انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تاریکیوں میں مسجدوں کی جانب چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن کامل نور کی بشارت سنا دو ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: "Give glad tidings, to those who walk to the Masjids in the dark, of perfect light on the "Day of Resurrection:" (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٠١، ومصباح الزجاجة: ٢٩٦) (صحیح) (سند میں سلیمان بن داود الصائغ ضعیف ہیں، لیکن دوسری سند سے یہ صحیح ہے، تراجع الألبانی: رقم: ٥٦٤ ، نیز بوصیری نے دس شاہد کا ذکر لیا ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسجد میں جو جتنا ہی دور سے آتا ہے، اس کو اتنا ہی زیادہ اجر ملتا ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The greater the distance from the Masjid, the greater the reward:" (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٤٩ (٥٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٥١، ٤٢٨) (صحیح )
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک انصاری شخص کا مکان انتہائی دوری پر تھا، اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس کی کوئی نماز نہیں چھوٹتی تھی، مجھے اس کی یہ مشقت دیکھ کر اس پر رحم آیا، اور میں نے اس سے کہا: اے ابوفلاں! اگر تم ایک گدھا خرید لیتے جو تمہیں گرم ریت پہ چلنے، پتھروں کی ٹھوکر اور زمین کے کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رکھتا (تو اچھا ہوتا) ! اس انصاری نے کہا: اللہ کی قسم میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر محمد ﷺ کے گھر کے کسی گوشے سے ملا ہو، اس کی یہ بات مجھے بہت ہی گراں گزری ١ ؎ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے اس کو بلایا اور اس سے پوچھا، تو اس نے آپ کے سامنے بھی وہی بات کہی، اور کہا کہ مجھے نشانات قدم پر ثواب ملنے کی امید ہے، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس ثواب کی تم امید رکھتے ہو وہ تمہیں ملے گا ۔
It was narrated that Ubayy bin Kab said: "There was a man among the Ansar whose house was the furthest house in AIMadinah,yet he never missed prayer with the Messenger of Allah ﷺ , I felt sorry for him and said: O so-and-so, why do you not buy a donkey to spare Yourself the heat of the scorching sand , to carry you over the stony ground, and keep you away from the vermin on the ground? He said: By Allah! I do not want to ve so close to Muhammad ﷺ This troubled me until I came to the house of the Prophet ﷺ and mentioned that to him. He called (the man) and asked him, and he said something similar, and said that he was hoping for the reward for his steps. The Messenger of Allah ﷺ said, You will have that (reward) that you sought."(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کہ یہ کیسا مسلمان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس رہنا پسند نہیں کرتا ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے پرانے گھروں کو جو مسجد نبوی سے فاصلہ پر تھے چھوڑ کر مسجد نبوی کے قریب آ رہیں، تو نبی اکرم ﷺ نے مدینہ کی ویرانی کو مناسب نہ سمجھا، اور فرمایا: بنو سلمہ! کیا تم اپنے نشانات قدم میں ثواب کی نیت نہیں رکھتے؟ ، یہ سنا تو وہ وہیں رہے جہاں تھے۔
It was narrated that Anas said: "Banu Salimah wanted to move from their homes to somewhere near the Masjid, but the Prophet ﷺ did not want the outskirts of Al-Madinah to be left vacant, so he said: O Banu salimah, do you not hope for the reward of your footsteps? So they stayed (where they were)." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٥٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٣٣ (٦٥٥)، مسند احمد (٣/١٠٦، ١٨٢، ٢٦٣) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ انصار کے مکانات مسجد نبوی سے کافی دور تھے، ان لوگوں نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب آجائیں تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ونکتب ما قدموا وآثارهم ہم ان کے کئے ہوئے اعمال اور نشانات قدم لکھیں گے (يسين: 12) تو وہ اپنے مکانوں میں رک گئے ١ ؎۔
it was narrated that Ibn Abbas said: "The houses of the Ansar were far from the Masjid and they wanted to move closer. Then the following Verse was revealed: We record that which they send before (them), and their traees.He said: So they remained (where they were)." (Hasan)
Notes · وضاحت
ا ؎: ان حدیثوں کے خلاف وہ حدیث نہیں ہے کہ گھر کی نحوست یہ ہے کہ وہاں اذان سنائی نہ دے، کیونکہ یہ نحوست اس وجہ سے ہے کہ اکثر ایسے گھر میں رہنے سے جماعت چھوٹ جاتی ہے، نماز کا وقت معلوم نہیں ہوتا، اور ان حدیثوں میں اس شخص کی فضیلت ہے جو دور سے مسجد آئے، اور جماعت میں شریک ہو، اور ابن کثیر نے تصریح کی ہے کہ جو گھر مسجد سے زیادہ دور ہو وہی افضل ہے، امام مسلم نے جابر ؓ سے روایت کی ہے کہ ہمارے گھر مسجد سے زیادہ دور تھے ہم نے چاہا کہ ان کو بیچ ڈالیں اور مسجد کے قریب آ رہیں تو نبی اکرم ﷺ نے ہم کو منع کیا، اور فرمایا: تم کو ہر قدم پر ایک درجہ ملے گا، اور امام احمد نے روایت کی ہے کہ مسجد سے دور جو گھر ہو اس کی فضیلت مسجد سے قریب والے گھر پر ایسی ہے جیسے سوار کی فضیلت بیٹھے ہوئے شخص پر۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦١٢٧، ومصباح الزجاجة: ٢٩٧) (صحیح) (سماک کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا گھر میں یا بازار میں تنہا نماز پڑھنے سے بیس سے زیادہ درجہ افضل ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: A mans prayer in congregation is twenty-some levels higher than his prayer in his house or in the marketplace. " (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ جب ہے کہ گھر میں وہ اکیلے نماز ادا کرے، اسی طرح بازار میں، دوسری روایت میں ستائیس درجے زیادہ کا ذکر ہے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جماعت کی فضیلت تم میں سے کسی کے اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس درجہ زیادہ ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The prayer in congregation is twenty-five times more virtuous than the prayer of anyone of you on his own," (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣١١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٦٤، ٣٩٦)، سنن الدارمی/الصلاة ٥٦ (١٣١٢) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا گھر میں تنہا نماز پڑھنے سے پچیس درجہ افضل ہے ۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The prayer of a man in congregation is twenty-five levels higher than his prayer in his home. (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٤٩ (٥٦٠)، (تحفة الأشراف: ٤١٥٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٣٠ (٦٤٧)، مسند احمد (٣/٥٥) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کا جماعت کی نماز تنہا پڑھی گئی نماز پر ستائیس درجہ فضیلت رکھتی ہے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The prayer of a man in congregation is twentyseven levels more virtuous than a mans prayer on his own.(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے پہلی والی حدیث میں نماز باجماعت کی فضیلت ( ٢٥ ) گنا کا ذکر ہے اور اس حدیث میں ( ٢٧ ) گنا فضیلت بتائی گئی ہے، اس کی توجیہ علماء نے یہ کی ہے کہ یہ فضیلت رسول اللہ ﷺ کو پہلے ( ٢٥ ) گنا بتلائی گئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مزید اضافہ فرما کر اسے ( ٢٧ ) گنا کردیا، اور بعض نے کہا کہ یہ کمی بیشی نماز میں خشوع و خضوع اور اس کے سنن و آداب کی حفاظت کے اعتبار سے ہوتی ہے۔
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کا جماعت کی نماز تنہا پڑھی ہوئی نماز پر چوبیس یا پچیس درجہ فضیلت رکھتی ہے ۔
It was narrated that Ubayy bin Kab said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The prayer of a man in congregation is higher than his prayer on his own by twenty-four or twenty-five levels." (Hasan)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرا پختہ ارادہ ہوا کہ نماز پڑھنے کا حکم دوں اور اس کے لیے اقامت کہی جائے، پھر ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، اور میں کچھ ایسے لوگوں کو جن کے ساتھ لکڑیوں کا گٹھر ہو، لے کر ان لوگوں کے پاس جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے ہیں، اور ان کے ساتھ ان کے گھروں کو آگ لگا دوں ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: I was thinking of commanding that the call to prayer be given, then I would tell a man to lead the people in prayer, then I would go out with some other men carrying bundles of wood, and go to people who do not attend the prayer, and burn their houses down around them. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ابن القیم کہتے ہیں: ظاہر ہے کہ گھر کا جلانا صغیرہ گناہ پر نہیں ہوتا، تو جماعت کا ترک کرنا کبیرہ گناہ ہے، اور نبی اکرم ﷺ نے شروع سے اپنی وفات تک جماعت پر مواظبت فرمائی، اور جس نے اذان سنی گرچہ وہ اندھا ہو اس کو جماعت کے ترک کی اجازت نہ دی۔
عبداللہ ابن ام مکتوم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے کہا: میں بوڑھا اور نابینا ہوں، میرا گھر دور ہے اور مجھے مسجد تک لانے والا میرے مناسب حال کوئی آدمی بھی نہیں ہے، تو کیا آپ میرے لیے (جماعت سے غیر حاضری کی) کوئی رخصت پاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اذان سنتے ہو؟ ، میں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے لیے کوئی رخصت نہیں پاتا ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umm Maktum said: "I said to the Prophet ﷺ I am an old man and " blind; my house is far away, and have no one to lead me. Is there any concession (for me not to have to attend the prayer in the Masjid)? He said: Can you hear " the call? I said: Yes. He said: Then I do not find any concession for you. (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے جماعت کی بڑی اہمیت و تاکید ثابت ہوتی ہے، اور نبی اکرم ﷺ نے عبداللہ ابن ام مکتوم ؓ کو جماعت سے غیر حاضر رہنے کی اجازت نہ دی، حالانکہ وہ اندھے تھے، اور انہوں نے کہا کہ میرے پاس کوئی آدمی بھی نہیں ہے جو مجھ کو پکڑ کر لائے، کیونکہ ان کا گھر مسجد سے بہت دور نہ تھا، وہ اذان کی آواز سنتے تھے اور بغیر آدمی کے آسکتے تھے، اور بعضوں نے کہا: حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمہارے لیے جماعت کا ترک جائز نہیں کیونکہ اندھا ہونا جماعت سے معافی کے لئے قوی عذر ہے، اور آپ ﷺ نے عتبان بن مالک ؓ کی جماعت ان کے اندھے ہونے کی وجہ سے معاف کی، بلکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے لئے ایسی رخصت نہیں پاتا کہ تم جماعت میں حاضر نہ ہو، اور جماعت کا ثواب نہ پاؤ، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٤٧ (٥٥٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٨٨)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الإمامة ٥٠ (٨٥٢)، مسند احمد (٣/٤٢٣) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے اذان سنی لیکن مسجد میں نہیں آیا تو اس کی نماز نہیں ہوگی، الا یہ کہ کوئی عذر ہو ۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ said: "Whoever hears the call and does not come, his prayer is not valid, except for those who have an excuse." (Sahih)
عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر ؓ خبر دیتے ہیں کہ ان دونوں نے نبی اکرم ﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: لوگ نماز باجماعت چھوڑنے سے ضرور باز آجائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا، پھر ان کا شمار غافلوں میں ہونے لگے گا ١ ؎۔
Ibn Abbas and Ibn Umar narrated that they heard the Prophet ﷺ say on his pulpit: "People should desist from failing to attend the congrega tions, otherwise Allah will seal their hearts, and then they will be among the negligent." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایمان کا نور ان کے دلوں سے جاتا رہے گا، اور عبادت کی لذت اور حلاوت ان کو حاصل نہ ہوگی، یا عبادت کا اثر ان کے دلوں پر نہ ہوگا، اور دل میں غفلت اور تاریکی بھر جائے گی، یہ فرمودہ آپ ﷺ کا مجرب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٢ (٨٦٥)، سنن النسائی/الجمعة ٢ (١٣٧١)، (تحفة الأشراف: ٦٦٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٣٩، ٢٥٤، ٣٣٥، ٢/٨٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٥ (١٦١١) (صحیح) (صحیح مسلم میں یہ حدیث ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے، اور اس میں الجمعات ہے، جس کو البانی صاحب نے محفوظ بتایا ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٩٦٧ )
اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگ جماعتوں کے چھوڑنے سے ضرور باز رہیں، ورنہ میں ان کے گھروں کو آگ لگا دوں گا ۔
It was narrated that Usamah bin"Zaid. sali:d "The Messenger of Allah ﷺ said: Let men desist from failing to attend the congregation, otherwise I will burn their houses down.(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب کی احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ نماز جماعت فرض ہے، جماعت کی حاضری بہت ضروری ہے جماعت کے ترک کی رخصت صرف چند صورتوں میں ہے: سخت سردی، بارش کی رات، کوئی سخت ضرورت ہو جیسے بھوک لگی ہو اور کھانا تیار ہو، پیشاب و پاخانہ کی حاجت ہو بصورت دیگر سستی یا کاہلی کے سبب جماعت ترک کرنا جائز نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٠، ومصباح الزجاجة: ٢٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٠٦) (صحیح) (سند میں ولید بن مسلم مدلس ہیں، اور عثمان مجہول اور زبرقان کا سماع اسامہ ؓ سے نہیں ہے، لیکن حدیث سابقہ شواہد سے صحیح ہے، تراجع الألبانی: رقم: ٣٨١ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر لوگوں کو عشاء اور فجر کی نماز کا ثواب معلوم ہوجائے، تو وہ ان دونوں نمازوں میں ضرور آئیں، خواہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے کیوں نہ آنا پڑے ١ ؎۔
Aisha (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: If the people knew what (reward) there is in the Isha prayer and Fajr prayer, they would come even if they had to crawl. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر چل نہ سکے تو ہاتھ اور سرین (چوتڑ) کے بل جماعت میں آئیں، اس حدیث سے عشاء اور فجر کی بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے، اور اس کا سبب یہ ہے کہ ان دونوں نمازوں کا وقت نیند اور سستی کا وقت ہوتا ہے، اور نفس پر بہت شاق ہوتا ہے کہ آرام چھوڑ کر نماز کے لئے حاضر ہو، اور جو عبادت نفس پر زیادہ شاق ہو اس میں زیادہ ثواب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٤٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٨٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: منافقین پر سب سے بھاری عشاء اور فجر کی نماز ہے، اگر وہ ان دونوں نمازوں کا ثواب جان لیں تو مسجد میں ضرور آئیں گے، خواہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے کیوں نہ آنا پڑے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The most burdensome prayers for the hypocrites are the IsM prayer and the Fajr prayer. If only they knew what (reward) there is in them, they would come to them even if they had to crawl. .. (Sahih)
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے تھے: جس شخص نے مسجد میں چالیس دن تک جماعت کے ساتھ نماز پڑھی، اور نماز عشاء کی پہلی رکعت فوت نہ ہوئی، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس کے لیے جہنم سے آزادی لکھ دے گا ١ ؎۔
It was narrated from Umar bin Khattab that the Prophet ﷺ used to say: "Whoever performs prayer in congregation at the Masjid for forty nights, never missing the first Rakah of the Isha prayer, Allah will thereby decree for him salvation from theFire." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: اور ابوداؤد میں ہے کہ ہر شے کی ایک عمدگی ہے، اور نماز کی عمدگی تکبیر اولی ہے، اس لئے اس پر محافظت کرو، نیز اس حدیث کی روشنی میں بعض لوگوں نے کہا ہے کہ جس شخص نے جماعت کی پہلی رکعت پائی اس نے گویا تکبیر تحریمہ امام کے ساتھ پائی، کیونکہ دوسری روایت میں رکعت اولی کے بدل تکبیر اولی ہے، اور تکبیر اولی پانے میں تین قول ہیں، ایک یہ کہ امام کی تکبیر کے ساتھ ہی شریک ہو، دوسرے یہ کہ امام کی قرأت سے پہلے نماز میں شریک ہوجائے، تیسرے یہ کہ رکوع سے پہلے شریک ہوجائے، اور اخیر قول میں آسانی ہے، مولانا وحید الزمان فرماتے ہیں کہ صرف رکوع پانے سے بہت سے اہل حدیث کے نزدیک رکعت نہیں ہوتی، پس تکبیر اولی بھی نہ پائے، ہاں اگر اتنی مہلت پائے کہ سورة فاتحہ پڑھ لے تو وہ رکعت مل جائے گی، اور اس صورت میں گویا تکبیر اولی اس نے پا لی، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٤١٥، ومصباح الزجاجة: ٢٩٩) (حسن) (سند میں عمارة کی ملاقات انس ؓ سے نہیں ہے، اور اسماعیل بن عیاش مدلس ہیں، اس لئے لا تفوته الرکعة الأولى من صلاة العشاء کا ٹکڑا صحیح نہیں، بقیہ حدیث دوسرے شواہد کی بناء پر درجہ حسن تک پہنچتی ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٦٥٢ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو کر نماز کے لیے رکے رہتا ہے تو وہ نماز ہی میں رہتا ہے، اور فرشتے اس شخص کے لیے اس وقت تک دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اس جگہ بیٹھا رہتا ہے جس جگہ اس نے نماز ادا کی ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم کر، اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما، یہ دعا یوں ہی جاری رہتی ہے جب تک کہ اس کا وضو نہ ٹوٹے، اور جب تک وہ ایذا نہ دے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When one of you enters the Masjid, he is in a state of prayer, so long as the prayer keeps him there, and the angels will send prayer upon anyone of you so long as he remains in the place where he prayed, saying: "O Allah, forgive him; O Allah, have mercy on him; O Allah, accept his repentance," so long as he does not commit Hadath nor disturb anyone. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: فرشتے اس کے لئے اس وقت تک دعا کرتے رہتے ہیں جب تک وہ باوضو رہتا ہے، اگر وہ زبان یا ہاتھ سے کسی مسلمان کو تکلیف پہنچا دیتا ہے تو فرشتوں کی دعا بند ہوجاتی ہے، اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لئے مسجد میں ہمیشہ باوضو رہنا چاہیے، اگرچہ بےوضو بھی رہ سکتا ہے، مگر یہ فضیلت حاصل نہ ہوگی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٥٤٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء ٣٥ (١٧٦)، الصلاة ٦١ (٤٤٥)، ٨٧ (٤٧٧)، الأذان ٣٠ (٦٤٧)، ٣٦ (٦٥٩)، البیوع ٤٩ (٢١١٩)، بدء الخلق (٣٢٢٩) ٧ (٦٤٩)، صحیح مسلم/المساجد ٤٩ (٦٤٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٠ (٤٦٩)، سنن الترمذی/الصلاة ١٢٩ (٣٣٠)، سنن النسائی/المساجد ٤٠ (٧٣٤)، موطا امام مالک/قصر الصلاة ١٨ (٥٤)، مسند احمد (٢/٢٦٦، ٢٨٩، ٣١٢، ٣٩٤، ٤١٥، ٤٢١، ٤٨٦، ٥٠٢) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو مسلمان مسجد کو نماز اور ذکر الٰہی کے لیے اپنا گھر بنا لے تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسا خوش ہوتا ہے جیسے کہ کوئی شخص بہت دن غائب رہنے کے بعد گھر واپس لوٹے، تو گھر والے خوش ہوتے ہیں ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: "A Muslim does not regularly attend the Masjids to perform prayer and remember Allah, but Allah feels happy with him just as the family of one who is absent feels happy when he comes back to them." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣٣٨٩، ومصباح الزجاجة: ٣٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٠٧، ٣٢٨، ٣٤٠، ٤٥٣) (صحیح )