Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 39 of 218

761Sunan Ibne-Majah

مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ أَبُو مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وأبي سعيد الخدري: أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي جِدَارِ الْمَسْجِدِ، فَتَنَاوَلَ حَصَاةً فَحَكَّهَا، ثُمَّ قَالَ: إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْزُقْ عَنْ شِمَالِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى.

ابوہریرہ اور ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد کی دیوار پر رینٹ دیکھی تو آپ ﷺ نے ایک کنکری لے کر اسے کھرچ ڈالا، پھر فرمایا: جب کوئی شخص تھوکنا چاہے تو اپنے سامنے اور اپنے دائیں ہرگز نہ تھوکے، بلکہ اپنے بائیں جانب یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) and Abu Saeed AIKhudri that the Messenger of Allah ﷺ saw some sputum on the wall of the Masjid. He picked up a stone and scraped it off. then he said. "If anyone of you needs to spit, he should not spit in front of him or to his right; let him spit to his left or under his left foot." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: مسجد میں تھوک، بلغم، رینٹ وغیرہ سے طاقت بھر پرہیز لازم ہے، اگر شدید ضرورت ہو، اور مسجد کا فرش ریت یا مٹی کا ہو تو بائیں پیر کے نیچے تھوک کر اس کو دبا دے، لیکن آج کل مساجد کے فرش پختہ ہیں، ان پر کسی بھی صورت میں تھوکنا جائز نہیں، ضرورت کے وقت رومال وغیرہ میں تھوکے، مسجد کو گندہ ہونے سے بچائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٣٤ (٤٠٨)، ٣٥ (٤١٠)، ٣٦ (٤١٣)، صحیح مسلم/المساجد ١٣ (٥٤٧)، سنن النسائی/المساجد ٣٢ (٧٢٦)، (تحفة الأشراف: ٣٩٩٧، ١٢٢٨١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٢٣ (٤٧٧)، مسند احمد (٣/٦، ٢٤، ٥٨، ٨٨، ٩٣) (صحیح )
762Sunan Ibne-Majah

مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَحَكَّتْهَا، وَجَعَلَتْ مَكَانَهَا خَلُوقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَحْسَنَ هَذَا.

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مسجد کی دیوار قبلہ پر بلغم دیکھا، تو آپ ﷺ سخت غصہ ہوئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا، اتنے میں قبیلہ انصار کی ایک عورت آئی اور اس نے اسے کھرچ دیا، اور اس کی جگہ خوشبو لگا دی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ کتنا اچھا کام ہے ١ ؎۔

It was narrated from Anas that the Prophet ﷺ saw some sputum in the prayer direction of the Masjid and he became so angry that his face turned red. Then a woman from among the Ansar came and scraped it off, and put some Khaluqr on that spot. The Messenger of Allah ﷺ said: "How good this is." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اکرم ﷺ نے عورت کی تعریف کی کہ اس نے مسجد سے کراہت کی چیز نکال ڈالی اور اس کے بعد قبلہ کی طرف خوشبو لگائی، نبی اکرم ﷺ کے وقت میں دیوار صاف ہوتی تھی جب بھی کوئی اس پر تھوک دیتا وہ واضح طور پر نظر آتا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/المساجد ٣٥ (٧٢٩)، (تحفة الأشراف: ٦٩٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٨٨، ١٩٩، ٢٠٠) (صحیح )
763Sunan Ibne-Majah

مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ وَهُوَ يُصَلِّي بَيْنَ يَدَيِ النَّاسِ فَحَتَّهَا، ثُمَّ قَالَ حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ: إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ، فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ أَحَدُكُمْ قِبَلَ وَجْهِهِ فِي الصَّلَاةِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد کی دیوار قبلہ پر بلغم دیکھا، اس وقت آپ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، آپ ﷺ نے وہ بلغم کھرچ دیا، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: جب کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ اس کے سامنے ہوتا ہے، لہٰذا کوئی شخص نماز میں اپنے سامنے نہ تھوکے ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ saw some sputum in the prayer direction of the Masjid, when he was praying in front of the people. He scratched it off, then when the prayer was over, he said: When anyone of you is performing prayer, Allah is before him, so none of you should spit toward the front while praying." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے کہ مالک جب سامنے ہو اور اسی طرف تھوکے، تو اس میں بڑی بےادبی اور گستاخی ہے، اس حدیث میں جہمیہ اور اہل بدعت کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ (معاذ اللہ) ہر مکان اور ہر جہت میں ہے کیونکہ یہ تشبیہ ہے، اور ترمذی کی ایک روایت میں یوں ہے: یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت نمازی کے سامنے ہے، پس معلوم ہوا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے سامنے ہونے سے اس کی رحمت کا سامنے ہونا مراد ہوتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہر مکان میں ہوتا جیسے اہل بدعت کا اعتقاد ہے تو بائیں طرف بھی تھوکنا ویسا ہی منع ہوتا، جیسے سامنے تھوکنا، واضح رہے کہ اللہ رب العزت کے لیے علو اور بلندی کی صفت کتاب و سنت سے ثابت ہے، اور وہ آسمان سے بلند عرش پر مستوی ہے، جیسا کہ شروع کتاب السنہ کی احادیث میں گزرا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٣٣ (٤٠٦)، الأذان ٩٤ (٧٥٣)، العمل في الصلاة ٢ (١٢١٣)، الأدب ٧٥ (٦١١١)، صحیح مسلم/المساجد ١٣ (٥٤٧)، (تحفة الأشراف: ٨٢٧١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ٢٢ (٤٧٩)، سنن النسائی/المساجد ٣١ (٧٢٥)، موطا امام مالک/القبلة ٣ (٤)، مسند احمد (٢/٣٢، ٦٦)، سنن الدارمی/الصلاة ١١٦ (١٤٣٧) (صحیح )
764Sunan Ibne-Majah

مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَكَّ بُزَاقًا فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مسجد کے قبلہ کی دیوار پر لگا ہوا تھوک رگڑ کر صاف کردیا۔

It was narrated from Aisha (RA) that the Prophet ﷺ scratched some spittle from the prayer direction of the Masjid. (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٢٨٧ ومصباح الزجاجة: ٢٨٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ٣٣ (٤٠٦)، صحیح مسلم/المساجد ١٣ (٥٤٩)، موطا امام مالک/القبلة ٣ (٥)، مسند احمد (٤/١٣٨، ١٤٨، ٢٣٠، ٦/١٣٨) (صحیح )
765Sunan Ibne-Majah

مسجد میں گم شدہ چیز پکار کر ڈھو نڈ نے کی مما نعت

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ دَعَا إِلَى الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا وَجَدْتَهُ، إِنَّمَا بُنِيَتِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی، تو ایک شخص نے کہا: میرا سرخ اونٹ کس کو ملا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ کرے تمہیں نہ ملے، مسجدیں خاص مقصد کے لیے بنائی گئی ہیں ١ ؎۔

It was narrated from Sulaiman bin Burdah that his father said: "The Messenger of Allah ﷺ performed prayer, then a man said: Who was looking for the red camel? The Prophet ﷺ said: May you not find it! The Masjids were built for that for which they were built." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: مساجد اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی یاد کے لئے اور تلاوت قرآن اور وعظ اور تعلیم قرآن اور حدیث کے لئے بنائی گئی ہیں، اور علماء حق ہمیشہ مسجد میں دینی علوم کی تعلیم دیتے رہے، اور تعلیم میں کبھی بحث کی بھی ضرورت ہوتی ہے، حافظ ابن حجر نے کہا کہ مسجد میں نکاح پڑھنا درست ہے بلکہ سنت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ١٨ (٥٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٩٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٤٩، ٤٢٠) (صحیح )
766Sunan Ibne-Majah

مسجد میں گم شدہ چیز پکار کر ڈھو نڈ نے کی مما نعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ إِنْشَادِ الضَّالَّةِ فِي الْمَسْجِدِ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں گمشدہ چیزوں کے اعلان سے منع فرمایا ہے۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ forbade making lost-and-found announcements in the Masjid. (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٢٠ (١٠٧٩)، سنن الترمذی/الصلاة ١٢٤ (٣٢٢)، سنن النسائی/المساجد ٢٣ (٧١٦)، (تحفة الأشراف: ٨٧٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧٩)، سنن النسائی/في الیوم و اللیلة ٦٦ (١٧٣) (حسن) (سند میں عبد اللہ بن لہیعہ ضعیف ہیں، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر حسن ہے )
767Sunan Ibne-Majah

مسجد میں گم شدہ چیز پکار کر ڈھو نڈ نے کی مما نعت

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَسَدِيِّ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ، فَلْيَقُلْ لَا رَدَّ اللَّهُ عَلَيْكَ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو شخص کسی کو مسجد میں کسی گمشدہ چیز کا اعلان کرتے سنے تو کہے: اللہ کرے تمہاری چیز نہ ملے، اس لیے کہ مسجدیں اس کے لیے نہیں بنائی گئی ہیں ۔

It was narrated from Abu ,Abdullah, the freed slave of Shaddad bin Had…. that he heard Abu Hurairah (RA) say: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Whoever hears a man making a lost-and-found announcement in the Masjid, let him say: "May Allah not return it to you!" For the Masjids were not built for that." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ١٨ (٥٦٨)، سنن ابی داود/الصلاة ٢١ (٤٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٤٩)، سنن الدارمی/الصلاة ١١٨ (١٤٤١) (صحیح )
768Sunan Ibne-Majah

اونٹوں اور بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ لَمْ تَجِدُوا إِلَّا مَرَابِضَ الْغَنَمِ، وَأَعْطَانَ الْإِبِلِ، فَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہیں بکریوں اور اونٹوں کے باڑوں کے علاوہ کوئی جگہ میسر نہ ہو تو بکری کے باڑے میں نماز پڑھو، اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھو ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: The Messenger of Allah ﷺ said: "If you cannot find any where (for prayer) except sheeps resting-places and camels resting-places, then perform prayer in the sheeps restingplaces and do not perform prayer in the camels resting-places." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٥٥٥، ١٤٥٥٩، ومصباح الزجاجة: ٢٨٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١٤٢ (٣٤٨) مختصراً، سنن الدارمی/الصلاة ١١٢ (١٤٣١) (صحیح )
769Sunan Ibne-Majah

اونٹوں اور بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ، فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّيَاطِينِ.

عبداللہ بن مغفل مزنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو، اور اونٹوں کے باڑ میں نماز نہ پڑھو، کیونکہ ان کی خلقت میں شیطنت ہے ۔

It was narrated that Abdullah bin Mughaffal AIMuzani said: "The Prophet ﷺ said: Perform prayer in the sheeps resting-places and do not perform prayer in the camels resting-places, for they were created from the devils." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: فؤاد عبدالباقی کے نسخہ میں اور ایسے ہی پیرس کے مخطوطہ میں هشيم کے بجائے أبو نعيم ہے، جو غلط ہے۔ ٢ ؎: شیطنت سے مراد شرارت ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ اونٹ شیطان سے پیدا ہوا، ورنہ وہ حلال نہ ہوتا اور نبی اکرم ﷺ اس کے اوپر نماز ادا نہ کرتے، لیکن شافعی کی روایت میں یوں ہے کہ جب تم اونٹوں کے باڑہ میں ہو اور نماز کا وقت آجائے تو وہاں سے نکل جاؤ کیونکہ اونٹ جن ہیں، اور جنوں سے پیدا ہوئے ہیں، اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اونٹوں میں شرارت کا مادہ زیادہ ہے، اور یہی وجہ ہے وہاں نماز پڑھنا منع ہے۔
Takhrij · تخریج
نفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٦٥١، ومصباح الزجاجة: ٢٨٩)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/المساجد ٤١ (٧٣٦)، وذکر أعطان الإبل، مسند احمد (٤/٨٥، ٨٦، ٥/٥٤، ٥٥) (صحیح) (اس حدیث کا شاہد براء ؓ کی حدیث ہے، جو ابو داود: ١٨٤ - ٤٩٣ میں ہے، لیکن شاہد نہ ملنے کی وجہ سے فإنها خلقت من الشياطين کے لفظ کو البانی صاحب نے ضعیف کہا ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٢٢١٠ ، و تراجع الألبانی: رقم: ٢٩٨ )۔
770Sunan Ibne-Majah

اونٹوں اور بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ رَبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يُصَلَّى فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ، وَيُصَلَّى فِي مُرَاحِ الْغَنَمِ.

معبد جہنی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھی جائے، اور بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لی جائے ۔

Abdul-Malik bin Rabi bin Sabrah bin Mabad Al-Juhani said: "My father told me, from his father, that the Messenger of Allah ﷺ said: Do not perform prayer in the camels restingplaces, and perform prayer in the sheeps resting-places:" (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٨١٣، ومصباح الزجاجة: ٢٩٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٠٥، ٥/١٠٢) (حسن صحیح )
771Sunan Ibne-Majah

مسجد میں داخل ہونے کی دعا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَقُولُ: بِسْمِ اللَّهِ، وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ.

رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی فاطمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: بسم الله والسلام على رسول الله اللهم اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب رحمتک میں اللہ کا نام لے کر داخل ہوتا ہوں، اور رسول اللہ پر سلام ہو، اے اللہ! میرے گناہوں کو بخش دے، اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ، اور جب نکلتے تو یہ دعا پڑھتے: بسم الله والسلام على رسول الله اللهم اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب فضلک میں اللہ کا نام لے کرجاتا ہوں، اور رسول اللہ پر سلام ہو، اے اللہ! میرے گناہوں کو بخش دے، اور اپنے فضل کے دروازے مجھ پر کھول دے ۔

It was narrated that Fatimah the daughter of the Messenger of Allah ﷺ said: "Whenever the Messenger of Allah ﷺ entered the Masjid he would say: (In the Name of Allah, and peace be upon the Messenger of Allah. O Allah, forgive me my sins and open to me the gates of Your mercy): When he left he would say: .(In the Name of Allah, and peace be upon the Messenger of Allah. o Allah, forgive me my sins and open to me the gates of Your bounty):" (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الصلاة ١١٧ (٣١٤)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٤١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ١١٧ عن فاطمة (٣١٤)، مسند احمد (٦/ ٢٨٢، ٢٨٣) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: ٥١٠ )
772Sunan Ibne-Majah

مسجد میں داخل ہونے کی دعا

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، قَالَا: حَدَّثَنَاإِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لِيَقُلْ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ.

ابو حمید ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی اکرم ﷺ پر سلام بھیجے، پھر کہے:اللهم افتح لي أبواب رحمتک اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور جب نکلے تو یہ کہے: اللهم إني أسألک من فضلک اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں ۔

It was narrated that Abu Humaid As-Saidi said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When anyone of you enters the Masjid, let him send peace upon the Prophet, then let him say: "Allahummaftah Ii abwaba rahmatika (O Allah, open to me the gates of Your mercy)." And when he leaves, let him say: "Allahumma inni asaluka min fadlika. (O Allah, I ask of you from Your bounty)." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ١٠ (٧١٣)، سنن ابی داود/الصلاة ١٨ (٤٦٥)، سنن النسائی/المساجد ٣٦ (٧٣٠)، سنن الترمذی/الصلاة ١١٧ عن فاطمة (٣١٤)، (تحفة الأشراف: ١١٨٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٢٥)، سنن الدارمی/الصلاة ١١٥ (١٤٣٤)، الاستئذان ٥٦ (٢٧٣٣) (صحیح )
773Sunan Ibne-Majah

مسجد میں داخل ہونے کی دعا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ، وَإِذَا خَرَجَ فَلْيُسَلِّمْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ اعْصِمْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی کریم ﷺ پہ سلام بھیجے اور کہے:اللهم افتح لي أبواب رحمتک اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ، اور جب مسجد سے نکلے تو نبی کریم ﷺ پہ سلام بھیجے، اور کہے: اللهم اعصمني من الشيطان الرجيم اے اللہ! مردود شیطان سے میری حفاظت فرما ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When anyone of you enters the Masjid, let him send peace upon the Prophet, then let him say: Allahumma aftahli abwaba rahmatik (O Allah, open to me the gates of Your mercy): And when he leaves, let him send peace upon the Prophet ﷺ and say: (O Allah, protect me from theaccursed Shaitan):" (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: مسجد سے نکلتے وقت شیطان سے پناہ مانگنے کی وجہ ہے، ابن السنی نے روایت کی ہے کہ تم میں سے جب کوئی مسجد سے نکلنا چاہتا ہے تو ابلیس کے لشکر ایک دوسرے کو بلاتے ہیں، اور شہد کی مکھیوں کی طرح جو شہد کے چھتے پر جمع ہوتی ہیں جمع ہوجاتے ہیں، پھر جب تم میں سے کوئی مسجد کے دروازے پر کھڑا ہو تو کہے: یا اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ابلیس اور اس کے لشکر سے جب یہ کہے گا تو اس کو نقصان نہ ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٩٦٢، ومصباح الزجاجة: ٢٩١) (صحیح )
774Sunan Ibne-Majah

نماز کے لئے چلنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ، لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً، حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَتِ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر مسجد آئے، اور نماز ہی اس کے گھر سے نکلنے کا سبب ہو، اور وہ نماز کے علاوہ کوئی اور ارادہ نہ رکھتا ہو، تو ہر قدم پہ اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ مٹاتا ہے، یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہوجائے، پھر مسجد میں داخل ہوگیا تو جب تک نماز اسے روکے رکھے نماز ہی میں رہتا ہے ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When one of you performs ablution and does it well, then he comes to the Masjid with no other motive but prayer and not seeking anything other than the prayer, he does not take one step but Allah raises him in status one degree thereby, and takes away one of his sins, until he enters the Masjid. When he enters the Masjid he is in a state of prayer so long as he is waiting for the prayer. (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٥٥٢) (الف)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٣٠ (٦٤٧)، سنن ابی داود/الصلاة ٤٩ (٥٥٩)، سنن الترمذی/الجمعة ٧٠ (٣٣٠)، مسند احمد (٢/١٧٦) (صحیح )
775Sunan Ibne-Majah

نماز کے لئے چلنا

حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ، وَأْتُوهَا تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو دوڑتے ہوئے نہ آؤ، بلکہ اطمینان سے چل کر آؤ، امام کے ساتھ جتنی نماز ملے پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائے اسے پوری کرلو ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When the lqamah is called for the prayer, do not come running. Come walking, with tranquility. Whatever you catch up with, pray, and whatever you miss, complete it." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: امام ترمذی نے کہا: علماء نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے، بعضوں نے کہا: جب تکبیر اولیٰ چھوٹ جانے کا ڈر ہو تو جلد چلے، اور بعضوں سے دوڑنا بھی منقول ہے، اور بعضوں نے جلدی چلنا، اور دوڑنا دونوں کو مکروہ کہا ہے، اور کہا ہے کہ سہولت اور اطمینان سے چلنا چاہیے، امام احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے، اور یہی صحیح ہے، اور اس حدیث میں ایسا ہی حکم ہے دوڑنے اور جلدی کرنے میں سوائے پریشانی کے کوئی فائدہ نہیں۔
Takhrij · تخریج
حدیث سعید بن المسیب أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٢٨ (٦٠٢)، (تحفة الأشراف: ١٣١٠٣)، وحدیث أبي سلمة أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٢٨ (٦٠٢)، (تحفة الأشراف: ١٥١٢٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاذان ٢١ (٦٣٦)، الجمعة ١٨ (٩٠٨)، سنن ابی داود/الصلاة ٥٥ (٥٧٢)، سنن الترمذی/الصلاة ١٢٧ (٣٢٧)، سنن النسائی/الإمامة ٥٧ (٨٦٢)، موطا امام مالک/الصلاة ١ (٤)، مسند احمد (٢/٢٧٠، ٢٨٢، ٣١٨، ٣٨٢، ٣٨٧، ٤٢٧، ٤٥٢، ٤٦٠، ٤٧٢، ٤٨٩، ٥٢٩، ٥٣٢، ٥٣٣)، سنن الدارمی/الصلاة ٥٩ (١٣١٩) (صحیح )
776Sunan Ibne-Majah

نماز کے لئے چلنا

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَزِيدُ بِهِ فِي الْحَسَنَاتِ؟قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عِنْدَ الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَى إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس سے اللہ گناہوں کو معاف کرتا اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے؟ ، صحابہ کرام ؓ نے کہا: جی ہاں، ضرور بتائیے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: دشواری و ناپسندیدگی کے باوجود پورا وضو کرنا، مسجدوں کی جانب دور سے چل کر جانا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: Shall I not tell you of something by means of which Allah expiates for sins and increases good deeds? They said: Yes, a Messenger of Allah. He said: Performing ablution properly despite difficulties, increasing the number of steps one takes towards the Masjid and waiting for the next prayer after prayer. (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: وضو کا پورا کرنا یہ ہے کہ سب اعضاء کو پانی پہنچائے کوئی مقام سوکھا نہ رہے، اور آداب و سنن کے ساتھ وضو کرے، اور مسجدوں کی جانب دور سے چل کر جانے کا یہ مطلب ہے کہ مسجد مکان سے دور ہو اور جماعت کے لئے وہاں جائے، جتنی مسجد زیادہ دور ہوگی اتنے ہی قدم زیادہ اٹھانے پڑیں گے، اور ہر قدم پر ثواب ملتا رہے گا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھا رہنا بڑا ثواب ہے، دوسری حدیث میں ہے کہ انتظار میں برابر نماز کا ثواب ملتا رہے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٠٤٦، ومصباح الزجاجة: ٢٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣، ١٦، ٩٥) (حسن صحیح )
777Sunan Ibne-Majah

نماز کے لئے چلنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ فَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَإِنَّ اللَّهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى، وَلَعَمْرِي لَوْ أَنَّ كُلَّكُمْ صَلَّى فِي بَيْتِهِ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ الرَّجُلَ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يَدْخُلَ فِي الصَّفِّ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ فَيَعْمِدُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيُصَلِّي فِيهِ، فَمَا يَخْطُو خَطْوَةً إِلَّا رَفَعَ اللَّهُ لَهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو خوشی ہو کہ وہ کل اللہ تعالیٰ سے اسلام کی حالت میں ملاقات کرے تو جب اور جہاں اذان دی جائے ان پانچوں نمازوں کی پابندی کرے، کیونکہ یہ ہدایت کی راہیں ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کے لیے ہدایت کے راستے مقرر کئے ہیں، قسم ہے اگر تم میں سے ہر ایک اپنے گھر میں نماز پڑھ لے، تو تم نے اپنے نبی کا راستہ چھوڑ دیا، اور جب تم نے اپنے نبی کا راستہ چھوڑ دیا تو گمراہ ہوگئے، ہم یقینی طور پر دیکھتے تھے کہ نماز سے پیچھے صرف وہی رہتا جو کھلا منافق ہوتا، اور واقعی طور پر (عہد نبوی ﷺ میں) ایک شخص دو آدمیوں پر ٹیک دے کر مسجد میں لایا جاتا، اور وہ صف میں شامل ہوتا، اور جو شخص اچھی طرح وضو کرے اور مسجد کا ارادہ کر کے نکلے، پھر اس حالت میں نماز پڑھے، تو وہ جو قدم بھی چلے گا ہر قدم پر اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا، اور ایک گناہ مٹا دے گا ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah said: "Whoever would like to meet Allah tomorrow (i.e. on the Day of Judgment) as a Muslim, let him preserve these five (daily) prayer when the call for them is given, for they are part of the ways of guidance, and Allah prescribed the ways of guidance to your Prophet ﷺ . By Allah, if each of you prays in his house, you will have abandoned the Sunnah of your Prophet ﷺ , and if you abandon the Sunnah of your Prophet ﷺ you will go astray. I remember when no one stayed behind from the prayer except a hypocrite who was known for his hypocrisy. I have seen a man coming supported by two others, unti I he joined the row (of worshippers). There is no man who purifies himself and does it well, and comes to the Masjid and prays there, but for every step that he takes, Allah raises him in status one degree thereby, and takes away one of his sins." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ نماز باجماعت فرض ہے، جمہور علماء اس کو سنت مؤکدہ کہتے ہیں، ابن مسعود ؓ نے اس کے چھوڑ دینے کو گمراہی قرار دیا، ابوداود کی روایت میں ہے کہ تم کافر ہوجاؤ گے، تارک جماعت کو منافق بتلایا اگر وہ اس کا عادی ہے، ورنہ ایک یا دو بار کے ترک سے آدمی منافق نہیں ہوتا، ہاں نفاق پیدا ہوتا ہے، کبھی کبھی مسلمان بھی جماعت سے پیچھے رہ جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٤٩٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٤٤ (٦٥٤)، سنن ابی داود/الصلاة ٤٧ (٥٥٠)، سنن النسائی/الإمامة ٥٠ (٨٥٠)، مسند احمد (١/٣٨٢، ٤١٤، ٤١٥) (صحیح) (سند میں ابراہیم بن مسلم لین الحدیث ہیں، اور صحیح مسلم میں ولعمری کے بغیر یہ حدیث ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٥٥٩، والإرواء: ٤٨٨ )
778Sunan Ibne-Majah

نماز کے لئے چلنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْمُوَفَّقِ أَبُو الْجَهْمِ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى الصَّلَاةِ فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِحَقِّ السَّائِلِينَ عَلَيْكَ، وَأَسْأَلُكَ بِحَقِّ مَمْشَايَ هَذَا، فَإِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشَرًا وَلَا بَطَرًا وَلَا رِيَاءً وَلَا سُمْعَةً، وَخَرَجْتُ اتِّقَاءَ سُخْطِكَ، وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ، فَأَسْأَلُكَ أَنْ تُعِيذَنِي مِنَ النَّارِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، أَقْبَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ، وَاسْتَغْفَرَ لَهُ سَبْعُونَ أَلْفِ مَلَكٍ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے گھر سے نماز کے لیے نکلے اور یہ دعا پڑھے: اللهم إني أسألک بحق السائلين عليك وأسألک بحق ممشاي هذا فإني لم أخرج أشرا ولا بطرا ولا رياء ولا سمعة وخرجت اتقاء سخطک وابتغاء مرضاتک فأسألك أن تعيذني من النار وأن تغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت اے اللہ! میں تجھ سے اس حق ١ ؎ کی وجہ سے مانگتا ہوں جو مانگنے والوں کا تجھ پر ہے، اور اپنے اس چلنے کے حق کی وجہ سے، کیونکہ میں غرور، تکبر، ریا اور شہرت کی نیت سے نہیں نکلا، بلکہ تیرے غصے سے بچنے اور تیری رضا چاہنے کے لیے نکلا، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے جہنم سے پناہ دیدے، اور میرے گناہوں کو معاف کر دے، اس لیے کہ گناہوں کو تیرے علاوہ کوئی نہیں معاف کرسکتا تو اللہ تعالیٰ اس کی جانب متوجہ ہوگا، اور ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کریں گے ۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khud ri said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever leaves his house for the if the prayer and says: (O Allah, I ask You by the right that those who ask of You have over You, and I ask You by virtue of this walking of mine, fori am not going out because of pride or vanity, or to show off or make a reputation, rather I am going out because I fear Your wrath and seek Your pleasure. So I ask You to protect me from the Fire and to forgive me my sins, for no one can forgive sins except You), Allah will tum His Face towards him and seventy thousand angels will pray for his forgiveness." (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: اگرچہ اللہ تعالیٰ پر کسی کا کوئی ایسا حق لازم نہیں ہے جس کا کرنا اس کو ضروری ہو کیونکہ وہ ہمارا مالک و مختار ہے جو چاہے سو کرے، اس سے کسی کی مجال نہیں کہ کچھ پوچھ بھی سکے، پر ہمارے مالک نے اپنی عنایت اور فضل سے بندوں کے حق اپنے ذمے لئے ہیں، جن کو وہ ضرور پورا کرے گا، اس لئے کہ وہ سچا ہے، اس کا وعدہ بھی سچا ہے، اہل سنت کا یہی مذہب ہے۔ معتزلہ اپنی گمراہی سے یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر نیک بندوں کو جنت میں لے جانا، اور بروں کو سزا دینا واجب ہے اور ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا وعدہ کیا ہے، لیکن واجب اس پر کچھ نہیں ہے، نہ کسی کا کوئی زور بھی اس پر چل سکتا ہے، نہ کسی کی مجال ہے کہ اس کے سامنے کوئی ذرا بھی چون وچرا کرسکے، اگر وہ چاہے تو دم بھر میں سب بدکاروں اور کافروں اور منافقوں کو بخش دے، اور ان کو جنت میں لے جائے، اور جتنے نیک اور عابد اور متقی بندے ہیں، ان سب کو جہنم میں ڈال دے، غرض یہ سب کچھ اس کی قدرت کے لحاظ سے ممکن ہے، اور اس کو ایسا اختیار ہے، اگرچہ ایسا ظہور میں نہ آئے گا، کیونکہ اس کا وعدہ سچا ہے، اور اس نے وعدہ کیا ہے کہ نیک بندوں کو میں جنت میں لے جاؤں گا، اور کافروں کو جہنم میں، ایسا ہی ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٢٣٢، ومصباح الزجاجة: ٢٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢١) (ضعیف) (سند میں عطیہ العوفی، فضیل بن مرزوق اور فضل بن موفق سب ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: ا لضعیفہ: ٢٤ )
779Sunan Ibne-Majah

نماز کے لئے چلنا

حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ رَاشِدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ إِسْمَاعِيل بْنِ رَافِعٍ، عَنْ سُمَيٍّمَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَشَّاءُونَ إِلَى الْمَسَاجِدِ فِي الظُّلَمِ، أُولَئِكَ الْخَوَّاضُونَ فِي رَحْمَةِ اللَّهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تاریکیوں میں مسجدوں کی جانب چل کر جانے والے ہی (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ کی رحمت میں غوطہٰ مارنے والے ہیں ۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Those who walk to the Masjid in the dark are those who are diving into the mercy of Allah:" (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٥٥٥، ومصباح الزجاجة: ٢٩٤) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں ابو رافع اسماعیل بن رافع ضعیف ہیں، نیز ولید بن مسلم مدلس ہیں، اور یہاں عنعنہ سے روایت کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ٢٠٥٩ )
780Sunan Ibne-Majah

نماز کے لئے چلنا

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحُلَبِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الشِّيرَازِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِيَبْشَرِ الْمَشَّاءُونَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِنُورٍ تَامٍّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تاریکیوں میں (نماز کے لیے) چل کر جانے والے خوش ہوجائیں کہ ان کے لیے قیامت کے دن کامل نور ہوگا ۔

It was narrated that Sahl bin Sad As,Saidi said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Give glad tidings, to those who walk to the Masjids in the dark, of perfect light on the Day of Resurrection: " (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٦٧٦، ومصباح الزجاجة: ٢٩٥) (صحیح) (طرق و شواہد کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، ورنہ ابراہیم الحلبی صدوق ہیں، لیکن غلطیاں کرتے ہیں، اور یحییٰ شیرازی مقبول ہیں، عراقی نے اسے حسن غریب کہا ہے، نیز حاکم نے اس کی تصحیح کی ہے، اور ذہبی نے موافقت کی ہے، (مستدرک الحاکم ١ / ٢١٢)، اور ابن خزیمہ نے بھی تصحیح کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ٥٦٤ ، و صحیح ابی داود: ٥٧٠ )