أَوْ أَمْرٌ يَشْغَلُهُمْ.

عبداللہ بن جعفر ؓ کہتے ہیں کہ جعفر کی موت کی جب خبر آئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو، اس لیے کہ ان کے پاس ایسی خبر آئی ہے جس نے ان کو مشغول کردیا ہے، یا ان کے پاس ایسا معاملہ آپڑا ہے جو ان کو مشغول کئے ہوئے ہے ۔

It was narrated that Abdullah bin Jafar said: "When news of the death of jafar was brought, the Messenger of Allah ﷺ said: Prepare food for the family of Jafar, for there has come to them that which is keeping them busy or something Which is keeping them busy." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٢٦ (٣١٣٢)، سنن الترمذی/الجنائز ٢١ (٩٩٨)، (تحفة الأشراف: ٥٢١٧) (حسن )
1611Sunan Ibne-Majah

میّت کے گھر کھانا بھیجنا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أُمِّ عِيسَى الْجَزَّارِ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَوْنٍ ابْنَةُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، قَالَتْ: لَمَّا أُصِيبَ جَعْفَرٌ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ، فَقَالَ: إِنَّ آلَ جَعْفَرٍ قَدْ شُغِلُوا بِشَأْنِ مَيِّتِهِمْ، فَاصْنَعُوا لَهُمْ طَعَامًا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَمَا زَالَتْ سُنَّةً حَتَّى كَانَ حَدِيثًا فَتُرِكَ.

اسماء بنت عمیس ؓ کہتی ہیں کہ جب جعفر ؓ قتل کر دئیے گئے، تو رسول اللہ ﷺ اپنے گھر والوں کے پاس آئے، اور فرمایا: جعفر کے گھر والے اپنی میت کے مسئلہ میں مشغول ہیں، لہٰذا تم لوگ ان کے لیے کھانا بناؤ۔ عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا کہ یہ طریقہ برابر چلا آ رہا تھا یہاں تک کہ اس میں بدعت آ داخل ہوئی، تو اسے چھوڑ دیا گیا ١ ؎۔

Asma bint Umais said "When )afar was killed, the Messenger of Allah ﷺ went to his family and said: The family of )afar are busy with the matter of their deceased, so prepare food for them. (Daif) (One of the narrators) Abdullah said: "That continued to be the Sunnah, until innovations were introduced, then it was abandoned."

Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ میت والوں کو کھانا بھیجنا پہلے سنت تھا پھر لوگوں نے اس میں فخر و مباہات کے جذبہ سے تکلف شروع کیا اور بلاضرورت انواع و اقسام کے کھانے پکا کر بھیجنے لگے، دوسرے یہ کہ میت والوں کے پاس ساری برادری اور کنبے والوں نے جمع ہونا شروع کیا، اور کھانا بھیجنے والوں کو ان سب لوگوں کے موافق کھانا بھیجنا پڑا۔ اس لئے یہ امر بدعت سمجھ کر ترک کردیا گیا، چناچہ امام احمد اور ابن ماجہ نے باسناد صحیح جریر ؓ سے روایت کی ہے کہ ہم میت والوں کے پاس جمع ہونا، اور میت کے دفن کے بعد کھانا بھیجنا دونوں کو نوحہ میں شمار کرتے تھے، اس پر بھی صحابی یا تابعی کا قول حدیث مرفوع کے مقابل نہیں ہوسکتا، اور محدثین نے میت والوں کے پاس کھانا بھیجنا مستحب رکھا ہے۔ واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٧٦، ومصباح الزجاجة: ٥٨٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٧٠) (حسن) (سند میں ام عیسیٰ اور ام عون مجہول ہیں، لیکن شاہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے )
1612Sunan Ibne-Majah

میّت کے گھر والوں کے پاس جمع ہونے کی ممانعت اور کھانا تیار کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ . ح وحَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ، قَالَ: كُنَّا نَرَى الِاجْتِمَاعَ إِلَى أَهْلِ الْمَيِّتِ وَصَنْعَةَ الطَّعَامِ مِنَ النِّيَاحَةِ.

جریر بن عبداللہ بجلی ؓ کہتے ہیں کہ ہم میت کے گھر والوں کے پاس جمع ہونے اور ان کے لیے ان کے گھر کھانا تیار کرنے کو نوحہ سمجھتے تھے۔

It was narrated that Jarir bin Abdullah AI,Bajali said: "We used to think that gathering with the family of the deceased and preparing food was a form of wailing." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٢٣٠، ومصباح الزجاجة: ٥٨٦)، مسند احمد (٢/٢٠٤) (صحیح )
1613Sunan Ibne-Majah

جو سفر میں مر جائے

حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِ الْهُذَيْلُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَوْتُ غُرْبَةٍ شَهَادَةٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پردیسی کی موت شہادت ہے ۔

It was narrated from lbn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ said: Dying in a strange land is martyrdom. " (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦١٤٧، ومصباح الزجاجة: ٥٨٧) (ضعیف) (ہذیل بن الحکم منکر الحدیث ہیں )
1614Sunan Ibne-Majah

جو سفر میں مر جائے

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ مِمَّنْ وُلِدَ بِالْمَدِينَةِ فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا لَيْتَهُ مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ، قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ فِي الْجَنَّةِ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ مدینہ ہی میں پیدا ہونے والے ایک شخص کا مدینہ میں انتقال ہوگیا، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا: کاش کہ اپنی جائے پیدائش کے علاوہ سر زمین میں انتقال کیا ہوتا ایک شخص نے پوچھا: کیوں اے اللہ کے رسول؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب آدمی کا انتقال اپنی جائے پیدائش کے علاوہ مقام میں ہوتا ہے، تو اس کی پیدائش کے مقام سے لے کر موت کے مقام تک جنت میں اس کو جگہ دی جاتی ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Amr said: A man died in Al-Madinah, and he was one of those who were born in AIMadinah. The Prophet ﷺ offered the funeral prayer for him and said: "Would that he had died somewhere other than his birthplace." A man among the people said: "Why, O Messenger of Allah? ﷺ " He said: "If a man dies somewhere other than his birthplace, a space will be measured for him in Paradise (as big as the distance) from the place where he was born to the place where he died." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے کہ جنت میں ادنی جنتی کو اس دنیا کے برابر جگہ ملے گی جیسے دوسری حدیث میں وارد ہے پھر اس حدیث کا مطلب کیا ہوگا۔ بعض نے کہا: یہاں جنت سے مراد قبر ہے، اس کی قبر میں اتنی وسعت ہوجائے گی۔ بعض نے کہا: یہ ثواب کا اندازہ ہے یعنی اتنا ثواب ملے گا جو پیدائش سے لے کر موت کے مقام تک سما جائے۔ واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجنائز ٨ (١٨٣٣)، (تحفة الأشراف: ٨٨٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧٧) (حسن) (سند میں حُيَيُّ بن عبد اللہ المعافری ضعیف ہیں، اور ان کی احادیث منکر ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے )
1615Sunan Ibne-Majah

بیاری میں وفات

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَطَاءٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ مَاتَ مَرِيضًا مَاتَ شَهِيدًا، وَوُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ، وَغُدِيَ وَرِيحَ عَلَيْهِ بِرِزْقِهِ مِنَ الْجَنَّةِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو بیمار ہو کر مرا وہ شہید مرا، اور وہ قبر کے فتنہ سے بچایا جائے گا، صبح و شام جنت سے اس کو روزی ملے گی ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever dies from a sickness dies as a martyr. He is protected from the torment of the grave and he is granted provision from Paradise morning and evening." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٦٢٧، ومصباح الزجاجة: ٥٨٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٠٤) (ضعیف جدا) (اس کی سند میں ابراہیم بن محمد سخت ضعیف ہیں، اور حدیث کو ابن الجوزی نے موضوعات میں ذکر کیا ہے )
1616Sunan Ibne-Majah

میّت کی ہڈی توڑنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهِ حَيًّا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مردے کی ہڈی کو توڑنا زندہ شخص کی ہڈی کے توڑنے کی طرح ہے ۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "Breaking the bones of the deceased is like breaking his bones when he is alive." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجنائز ٦٤ (٣٢٠٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٨٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ٥٨، ١٠٠، ١٠٥، ١٦٩، ٢٠٠، ٤٦٤) (صحیح )
1617Sunan Ibne-Majah

میّت کی ہڈی توڑنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أَمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِ عَظْمِ الْحَيِّ فِي الْإِثْمِ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مردہ کی ہڈی کے توڑنے کا گناہ زندہ شخص کی ہڈی کے توڑنے کی طرح ہے ۔

It was narrated from Umm Salamah that the Prophet ﷺ said: "Breaking the bones of the deceased is, in sin, like breaking his bones when he is alive." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨٢٧٧) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن زیاد مجہول ہیں، لیکن فِي الإِثْمِ کے لفظ کے علاوہ بقیہ حدیث بطریق عائشہ ؓ صحیح ہے، کماتقدم، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٣ /٢١٥ )
1618Sunan Ibne-Majah

آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیماری کا بیان

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَأَلْتُعَائِشَةَ، فَقُلْتُ: أَيْ أُمَّهْ أَخْبِرِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَتْ: اشْتَكَى فَعَلَقَ يَنْفُثُ، فَجَعَلْنَا نُشَبِّهُ نَفْثَهُ بِنَفْثَةِ آكِلِ الزَّبِيبِ، وَكَانَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ، فَلَمَّا ثَقُلَ اسْتَأْذَنَهُنَّ أَنْ يَكُونَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ وَأَنْ يَدُرْنَ عَلَيْهِ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ بِالْأَرْضِ أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ، فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: أَتَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّهِ عَائِشَةُ، هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ.

عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: اماں جان! مجھ سے رسول اللہ ﷺ کی بیماری کا حال بیان کیجئے تو انہوں نے بیان کیا: آپ ﷺ بیمار ہوئے تو (اپنے بدن پر) پھونکنا شروع کیا، ہم نے آپ کے پھونکنے کو انگور کھانے والے کے پھونکنے سے تشبیہ دی ١ ؎، آپ ﷺ اپنی بیویوں کا باری باری چکر لگایا کرتے تھے، لیکن جب آپ سخت بیمار ہوئے تو بیویوں سے عائشہ ؓ کے گھر میں رہنے کی اجازت مانگی، اور یہ کہ بقیہ بیویاں آپ کے پاس آتی جاتی رہیں گی۔ ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس دو آدمیوں کے سہارے سے آئے، اس حال میں کہ آپ کے پیر زمین پہ گھسٹ رہے تھے، ان دو میں سے ایک عباس ؓ تھے۔ عبیداللہ نے کہا کہ میں نے یہ حدیث عبداللہ بن عباس ؓ سے بیان کی تو انہوں نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ دوسرا آدمی کون تھا، جن کا عائشہ ؓ نے نام نہیں لیا؟ وہ علی بن ابی طالب ؓ تھے۔

It was narrated that Ubaidullah bin Abdullah said: "I asked Aisha (RA) : O mother! Tell me about the sickness of the Messenger of Allah ﷺ . She said: He felt pain and started to spit (over his body), and we began to compare his spittle to the spittle of a person eating raisins. Like a person eating raisins and spitting out the seeds. He used to go around among his wives, but when he became ill, he asked them permission to let him stay in the house of Aisha (RA) and that they should come to him in turns. She said: The Messenger of Allah ﷺ entered upon me, (supported) between two men, with his feet making lines along the ground. One of them was Abbas. I told Ibn Abbas this Hadith and he said: Do you know who the other man was whom Aisha (RA) did not name? He was Ali bin Abu Talib. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی انگور کھانے والا منہ سے بیج نکالنے کے لیے جس طرح پھونکتا ہے اس طرح آپ پھونک رہے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٣٩ (٦٦٥)، ٤٦ (٦٧٩)، ٤٧ (٦٨٣)، ٥١ (٦٨٧)، ٦٧ (٧١٢)، ٦٨ (٧١٣)، ٧٠ (٧٩٦)، المغازي ٨٣ (٤٤٤٢)، الاعتصام ٥ (٧٣٠٣)، صحیح مسلم/الصلاة ٢١ (٤١٨)، سنن النسائی/الإمامة ٤٠ (٨٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٠٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصرالصلاة ٢٤ (٨٣)، مسند احمد (٦/٣٤، ٩٦، ٩٧، ٢١٠، ٢٢٤، ٢٢٨، ٢٤٩، ٢٥١)، دي الصلاة ٤٤ (١٢٩٢) (صحیح) (زبیب کے جملہ کے علاوہ بقیہ حدیث صحیح ہے )
1619Sunan Ibne-Majah

آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیماری کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ، أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا، فَلَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَجَعَلْتُ أَمْسَحُهُ وَأَقُولُهَا، فَنَزَعَ يَدَهُ مِنْ يَدِي، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الْأَعْلَى، قَالَتْ: فَكَانَ هَذَا آخِرَ مَا سَمِعْتُ مِنْ كَلَامِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ان کلمات کے ذریعہ حفاظت و عافیت کی دعا کرتے تھے أذهب الباس رب الناس . واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما اے لوگوں کے رب! بیماری دور کر دے، اور شفاء دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، شفاء تو بس تیری ہی شفاء ہے، تو ایسی شفاء عنایت فرما کہ کوئی بیماری باقی نہ رہے جب آپ ﷺ کی وہ بیماری سخت ہوگئی جس میں آپ کا انتقال ہوا، تو میں آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کے جسم پر پھیرتی تھی، اور یہ کلمات کہتی جاتی تھی، تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے نکال لیا، اور فرمایا: اللهم اغفر لي وألحقني بالرفيق الأعلى اے اللہ! مجھے بخش دے، اور رفیق اعلیٰ سے ملا دے) یہی آخری کلمہ تھا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Prophet ﷺ used to seek refuge using the following words: (Take away the affliction, O Lord of mankind, and grant healing, for You are the Healer and there is no healing but Your healing, a healing that leaves no sickness). When the Prophet ﷺ fell sick with the sickness that would be his last, I took his hand and wiped it over his body and recited these words. He withdrew his hand from mine and said: O Allah, forgive me and let me meet the exalted companions (i.e., those who occupy high positions in Paradise). Those were the last words of his that I heard." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٨٤ (٤٤٣٧)، المرضی ١٨ (٥٦٧٥)، الدعوات ٢٩ (٦٣٤٨)، صحیح مسلم/الطب ١٩ (٢١٩١)، سنن الترمذی/ الدعوات ٧٧ (٣٤٩٦)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٣٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٤٦)، مسند احمد (٦/٤٤، ٤٥، ١٠٩، ١٢٧)، (یہ حدیث مکرر ہے دیکھئے: ٣٥٢٠) (صحیح) (صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں یعوذ کے لفظ سے ہے، اور وہی محفوظ ہے)۔
1620Sunan Ibne-Majah

آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیماری کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنْ نَبِيٍّ يَمْرَضُ إِلَّا خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ مَرَضُهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ أَخَذَتْهُ بُحَّةٌ فَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ سورة النساء آية 69فَعَلِمْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو نبی بھی بیمار ہوا اسے دنیا یا آخرت میں رہنے کا اختیار دیا گیا جب آپ ﷺ اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کا انتقال ہوا، تو آپ کو ہچکی آنے لگی، میں نے سنا آپ ﷺ کہہ رہے تھے: مع الذين أنعم الله عليهم من النبيين والصديقين والشهداء والصالحين ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے احسان کیا، انبیاء، صدیقین شہداء، اور صالحین میں سے تو اس وقت میں نے جان لیا کہ آپ کو اختیار دیا گیا ہے۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: There is no Prophet ﷺ who fell sick but he was given the choice between this World and the Hereafter. She said: When he became sick with the illness that would be his last, (his voice) became hoarse and I heard him say, "In the company of those on whom Allah has bestowed His grace, of the Prophets, the true believers, the martyrs, and the righteous." Then I knew that he had been given the choice." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٨٤ (٤٤٣٥، ٤٤٣٦)، تفسیر سورة النساء ١٣ (٤٥٨٦)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٣ (٢٤٤٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٣٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٧٦، ٢٠٥، ٢٦٩) (صحیح )