Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 54 of 218

1061Sunan Ibne-Majah

نماز کو پو راکرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ أَبُو قَتَادَةَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: لِمَ؟ فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ بِأَكْثَرِنَا لَهُ تَبَعَةً، وَلَا أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً، قَالَ: بَلَى، قَالُوا: فَاعْرِضْ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ كَبَّرَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، وَيَقِرَّ كُلُّ عُضْوٍ مِنْهُ فِي مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ مُعْتَمِدًا، لَا يَصُبُّ رَأْسَهُ وَلَا يُقْنِعُ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، حَتَّى يَقِرَّ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ وَيُجَافِي بَيْنَ يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى، فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا وَيَفْتَخُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ، ثُمَّ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ، وَيَجْلِسُ عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى، حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ مِنْهُ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَصْنَعُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا صَنَعَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يُصَلِّي بَقِيَّةَ صَلَاتِهِ هَكَذَا، حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِي يَنْقَضِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ وَجَلَسَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ مُتَوَرِّكًا، قَالُوا: صَدَقْتَ، هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے دس صحابہ کی موجودگی میں ١ ؎، جن میں ایک ابوقتادہ ؓ تھے، ابو حمید ساعدی ؓ کو کہتے ہوئے سنا: میں آپ لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کے بارے میں جانتا ہوں، لوگوں نے کہا: کیسے؟ جب کہ اللہ کی قسم آپ نے ہم سے زیادہ نہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی کی ہے اور نہ آپ ہم سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہے؟، ابوحمید ؓ نے کہا: ہاں ... ضرور لیکن میں آپ لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، لوگوں نے کہا: پھر نبی اکرم ﷺ کا طریقہ نماز بیان کریں، انہوں نے کہا: نبی اکرم ﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو الله أكبر کہتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے (رفع یدین کرتے) ، اور آپ کا ہر عضو اپنی جگہ پر برقرار رہتا، پھر قراءت کرتے، پھر الله أكبر کہتے، اور اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے بالمقابل اٹھاتے (رفع یدین کرتے) ، پھر رکوع کرتے اور اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے دونوں گھٹنوں پر ٹیک کر رکھتے، نہ تو اپنا سر پیٹھ سے نیچا رکھتے نہ اونچا بلکہ پیٹھ اور سر دونوں برابر رکھتے، پھر سمع الله لمن حمده کہتے، اور دونوں ہاتھ کندھے کے بالمقابل اٹھاتے (رفع یدین کرتے) یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر آجاتی، پھر زمین کی طرف (سجدہ کے لیے) جھکتے اور اپنے دونوں ہاتھ پہلو سے جدا رکھتے، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے اور اپنا بایاں پاؤں موڑ کر اس پر بیٹھ جاتے، اور سجدہ میں پاؤں کی انگلیاں کھڑی رکھتے، پھر سجدہ کرتے، پھر الله أكبر کہتے، اور اپنے بائیں پاؤں پر بیٹھ جاتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ واپس لوٹ آتی، پھر کھڑے ہوتے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے، پھر جب دو رکعتوں کے بعد (تیسری رکعت کے لیے) کھڑے ہوتے، تو اپنے دونوں ہاتھ کندھے کے بالمقابل اٹھاتے جیسا کہ نماز شروع کرتے وقت کیا تھا ٣ ؎، پھر اپنی باقی نماز اسی طرح ادا فرماتے، یہاں تک کہ جب اس آخری سجدہ سے فارغ ہوتے جس کے بعد سلام ہے تو بائیں پاؤں کو ایک طرف نکال دیتے، اور بائیں پہلو پہ سرین کے بل بیٹھتے ٢ ؎، لوگوں نے کہا: آپ نے سچ کہا، رسول اللہ ﷺ اسی طرح نماز پڑھتے تھے ٣ ؎۔

Muhammad bin Amr bin " Ata said: While he was among ten of the Companions of the Messenger of Allah ﷺ including Abu Qatadah (RA) : "I heard Abu Humaid As-Saidi say: I am the most knowledgeable of you concerning the prayer of the Messenger of Allah ﷺ : They said: Why? By Allah, you did not follow him more than we did, and you did not accompany him for longer: He said: Yes I am: They said: Show us: He said: When the Messenger of Allah ﷺ stood up for prayer, he would say the Takbir, then he would raise his hands parallel to his shoulders, and every part of his body would settle in place. Then he would recite, then he would raise his hands parallel to his shoulders and bow, placing his palms on his knees and supporting his weight on them. He neither lowered his head, nor raised it up, it was evenly balanced (between either extreme). Then he would say: "Sami Allahu liman hamidah (Allah hears those who praise Him); and he would raise his hands parallel with his shoulders, until every bone returned to its place. Then he would prostrate himself on the ground, keeping his arms away from his sides. Then he would raise his head and tuck his left foot under him and sit on it, and he would spread his toes when he prostrated. Then he would prostrate, then say the Takbir and sit on his left foot, until every bone returned to its place. Then he would stand up and do the same in the next Rak ah. Then when he stood up after two Rakah, he would raise his hands level with his shoulders as he did at the beginning of the prayer. Then he would offer the rest of his prayer in like manner until, when he did the prostration after which the Taslim comes, he would push one of his feet back and sit with his weight on his left side, Mutawarrikan : They said: You have spoken the truth; this is how the Messenger of Allah ﷺ used to perform the prayer: (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: گویا یہ حدیث دس صحابہ کرام ؓ نے روایت کی کیونکہ ان سب نے ابوحمید ؓ کے کلام کی تصدیق کی۔ ٢ ؎: اس بیٹھک کو تورّک کہتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ آخری تشہد میں تورک مسنون ہے، رہی افتراش والی روایت تو وہ مطلق ہے اس میں یہ نہیں کہ یہ دونوں تشہد کے لئے ہے یا پہلے تشہد کے لئے ہے، ابوحمید ساعدی ؓ کی اس روایت نے اس اطلاق کی کردی ہے اور یہ کہ افتراش پہلے تشہد میں ہے اور تورّک آخری تشہد میں ہے۔ تورّک کے مسئلہ میں اختلاف ہے، یعنی تشہد میں سرین (چوتڑ) کے بل بیٹھے یا نہ بیٹھے، بعض نے کہا کہ دونوں قعدوں (تشہد) میں تورّک کرے، امام مالک کا یہی مذہب ہے، اور بعض نے کہا کسی قعدہ (تشہد) میں تورک نہ کرے، بلکہ بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھے، یہی امام ابوحنیفہ کا مذہب ہے، اور بعض نے کہا کہ جس قعدہ (تشہد) کے بعد سلام ہو تو اس میں تورّک کرے، خواہ وہ پہلا تشہد ہو، جیسے نماز فجر میں، یا دوسرا تشہد ہو، جیسے چار یا تین رکعتوں والی نماز، اور جس قعدہ (تشہد) کے بعد سلام نہ ہو اس میں بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھے، اور یہ امام شافعی کا مذہب ہے، اور بعض نے کہا کہ جس نماز میں دو قعدے ہوں تو دوسرے قعدہ میں تورک کرے، اور جس نماز میں ایک ہی قعدہ ہو تو اس میں بایاں پاؤں بچھا کر بیٹھے، امام احمد اور اہل حدیث نے اسی کو اختیار کیا ہے اور حدیث سے یہی ثابت ہے۔ ٣ ؎: اس روایت سے ان لوگوں کے قول کی بھی تردید ہوتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ رفع یدین شروع اسلام میں تھا بعد میں منسوخ ہوگیا کیونکہ حدیث کا سیاق یہ بتارہا ہے کہ ابوحمید ساعدی ؓ نے دس صحابہ کرام ؓ کی موجودگی میں ان سے جو گفتگو کی وہ نبی اکرم ﷺ کی وفات کے بعد کا واقعہ ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نماز میں چار جگہوں پر رفع یدین کیا جائے گا، تکبیر تحریمہ کے وقت، رکوع جاتے ہوئے، رکوع سے اٹھتے ہوئے، اور قعدہ اولیٰ (پہلے تشہد) کے بعد تیسری رکعت کے لئے اٹھتے وقت۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٤٥ (٨٢٨)، لارسنن ابی داود/الصلاة ١٨١ (٩٦٣، ٩٦٤)، سنن الترمذی/الصلاة ١١١ (٣٠٤، ٣٠٥)، سنن النسائی/التطبیق ٦ (١٠٤٠)، (تحفة الأشراف: ١١٨٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٢٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٧٠ (١٣٤٦) (صحیح )
1062Sunan Ibne-Majah

نماز کو پو راکرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ عَمْرَةَ، قَالَت: سَأَلْتُعَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا تَوَضَّأَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ فِي الْإِنَاءِ سَمَّى اللَّهَ، وَيُسْبِغُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يَقُومُ فَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، فَيُكَبِّرُ، وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ، فَيَضَعُ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَيُجَافِي بِعَضُدَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيُقِيمُ صُلْبَهُ، وَيَقُومُ قِيَامًا هُوَ أَطْوَلُ مِنْ قِيَامِكُمْ قَلِيلًا، ثُمَّ يَسْجُدُ، فَيَضَعُ يَدَيْهِ تُجَاهَ الْقِبْلَةِ، وَيُجَافِي بِعَضُدَيْهِ مَا اسْتَطَاعَ فِيمَا رَأَيْتُ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيَجْلِسُ عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى، وَيَنْصِبُ الْيُمْنَى، وَيَكْرَهُ أَنْ يَسْقُطَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ.

عمرہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ کی نماز کیسی تھی؟ انہوں نے کہا: نبی اکرم ﷺ جب وضو شروع کرتے تو اپنا ہاتھ برتن میں ڈال کر بسم الله کہتے اور وضو مکمل کرتے، پھر قبلہ رخ کھڑے ہوتے اور الله أكبر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں کے بالمقابل اٹھاتے، پھر رکوع کرتے، اور اپنے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پہ رکھتے اور بازوؤں کو پسلیوں سے جدا رکھتے، پھر رکوع سے سر اٹھاتے اور پیٹھ سیدھی کرتے، اور تمہارے قیام سے کچھ لمبا قیام کرتے، پھر سجدہ کرتے اور اپنے دونوں ہاتھ قبلہ رخ رکھتے، اور میرے مشاہدہ کے مطابق آپ ﷺ جہاں تک ہوسکتا اپنے بازوؤں کو (اپنی بغلوں سے) جدا رکھتے، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے اور بائیں قدم پہ بیٹھ جاتے، اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے، (اور قعدہ اولیٰ میں) بائیں طرف مائل ہونے کو ناپسند فرماتے۔

It was narrated that Amrah said: "I asked Alshah: How did the Messenger of Allah ﷺ perform prayer? She said: When the Prophet ﷺ . performed ablution, he would put his hand in the vessel and say Bismillah, and he would perform ablution properly, Then he would stand and face the Qiblah, He would say the Takbir raising his hands parallel to his shoulders, Then he would bow, putting his hands on his knees and keeping his arms away from his sides, Then he would raise his head and straighten his back, and he would stand a little longer than your standing, Then he would prostrate, pointing his hands towards the Qiblah, keeping his arms away (from his sides) as much as possible, according to what I have seen, Then he would raise his head and sit on his left foot with his right foot held upright, and he disliked leaning towards his left side. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٨٨٨) (ضعیف جدا) (ملاحظہ ہو حدیث نمبر: ٨٧٤ )
1063Sunan Ibne-Majah

سفر میں نماز کا قصر کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: صَلَاةُ السَّفَرِ رَكْعَتَانِ، وَالْجُمُعَةُ رَكْعَتَانِ، وَالْعِيدُ رَكْعَتَانِ، تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ، عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عمر ؓ کہتے ہیں کہ سفر کی نماز دو رکعت ہے، جمعہ اور عید بھی دو رکعت ہیں، بہ زبان محمد ﷺ یہ کامل ہیں ناقص نہیں ١ ؎۔

It was narrated that ‘Umar said: “The prayer while traveling is two Rak’ah, and Friday is two Rak’ah, and ‘Eid is two Rak’ah. They are complete and are not shortened, as told by Muhammad ﷺ .” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سفر میں دو ہی رکعتیں واجب ہیں، اور یہ نہیں ہے کہ چار واجب تھیں سفر کی وجہ سے دو ہوگئیں اب قرآن کریم میں جو آیا ہے: وإذا ضربتم في الأرض فليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة جب تم سفر میں ہو تو تم پر نماز کو قصر پڑھنے میں کوئی گناہ نہیں ہے (سورۃ النساء: ١٠١ )، یہاں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، کہ یہ آیت سفر میں نازل ہوئی، اور خوف کی قید اتفاقی ہے، مفسرین کی ایک جماعت کی یہی رائے ہے، یا خوف کی حالت میں نازل ہوئی، اور سفر کی حالت اتفاقی ہے، مفسرین کی ایک جماعت نے آیت میں قصر سے مراد رکوع اور سجود کو ایما اور اشارہ سے کرنے کے معنی میں لیا ہے، اور امام بخاری نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ نماز پہلے دو ہی رکعت فرض ہوئی تھی پھر سفر کی نماز اپنی حالت پر باقی رہی اور حضر میں دو دو رکعتیں بڑھا دی گئیں، اکثر ائمہ کے یہاں سفر میں قصر واجب ہے، امام ابوحنیفہ کے یہاں اتمام ناجائز ہے، اور امام شافعی کے نزدیک سفر میں قصر و اتمام دونوں جائز ہے، اور قصر افضل ہے، اور احادیث سے قصر کا وجوب ہی ثابت ہوتا ہے، اور نبی کریم ﷺ سے اسفار میں ہمیشہ قصر ہی ثابت ہے، ملاحظہ ہو: (الروضہ الندیہ: ١ /٣٧٣، ٣٧٤ )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٥٩٦، ومصباح الزجاجة: ٣٧٨)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجمعة ٣٧ (١٤٢١)، مسند احمد (١/٣٧) (صحیح) (سند میں شریک القاضی سیء الحفظ ہیں، لیکن سفیان ثوری نے مسند احمد میں ان کی متابعت کی ہے، اور عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ کا عمر ؓ سے سماع مختلف فیہ ہے، لیکن بعض علماء نے سماع کو ثابت مانا ہے، ملاحظہ ہو: نصب الرایہ: ٢ /١٨٩، و الإرواء: ٣ /١٠٦ )
1064Sunan Ibne-Majah

سفر میں نماز کا قصر کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: صَلَاةُ السَّفَرِ رَكْعَتَانِ، وَصَلَاةُ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَانِ، وَالْفِطْرُ وَالْأَضْحَى رَكْعَتَانِ، تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ، عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عمر ؓ کہتے ہیں کہ سفر کی نماز دو رکعت ہے، اور جمعہ کی نماز دو رکعت ہے، عید الفطر اور عید الاضحی کی دو دو رکعت ہے، بہ زبان محمد ﷺ یہ کامل ہیں ناقص نہیں۔

Umar said: "The prayer when traveling is two Rakoh, and Friday is two Rakah, and AI-Fitr and AI-Adha are two Rakah, complete, not shortened, as told by Muhammad ﷺ ," (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٦٢٩، ومصباح الزجاجة: ٣٧٩) (صحیح )
1065Sunan Ibne-Majah

سفر میں نماز کا قصر کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قُلْتُ: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا، وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ فَقَالَ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ.

یعلیٰ بن امیہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ سے سوال کیا، میں نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنکم الذين کفروا نماز قصر کرنے میں تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں اگر کافروں کی فتنہ انگیزیوں کا ڈر ہو (سورۃ النساء: ١٠١ ) ، اب اس وقت تو لوگ مامون (امن و امان میں) ہوگئے ہیں؟ انہوں نے کہا: جس بات پر تمہیں تعجب ہوا مجھے بھی اسی پر تعجب ہوا تھا، تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ صدقہ ہے، جو اللہ تعالیٰ نے تم پر کیا ہے، لہٰذا تم اس کے صدقہ کو قبول کرو ١ ؎۔

It was narrated that Yala bin Umayyah said: "I asked Umar bin Khattab: Allah says: "And when you travel in the land, there is no sin on you if you shorten the prayer if you fear that the disbelievers may put you in trial (attack you), verily, the disbelievers are ever to you open enemies, but now there is security and people are safe. He said: I found it strange just as you do, so I asked the Messenger of Allah ﷺ about that, and he said: "It is a charity that Allah has bestowed upon you, so accept His charity." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اللہ تعالیٰ کا ایک صدقہ ہمارے اوپر یہ ہے کہ سفر میں دشمنوں کا ڈر نہ رہتے بھی نماز قصر مشروع اور ثابت ہے، اور رسول اکرم ﷺ اپنے تمام اسفار میں قصر کرتے تھے، اس حدیث سے بھی قصر کے وجوب کی تائید ہوتی ہے، اس لئے کہ اس میں نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے صدقے کو قبول کرنے کا حکم دیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٨٦)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٠ (١١٩٩، ١٢٠٠)، سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء (٣٠٣٤)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة ١ (١٤٣٤)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٥، ٣٦)، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٩ (١٥٤٦) (صحیح )
1066Sunan Ibne-Majah

سفر میں نماز کا قصر کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْر بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْأُمَيَّةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: إِنَّا نَجِدُ صَلَاةَ الْحَضَرِ، وَصَلَاةَ الْخَوْفِ فِي الْقُرْآنِ، وَلَا نَجِدُ صَلَاةَ السَّفَرِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ إِلَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَعْلَمُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا نَفْعَلُ كَمَا رَأَيْنَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ.

امیہ بن عبداللہ بن خالد سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے کہا: ہم قرآن میں نماز حضر اور نماز خوف کا ذکر پاتے ہیں، لیکن سفر کی نماز کا ذکر نہیں پاتے؟ تو عبداللہ بن عمر ؓ نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ نے ہماری جانب محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا ہے، اور ہم دین کی کچھ بھی بات نہ جانتے تھے، ہم وہی کرتے ہیں جیسے ہم نے محمد ﷺ کو کرتے دیکھا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Umayyah bin Abdullah bin Khalid that he said to Abdullah bin Umar (RA) : "We find (mention of) the prayer of the resident and the prayer in a state of fear in the Quran, but we do not find any mention of the prayer of the traveler. Abdullah said to him: "Allah sent Muhammad m to us, and we did not know anything, rather we do what we saw Muhammad ﷺ doing." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: حالانکہ قرآن کریم میں یہ آیت موجود ہے: وإذا ضربتم في الأرض فليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنکم الذين کفروا اخیر تک، یعنی: جب تم زمین میں سفر کرو تو نماز کے قصر کرنے میں تم پر گناہ نہیں، اگر تم کو ڈر ہو کہ کافر تم کو ستائیں گے، اس آیت سے سفر کی نماز کا حکم نکلتا ہے، مگر چونکہ اس میں قید ہے کہ اگر تم کو کافروں کا ڈر ہو تو امیہ بن عبداللہ نے نماز خوف سے اس کو خاص کیا، کیونکہ صرف سفر کا حکم جس میں ڈر نہ ہو قرآن میں نہیں پایا، اور عبداللہ بن عمر ؓ کے جواب کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ حکم صاف طور سے قرآن میں نہیں ہے، لیکن نبی اکرم ﷺ کے فعل سے مطلق سفر میں قصر کرنا ثابت ہے، پس حدیث سے جو امر ثابت ہو اس کی پیروی تو ویسے ہی ضروری ہے، جیسے اس امر کی جو قرآن سے ثابت ہو، ہم تک قرآن اور حدیث دونوں نبی اکرم ﷺ کے ذریعہ سے پہنچا ہے، اور قرآن میں حدیث کی پیروی کا صاف حکم ہے، جو کوئی صرف قرآن پر عمل کرنے کا دعویٰ کرے، اور حدیث کو نہ مانے وہ گمراہ ہے، اور اس نے قرآن کو بھی نہیں مانا، اس لئے کہ قرآن میں صاف حکم ہے: وما آتاکم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا اور فرمایا: من يطع الرسول فقد أطاع الله اور یہ ممکن نہیں کہ حدیث کے بغیر کوئی قرآن پر عمل کرسکے، اس لئے کہ قرآن مجمل ہے، اور حدیث اس کی تفسیر ہے، مثلاً قرآن میں نماز ادا کرنے کا حکم ہے لیکن اس کے شرائط، ارکان، اور کیفیات کا کوئی تذکرہ نہیں ہے، اسی طرح زکاۃ، حج، روزہ وغیرہ دین کے ارکان بھی صرف قرآن دیکھ کر ادا نہیں ہوسکتے، اور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے: ألا إني أوتيت القرآن ومثله معه خبردار ہو! مجھے قرآن دیا گیا، اور اس کے مثل ایک اور، یعنی حدیث۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/التقصیر ١ (١٤٣٥)، (تحفة الأشراف: ٦٣٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٦٦، ٩٤) (صحیح )
1067Sunan Ibne-Majah

سفر میں نماز کا قصر کرنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا خَرَجَ مِنْ هَذِهِ الْمَدِينَةِ لَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهَا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اس شہر سے باہر نکلتے تو دو رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھتے یہاں تک کہ آپ یہاں لوٹ آتے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn “Umar said: When the Messenger of Allah ﷺ went out from this city (Al-Madinah) he did not perform more than two Rak’ah for prayer until he returned.” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: حالانکہ مدینہ سے نکلتے ہی کافروں کا ڈر نہ ہوتا، پھر معلوم ہوا کہ بغیر ڈر کے بھی سفر میں قصر درست ہے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسافر جب شہر سے نکل جائے اس وقت سے قصر شروع کرے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٦٥٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٩٩، ١٢٤) (حسن صحیح )
1068Sunan Ibne-Majah

سفر میں نماز کا قصر کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، وَجُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: افْتَرَضَ اللَّهُ الصَّلَاةَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی اکرم ﷺ کی زبان سے حضر (اقامت) میں چار رکعتیں اور سفر میں دو رکعتیں فرض کیں۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "Allah enjoined the prayer upon the tongue of your Prophet ﷺ Four Rakoh. while a resident and two Rak ah when traveling." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین (٦٨٧)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٨٧ (١٢٤٧)، سنن النسائی/الصلاة ٣ (٤٥٧)، التقصیر ١ (١٤٤٣) الخوف ١ (١٥٣٣)، (تحفة الأشراف: ٦٣٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٧، ٢٤٣) (صحیح )
1069Sunan Ibne-Majah

سفر میں دو نمازیں اکٹھی پڑھنا

حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَطَاوُسٍ، أَخْبَرُوهُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي السَّفَرِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُعْجِلَهُ شَيْءٌ، وَلَا يَطْلُبَهُ عَدُوُّ، وَلَا يَخَافَ شَيْئًا.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مغرب اور عشاء کی نماز کو سفر میں جمع کرتے تھے، نہ تو آپ کو کسی چیز کی عجلت ہوتی، نہ کوئی دشمن آپ کا پیچھا کئے ہوئے ہوتا، اور نہ آپ کو کسی چیز کا خوف ہی ہوتا۔

It was narrated from Mujdhid, Saeed bin Jubair, Ata bin Abi Rabah and Tawus that Ibn Abbas told them that the Messenger of Allah ﷺ used to combine the Maghrib and Isha when traveling, although there was nothing to make him hurry and no enemy pursuing him, and he was not afraid of anything. (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٥٥٠، ٥٩٠٧، ٦٤١١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٧) (ضعیف) (اس کی سند میں ابراہیم بن اسماعیل ضعیف ہیں )
1070Sunan Ibne-Majah

سفر میں دو نمازیں اکٹھی پڑھنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فِي السَّفَرِ.

معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر و عصر، اور مغرب و عشاء کی نماز کو غزوہ تبوک کے سفر میں جمع فرمایا ١ ؎۔

It was narrated from Muadh bin Jabal that the Prophet ﷺ combined the Zuhr and Asr, and the Maghrib and Isha when traveling during the campaign of Tabuk. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: جمع بین الصلاتین کی دو قسمیں ہیں: ایک صوری، دوسری حقیقی، پہلی نماز کو آخر وقت میں اور دوسری نماز کو اوّل وقت میں پڑھنے کو جمع صوری کہتے ہیں، اور ایک نماز کو دوسری نماز کے وقت میں جمع کر کے پڑھنے کو جمع حقیقی کہتے ہیں، اس کی دو صورتیں ہیں ایک جمع تقدیم، دوسری جمع تاخیر، جمع تقدیم یہ ہے کہ ظہر کے وقت میں عصر اور مغرب کے وقت میں عشاء پڑھی جائے، اور جمع تاخیر یہ ہے کہ عصر کے وقت میں ظہر اور عشاء کے وقت میں مغرب پڑھی جائے، یہ دونوں جمع رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ جمع سے مراد جمع صوری ہے، لیکن صحیح یہ ہے کہ جمع سے مراد جمع حقیقی ہے کیوں کہ جمع کی مشروعیت آسانی کے لیے ہوئی ہے اور جمع صوری کی صورت میں تو اور زیادہ پریشانی اور زحمت ہے کیوں کہ تعیین کے ساتھ اول اور آخر وقت کا معلوم کرنا بہت دشوار امر ہے، اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جمع بین الصلاتین کی رخصت عرفہ اور مزدلفہ کے ساتھ خاص نہیں کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے تبوک میں بھی دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کیا ہے، واضح رہے کہ جمع بین الصلاتین کے لئے سفر کا تسلسل شرط نہیں، سفر کے دوران قیام کی حالت میں بھی جمع بین الصلاتین جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٦ (٧٠٦)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٤ (١٢٠٦ و ١٢٠٨)، سنن النسائی/المواقیت ٤٢ (٥٨٨)، (تحفة الأشراف: ١١٣٢٠)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٧ (٥٥٣)، موطا امام مالک/ قصر الصلاة ١ (١)، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٢ (١٥٥٦) (صحیح )
1071Sunan Ibne-Majah

سفر میں نفل پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: كُنَّا مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي سَفَرٍ فَصَلَّى بِنَا، ثُمَّ انْصَرَفْنَا مَعَهُ وَانْصَرَفَ، قَالَ: فَالْتَفَتَ، فَرَأَى أُنَاسًا يُصَلُّونَ، فَقَالَ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ قُلْتُ: يُسَبِّحُونَ، قَالَ: لَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا لَأَتْمَمْتُ صَلَاتِي يَا ابْنَ أَخِي، إِنِّي صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ، ثُمَّ صَحِبْتُ أَبَا بَكْرٍ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَحِبْتُ عُمَرَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَحِبْتُ عُثْمَانَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى قَبَضَهُمُ اللَّهُ، وَاللَّهُ يَقُولُ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21.

حفص بن عاصم بن عمر بن خطاب کہتے ہیں کہ ہم ابن عمر ؓ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر ہم ان کے ساتھ لوٹے، انہوں نے مڑ کر دیکھا تو کچھ لوگ نماز پڑھ رہے تھے، پوچھا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: سنت پڑھ رہے ہیں، انہوں نے کہا: اگر مجھے نفلی نماز (سنت) پڑھنی ہوتی تو میں پوری نماز پڑھتا، میرے بھتیجے! میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہا، آپ ﷺ نے سفر میں دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، پھر میں ابوبکر ؓ کے ساتھ رہا، انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی، پھر میں عمر ؓ کے ساتھ رہا، تو انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی، پھر میں عثمان ؓ کے ساتھ رہا تو انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہ پڑھی، اور پوری زندگی ان سب لوگوں کا یہی عمل رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی، اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لقد کان لکم في رسول الله أسوة حسنة تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے (سورۃ الاحزاب: ٢١ ) ١ ؎۔

It was narrated from Isa bin Hafs bin Asim bin Umar bin Khattab that his father told him: "We were with Ibn Umar on a journey, and he led us in prayer. Then we finished with him and he finished turning around, and saw some people praying. He said: What are these people doing? I said: Glorifying Allah: He said: If I wanted to glorify Allah (perform voluntary prayer) I would have completed my prayer. a son of my brother! I accompanied the Messenger of Allah ﷺ and he never prayed more than two Rakah when he was traveling, until Allah took his soul. Then I accompanied Abu Bakr (RA) and he never prayed more than two Rakah (when he was traveling), until Allah took his soul. Then I accompanied "Umar and he never prayed more than two Rakah, until Allah took his soul. Then I accompanied Uthman and he never prayed more than two Rakah, until Allah took his soul. AIlah says: Indeed In the Messenger of Allah ﷺ (Muhammad ﷺ ) you have a good example to follow:"

Notes · وضاحت
١ ؎: تو نماز ایسی عبادت میں بھی عبداللہ بن عمر ؓ نے سنت سے زیادہ پڑھنا مناسب نہ جانا، یہ عبداللہ بن عمر ؓ کا کمال اتباع ہے، اور وہ نبی اکرم ﷺ کی اتباع میں بہت سخت تھے، یہاں تک کہ ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر ان مقامات پر ٹھہرتے جہاں نبی اکرم ﷺ ٹھہرتے تھے، اور وہیں نماز ادا کرتے جہاں آپ ﷺ نماز پڑھتے تھے۔ سفر میں نماز کی سنتوں کے پڑھنے کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف ہے، اکثر کا یہ قول ہے کہ اگر پڑھے گا تو ثواب ہوگا، اور خود ابن عمر ؓ سے ترمذی کی روایت میں ظہر کی سنتیں پڑھنا منقول ہے، اور بعض علماء کا یہ قول ہے کہ سفر میں صرف فرض ادا کرے، سنتیں نہ پڑھے، ہاں عام نوافل پڑھنا جائز ہے، نبی کریم ﷺ اپنے اسفار مبارکہ میں فرض نماز سے پہلے یا بعد کی سنتوں کو نہیں پڑھتے تھے، سوائے فجر کی سنت اور وتر کے کہ ان دونوں کو سفر یا حضر کہیں نہیں چھوڑتے تھے، نیز عام نوافل کا پڑھنا آپ سے سفر میں ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١١ (١١٠١)، صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٨٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٦ (١٢٢٣)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة ٥ (١٤٥٩)، (تحفة الأشراف: ٦٦٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٢٤)، سنن الدارمی/الصلاة ١٧٩ (١٥٤٧) (صحیح )
1072Sunan Ibne-Majah

سفر میں نفل پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ طَاوُسًا عَنِ السُّبْحَةِ فِي السَّفَرِ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ جَالِسٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ حَدَّثَنِي طَاوُسٌ أَنَّه سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْحَضَرِ، وَصَلَاةَ السَّفَرِ، فَكُنَّا نُصَلِّي فِي الْحَضَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا، وَكُنَّا نُصَلِّي فِي السَّفَرِ قَبْلَهَا وَبَعْدَهَا.

اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس سے سفر میں نفل پڑھنے کے بارے سوال کیا، اور اس وقت ان کے پاس حسن بن مسلم بھی بیٹھے ہوئے تھے، تو حسن نے کہا: طاؤس نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے ابن عباس ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضر اور سفر دونوں کی نماز فرض کی، تو ہم حضر میں فرض سے پہلے اور اس کے بعد سنتیں پڑھتے، اور سفر میں بھی پہلے اور بعد نماز پڑھتے تھے۔

Usamah bin Zaid said: asked Tawus about performing voluntary prayer while traveling. Al-Hasan bin Muslim bin Yannaq as sitting with him and he said: Tawus told me that he heard Ibn Abbas (RA) say: "The Messenger of Allah ﷺ enjoined prayer while a resident and prayer when one is traveling. We used to pray when we were residents both before and after (the obligatory prayer), and We used to pray both before and after (the obligatory prayer) when We were traveling:"(Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٦٩٦، ومصباح الزجاجة: ٣٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٢) (منکر) (اسامہ بن زید میں کچھ ضعف ہے، اور یہ حدیث سابقہ حدیث اور خود ابن عباس ؓ کی ایک حدیث سے معارض ہے، نیز سنن نسائی میں ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ سفر میں دو رکعت سے زیادہ (فرض) نہیں پڑھتے تھے، اور نہ اس فریضہ سے پہلے اور نہ اس کے بعد (نوافل) پڑھتے تھے، ( ١٤٥٩ )، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢ /٦٠٥ )
1073Sunan Ibne-Majah

جب مسافر کسی شہر میں قیام کرے تو کب تک قصر کرے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُالسَّائِب بْنَ يَزِيدَ مَاذَا سَمِعْتَ فِي سُكْنَى مَكَّةَ؟ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثًا لِلْمُهَاجِرِ بَعْدَ الصَّدَرِ.

عبدالرحمٰن بن حمید زہری کہتے ہیں کہ میں نے سائب بن یزید سے پوچھا کہ آپ نے مکہ کی سکونت کے متعلق کیا سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ میں نے علاء بن حضرمی ؓ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مہاجرین کو منٰی سے لوٹنے کے بعد تین دن تک مکہ میں رہنے کی اجازت ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abdur-Rahman bin Humaid Az-Zuhri said: "I asked Saib bin Yazid: What have you heard about staying in Makkah? He said: I heard Ala bin Hadrami say: "The Prophet ﷺ said: Three (days) for the Muhajir after departing (from Mina). (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: مہاجر وہ لوگ تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تھی، آپ ﷺ نے مہاجرین کو تین دن سے زیادہ مکہ میں رہنے کی اجازت نہ دی، اس حدیث کا تعلق ترجمہ باب سے معلوم نہیں ہوتا مگر یوں کہہ سکتے ہیں کہ جب مہاجرین کو جو کہ مکہ میں مسافر تھے نبی اکرم ﷺ نے تین دن رہنے کی اجازت دی، تو معلوم ہوا کہ تین دن کی اقامت سے سفر کا حکم باطل نہیں ہوتا، پس اگر کوئی مسافر کسی شہر میں تین دن ٹھہرنے کی نیت کرے تو قصر کرے، اور اس مسئلہ میں علماء کا بہت اختلاف ہے لیکن اہل حدیث نے اس کو اختیار کیا ہے کہ اگر تردد و شک کے ساتھ مسافر کو کہیں ٹھہرنے کا اتفاق ہو تو بیس دن تک قصر کرتا رہے، اس کے بعد پوری نماز ادا کرے، کیونکہ جابر ؓ کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے تبوک میں بیس راتوں تک کی اقامت میں قصر کا حکم دیا، اس واسطے کہ قصر حالت سفر میں مشروع تھا، اور جب اقامت کی تو سفر نہ رہا، اور اگر یقین کے ساتھ مسافر کہیں ٹھہرنے کا ارادہ کرے، تو اگر چار دن یا زیادہ کی اقامت کی نیت کرے، تو چار دن کے بعد نماز پوری پڑھے، اور جو چار دن سے کم رہنے کی نیت کرے تو قصر کرے، یہ حنبلی مذہب کا مشہور مسئلہ ہے، اور دلیل اس کی یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ ذوالحجہ کی چوتھی تاریخ کی صبح کو مکہ میں تشریف لائے، اور ساتویں دن تک قیام فرمایا، اور آٹھویں تاریخ کی صبح کو نماز فجر پڑھ کر منیٰ تشریف لے گئے، اور چار دنوں میں مکہ میں قصر کرتے رہے، جبکہ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مکہ میں انیس دن تک نماز قصر ادا کی (صحیح البخاری)، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اقامت کی حد چار دن نہیں ہے، سنن ابی داود ( ١٢٣٥ ) میں جابر ؓ سے مروی ہے کہ تبوک میں بیس دن تک اقامت رہی، اور قصر پڑھتے رہے، مختلف احادیث میں مختلف مدتوں کے ذکر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کوئی تعارض کی بات ہے، رواۃ نے اپنی اپنی معلومات کے مطابق بیان کیا، راجح قول یہی ہے کہ مسافر جب تک اقامت کی نیت نہ کرے نماز کو قصر کرے اور جمع بھی، جب تک کہ اقامت کی نیت نہ کرے اور سفر کو ختم نہ کر دے، شیخ الإسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ مسافر کے لیے قصر و افطار اس وقت تک ہے جب تک کہ وہ اقامت اور سکونت نہ اختیار کرلے، اور چند دن کی اقامت کی نیت سے مقیم اور مسافر کے درمیان فرق وتمیز شرع اور عرف میں غیر معروف چیز ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مناقب الانصار ٤٧ (٣٩٣٣)، صحیح مسلم/الحج ٨١ (١٣٥٢)، سنن ابی داود/الحج ٩٢ (٢٠٢٢)، سنن الترمذی/الحج ١٠٣ (٩٤٩)، سنن النسائی/تقصیرالصلاة ٤ (١٤٥٥، ١٤٥٦)، (تحفة الأشراف: ١١٠٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٣٩، ٥/٥٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١٨٠ (١٥٥٣) (صحیح )
1074Sunan Ibne-Majah

جب مسافر کسی شہر میں قیام کرے تو کب تک قصر کرے ؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فِي أُنَاسٍ مَعِي، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ شَهْرِ ذِي الْحِجَّةِ.

عطاء کہتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ ؓ نے مجھ سے میرے ساتھ کئی لوگوں کی موجودگی میں حدیث بیان کی کہ نبی اکرم ﷺ مکہ مکرمہ چار ذی الحجہ کی صبح تشریف لائے۔

Ata narrated: " Jabir bin Abdullah (RA) , who was among the people with me, told me that the Prophet ﷺ arrived in Makkah in the morning of the fourth day of Dhul-Hijjah: (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشرکة ١٥ (٢٥٠٥) التمنی ٣ (٧٢٢٩)، سنن النسائی/الحج ١٠٨ (٢٨٧٥)، (تحفة الأشراف: ٢٤٤٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ١٨ (١٢١٦)، سنن ابی داود/الحج ٢٣ (١٧٨٨)، مسند احمد (٣/٣٠٥، ٣١٧) (صحیح )
1075Sunan Ibne-Majah

جب مسافر کسی شہر میں قیام کرے تو کب تک قصر کرے ؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَنَحْنُ إِذَا أَقَمْنَا تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا نُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَإِذَا أَقَمْنَا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں انیس ( ١٩ ) دن رہے، اور دو دو رکعت پڑھتے رہے، لہٰذا ہم بھی جب انیس ( ١٩ ) دن قیام کرتے ہیں تو دو دو رکعت پڑھتے ہیں، اور جب اس سے زیادہ قیام کرتے ہیں تو چار رکعت پڑھتے ہیں ١ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ stayed for nineteen days in which he shortened his prayer to two Rakoh, So, whenever we stayed for nineteen days we would shorten our prayer to two Rakah, but if we stayed more than that we would pray four Rakah:" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن عباس ؓ کا مذہب انیس دن کی اقامت تک قصر کا تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١ (١٠٨٠)، المغازي (٤٢٩٨)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٥ (٥٤٩)، سنن ابی داود/الصلاة (١٢٣٠)، (تحفة الأشراف: ٦١٣٤) (صحیح )
1076Sunan Ibne-Majah

جب مسافر کسی شہر میں قیام کرے تو کب تک قصر کرے ؟

حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الصَّيْدَلَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَقَامَ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً يَقْصُرُ الصَّلَاةَ.

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سال مکہ میں پندرہ دن قیام کیا، اور نماز قصر کرتے رہے۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah ﷺ stayed in Makkah for fifteen nights during the year of the Conquest, (during which time) he shortened his prayer, (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٩ (١٢٣١)، (تحفة الأشراف: ٥٨٤٩)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/تقصیر الصلاة ٤ (١٤٥٤) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٣ /٢٦، ٢٧ )
1077Sunan Ibne-Majah

جب مسافر کسی شہر میں قیام کرے تو کب تک قصر کرے ؟

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، حَتَّى رَجَعْنَا، قُلْتُ: كَمْ أَقَامَ بِمَكَّةَ، قَالَ: عَشْرًا.

انس ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے اور واپسی تک دو دو رکعت نماز پڑھتے رہے۔ یحییٰ کہتے ہیں: میں نے انس ؓ سے پوچھا کہ آپ کتنے دنوں تک مکہ میں رہے؟ کہا: دس دن تک۔

Yahya bin Abu Ishâq narrated that Anas said: “We went out with the Messenger of Allah ﷺ from Al-Madinah to Makkah, during which time we shortened our prayer to two Rak’ah, until we came back.” I asked: “How long did he stay in Makkah?” He said: “Ten (days).” (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تقصیرالصلاة ١ (١٠٨١)، المغازي ٥٢ (٤٢٩٧)، صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٩٣)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٧٩ (١٢٣٣)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٥ (٥٤٨)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة (١٤٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٨٧، ١٩٠) (صحیح )
1078Sunan Ibne-Majah

نماز چھوڑ نے والے کی سزا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بندہ اور کفر کے درمیان حد فاصل نماز کا چھوڑنا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Jâbir bin ‘Abdullah said: “The Messenger of Allah ﷺ said: Between a person and Kufr (disblief) is abandoning the prayer.’” (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کفر اور بندے میں نماز ہی حد فاصل اور حائل ہے، جہاں نماز چھوڑی یہ حد فاصل اٹھ گئی اور آدمی کافر ہوگیا، یہی امام احمد اور اصحاب حدیث کا مذہب ہے اور حماد بن زید، مکحول، مالک اور شافعی نے کہا کہ تارک نماز کا حکم مثل مرتد کے ہے، یعنی اگر توبہ نہ کرے تو وہ واجب القتل ہے، اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک تارک نماز کافر نہ ہوگا، لیکن کفر کے قریب ہوجائے گا، حالانکہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: نماز کا ترک کفر ہے، اور ایسا ہی منقول ہے عمر اور دوسرے صحابہ کرام ؓ سے، جمہور علماء اس حدیث کی تاویل کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو نماز کے چھوڑ دینے کو حلال سمجھے، وہ شخص جو محض سستی کی وجہ سے اسے چھوڑ دے وہ کافر نہیں ہوتا، لیکن بعض محققین کے نزدیک نماز کی فرضیت کے عدم انکار کے باوجود عملاً و قصداً نماز چھوڑ دینے والا بھی کافر ہے، دیکھئے اس موضوع پر عظیم کتاب تعظيم قدر الصلاة تالیف امام محمد بن نصر مروزی، ب تحقیق ڈاکٹر عبدالرحمن الفریوائی، اور تارک صلاۃ کا حکم تالیف شیخ محمد بن عثیمین، ترجمہ ڈاکٹر عبدالرحمن الفریوائی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/السنة ١٥ (٤٦٧٨)، سنن الترمذی/الإیمان ٩ (٢٦٢٠)، (تحفة الأشراف: ٢٧٤٦)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان ٣٥ (٨٢)، سنن النسائی/الصلاة ٨ (٤٦٤، ٤٦٥)، مسند احمد (٣/٣٧٠، ٣٨٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٩ (١٢٦٩) (صحیح )
1079Sunan Ibne-Majah

نماز چھوڑ نے والے کی سزا

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارے اور منافقوں کے درمیان نماز معاہدہ ہے ١ ؎، جس نے نماز ترک کردی اس نے کفر کیا ۔

Abdullah bin Buraidah narrated that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The covenant that distinguishes between us and them is prayer; so whoever leaves it, he has committed Kufr. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب تک وہ نماز ادا کرتے رہیں گے، ہم ان پر اسلام کے احکام جاری رکھیں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الإیمان ٩ (٢٦٢١)، سنن النسائی/الصلاة ٨ (٤٦٤)، (تحفة الأشراف: ١٩٦٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٣٤٦) (صحیح )
1080Sunan Ibne-Majah

نماز چھوڑ نے والے کی سزا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعْدٍ، عَنْيَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ بَيْنَ الْعَبْدِ وَالشِّرْكِ إِلَّا تَرْكُ الصَّلَاةِ، فَإِذَا تَرَكَهَا فَقَدْ أَشْرَكَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بندے اور شرک کے درمیان نماز چھوڑنے کا فرق ہے، جب اس نے نماز چھوڑ دی تو شرک کیا ١ ؎۔

It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Prophet ﷺ said: "There is nothing standing between a person and Shirk (polytheism) except leaving the prayer, so if he leaves it he has committed Shirk." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: مشرک اور کافر دونوں کا حکم ایک ہے، دونوں جہنم میں ہمیشہ رہیں گے، معاذ اللہ! اتنی صاف حدیثوں کو دیکھ کر بھی کوئی نماز ترک کر دے تو اس سے زیادہ بدبخت و بدنصیب کون ہوگا کہ مشرک اور کافر ہوگیا، اور دین محمدی سے نکل گیا، أعاذنا الله !
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٦٨١، ومصباح الزجاجة: ٣٨١) (صحیح) (اس کی سند میں یزید بن أبان الرقاشی ضعیف ہیں، لیکن دوسری احادیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: ٥٧٤ ، مصباح الزجاجة: ٣٨٤ ب تحقیق عوض الشہری )