Sunan Ibne-Majah 1176

اقامت نماز اور اس کا طریقہ

1176Sunan Ibne-Majah

ایک رکعت وتر کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُطَّلِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رَجُلٌ، فَقَالَ: كَيْفَ أُوتِرُ؟، قَالَ: أَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ، قَالَ: إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَقُولَ النَّاسُ الْبُتَيْرَاءُ، فَقَالَ: سُنَّةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ يُرِيدُ هَذِهِ سُنَّةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عبداللہ بن عمر ؓ سے پوچھا: میں وتر کیسے پڑھوں؟ تو انہوں نے کہا: تم ایک رکعت کو وتر بناؤ، اس شخص نے کہا: میں ڈرتا ہوں کہ لوگ اس نماز کو بتیراء (دم کٹی نماز) کہیں گے، تو عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کی سنت ہے، ان کی مراد تھی کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی سنت ہے۔

A man asked Ibn Umar (RA) : "How should I perform Witr?" He said: "Pray Witr with one Rakah:" He said: "I am afraid that the people will say that I am cutting the prayer short." He said: "The Sunnah of Allah and His Messenger." meaning "This is the Sunnah of Allah and His Messenger."(Daif).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٤٥٩، ومصباح الزجاجة: ٤١٥) (صحیح) (سند میں انقطاع ہے کیونکہ بقول امام بخاری (التاریخ الکبیر: ٨ / ٨) مطلب بن عبد اللہ کا سماع کسی بھی صحابی سے ثابت نہیں ہے، الا یہ کہ انہوں نے کہا ہے کہ مجھ سے بیان کیا اس شخص نے جو نبی اکرم ﷺ کے خطبہ میں حاضر تھا، اور ابو حاتم نے فرمایا: ابن عمر ؓ سے روایت کی، میں نہیں جانتا کہ ان سے سنایا نہیں سنا (المراسیل: ٢٠٩ )، پھر الجرح و التعدیل میں کہا کہ ان کی روایت ابن عمر ؓ سے مرسل (منقطع) ہے، شاید یہ تصحیح شواہد کی وجہ سے ہے، جس کو مصباح الزجاجة ( ٤١٩ ) میں ملاحظہ کریں، یہ حدیث صحیح ابن خزیمہ ( ١٠٧٤ ) میں ہے، جس کے اسناد کی تصحیح البانی صاحب نے کی ہے، جب کہ ابن ماجہ میں ضعیف لکھا ہے )