عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم بالوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹیں اور زمین پر چلنے کے سبب دوبارہ وضو نہ کریں ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah said: "We were ordered to not (tuck up our) hair (nor garment) and not to repeat ablution for what we stepped on." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر وضو کر کے زمین پر چلیں، اور پاؤں یا کپڑوں میں کوئی نجاست اور گندگی لگ جائے، تو وضو کا دہرانا ضروری نہیں صرف انہیں دھو ڈالنا کافی ہے۔
مدینہ کے ایک باشندہ ابوسعد کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے مولی ابورافع کو دیکھا کہ انہوں نے حسن بن علی ؓ کو اس حال میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ وہ اپنے بالوں کا جوڑا باندھے ہوئے تھے، ابورافع ؓ نے اسے کھول دیا، یا اس (جوڑا باندھنے) سے منع کیا، اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے بالوں کو جوڑا باندھے ہوئے نماز پڑھے ١ ؎۔
Mukhawwal said: "I heard Abu Sad, a man from the people of Madinah, say: I saw Abu Rafi, the freed slave of the Messenger of Allah ﷺ when he saw Hasan bin Ali performing prayer, with his hair braided. He undid it, or told him not to do that, and said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade a man from performing prayer with his hair braided."(Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ سجدے میں اگر بال کھلے ہوں گے تو وہ بھی سجدہ کریں گے، اور جب جوڑا باندھ لیا جائے تو بال زمین پر نہ گریں گے، اس سے معلوم ہوا کہ اگر مرد کے بال لمبے ہوں تو وہ ان کا جوڑا باندھ سکتا ہے، لیکن نماز کے وقت کھول دے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٠٢٩)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٨٨ (٦٤٦)، سنن الترمذی/الصلاة ١٦٥ (٣٨٤)، مسند احمد (٦/٨، ٣٩١)، سنن الدارمی/الصلاة ١٠٥ (١٤٢٠) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (نماز کی حالت میں) اپنی نگاہیں آسمان کی طرف نہ اٹھاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری بینائی چھین لی جائے ۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Do not lift your gaze to the heavens lest your sight be snatched away," meaning during prayer. (Sahih)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک روز اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی جانب رخ کر کے فرمایا: لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ اپنی نگاہیں (بحالت نماز) آسمان کی جانب اٹھاتے رہتے ہیں؟ ، یہاں تک کہ بڑی سختی کے ساتھ آپ ﷺ نے یہ تک فرما دیا: لوگ اس سے ضرور باز آجائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کی نگاہیں اچک لے گا ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ led his Companions in prayer one day. When he had finished prayer he turned to face the people and said: What is wrong with some people that they lift their gaze to the heavens? He spoke severely concerning that: They should certainly abstain from that or Allah will snatch away their sight. (Sahih)
جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو (نماز کی حالت میں) آسمان کی طرف اپنی نگاہیں اٹھانے سے باز آجانا چاہیئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی نگاہیں (صحیح سالم) نہ لوٹیں ١ ؎۔
It was narrated from Jabir bin Samurah that the Prophet ﷺ said: "Let those who lift their gaze to the heavens desist, or their sight will not come back." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نماز کے اندر اس کام سے باز آجائیں، اور بعضوں نے کہا کہ جب دعا کرتا ہو تو نماز سے باہر بھی نگاہ اٹھانی مکروہ ہے، اور اکثر لوگوں نے نماز سے باہر نگاہ اٹھانے کو جائز کہا ہے، اس بناء پر کہ دعا کا قبلہ آسمان ہے جیسے نماز کا قبلہ کعبہ ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی اکرم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھا کرتی تھی، جو بہت زیادہ خوبصورت تھی، کچھ لوگ پہلی صف میں کھڑے ہوتے تاکہ اسے نہ دیکھ سکیں، اور کچھ لوگ پیچھے رہتے یہاں تک کہ بالکل آخری صف میں کھڑے ہوتے اور جب رکوع میں جاتے تو اس طرح بغل کے نیچے سے اس عورت کو دیکھتے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے سلسلے میں آیت کریمہ: ولقد علمنا المستقدمين منکم ولقد علمنا المستأخرين ہم نے جان لیا آگے بڑھنے والوں کو، اور پیچھے رہنے والوں کو (سورۃ الحجر: ٢٤ ) نازل فرمائی۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "A woman used to perform prayer behind the Prophet ﷺ and she was one of the most beautiful of people. Some of the people used to go into the first row so that they Would not see her, and some of them used to lag behind so that they would be in the last row, and when they bowed, they Would do like this so that they could see her from beneath their armpits. Then Allah revealed: "And indeed, We know the first generations of you who had passed away, and indeed, We know the present generations of you (mankind), and also those who will come afterwards. concerning her matter. (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/التفسیر سورة ١٥/١ (٣١٢٢)، سنن النسائی/الإمامة ٦٢ (٨٧١)، (تحفة الأشراف: ٥٣٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٠٥) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تم میں سے ہر شخص کو دو کپڑے میسر ہیں ؟ ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "A man came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah ﷺ One of us performs prayer in a single garment. The Prophet ﷺ said: Does everyone have two garments?" (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اور ظاہر ہے کہ ہر شخص کو دو کپڑے نہیں مل سکتے، اکثر کے پاس ایک ہی کپڑا ہوتا ہے، اور نماز سب پر فرض ہے، تو ضرور ایک کپڑے میں نماز جائز ہوگی، جمہور علماء کے نزدیک نماز ایک کپڑے میں جائز ہے گو اس کے پاس دوسرے کپڑے بھی ہوں، اور بعضوں نے کہا کہ افضل یہ ہے کہ دو کپڑوں میں نماز پڑھے گو ایک کپڑے میں بھی جائز ہے۔
ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ ایک کپڑا لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے ١ ؎۔
Abu Saeed Al-Khudri narrated that he entered upon the Messenger of Allah ﷺ when he was performing prayer in a single garment, wrapping himself in it. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: متوشحًا یعنی لپیٹے ہوئے، تو شح یہ ہے کہ کپڑے کا جو کنارہ داہنے کندھے پر ہو اس کو بائیں بغل کے نیچے سے لے جائے، پھر دونوں کناروں کو ملا کر سینے پر گرہ دے لے۔
عمر بن ابی سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ایک کپڑا لپیٹے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے، اور اس کے دونوں کناروں کو اپنے کندھوں پر ڈالے ہوئے تھے۔
It was narrated that Umar bin Abu Salamah said: "I saw the Messenger of Alah ﷺ performing prayer in a single garment, wrapping himself in it and throwing the ends over his shoulders." (Sahih)
کیسان ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو بئر علیا کے پاس ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا۔
It was narrated from Abdur-Rahman bin Kaisan that his father said: "I saw the Messenger of Allah ﷺ performing prayer at Bi`r Uilya, in a garment.(Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (٠٢ تحفة الأشراف: ١١١٧٠، ومصباح الزجاجة: ٣٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤١٧) (حسن) (اس کی سند میں عبد الرحمن بن کیسان مستور اور محمد بن حنظلہ غیر معروف ہیں، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة: ٣٧٩ ب تحقیق الشہری )
کیسان بن جریر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ ظہر و عصر ایک ہی کپڑے میں پڑھ رہے تھے، اس حال میں کہ آپ اس کو لپیٹے ہوئے تھے۔
Ibn Kaisan narrated that his father said: "I saw the Prophet ﷺ performing the Zuhr and the Asr in a single garment, wrapping it aroung his chest " (Da`if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١١٧٠، مصباح الزجاجة: ٣٧٥) (حسن) (بوصیری نے اس اسناد کی تحسین کی ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب انسان آیت سجدہ تلاوت کرتا اور سجدہ کرتا ہے، تو شیطان روتا ہوا الگ ہوجاتا ہے، اور کہتا ہے: ہائے خرابی! ابن آدم کو سجدہ کا حکم ہوا، اس نے سجدہ کیا، اب اس کے لیے جنت ہے، اور مجھ کو سجدہ کا حکم ہوا، میں نے انکار کیا، میرے لیے جہنم ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When the son of Adam recites a Sajdah and prostrates, Satan withdraws weeping, saying: Woe is me! The son of Adam was commanded to prostrate and he prostrated, and Paradise will be his; I was commanded to prostrate and I refused, so I am doomed to Hell. (Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٣٥ (٨١)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٢٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٤٣) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس تھا کہ اس دوران ایک شخص آیا ١ ؎ اور اس نے عرض کیا کہ کل رات میں نے ایک خواب دیکھا ہے جیسے سونے والا دیکھتا ہے، گویا میں ایک درخت کی جڑ میں نماز پڑھ رہا ہوں، میں نے سجدے کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا، تو درخت نے بھی میرے ساتھ سجدہ کیا، اور میں نے اس کو یہ کہتے ہوئے سنا اللهم احطط عني بها وزرا واکتب لي بها أجرا واجعلها لي عندک ذخرا اے اللہ! اس سجدہ کی وجہ سے میرے گناہ ختم کر دے، اور میرے لیے اجر لکھ دے، اور اس اجر کو میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا دے ٢ ؎۔ عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے سجدہ کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا، تو میں نے سنا آپ سجدہ میں وہی دعا پڑھ رہے تھے، جو اس آدمی نے درخت سے سن کر بیان کی تھی۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "I was with the Prophet ﷺ and a man came to him and said: Last night while I was sleeping, I saw that I was praying towards the b!se of a tree. I recited (an Ayah of) prostration and prostrated, and the tree prostrated when I did, and I heard it saying: (O Allah, reduce my burden of sin thereby, reward me for it and store it for me with You). Ibn Abbas said: "I saw the Prophet ﷺ recite (an Ayah of) prostration and then prostrate, and I heard him saying in his prostration something like that which the man had told him the tree said." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں پر شخص سے مراد ابوسعید خدری ؓ ہیں جیسا کہ دوسری روایت میں تصریح ہے۔ ٢ ؎: سجدہ تلاوت میں یہ دعا پڑھے، یا سبحان ربي الأعلى کہے، یا وہ دعا جو آگے آرہی ہے، بعض نے کہا کہ یہ دعا پڑھے: سبحان ربنا إن کان وعد ربنا لمفعولا۔
علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب سجدہ کرتے تو فرماتے: اللهم لک سجدت وبک آمنت ولک أسلمت أنت ربي سجد وجهي للذي شق سمعه وبصره تبارک الله أحسن الخالقين اے اللہ! میں نے تیرے ہی لیے سجدہ کیا، اور تجھ ہی پر ایمان لایا، اور تیرا ہی فرماں بردار ہوا تو میرا رب ہے، اور میرے چہرے نے سجدہ کیا اس ذات کے لیے جس نے کان اور آنکھ کو بنایا، اللہ تعالیٰ کتنا بابرکت ہے جو سب سے اچھا بنانے والا ہے ۔
It was narrated from Ali that whenever the Prophet ﷺ prostrated he would say: (O Allah, to You I have prostrated, and in You I have believed, and to You I have submitted. You are my Lord; my face has prostrated to the One Who gave it hearing and sight. Blessed is Allah the best of creators.)." (Sahih)
ابوالدرداء ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ گیارہ سجدے کئے، ان میں سے ایک سورة النجم کا سجدہ بھی تھا۔
It was narrated that Umm Darda said: "Abu Darda told me that he did eleven prostrations with the Prophet ﷺ including An-Najm" (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجمعة ٤٧ (٥٦٨، ٥٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٩٣)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٣٢٨ (١٤٠١)، مسند احمد (٥/١٩٤) (ضعیف) (اس کی سند میں عمر الدمشقی مجہول ہیں )
ابوالدرداء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ گیارہ سجدے کئے، جن میں سے کوئی مفصل میں نہ تھا (اور وہ گیارہ سجدے ان سورتوں میں تھے) : اعراف، رعد، نحل، بنی اسرائیل، مریم، حج، فرقان، نمل، سورة السجدۃ، سورة ص اور سورة حم سجدہ۔
It was narrated that Abu Darda said: "I performed eleven prostrations with the Prophet ﷺ of which there were none in the Mufassal , AI-AraJ, Ar-Rad, An-Nahl, Bani Israil. Maryam, AI-Hajj. the prostration in Al-Furqan, Sural An-Narni (mentioning) Sulaiman, As-Sajdah, Sad, and the Ha-Mim Surah." (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٩٩٧، ومصباح الزجاجة: ٣٧٧) (ضعیف) (اس کی سند میں عثمان بن فائد ضعیف ہیں )
عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو قرآن میں پندرہ سجدے پڑھائے، ان میں سے تین سجدے مفصل میں اور دو سجدے سورة الحج میں ہیں۔
It was narrated from Amr bin As that the Messenger of Allah ﷺ taught him fifteen prostrations in the Quran,including three in the Mulassal and two in AI-Hajj. (Daif)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٣٢٨ (١٤٠١)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٣٥) (ضعیف) (اس کی سند میں حارث بن سعید العتقی مجہول ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ: إذا السماء انشقت اور اقرأ باسم ربك میں سجدہ کیا۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said:“We prostrated with the Messenger of Allah ﷺ in “When the heaven is split asunder” and “Read! In the Name of your Lord.”(Sahih)
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٢٠ (٥٧٨)، سنن ابی داود/الصلاة ٣٣١ (١٤٠٧)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٨٥ (٥٧٣)، سنن النسائی/الافتتاح ٥٢ (٩٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٢٠٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ١٠٠ (٧٦٦)، مسند احمد (٢/٢٤٩، ٤٦١، سنن الدارمی/الصلاة ١٦٢، (١٥٠٩) (صحیح) (اس کی سند میں عطاء بن میناء مجہول ہیں، لیکن دوسری صحیح سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے: إذا السماء انشقت میں سجدہ کیا۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث یحییٰ بن سعید سے مروی ہے، میں نے ان کے علاوہ کسی اور کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ prostrated if” When the heaven is split asunder.” (Sahih) Abu Bakr (RA) bin Abu Shaibah said: “This Hadith was narrated from Yahya bin Sa’eed; I did not hear it from anyone but him.”
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ٥ ٢٨ (٥٧٣)، سنن النسائی/الافتتاح ٥١ (٩٦٤)، (تحفة الأشراف: (١٤٨٦٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٤٧) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور اس نے نماز پڑھی، رسول اللہ ﷺ مسجد کے ایک گوشے میں تشریف فرما تھے، اس نے آ کر آپ کو سلام کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اور تم پر بھی سلام ہو، جاؤ دوبارہ نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی ، وہ واپس گیا اور اس نے پھر سے نماز پڑھی، پھر آ کر نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا، آپ ﷺ نے پھر فرمایا: اور تم پر بھی سلام ہو، جاؤ پھر سے نماز پڑھو، تم نے ابھی بھی نماز نہیں پڑھی ، آخر تیسری مرتبہ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے نماز کا طریقہ سکھا دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم نماز کا ارادہ کرو تو کامل وضو کرو، پھر قبلے کی طرف منہ کرو، اور الله أكبر کہو، پھر قرآن سے جو تمہیں آسان ہو پڑھو، پھر رکوع میں جاؤ یہاں تک کہ پورا اطمینان ہوجائے، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھاؤ، اور پورے اطمینان کے ساتھ قیام کرو، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ سجدہ میں مطمئن ہوجاؤ، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے بیٹھ جاؤ، پھر اسی طرح اپنی ساری نماز میں کرو ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that a man entered the Masjid and performed prayer, and the prophet ﷺ was in a comer of the Masjid. The man came and greeted him, and he said: "And also upon you. Go back and repeat your prayer, for you have not prayed." So he went back and repeated his prayer, then he came and greeted the Prophet ﷺ . He said: "And also upon you. Go back and repeat your prayer, for you have not prayed." On the third occasion, the man said: "Teach me, O Messenger of Allah ﷺ ! He said: "When you stand up to offer the prayer, perform ablution properly, then stand to face the prayer direction and say Allahu Akbar. Then recite whatever you can of Quran, and then bow until you feel at ease bowing. Then stand up until you feel at ease standing, then prostrate until you feel at ease prostrating. Then raise your head until you are sitting up straight. Do that throughout your prayer." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث مسيء الصلاة کے نام سے اہل علم کے یہاں مشہور ہے، اس لئے کہ صحابی رسول خرباق ؓ نے یہ نماز اس طرح پڑھی تھی جس میں ارکان نماز یعنی قیام، رکوع اور سجود وغیرہ کو اچھی طرح نہیں ادا کیا تھا جس پر رسول اکرم ﷺ نے تنبیہ فرمائی، اور نماز کی یہ تفصیل بیان کی، یعنی ساری نماز کو اسی طرح اطمینان اور تعدیل ارکان کے ساتھ ادا کرنے کی ہدایت کی، ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ اس شخص نے ہلکی نماز پڑھی تھی، اور رکوع اور سجدے کو پورا نہیں کیا تھا، اس حدیث سے صاف معلوم ہوا ہے کہ نماز میں تعدیل ارکان یعنی اطمینان کے ساتھ رکوع، سجود اور قومہ و جلسہ ادا کرنا فرض ہے، جب ہی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے نماز ادا نہیں کی۔ ائمہ حدیث نیز امام شافعی، امام احمد، اور امام ابو یوسف وغیرہم نے یہ اور اس طرح کی دوسری احادیث کے پیش نظر تعدیل ارکان کو فرض اور واجب کہا ہے، اور امام ابوحنیفہ اور امام محمد نے تعدیل ارکان کو فرض نہیں کہا، بلکہ کرخی کی روایت میں واجب کہا ہے، اور جرجانی کی روایت میں سنت کہا ہے، وجوب اور فرضیت کے قائلین کا استدلال یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے اس حدیث میں جتنی باتیں بتائی ہیں وہ سب کی سب یا شروط نماز میں سے ہیں جیسے وضو، استقبال قبلہ، یا فرائض و واجبات میں سے، جیسے تکبیر تحریمہ، قرأت فاتحہ، وغیرہ وغیرہ، اور اگر یہ اعمال فرض نہ ہوتے تو رسول اکرم ﷺ اس صحابی کو بار بار نماز ادا کرنے کے لئے کیوں حکم دیتے؟ اور یہ فرماتے کہ ابھی تمہاری نماز نہیں ہوئی، یہ اور اس طرح کی احادیث کی روشنی میں تعدیل ارکان کو فرض اور واجب کہنے والے ائمہ کا مسلک صحیح اور راجح ہے، اس کے مقابل میں صرف ان چیزوں کو سنت کہنے والے ائمہ کے اتباع اور مقلدین کے طریقہ نماز کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا کافی ہے کہ خشوع و خضوع اور تعدیل ارکان کی کتنی اہمیت ہے، اور اس کے مقابل میں سب سے اہم عبادت کو اس طرح ادا کرنا کہ کسی طور پر بھی اطمئنان نہ ہو بس جلدی جلدی ٹکریں مار لی جائیں، یہ بعینہ وہی نماز ہوجائے گی جس کو رسول اکرم ﷺ نے صحابی سے فرمایا کہ تم نے نماز ہی نہیں ادا کی اس لئے دوبارہ نماز ادا کرو، والله الهادي إلى الصواب .