Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 59 of 218

1161Sunan Ibne-Majah

دن میں جو نو افل مستحب میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُولِيِّ، قَالَ: سَأَلْنَاعَلِيًّا عَنْ تَطَوُّعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ لَا تُطِيقُونَهُ، فَقُلْنَا: أَخْبِرْنَا بِهِ نَأْخُذْ مِنْهُ مَا اسْتَطَعْنَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا صَلَّى الْفَجْرَ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا، يَعْنِي: مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ بِمِقْدَارِهَا مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ هَا هُنَا، يَعْنِي: مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ، قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا، يَعْنِي: مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مِقْدَارَهَا مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ مِنْ هَا هُنَا، قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا، وَأَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَأَرْبَعًا قَبْلَ الْعَصْرِ، يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ، وَالنَّبِيِّينَ، وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَالْمُؤْمِنِينَ، قَالَ عَلِيٌّ: فَتِلْكَ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ، وَقَلّ مَنْ يُدَاوِمُ عَلَيْهَا، قَالَ وَكِيعٌ: زَادَ فِيهِ أَبِي، فَقَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ: يَا أَبَا إِسْحَاق، مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِحَدِيثِكَ هَذَا مِلْءَ مَسْجِدِكَ هَذَا ذَهَبًا.

عاصم بن ضمرہ سلولی کہتے ہیں کہ ہم نے علی ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے دن کی نفل نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: تم ان کو ادا نہ کرسکو گے، ہم نے کہا کہ آپ ہمیں بتائیے، ہم ان میں سے جتنی ادا کرسکیں گے اتنی لے لیں گے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ فجر پڑھنے کے بعد رکے رہتے یہاں تک کہ جب سورج مشرق (پورب) کی جانب سے اتنا بلند ہوجاتا جتنا کہ عصر کے وقت مغرب (پچھم) کی جانب سے ہوتا ہے تو کھڑے ہوتے اور دو رکعت پڑھتے، ١ ؎ پھر ٹھہر جاتے یہاں تک کہ جب سورج (پورب) کی جانب سے اتنا بلند ہوجاتا جتنا ظہر کے وقت مغرب (پچھم) کی طرف سے بلند ہوتا ہے، تو آپ کھڑے ہوتے اور چار رکعت پڑھتے، ٢ ؎ اور جب سورج ڈھل جاتا تو نماز ظہر سے پہلے چار رکعت اور اس کے بعد دو رکعت پڑھتے، اور چار رکعت عصر سے پہلے جن میں ہر دو رکعت کے درمیان مقرب فرشتوں، انبیاء کرام اور ان کے پیروکار مسلمانوں اور مومنوں پر سلام بھیج کر فصل کرتے۔ علی ؓ نے کہا: یہ سب سولہ رکعتیں ہوئیں جو نبی اکرم ﷺ دن میں بطور نفل پڑھتے، اور ایسے لوگ بہت کم ہیں جو پابندی کے ساتھ انہیں پڑھتے رہیں۔ راوی حدیث وکیع کہتے ہیں کہ میرے والد نے اس حدیث میں اتنا اضافہ کیا کہ حبیب بن ابی ثابت نے ابواسحاق سے کہا کہ اے ابواسحاق! اگر اس حدیث کے بدلے مجھے تمہاری اس مسجد بھر سونا ملتا تو میں پسند نہیں کرتا۔

It was narrated that Asim bin Damrah As-Saluli said: "We asked Ali about the voluntary (prayer) of Allahs Messenger ﷺ during the day. He said: You will not be able: We said: Inform us of it, we will do what we can of it? So he said: When he prayed the Fajr he would delay praying any more. When the sun appeared over there (west) - like it appears here, meaning in the direction of the east, about the amount for the Asr prayer from there, meaning in the direction of the west, meaning before the Maghrib - he would stand and perform two RakalPI then he would delay praying until the sun appeared over there (west), meaning in the direction of the east, about the amount of the Zuhr prayer from there, then he would stand and perform four . And, four before the Zuhr when the sun passed the zenith, and two Rakah after it, and, four before the Asr, separating between every two Rakah with Taslim upon the angels that are close (to Allah), the Prophets, and those who follow them among the Muslims and the believers:" Ali said: "That is sixteen Rakah of voluntary prayer which Allahs Messenger ﷺ performed during the day. And there are very few who offer them regularly." (Hasan) Waki said: "My father added: Habib bin Abu Thabit said: O Abu Ishaq, this Masjid filled with gold would not be dearer to me than this Hadith of yours:"

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اشراق کی نماز ہوتی۔ ٢ ؎: یہ صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نماز) ہوتی۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٣٠١ (٥٩٨، ٥٩٩)، سنن النسائی/الإمامة ٦٥ (٨٧٥، ٨٧٦)، (تحفةالأشراف: ١٠١٣٧)، مسند احمد (١/٨٥) (حسن) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ابو اسحاق مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: الصحیحة: ٢٣٧ )
1162Sunan Ibne-Majah

مغرب سے قبل دو رکعت

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَوَكِيعٌ، عَنْ كَهْمَسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: لِمَنْ شَاءَ.

عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر اذان اور اقامت کے درمیان نماز ہے، آپ نے یہ جملہ تین بار فرمایا، اور تیسری مرتبہ میں کہا: اس کے لیے جو چاہے ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Mughaffal said: "The Prophet ﷺ of Allah ﷺ said: Between every two Adhans there is a prayer. He said it three times, and on the third time he said, For those who wish. (sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اذان اور اقامت کے درمیان نفلی نماز ہے، اور یہ نفل ہر نماز میں اذان اور اقامت کے درمیان ہے، اس پر صحابہ کرام ؓ کا عمل ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٤ (٦٢٤)، ١٦ (٦٢٧)، صحیح مسلم/المسافرین ٥٦ (٨٣٨)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٠٠ (١٢٨٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٢ (١٨٥)، سنن النسائی/الاذان ٣٩ (٦٨٢)، (تحفة الأشراف: ٩٦٥٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٦، ٥/٥٤، ٥٦، ٥٧)، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٥ (١٤٨٠) (صحیح )
1163Sunan Ibne-Majah

مغرب سے قبل دو رکعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، قَالَ: سَمِعْتُأَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: إِنْ كَانَ الْمُؤَذِّنُ لَيُؤَذِّنُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُرَى أَنَّهَا الْإِقَامَةُ مِنْ كَثْرَةِ مَنْ يَقُومُ فَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں مؤذن اذان دیتا تو لوگ اتنی کثرت سے مغرب سے پہلے دو رکعت پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے کہ محسوس ہوتا کہ نماز مغرب کے لیے اقامت کہہ دی گئی ہے ١ ؎۔

Ali bin Zaid bin [udan said: "I heard Anas bin Malik (RA) say: The Muadh-dhin would call the Adha" during the time of the Messenger of Allah ﷺ ,and one would think that it was the Iqamah because there were so many people who stood and performed the two Rakah before the Maghrib." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ دو رکعتیں ہلکی ہوتی تھیں جب تک اذان سے فراغت ہوتی اور موذن تکبیر شروع کرتا تو ان سے فراغت ہوجاتی، نیز اس حدیث سے مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعت پڑھنے کا استحباب ثابت ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ٩٥ (٥٠٣)، الأذان ١٤ (٦٢٥)، صحیح مسلم/المسافرین ٥٥ (٨٣٦)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٠٠ (١٢٨٢)، سنن النسائی/الأذان ٣٩ (٦٨٢)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٠٠ (١٢٨٢)، مسند احمد (٣/٢٨٢) (صحیح) (اس سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، لیکن کئی ثقات نے ان کی متابعت کی ہے کما فی التخریج )
1164Sunan Ibne-Majah

مغرب کے بعد کی دو سنتیں

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مغرب پڑھتے، پھر میرے گھر واپس آتے، اور دو رکعت پڑھتے۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Prophet ﷺ used to pray the Maghrib, then he would come back to my house and pray two Rakah" (sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٣٩ (٩٣٧)، التہجد ٢٥ (١١٧٥)، عن ابن عمر صحیح مسلم/المسافرین ١٥ (٧٣٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٩٠ (١٢٥١)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٠٥ (٤٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٢١٠) (صحیح )
1165Sunan Ibne-Majah

مغرب کے بعد کی دو سنتیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ فِي مَسْجِدِنَا، ثُمَّ قَالَ: ارْكَعُوا هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ فِي بُيُوتِكُمْ.

رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس بنو عبدالاشہل (قبیلہ) میں آئے، اور ہمیں ہماری مسجد میں مغرب پڑھائی، پھر فرمایا: یہ دونوں رکعتیں (مغرب کے بعد کی سنتیں) اپنے گھروں میں پڑھو ١ ؎۔

It was narrated that Rati bin Khadij said: "We came to the Messenger of Allah ﷺ with Banu Abdul-Ashhal, and he led us in praying the Maghrib in our Masjid. Then he said: Pray these two Rakah in your houses.(Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سنتوں کا گھر میں ادا کرنا افضل ہے، کیونکہ اس میں ریا و نمود سے بچاؤ ہوتا ہے، اور گھر میں برکت بھی ہوتی ہے، افسوس ہے کہ ہمارے زمانہ میں لوگوں نے اس سنت کو چھوڑ دیا ہے، اور سنتوں کو مسجد میں ہی پڑھا کرتے ہیں، اور جمعہ کے بعد ایک فیصد بھی ایسا نہیں دیکھا جاتا، جو سنتیں گھر میں جا کر ادا کرے جیسے نبی اکرم ﷺ کا طریقہ تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٥٨٤، ومصباح الزجاجة: ٤١٤) (حسن) (عبد الوہاب بن الضحاک متروک ہے، اور اسماعیل بن عیاش کی روایت اہل شام کے علاوہ سے ضعیف ہے، اور محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن حدیث کی تخریج ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں ( ١ /١٢٩/٢) محمد بن اسحاق کے طریق سے کی ہے، اس لئے عبد الوہاب اور ابن عیاش کی متابعت ہوگئی، نیز مسند احمد: ٥ /٤٢٧) میں ابن اسحاق سے تحدیث کی تصریح ہے، لیکن وہ محمود بن لبید کی حدیث ہے، اس وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ١١٧٦ ، و مصباح الزجاجة: ٤١٨ ، تحقیق الشہری )
1166Sunan Ibne-Majah

مغرب کے بعد سنتوں میں کیا پڑھے ؟

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرٍّ، وَأَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ مغرب کے بعد کی دو رکعت سنت میں: قل يا أيها الکافرون اور قل هو الله أحد پڑھتے تھے۔

It was narrated from Abdullah bin Masud that for the two Rakah after Maghrib, the Prophet ﷺ used to recite: "Say: a you disbelievers! and "Say: He is Allah the One. (Daif)

Takhrij · تخریج
حدیث زرعن عبد اللہ مسعود تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٢٦) وحدیث أبي وائل عن ابن سعود: أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٢٠٤ (٤٣١)، (تحفة الأشراف: ٩٢٧٨) (ضعیف) (اس کی سند میں بدل بن المحبر اور عبد الملک بن الو لید ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: المشکاة: ٨٥١ )
1167Sunan Ibne-Majah

مغرب کے بعد چھ رکعا ت

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ الْعُكْلِيُّ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي خَثْعَمٍ الْيَمَامِيُّ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ لَمْ يَتَكَلَّمْ بَيْنَهُنَّ بِسُوءٍ، عُدِلْنَ لَهُ بِعِبَادَةِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعت نماز پڑھے اور ان کے درمیان کوئی غلط بات نہ کہے، تو وہ بارہ سال کی عبادت کے برابر قرار دی جائیں گی ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "Whoever prays six Rukoh after the Maghrib and does not say anything bad in between them, will have a reward equal to the worship of twelve years." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٠٥ (٤٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٥٤١٢) (ضعیف جدا) (اس حدیث کی سند میں عمر بن ابی خثعم منکر الحدیث ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٤٦٩ )، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ١٣٧٤ )
1168Sunan Ibne-Majah

وتر کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَاشِدٍ الزَّوْفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُرَّةَ الزَّوْفِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ الْعَدَوِيِّ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَدَّكُمْ بِصَلَاةٍ لَهِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمُرِ النَّعَمِ الْوِتْرُ، جَعَلَهُ اللَّهُ لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ.

خارجہ بن حذافہ عدوی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر مزید ایک نماز مقرر کی ہے، جو تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے، وہ وتر کی نماز ہے، اللہ نے اسے تمہارے لیے عشاء سے لے کر طلوع فجر کے درمیان مقرر کیا ہے ۔

It was narrated that Kharijah bin Hudhafah AI-Adawi said. "The Prophet ﷺ came out to us and said. Allah has increased a prayer for you which is better for you than red camels. (It is) Witr, which Allah has enjoined on you between the Ishd prayer and the onset of dawn. (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٣٦ (١٤١٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٢١٥ (٤٥٢)، (تحفة الأشراف: ٣٤٥٠)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٨ (١٦١٧) (صحیح) (اس سند میں عبد اللہ بن راشد مجہول ہیں، اس لئے ھی خیر لکم من حمرالنعم کا ٹکڑا ضیعف ہے، بقیہ حدیث دوسرے طریق سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ٤٤٢ و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٠٨ و ١١٤١ ، و ضعیف أبی داود: ٢٥٥ )
1169Sunan Ibne-Majah

وتر کا بیان

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُولِيِّ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: إِنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ، وَلَا كَصَلَاتِكُمُ الْمَكْتُوبَةِ، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْتَرَ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ، أَوْتِرُوا، فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ.

علی بن ابی طالب ؓ فرماتے ہیں کہ وتر واجب نہیں ہے، اور نہ وہ فرض نماز کی طرح ہے، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے وتر پڑھی پھر فرمایا: اے قرآن والو! وتر پڑھو، اس لیے کہ اللہ طاق ہے، طاق (عدد) کو پسند فرماتا ہے ١ ؎۔

Ali bin Abu Talib said: "Witr is not definite (obligatory) nor is it like your prescribed prayers. But the Messenger of Allah ﷺ prayed Witr, then he said: O people of the Quran! Perform Witr, for Allah is Witr and He loves the odd (numbered)." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: قرآن والوں سے مراد قراء و حفاظ کی جماعت ہے، نہ کہ عامۃ الناس، اس کی تائید اگلی روایت میں ليس لک ولا لأصحابک کے جملہ سے ہو رہی ہے، جو عبداللہ بن مسعود ؓ نے ایک اعرابی سے کہا تھا، اس سے یہ معلوم ہوا کہ وتر واجب نہیں ہے، کیونکہ اگر واجب ہوتی تو حکم عام ہوتا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٣٦ (١٤١٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٢١٦ (٤٥٣)، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٧ (١٦٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٠١٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٠٠، ١١٠، ١٤٣، ١٤٤، ١٤٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٩ (١٦٢١) (صحیح لغیرہ) (تراجع الألبانی: رقم: ٤٨٢ )
1170Sunan Ibne-Majah

وتر کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ، أَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيْسَ لَكَ وَلَا لِأَصْحَابِكَ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ طاق (یکتا و بےنظیر) ہے، طاق کو پسند فرماتا ہے، لہٰذا اے قرآن والو! وتر پڑھا کرو، ایک اعرابی (دیہاتی) نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کیا فرماتے ہیں؟ تو عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: یہ تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے ۔

It was narrated from Abdullah bin Mas ud that the Prophet ﷺ said: "Allah is Witr and He loves the odd (numbered), so perform Witr, O people of the Quran." A Bedouin said: What is the Messenger of Allah ﷺ saying? He said: That is not for you or your companions. " (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٣٦ (١٤١٧)، (تحفة الأشراف: ٩٦٢٧) (صحیح )
1171Sunan Ibne-Majah

وتر میں کون کونسی سورتیں پڑھی جائیں ؟

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ طَلْحَةَ، وَزُبَيْدٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ.

ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں: سبح اسم ربک الأعلى، قل يا أيها الکافرون اور قل هو الله أحد پڑھتے تھے۔

It was narrated that Ubayy bin Kab said: "The Messenger of Allah ﷺ used to perform Witr and recite: Glorify the Name of your Lord the Most High Say: O you disbelievers!" I and Say: Allah is One." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٣٩ (١٤٢٣)، سنن النسائی/قیام اللیل ٣٤ (١٧٠٠)، (تحفة الأشراف: ٥٤)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ١١٨٢) (صحیح )
1172Sunan Ibne-Majah

وتر میں کون کونسی سورتیں پڑھی جائیں ؟

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں: سبح اسم ربک الأعلى، قل يا أيها الکافرون اور قل هو الله أحد پڑھتے تھے۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ used to perform Witr and recite: "Glorify the Name of your Lord the Most High "Say: O you disbelievers!" and Say: Allah is One." (Sahih) Another chain with similar wording.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٣ (٤٦٢)، سنن النسائی/قیام اللیل ٣٤ (١٧٠٣)، (تحفة الأشراف: ٥٥٨٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٧٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٢ (١٦٢٧، ١٦٣٠) (صحیح ) اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
1173Sunan Ibne-Majah

وتر میں کون کونسی سورتیں پڑھی جائیں ؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَأَبُو يُوسُفَ الرَّقِّيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّيْدَلَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْخُصَيْفٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَأَلْنَا عَائِشَةَ: بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَتْ: كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى: بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَفِي الثَّانِيَةِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَفِي الثَّالِثَةِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ الْمُعَوِّذَتَيْنِ.

عبدالعزیز بن جریج کہتے ہیں کہ ہم نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ وتر میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ پہلی رکعت میں: سبح اسم ربک الأعلى دوسری میں قل يا أيها الکافرون اور تیسری میں قل هو الله أحد اور معوذتین پڑھتے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Abdul- ‘Aziz bin Juraij said: "We asked Aisha (RA) what the Messenger of Allah ﷺ SAW used to recite in Witr. She said:’He used to recite: "Glorify the Name of your Lord the Most High,"in the first Rakah, Say: "O you disbelievers!” in the second Rakah, and Say: Allah is One in the third and the Muawwidhatain (Chapter 113, 114)."(Daif).

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ وتر کی تین رکعتیں پڑھتے تھے، پہلی رکعت میں سبح اسم ربک الأعلى کی تلاوت فرماتے، اور دوسری رکعت میں قل يا أيها الکافرون کی، اور تیسری رکعت میں: قل هو الله أحد اور معوذتین پڑھتے تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٣٩ (١٤٢٤)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٣ (٤٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٣٠٦) وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/ ٢٢٧) (صحیح )
1174Sunan Ibne-Majah

ایک رکعت وتر کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُصَلِّي مِنِ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات میں دو دو رکعت پڑھتے تھے، اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW used to pray (voluntary prayers) at night two by two, and he would pray one Rakah of Witr."(Sahih).

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوتر ١ (٩٩٥)، صحیح مسلم/المسافرین ٢٠ (٧٤٩)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٢ (٤٦١)، (تحفة الأشراف: ٦٦٥٢، ٧٢٦٧)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٣٣٨ (١٤٢١)، سنن النسائی/قیام اللیل ٣٤ (١٦٩٠)، موطا امام مالک/صلاة اللیل ٣ (١٣)، مسند احمد (٢/٣٣، ٤٣، ٤٥، ٤٩، ٥١، ٥٤، ٨١، ٨٣، ١٥٤)، سنن الدارمی/الصلاة ١٥٤ (١٤٩٩)، ١٥٥ (١٥٠٠) (صحیح )
1175Sunan Ibne-Majah

ایک رکعت وتر کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنِابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ غَلَبَتْنِي عَيْنِي، أَرَأَيْتَ إِنْ نِمْتُ؟، قَالَ: اجْعَلْ أَرَأَيْتَ عِنْدَ ذَلِكَ النَّجْمِ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا السِّمَاكُ، ثُمَّ أَعَادَ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ قَبْلَ الصُّبْحِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت اور وتر ایک رکعت ہے ، ابومجلز (لاحق بن حمید) کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے کہا کہ آپ مجھے بتائیے کہ اگر میری آنکھ لگ جائے، اگر میں سو جاؤں؟ تو ابن عمر ؓ نے کہا: اگر مگر اس ستارے کے پاس لے جاؤ، میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو ستارہ سماک ١ ؎ چمک رہا تھا، پھر انہوں نے وہی جملہ دہرایا، اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، اور وتر صبح سے پہلے ایک رکعت ہے ۔

Abu Mijlaz narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW said: Night prayers are to be offered two by two, and Witr is one Rakah. I said: What do you think if I become drowsy and I want to sleep? He said: Put "what do you think" up there with that star? (i.e., dont think about it at all). I raised my head and saw As·Simak. He repeated that the Messenger of Allah ﷺ SAW said, Night prayers are to be offered two by two, and Witr is one Rakah , before dawn.(Sahih).

Notes · وضاحت
١ ؎: سماک: ایک ستارہ کا نام ہے، سما کان: دو روشن ستارے، ایک کا نام السماء الرامح ہے، دوسرے کا السماء الأعزل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٥٦٠) (صحیح )
1176Sunan Ibne-Majah

ایک رکعت وتر کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رَجُلٌ، فَقَالَ: كَيْفَ أُوتِرُ؟، قَالَ: أَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ، قَالَ: إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَقُولَ النَّاسُ الْبُتَيْرَاءُ، فَقَالَ: سُنَّةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ يُرِيدُ هَذِهِ سُنَّةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عبداللہ بن عمر ؓ سے پوچھا: میں وتر کیسے پڑھوں؟ تو انہوں نے کہا: تم ایک رکعت کو وتر بناؤ، اس شخص نے کہا: میں ڈرتا ہوں کہ لوگ اس نماز کو بتیراء (دم کٹی نماز) کہیں گے، تو عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کی سنت ہے، ان کی مراد تھی کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی سنت ہے۔

A man asked Ibn Umar (RA) : "How should I perform Witr?" He said: "Pray Witr with one Rakah:" He said: "I am afraid that the people will say that I am cutting the prayer short." He said: "The Sunnah of Allah and His Messenger." meaning "This is the Sunnah of Allah and His Messenger."(Daif).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٤٥٩، ومصباح الزجاجة: ٤١٥) (صحیح) (سند میں انقطاع ہے کیونکہ بقول امام بخاری (التاریخ الکبیر: ٨ / ٨) مطلب بن عبد اللہ کا سماع کسی بھی صحابی سے ثابت نہیں ہے، الا یہ کہ انہوں نے کہا ہے کہ مجھ سے بیان کیا اس شخص نے جو نبی اکرم ﷺ کے خطبہ میں حاضر تھا، اور ابو حاتم نے فرمایا: ابن عمر ؓ سے روایت کی، میں نہیں جانتا کہ ان سے سنایا نہیں سنا (المراسیل: ٢٠٩ )، پھر الجرح و التعدیل میں کہا کہ ان کی روایت ابن عمر ؓ سے مرسل (منقطع) ہے، شاید یہ تصحیح شواہد کی وجہ سے ہے، جس کو مصباح الزجاجة ( ٤١٩ ) میں ملاحظہ کریں، یہ حدیث صحیح ابن خزیمہ ( ١٠٧٤ ) میں ہے، جس کے اسناد کی تصحیح البانی صاحب نے کی ہے، جب کہ ابن ماجہ میں ضعیف لکھا ہے )
1177Sunan Ibne-Majah

ایک رکعت وتر کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُسَلِّمُ فِي كُلِّ ثِنْتَيْنِ وَيُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر دو رکعت پہ سلام پھیرتے تھے، اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ SAW used to say Taslim after every two Rak ah, and he would perform Witr with one Rakah."(Sahih).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٦١٨، ومصباح الزجاجة: ٤١٦) (صحیح الإسناد )
1178Sunan Ibne-Majah

وتر میں دعاء قنوت نازلہ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، عَنِالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: عَلَّمَنِي جَدِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ: اللَّهُمَّ عَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَاهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، سُبْحَانَكَ رَبَّنَا تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ.

حسن بن علی ؓ کہتے ہیں کہ میرے نانا رسول اللہ ﷺ نے مجھے چند کلمات سکھائے جن کو میں وتر کے قنوت میں پڑھا کروں: اللهم عافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت واهدني فيمن هديت وقني شر ما قضيت و بارک لي فيما أعطيت إنک تقضي ولا يقضى عليك إنه لا يذل من واليت سبحانک ربنا تبارکت وتعاليت اے اللہ! مجھے عافیت دے ان لوگوں میں جن کو تو نے عافیت بخشی ہے، اور میری سرپرستی کر ان لوگوں میں جن کی تو نے سرپرستی کی ہے، اور مجھے ہدایت دے ان لوگوں کے زمرے میں جن کو تو نے ہدایت دی ہے، اور مجھے اس چیز کی برائی سے بچا جو تو نے مقدر کی ہے، اور میرے لیے اس چیز میں برکت دے جو تو نے عطا کی ہے، پس جو تو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے، اور تجھ پر کسی کا حکم نہیں چل سکتا، اور جسے تو دوست رکھے وہ ذلیل نہیں ہوسکتا، اے ہمارے رب! تو پاک، بابرکت اور بلند ہے ۔

It was narrated that AIHasan bin Ali said: "My grandfather, the Messenger of Allah ﷺ SAW, taught me some words to say in Qunut of Witr: O Allah, pardon me along with those whom You have pardoned, be an ally to me along with those whom You are an ally to, guide me along with those whom You have guided, protect me from the evil that You have decreed, and bless for me that which You have bestowed. For verily You decree and none can decree over You. He whom You support can never be humiliated. Glory is to You, our Lord, You are Blessed and Exalted)." (Sahih).

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٤٠ (١٤٢٥، ١٤٢٦)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٢٤ (٤٦٤)، سنن النسائی/قیام اللیل ٤٢ (١٧٤٦)، (تحفة الأشراف: ٣٤٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/١٩٩، ٢٠٠) (صحیح )
1179Sunan Ibne-Majah

وتر میں دعاء قنوت نازلہ

حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سُخْطِكَ، وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ.

علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ وتر کے آخر میں یہ دعا پڑھتے تھے: اللهم إني أعوذ برضاک من سخطک وأعوذ بمعافاتک من عقوبتک وأعوذ بک منک لا أحصي ثناء عليك أنت کما أثنيت على نفسک اے اللہ! میں تیری رضا مندی کے ذریعہ تیری ناراضی سے پناہ مانگتا ہوں، اور تیری معافی کے ذریعہ تیری سزاؤں سے پناہ مانگتا ہوں، اور تیرے رحم و کرم کے ذریعہ تیرے غیظ و غضب سے پناہ مانگتا ہوں، میں تیری حمد و ثنا کو شمار نہیں کرسکتا، تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود اپنی تعریف کی ہے ۔

It was narrated from Ali Ibn Abi Talib (RA) that the Prophet ﷺ SAW used to say at the end of Witr: "Allahurnma inni audhu bika biridaka min sakhatika, wa audhu bimuafatika min uqubatika, wa audhu bika minka, La uhsi thanaan alaika, Anta kama athnaita ala nafsika (O Allah, I seek refuge in Your pleasure from Your wrath, and I seek refuge in Your forgiveness from Your punishment, and I seek refuge in You from You. I cannot enumerate Your praise You are as You have praised Yourself)." (Sahih).

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٤٠ (١٤٢٧)، سنن الترمذی/الدعوات ١١٣ (٣٥٦٦)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٠٧)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/قیام اللیل ٤٣ (١٧٤٩)، مسند احمد (١/٩٦، ١١٨، ١٥٠) (صحیح )
1180Sunan Ibne-Majah

جو قنوت میں ہاتھ نہ اٹھائے

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا عِنْدَ الِاسْتِسْقَاءِ، فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی کسی بھی دعا میں اپنے ہاتھ (مبالغہ کے ساتھ) نہیں اٹھاتے تھے، البتہ آپ استسقاء میں اپنے ہاتھ اتنا اوپر اٹھاتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی ١ ؎۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Prophet ﷺ SAW did not raise his hands in any of his supplications except when praying for rain (lstisqa), when he raised his hands so high that the whiteness of his armpits could be seen.(Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ روایت ان بہت سی روایتوں کی معارض ہے جن سے استسقاء کے علاوہ بھی بہت سی جگہوں پر دعا میں دونوں ہاتھوں کا اٹھانا ثابت ہے، لہذا اولیٰ یہ ہے کہ انس ؓ کی اس روایت کو اس بات پر محمول کیا جائے کہ آپ نے جو نفی کی ہے، وہ اپنے علم کی حد تک کی ہے، جس سے دوسروں کے علم کی نفی لازم نہیں آتی ہے، یا یہ کہا جائے کہ اس میں ہاتھ زیادہ اٹھانے کی نفی ہے، یعنی دوسری دعاؤں میں آپ اپنے ہاتھ اتنے اونچے نہیں اٹھاتے تھے جتنا استسقاء میں اٹھاتے تھے، حتی رأيت بياض إبطيه کے ٹکڑے سے اس قول کی تائید ہو رہی ہے، اس سے مطلق قنوت میں ہاتھ نہ اٹھانے پر استدلال صحیح نہیں، اس لئے کہ قنوت نازلہ میں ہاتھ اٹھانا صحیح روایتوں سے ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاستسسقاء ٢٢ (١٠٣١) المناقب ٢٣ (٣٥٦٥)، الدعوات ٢٣ (٦٣٤١)، صحیح مسلم/الاستسقاء ١ (٨٩٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٦٠ (١٧٧٠)، قیام اللیل ٤٣ (١٧٤٩)، (تحفة الأشراف: ١١٦٨)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الاستسقاء ٩ (١٥١٢)، مسند احمد (٣/٢٨٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٩ (١٥٧٦) (صحیح )