حکم بن سفیان ثقفی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، پھر ایک چلو پانی لے کر شرمگاہ پر چھینٹا مارا ١ ؎۔
It was narrated from Hakam bin Sufyan Ath-Thaqafi that he saw the Messenger of Allah ﷺ perform ablution then take a handful of water and sprinkle it over his private area to remove any doubts about urine drippings.
Notes · وضاحت
١ ؎: تاکہ ستر (شرمگاہ) پر پیشاب کا خطرہ ہونے کا وسوسہ ختم ہوجائے، یہ وسوسہ دور کرنے کی ایک اچھی تدبیر ہے جسے آپ ﷺ نے امت کو سکھایا ہے۔
زید بن حارثہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے وضو سکھایا، اور مجھے اپنے کپڑے کے نیچے (شرمگاہ) پر چھینٹے مارنے کا حکم دیا کہ کہیں وضو کے بعد پیشاب کا کوئی قطرہ نہ آگیا ہو (تاکہ چھینٹے مارنے سے یہ شبہ زائل ہوجائے) ١ ؎۔
Usamah bin Zaid narrated that his father Zaid bin Harithah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Jibril taught me (how to perform) the ablution, and he ordered me to sprinkle water underneath my garment, lest a drop of urine leak out after the ablution.
Notes · وضاحت
١ ؎: غرض یہ ہے کہ پانی چھڑکنے سے پیشاب کا قطرہ رک جائے گا اور نہ نکلے گا اور وجہ اس کی یہ ہے کہ احلیل مرد کا عورت کی طرح ہے، اور گائے وغیرہ کی چھاتی کی طرح ہے، جب پستان میں دودھ کو روکنا منظور ہوتا ہے، تو پانی چھڑک دیتے ہیں، اسی طرح شرم گاہ پر چھڑکنے سے قطرہ رک جاتا ہے۔
اس سند سے بھی ابن لہیعہ نے اسی جیسی حدیث ذکر کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٧٤٥، ومصباح الزجاجة: ١٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٦١) (حسن) (سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن حدیث شواہد کی بناء پر حسن ہے لیکن وأمرني أن أنضح تحت ثوبي کا لفظ ضعیف ہے اس کا کوئی شاہد نہیں ہے، البتہ فعل نبوی سے یہ ثابت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٣٤١ ، و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٨٤١ ، صحیح أبی داود: ١٥٩ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم وضو کرو تو (شرمگاہ پر) چھینٹے مار لیا کرو ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: When you perform ablution, sprinkle water.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطہارة ٣٨، (٥٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٦٤٤) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں حسن بن علی الہاشمی ضعیف ہیں، لیکن نبی اکرم ﷺ کے فعل سے یہ عمل ثابت ہے، ملاحظہ ہو اگلی حدیث ( ٤٦٤ ) نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ١٣١٢ ، وسلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢ /٥١٩ - ٥٢٠)۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا، اور اپنی شرمگاہ پہ چھینٹ ماری۔
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ performed ablution and sprinkled his private part."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف: ٢٩٤٠، ومصباح الزجاجة: ١٩٠) (صحیح) (اس حدیث کی سند میں قیس بن ربیع اور محمد بن عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ دونوں ضعیف ہیں، لیکن شواہد اور متابعات کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے )
ام ہانی بنت ابی طالب ؓ بیان کرتی ہیں کہ فتح مکہ کے سال نبی اکرم ﷺ نے نہانے کا ارادہ کیا، فاطمہ ؓ نے آپ پر پردہ کئے رکھا، پھر آپ ﷺ نے نہا کر اپنا کپڑا لیا، اور اسے اپنے جسم پر لپیٹ لیا ١ ؎۔
. Umm Hani bint Abu Talib narrated that when it was the year of the Conquest (of Makkah), the Messenger of Allah ﷺ got up to perform a bath and Fatimah screened him. Then he took his garment and wrapped himself in it (such that it became like the towel used to dry oneself).
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ کپڑا بدن کا پانی خشک کرنے کے لئے تو لئے کے طور پر تھا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الغسل ٢١ (٢٨٠)، الصلاة ٤ (٣٥٧)، الأدب ٩٤ (٦١٥٨)، صحیح مسلم/الحیض ١٦ (٣٣٦)، المسافرین ١٣ (٣٣٦)، سنن الترمذی/الاستئذان ٣٤ (٢٧٣٤)، سنن النسائی/الطہارة ١٤٣ (٢٢٦)، (تحفة الأشراف: ١٨٠١٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة ٨ (٢٧)، مسند احمد (٦/٣٤١، ٣٤٢، ٣٤٣، ٤٢٣، ٤٢٥)، سنن الدارمی/الصلاة ١٥١ (١٤٩٣) (صحیح )
قیس بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ہم نے آپ کے لیے غسل کا پانی رکھا، آپ نے غسل کیا، پھر ہم آپ کے پاس ورس میں رنگی ہوئی ایک چادر لائے آپ ﷺ نے اسے لپیٹ لیا۔ قیس بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ اس چادر کی وجہ سے آپ کے پیٹ کی سلوٹوں میں ورس کے جو نشانات پڑگئے تھے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں۔
It was narrated that Qais bin Sad said: "The Prophet ﷺ came to us and we gave him water to perform a bath." Then we brought him a Warsiyyah cloth, and he wrapped himself in it. It is as if I can see the marks of the Wars on the folds of his stomach."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٠٩٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٧) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ٣٦٠٤) (ضعیف) (اس کی سند میں محمد بن عبدالرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف اور محمد بن شرجیل مجہول ہیں )
ام المؤمنین میمونہ ؓ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ غسل جنابت کرچکے تو میں آپ کے پاس ایک کپڑا لائی، آپ نے اسے واپس لوٹا دیا اور (بدن سے) پانی جھاڑنے لگے ١ ؎۔
Ibn Abbas narrated that his maternal aunt Maimunah said: "I brought a piece of cloth (for drying) to the Messenger of Allah ﷺ when he performed a bath to cleanse himself from sexual impurity. He refused it and began to shake off water."
Notes · وضاحت
١ ؎: ممکن ہے نبی ﷺ کو اس کی ضرورت نہ رہی ہو یا کپڑا صاف نہ رہا ہو جس سے آپ نے بدن صاف کرنے کو پسند نہ کیا ہو۔
سلمان فارسی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا، اور اپنے پہنے ہوئے اون کے جبہ کو الٹ کر اس سے اپنا چہرہ پونچھ لیا ١ ؎۔
It was narrated from Salman Al-Farisi that the Messenger of Allah ﷺ performed ablution, then he turned inside out the woolen garment that he was wearing and wiped his face with it.
Notes · وضاحت
١ ؎: وضو کے بعد ہاتھ منہ صاف کرنے کے سلسلہ میں ممانعت کی کوئی حدیث صحیح نہیں لہذا جائز ہے ضروری نہیں، بلکہ زاد المعاد میں ابن القیم نے فرمایا ہے کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ کی اس باب میں ایک حدیث آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ایک کپڑا تھا جس سے آپ اپنے اعضاء وضو پونچھا کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٥٠٩، ومصباح الزجاجة: ١٩١) (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: ٣٥٦٤) (حسن )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے اچھی طرح وضو کیا، پھر تین مرتبہ أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے، اور اس کے رسول ہیں کہا، تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے وہ جس دروازہ سے چاہے داخل ہو ۔
It was narrated from Anas bin Malik (RA) that the Prophet ﷺ said: "Whoever performs ablution and does it well, then says three times: Ashhadu an Id ildha illalldh wahdahu la sharika lah u, wa ashhadu anna Muhammadan ub d uh u wa rasuluhu (I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah alone, with no partner, and I bear witness that Muhammad is His slave and His Messenger), eight gates of Paradise will be opened for him; whichever one he wants he may enter."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٤٢، ومصباح الزجاجة: ١٩٢)، مسند احمد (٣/٢٦٥) (ضعیف) (اس سند میں زید العمی ضعیف ہیں، مگر دیگر صحابہ کرام ؓ سے ثلاث مرات کے بغیر ثابت ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٨٤١ )
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مسلمان بھی اچھی طرح سے وضو کرے پھر أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور محمد ﷺ اس کے بندے، اور رسول ہیں تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دئیے جائیں گے جس دروازے سے چاہے وہ داخل ہوجائے ۔
It was narrated that Umar bin Khattab said: "The Messenger of Allah ﷺ said: There is no Muslim who performs ablution and does it well, then says: Ashhadu an Id ildha illalldh, wa ashhadu anna Muhammadan abduhu wa rasuluhu (I bear witness that none has the right to be worshipped but Allah, and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger), (except that) eight gates of Paradise will be opened for him, and he will enter through whichever one he wants.”
صحابی رسول عبداللہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے پیتل کے ایک چھوٹے برتن میں پانی حاضر کیا جس سے آپ نے وضو کیا۔
. It was narrated that Abdullah bin Zaid, the Companion of the Prophet ﷺ said: "The Messenger of Allah ﷺ came to us, and we brought water out to him in a vessel of brass, and he performed ablution with it."
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٤٣٤) (تحفة الأشراف: ٥٣٠٨) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک جھوٹے برتن میں وضو کیا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ performed ablution using (the water in) a vessel made of brass, (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: تور: طشت کے مشابہ ایک برتن ہے، اور مخضب: ایک برتن ہے جس میں کپڑے دھوتے ہیں وہ بھی مثل طشت کے ہے، ان حدیثوں سے ثابت ہوا کہ پیتل کے برتن گھر میں رکھنا اور استعمال کرنا بلا کراہت جائز ہے، اور جیسا عوام میں اس کا مکروہ ہونا مذکور ہے وہ خلاف حدیث ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٢٤ (٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٨٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣١١، ٤٥٤)، سنن الدارمی/الطہارة ١٦ (٧٠٥) (حسن) (تراجع الألبانی رقم: ٦١٥ ، سند میں شریک القاضی ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، جیسا کہ گزرا ( ٤٧١ ) نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ٢٩ )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سو جاتے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگتے، پھر اٹھ کر بغیر وضو کے نماز پڑھتے۔ طنافسی کہتے ہیں: وکیع کا بیان ہے کہ عائشہ ؓ کی مراد یہ تھی کہ سجدہ کی حالت میں سو جاتے تھے۔
. It was narrated from Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ slept until he was breathing deeply, then he got up and prayed.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٩٦٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٣٥) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے، پھر کھڑے ہوئے، اور نماز پڑھی۔
It was narrated from Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ slept until he was breathing deeply, then he got up and prayed. (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٤٤٥، ومصباح الزجاجة: ١٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٣٤، ٤٢٦) (صحیح) (سند میں حجاج بن أرطاة ضعیف ہیں، لیکن حدیث دوسرے طرق سے صحیح ہے )
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آنکھ سرین کا بندھن ہے، لہٰذا جو سو جائے وہ وضو کرے ۔
It was narrated from Ali bin Abu Talib that the Messenger of Allah ﷺ said: "The eye is the leather strap (that ties up) the anus, so whoever falls asleep, let him perform ablution."
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٨٠ (٢٠٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٠٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٩٧، ١١٨، ١٥٠) (حسن )
صفوان بن عسال ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اپنے موزوں کو تین دنوں تک جنابت کے سوا پاخانے، پیشاب اور نیند کے سبب نہ اتاریں ١ ؎۔
It was narrated that Safwian bim Assal said "The Messenger of Allah ﷺ used to command us not to take off our leather socks for three days except in the case of sexual impurity, but not in the case of defecation, urine or sleep [i.e. during travel."
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ معمولی نیند سے یا سجدہ وغیرہ میں سو جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا، ہاں لیٹ کر سو گیا تو وضو کرے مسافر کے لئے جائز ہے کہ اگر موزے وضو کے بعد پہنے ہیں تو تین دن تین رات تک نہ اتارے مسح کرتا رہے، اگر غسل جنابت ہو تو اتارنا ضروری ہے، مقیم کے لئے موزوں پر مسح ایک دن ایک رات کے لئے ہے۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی اپنی شرمگاہ چھوئے تو اس پر وضو لازم ہے ۔
. It was narrated that Jabir bin Abdullah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: If anyone of you touches his penis, then he has to perform ablution.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٥٩١، ومصباح الزجاجة: ١٩٦) (صحیح) (سند میں عقبہ بن عبدالرحمن متکلم فیہ راوی ہیں، ابن المدینی نے انہیں شیخ مجہول کہا ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے )