Sunan Ibne-Majah

All 4,346 hadiths in order · Page 147 of 218

2917Sunan Ibne-Majah

احرام کا بیان۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قَالَا: حَدَّثَنَاالْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: إِنِّي عِنْدَ ثَفِنَاتِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الشَّجَرَةِ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ قَائِمَةً، قَالَ: لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحِجَّةٍ مَعًا، وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں مقام شجرہ (ذو الحلیفہ) میں رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کے پاؤں کے پاس تھا، جب اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوگئی تو آپ نے کہا: لبيك بعمرة وحجة معا میں عمرہ و حج دونوں کی ایک ساتھ نیت کرتے ہوئے حاضر ہوں ، یہ حجۃ الوداع کا واقعہ ہے۔

It was narrated that Anas bin Málik said: “I was by the knees of the she-camel of the Messenger of Allah ﷺ at Shajarah. When it rose up with him, he said: ‘Labbaika hi ‘llinrah zva Hajjah ma’an [Here I am (O Allah) for ‘Umrah and Hajj together.’ That was during the Farewell Pilgrimage.” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٥٢، ومصباح الزجاجة: ١٠٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٨٣، ٢٢٥) (صحیح الإسناد )
2918Sunan Ibne-Majah

تلبیہ کا بیان۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَأَبُو أُسَامَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: تَلَقَّفْتُ التَّلْبِيَةَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ، لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَزِيدُ فِيهَا، لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ، وَالْعَمَلُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے تلبیہ رسول اللہ ﷺ سے سیکھا، آپ فرماتے تھے: لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لک لبيك إن الحمد والنعمة لک والملک لا شريك لك حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، حمد و ثنا، نعمتیں اور فرماں روائی تیری ہی ہے، تیرا (ان میں) کوئی شریک نہیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ اس میں یہ اضافہ کرتے: لبيك لبيك لبيك وسعديك والخير في يديك لبيك والرغباء إليك والعمل حاضر ہوں، اے اللہ! تیری خدمت میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، نیک بختی حاصل کرتا ہوں، خیر (بھلائی) تیرے ہاتھ میں ہے، تیری ہی طرف تمام رغبت اور عمل ہے ۔

It was narrated from Nafi that Ibn ‘Umar said: “I learned the Talbiyah from the Messenger of Allah ﷺ who said: (Here I am, O Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours, and all sovereignty, You have no partner).” He said: “And Ibn ‘Umar used to add: (Here I am, here I am, here I am, and at Your service; all good is in Your Hands, here I am, seeking Your pleasure and striving for Your sake).” (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٧٨٧٣، ٨٠١٣، ١٨١٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ٢٦ (١٥٤٩)، اللباس ٦٩ (٥٩٥١)، صحیح مسلم/الحج ٣ (١١٨٤)، سنن ابی داود/الحج ٢٧ (١٨١٢)، سنن الترمذی/الحج ١٣ (٨٢٥)، سنن النسائی/الحج ٥٤ (٢٧٥٠)، موطا امام مالک/الحج ٩ (٢٨)، حم ٢/٣، ٢٨، ٣٤، ٤١، ٤٣، ٤٧، ٤٨، ٥٣، ٧٦، ٧٧، ٧٩، ١٣١، سنن الدارمی/المناسک ١٣ (١٨٤٩) (صحیح )
2919Sunan Ibne-Majah

تلبیہ کا بیان۔

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَتْ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ، لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا تلبیہ یہ تھا: لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لک لبيك إن الحمد والنعمة لک والملک لا شريك لك حاضر ہوں اے اللہ! تیری خدمت میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں، حمد وثناء، نعمتیں اور فرماں روائی تیری ہی ہے، ان میں کوئی شریک نہیں ۔

It was narrated that Jabir said: "The Talbiyah of the Messenger of Allah ﷺ was: Labbaika Allahumma labbaik, (labbaika) Ia sharika laka labbaik. lnnal-hamd. wan-nimata laka, walmulk La sharika Iaka (Here I am, a Allah, here I am. Here I am, You have no partner, here I am. Verily all praise and blessings are Yours, and all sovereignty, You have no Partner)." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٢٧ (١٨١٣)، (تحفة الأشراف: ٢٦٠٤) (صحیح )
2920Sunan Ibne-Majah

تلبیہ کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي تَلْبِيَتِهِ: لَبَّيْكَ إِلَهَ الْحَقِّ لَبَّيْكَ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے تلبیہ میں یوں کہا: لبيك إله الحق لبيك حاضر ہوں، اے معبود برحق، حاضر ہوں ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ used to say in his Talbiyah: (Here I am, O God of Truth, here I am)." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: ١٣٩٤١، ومصباح الزجاجة: ١٠٣٠)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الحج ٥٤ (٢٧٥٣)، مسند احمد (٢/٣٤١، ٣٥٢، ٤٧٦) (صحیح )
2921Sunan Ibne-Majah

تلبیہ کا بیان۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا مِنْ مُلَبٍّ يُلَبِّي، إِلَّا لَبَّى مَا عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ، مِنْ حَجَرٍ أَوْ شَجَرٍ أَوْ مَدَرٍ، حَتَّى تَنْقَطِعَ الْأَرْضُ مِنْ هَهُنَا، وَهَهُنَا.

سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہتا ہے، تو اس کے دائیں اور بائیں دونوں جانب سے درخت، پتھر اور ڈھیلے سبھی تلبیہ کہتے ہیں، دونوں جانب کی زمین کے آخری سروں تک ۔

It was narrated from Sahl bin Sad As-Saadi that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no (pilgrim) who recites the Talbiyah but that which is to his right and left also recites it, rocks and trees and hills, to the farthest ends of the earth in each direction, from here and from there." (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ١٤ (٨٢٨)، (تحفة الأشراف: ٤٧٣٥) (صحیح )
2922Sunan Ibne-Majah

لبیک پکار کر کہنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، حَدَّثَهُ عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي، أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالْإِهْلَالِ.

سائب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ سے کہوں کہ تلبیہ بلند آواز سے پکاریں ١ ؎۔

It was narrated from Khallad bin Sa`ib from his father, that the Messenger of Allah ﷺ said: Jibrail came to me and told me to command my Companions to raise their voices when reciting the Talbiyah.(sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حکم مردوں کے لیے ہے، عورت بھی تلبیہ پکارے گی لیکن دھیمی آواز سے، حدیث کے مطابق طریقہ یہ ہے کہ حاجی غسل کرے، پھر خوشبو لگائے اور احرام کی چادریں اوڑھے، اور لبیک پکار کر کہے، اگر صرف حج کی نیت ہو تو لبیک بحج ۃ کہے، اور اگر عمرے کی نیت ہو تو لبیک عمر ۃ کہے، اگر دونوں کی ایک ساتھ نیت ہو یعنی حج قران کی تو یوں کہے لبیک بحج ۃ وعمر ۃ ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٢٧ (١٨١٤)، سنن الترمذی/الحج ١٥ (٨٢٩)، سنن النسائی/الحج ٥٥ (٢٧٥٤)، (تحفة الأشراف: ٣٧٨٨)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ١٠ (٣٤)، مسند احمد (٤/٥٥، ٥٦)، سنن الدارمی/المناسک ١٤ (١٨٥٠) (صحیح )
2923Sunan Ibne-Majah

لبیک پکار کر کہنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَاءَنِي جِبْرِيلُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مُرْ أَصْحَابَكَ فَلْيَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ، فَإِنَّهَا مِنْ شِعَارِ الْحَجِّ.

زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل آئے اور بولے: اے محمد! اپنے صحابہ سے کہو کہ وہ تلبیہ باآواز بلند پکاریں، اس لیے کہ یہ حج کا شعار ہے ١ ؎۔

It was narrated from Zaid bi Khalid AI-Juhani that the Messenger of Allah ﷺ said: "jibril came to me and said: O Muhammad ﷺ ! Tell your Companions to raise their voices when reciting the Talbiyah, for It is one of the symbols of Hajj. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے لبیک پکارنے کا وجوب نکلتا ہے، شعار کے لفظ سے واجب ہونا ضروری نہیں، بہت سی چیزیں سنت ہیں، پر شعائر میں سے ہیں جیسے اذان وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٧٥٠، و مصباح الزجاجة: ١٠٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٩٢) (صحیح )
2924Sunan Ibne-Majah

لبیک پکار کر کہنا۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟، قَالَ: الْعَجُّ وَالثَّجُّ.

ابوبکر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: سب سے بہتر عمل کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: عج اور ثج ، یعنی باآواز بلند تلبیہ پکارنا، اور خون بہانا (یعنی قربانی کرنا) ۔

It was narrated from Abu Bakr (RA) As-Siddiq that the Messenger of Allah ﷺ was asked: "Which actions are best?" He said: "Raising ones voice and slaughtering the sacrificial animal. (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ١٤ (٨٢٧)، (تحفة الأشراف: ٦٦٠٨)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/المناسک ٨ (١٨٣٨) (صحیح )
2925Sunan Ibne-Majah

جو شخص محرم ہو۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مُحْرِمٍ يَضْحَى لِلَّهِ يَوْمَهُ، يُلَبِّي حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ، إِلَّا غَابَتْ بِذُنُوبِهِ، فَعَادَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: محرم (احرام باندھنے والا) جو چاشت کے وقت سے سورج ڈوبنے تک سارے دن اللہ کے لیے (دھوپ میں) لبیک کہتا رہے، تو سورج اس کے گناہوں کو ساتھ لے کر ڈوبے گا، اور وہ ایسا (بےگناہ) ہوجائے گا گویا اس کی ماں نے جنم دیا ہو ۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no Muhrim (pilgrim in fllrdm) who exposes himself to the sun all day for the sake of Allah, reciting the Talbiyah until the sun goes down, but his sins will disappear and he will go back like on the day his mother bore him." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٣٦٢، ومصباح الزجاجة: ١٠٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢٧٣) (ضعیف) (سند میں عاصم بن عبید اللہ اور عاصم بن عمر بن حفص ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ٥٠١٨ )۔
2926Sunan Ibne-Majah

احرام سے قبل خوشبوکا استعمال۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ، قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ، قَالَ سُفْيَانُ: بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو احرام کے وقت احرام باندھنے سے قبل خوشبو لگائی، اور احرام کھولنے کے وقت بھی طواف افاضہ کرنے سے پہلے۔ سفیان کی روایت میں یہ بھی ہے کہ عائشہ ؓ نے کہا: خوشبو میں نے اپنے انہی دونوں ہاتھوں سے لگائی۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "I put perfume on the Messenger of Allah ﷺ for his Ihram before he entered into it, and when he exited Ihram before he returned." (Sahih) (One of the narrators) Sufyan said (in his narration, she said): "With these two hands of mine."

Takhrij · تخریج
حدیث أبي بکر بن أبي شیبة أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ١٨ (١٥٣٩)، ١٤٣ (١٧٥٤)، اللباس ٧٣ (٥٩٢٢)، ٧٤ (٥٩٢٣)، ٧٩ (٥٩٢٨)، ٨١ (٥٩٣٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٨٥)، وحدیث محمد بن رمح تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٧٥١٤)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ٧ (١١٨٩)، سنن ابی داود/الحج ١١ (١٧٤٥)، سنن الترمذی/الحج ٧٧ (٩١٧)، سنن النسائی/الحج ٤١ (٢٦٨٧)، موطا امام مالک/الحج ٧ (١٧)، مسند احمد (٦/٩٨، ١٠٦، ١٣٠، ١٦٢، ١٨١، ١٨٦، ١٩٢، ٢٠٠، ٢٠٧، ٢٠٩، ٢١٤، ٢١٦، ٢٣٧، ٢٣٨، ٢٤٤، ٢٤٥، ٢٥٨)، سنن الدارمی/المناسک ١٠ (١٨٤٤) (صحیح )
2927Sunan Ibne-Majah

احرام سے قبل خوشبوکا استعمال۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ، فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُلَبِّي.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: گویا میں رسول اللہ ﷺ کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، اور آپ لبیک کہہ رہے ہیں۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "It is as if I can see the traces of perfume in the parting (of hair) of the Messenger of Allah ﷺ , while he is reciting the Talbiyah." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٧ (١١٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٧٦٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/١٠٩، ٢٠٧) (صحیح )
2928Sunan Ibne-Majah

احرام سے قبل خوشبوکا استعمال۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَأَنِّي أَرَى وَبِيصَ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَلَاثَةٍ، وَهُوَ مُحْرِمٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ گویا میں تین دن بعد تک خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، اور آپ احرام کی حالت میں ہیں۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "It is as if I can see the traces of perfume in the parting (of hair) of the Messenger of Allah ﷺ after three days, and he was a Muhrim." (Sahih)

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الحج ٤١ (٢٦٩٥)، ٤٢ (٦٢٩٦، ٢٧٠٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٠٢٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل ١٤ (٢٦٧)، الحج ١٨ (١٥٣٩)، اللباس ٧٠ (٥٩١٨)، صحیح مسلم/الحج ٧ (١١٩٠)، بدون ذکر بعد ثلاثة، مسند احمد (٦/٢٠٠، ٢٠٧، ٢٠٩، ٢١٤، ٢١٦، ٢٣٧، ٢٣٨، ٢٤٤، ٢٤٥، ٢٥٨) (صحیح )
2929Sunan Ibne-Majah

محرم کون سالباس پہن سکتا ہے؟

حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَلْبَسُ الْقُمُصَ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَنْ لَا يَجِدَ نَعْلَيْنِ، فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ، أَوِ الْوَرْسُ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا: قمیص، عمامے (پگڑیاں) ، پاجامے، ٹوپیاں، اور موزے نہ پہنے، البتہ اگر جوتے میسر نہ ہوں تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کرلے، اور کوئی ایسا لباس بھی نہ پہنے جس میں زعفران یا ورس لگی ہو ١ ؎۔

It was narrated from ‘Abdullah bin Umar that a man the Messenger of Allah ﷺ what clothes may the Muhrim wear? The Messenger of Allah ﷺ said: "He should not wear a shirt, or turbans (or head cover), pants or pajamas, hooded cloaks and no leather socks, unless he cannot find sandals, in which case he may wear the leather socks but should cut them to below the ankles. And he should not wear any clothes that have been touched (dyed) with saffron or Wars.(Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: امام احمد کے نزدیک موزوں کا کاٹنا ضروری نہیں، دیگر ائمہ کے نزدیک کاٹنا ضروری ہے، دلیل ان کی یہی حدیث ہے، اور امام احمد کی دلیل ابن عباس ؓ کی وہ حدیث ہے جس میں کاٹنے کا ذکر نہیں ہے، جب کہ وہ میدان عرفات کے موقع کی حدیث ہے، یعنی ابن عمر ؓ کی اس حدیث کی ناسخ ہے، اور ورس اور زعفران سے منع اس لیے کیا گیا کہ اس میں خوشبو ہوتی ہے، یہی حکم ہر اس رنگ کا ہے جس میں خوشبو ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٥٣ (١٣٤)، الصلاة ٩ (٣٦٦)، الحج ٢١ (١٥٤٢)، جزاء الصید ١٣ (١٨٣٨)، ١٥ (١٨٤٢)، اللباس ٨ (٥٧٩٤)، ١٣ (٥٨٠٣)، ١٥ (٥٨٠٦)، صحیح مسلم/الحج ١ (١١٧٧)، سنن ابی داود/المناسک ٣٢ (١٨٢٤)، سنن الترمذی/الحج ١٨ (٨٣٣)، سنن النسائی/الحج ٣٠ (٢٦٧٠)، (تحفة الأشراف: ٨٣٢٥)، موطا امام مالک/الحج ٤ (٩)، مسند احمد (٢/٤، ٨، ٢٢، ٢٩، ٣٢، ٣٤، ٤١، ٥٤، ٥٦، ٥٨، ٦٣، ٦٥، ١٧٧، ١١٩)، سنن الدارمی/المناسک ٩ (١٨٣٩) (صحیح )
2930Sunan Ibne-Majah

محرم کون سالباس پہن سکتا ہے؟

حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِوَرْسٍ، أَوْ زَعْفَرَانٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے محرم کو ورس (خوشبودار گھاس) اور زعفران سے رنگا کپڑا پہننے سے منع فرمایا۔

It was narrated that Abdullah bin "Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade the Muhrim to wear a garment dyed with Wars or saffron." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللباس ٣٧ (٥٨٥٢)، صحیح مسلم/الحج ١ (١١٧٧)، (تحفة الأشراف: ٧٢٢٦)، (أنظر ما قبلہ) (صحیح )
2931Sunan Ibne-Majah

محرم کو تہبند نہ ملے تو پائجامہ پہن لے اور جوتا نہ ملے تو موزہ پہن لے۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، قَالَ هِشَامٌ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: مَنْ لَمْ يَجِدْ إِزَارًا فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وقَالَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ: فَلْيَلْبَسْ سَرَاوِيلَ إِلَّا أَنْ يَفْقِدَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا (ہشام نے اپنی روایت میں منبر پر کا اضافہ کیا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا: جسے تہ بند میسر نہ ہو تو وہ پاجامہ پہن لے، اور جسے جوتے نہ مل سکیں وہ موزے پہن لے ، ہشام اپنی روایت میں کہتے ہیں: وہ پاجامے پہنے جب تہ بند نہ ہو ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "I heard the Prophet ﷺ delivering a sermon - (one of the narrators) Hisham said: On the pulpit - and he said: Whoever does not have a waist wrap, let him wear pants or pajamas, and whoever does not have sandals, let him wear leather socks. II In his narration, Hisham said: "If he does not find any, then let him wear pants or pajamas." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ١٥ (١٨٤١)، ١٦ (١٨٤٣)، اللباس ١٤ (٥٨٠٤)، ٣٧ (٥٨٥٣)، صحیح مسلم/الحج ١ (١١٧٨)، سنن ابی داود/المناسک ٣٢ (١٨٢٩)، سنن الترمذی/الحج ١٩ (٨٣٤)، سنن النسائی/الحج ٣٢ (٢٦٧٢، ٢٦٧٣)، ٣٧ (٢٦٨٠)، الزینة من المجتبیٰ ٤٦ (٥٣٢٧)، (تحفة الأشراف: ٥٣٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١٥، ٢٢١، ٢٢٨، ٢٧٩، ٣٣٧)، سنن الدارمی/المناسک ٩ (١٨٤٠) (صحیح )
2932Sunan Ibne-Majah

محرم کو تہبند نہ ملے تو پائجامہ پہن لے اور جوتا نہ ملے تو موزہ پہن لے۔

حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کرلے ۔

It was narrated from Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "Whoever does not have sandals Jet him wear leather socks, and let him cut them to below the ankle." (Sahih)

Takhrij · تخریج
حدیث نافع تقدم تخریجہ، (٢٩٢٩)، وحدیث عبد اللہ بن دینار تقدم تخریجہ، (٢٩٣٠)، (تحفة الأشراف: ٢٩٣٠) (صحیح )
2933Sunan Ibne-Majah

احرام میں ان امور سے بچنا چاہئے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ نَزَلْنَا، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَائِشَةُ إِلَى جَنْبِهِ، وَأَنَا إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ، فَكَانَتْ زِمَالَتُنَا وَزِمَالَةُ أَبِي بَكْرٍ وَاحِدَةً، مَعَ غُلَامِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: فَطَلَعَ الْغُلَامُ وَلَيْسَ مَعَهُ بَعِيرُهُ، فَقَالَ لَهُ: أَيْنَ بَعِيرُكَ؟، قَالَ: أَضْلَلْتُهُ الْبَارِحَةَ، قَالَ: مَعَكَ بَعِيرٌ وَاحِدٌ تُضِلُّهُ؟، قَالَ: فَطَفِقَ يَضْرِبُهُ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْمُحْرِمِ مَا يَصْنَعُ؟.

اسماء بنت ابی بکر ؓ کہتی ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (حج کے لیے) نکلے، جب مقام عرج میں پہنچے تو ہم نے پڑاؤ ڈال دیا، رسول اللہ ﷺ بیٹھے اور ام المؤمنین عائشہ ؓ آپ کے پاس بیٹھ گئیں، اور میں (اپنے والد) ابوبکر ؓ کے پاس، اس سفر میں میرا اور ابوبکر ؓ کا سامان اٹھانے والا اونٹ ایک تھا جو ابوبکر کے غلام کے ساتھ تھا، اتنے میں غلام آیا، اس کے ساتھ اونٹ نہیں تھا تو انہوں نے اس سے پوچھا: تمہارا اونٹ کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: کل رات کہیں غائب ہوگیا، ابوبکر ؓ نے اس سے کہا: تمہارے ساتھ ایک ہی اونٹ تھا، اور وہ بھی تم نے گم کردیا، پھر وہ اسے مارنے لگے اور رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے: دیکھو اس محرم کو کیا کر رہا ہے ؟ ١ ؎۔

It was narrated that Asma bint Abu Bakr (RA) said: "We went out with the Messenger of Allah ﷺ until, when we were in Arj, we stopped to camp. The Messenger of Allah ﷺ sat, with Aisha (RA) by his side, and I was sitting beside Abu Bakr. Our mount! and the mount of Abu Bakr (RA) was one, under the care of the slave of Abu Bakr, The slave looked and his camel was not with hirn, so he said to him: Where is your camel? He said: I lost it yesterday. He said: You have one camel with you and you lost it? He started to beat him, and the Messenger of Allah ﷺ said: Look at what this Muhrim is doing! " (Daif)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مار پیٹ، لڑائی جھگڑا احرام کی حالت میں یہ باتیں منع ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/المناسک ٣٠ (١٧٧٠)، (تحفة الأشراف: ١٥٧١٥) (حسن) (سند میں محمد اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ١٥٩٥ )
2934Sunan Ibne-Majah

محرم سردھوسکتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ اخْتَلَفَا بِالْأَبْوَاءِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ: يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ، وَقَالَ الْمِسْوَرُ: لَا يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ، فَأَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ، وَهُوَ يَسْتَتِرُ بِثَوْبٍ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟، قُلْتُ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُنَيْنٍ، أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، أَسْأَلُكَ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ، وَهُوَ مُحْرِمٌ؟، قَالَ: فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ، فَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا لِي رَأْسُهُ، ثُمَّ قَالَ لِإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَيْهِ: اصْبُبْ فَصَبَّ عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ.

عبداللہ بن حنین ؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ ؓ کے درمیان مقام ابواء میں اختلاف ہوا تو عبداللہ بن عباس ؓ نے کہا: محرم اپنا سر دھو سکتا ہے، اور مسور ؓ نے کہا: نہیں دھو سکتا، چناچہ عبداللہ بن عباس ؓ نے مجھے ابوایوب انصاری ؓ کے پاس بھیجا، تاکہ میں ان سے اس سلسلے میں معلوم کروں، میں نے انہیں کنویں کے کنارے دو لکڑیوں کے درمیان ایک کپڑے کی آڑ لیے ہوئے نہاتے پایا، میں نے سلام عرض کیا، تو انہوں نے پوچھا: کون ہے؟ میں نے کہا: میں عبداللہ بن حنین ہوں، مجھے عبداللہ بن عباس ؓ نے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ میں آپ سے معلوم کروں کہ حالت احرام میں رسول اللہ ﷺ اپنے سر کو کیسے دھوتے تھے، ابوایوب ؓ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا اور اسے جھکایا یہاں تک کہ مجھے ان کا سر دکھائی دینے لگا، پھر ایک شخص سے جو پانی ڈال رہا تھا، کہا: پانی ڈالو، تو اس نے آپ کے سر پر پانی ڈالا، پھر آپ نے اپنے ہاتھوں سے سر کو ملا، اور دونوں ہاتھ سر کے آگے سے لے گئے، اور پیچھے سے لائے، پھر بولے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Ibrahim bin Abdullah bin Hunain, from his father, that Abdullah bin Abbas and Miswar bin Makhramah disagreed at Abwa. Abdullah bin Abbas said that the Muhrim may wash his head, and Miswar said that the Muhrim may not wash his head. Ibn Abbas sent me to Abu Ayyub Al-Ansari to ask him about that, and I found him taking a bath near the well, screened with a piece of cloth. I greeted him with Salam, and he said: "Who is this?" I said: "I am Abdullah bin Hunain. Abdullah bin Abbas sent me to you to ask you how the Messenger of Allah ﷺ used to wash his head when he was in Ihram. He said: Abu Ayyub put his hand on the cloth and lowered it until his head appeared, then he said to someone who was pouring water for him, Pour water. So he poured water on his head. Then he rubbed his head with his hands, forwards and backwards, and said: This is what I saw him ﷺ doing. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: حالت احرام میں سر کا دھونا صرف پانی سے جائز ہے کسی بھی ایسی چیز سے پرہیز ضروری ہے جس سے جوؤں کے مرنے کا خوف ہو اسی طرح سر دھوتے وقت اتنا زور سے سے نہ رگڑیں کہ بال گریں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ١٤ (١٨٤٠)، صحیح مسلم/الحج ١٣ (١٢٠٥)، سنن ابی داود/الحج ٣٨ (١٨٤٠)، سنن النسائی/الحج ٢٧ (٢٦٦٦)، (تحفة الأشراف: ٣٤٦٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ٢ (٤)، مسند احمد (٥/٤١٦، ٤١٨، ٤٢١)، سنن الدارمی/المناسک ٦ (١٨٣٤) (صحیح )
2935Sunan Ibne-Majah

احرام والی عورت اپنے چہرہ کے سامنے کپڑالٹکائے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، فَإِذَا لَقِيَنَا الرَّاكِبُ أَسْدَلْنَا ثِيَابَنَا مِنْ فَوْقِ رُءُوسِنَا، فَإِذَا جَاوَزَنَا رَفَعْنَاهَا. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ احرام کی حالت میں تھے، جب ہمیں کوئی سوار ملتا تو ہم اپنا کپڑا اپنے سروں کے اوپر سے لٹکا لیتے، اور جب سوار آگے بڑھ جاتا تو ہم اسے اٹھا لیتے ١ ؎۔

It was narrated that Aisha (RA) said: "We were with the Prophet ﷺ , and we were in Ihram, When a rider met us we would lower our garments from the top of our heads, and when he has gone, we would lift them up again." (Daif) Another chain with similar wording.

Notes · وضاحت
١ ؎: احرام کی حالت میں عورتوں کو اپنے چہرے پر نقاب لگانا منع ہے، مگر حدیث میں جس نقاب کا ذکر ہے وہ اس وقت ایسا ہوتا تھا جو چہرے پر باندھا جاتا تھا، برصغیر ہند و پاک کے موجودہ برقعوں کا نقاب چادر کے آنچل کی طرح ہے جس کو ازواج مطہرات مردوں کے گزرنے کے وقت چہرے پر لٹکا لیا کرتی تھیں، (دیکھئے حدیث رقم ١٨٣٣ ) اس لیے اس نقاب کو بوقت ضرورت عورتیں چہرے پر لٹکا سکتی ہیں۔ اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ ؓ سے اسی طرح مرفوعاً مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/المناسک ٣٤ (١٨٣٣)، (تحفة الأشراف: ١٧٥٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٠) (حسن) (سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف ہیں، لیکن اسماء ؓ سے یہ ثابت ہے، اس لیے اس سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ٤٣٣ )
2936Sunan Ibne-Majah

حج میں شرط لگانا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ جَدَّتِهِ، قَالَ: لَا أَدْرِي أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَوْ سُعْدَى بِنْتِ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ: مَا يَمْنَعُكِ يَا عَمَّتَاهُ مِنَ الْحَجِّ؟، فَقَالَتْ: أَنَا امْرَأَةٌ سَقِيمَةٌ، وَأَنَا أَخَافُ الْحَبْسَ، قَالَ: فَأَحْرِمِي، وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلَّكِ حَيْثُ حُبِسْتِ.

ابوبکر بن عبداللہ بن زبیر اپنی جدّہ (دادی یا نانی) سے روایت کرتے ہیں (راوی کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ وہ اسماء بنت ابی بکر ہیں یا سعدیٰ بنت عوف) کہ رسول اللہ ﷺ ضباعہ بنت عبدالمطلب ؓ کے پاس گئے اور فرمایا: پھوپھی جان! حج کرنے میں آپ کے لیے کون سی چیز رکاوٹ ہے ؟ انہوں نے عرض کیا: میں ایک بیمار عورت ہوں اور مجھے اندیشہ ہے کہ میں پہنچ نہیں سکوں گی، آپ ﷺ نے فرمایا: آپ احرام باندھ لیں اور شرط کرلیں کہ جس جگہ بہ سبب بیماری آگے نہیں جا سکوں گی، وہیں حلال ہوجاؤں گی۔

It was narrated from Abu Bakr (RA) bin Abdullah bin Zubair from his grandmother - he (the narrator) said: "I do not know if it was Asma bint Abu Bakr (RA) or Suda bint Awf - that the Messenger of Allah ﷺ entered upon Dub"-ah bint Abdul-Muttalib and said: "What is keeping you, O my aunt, from performing Hajj?" She said: "I am a sick woman, and I am afraid of being prevented (from completing Hajj)." He said: "Enter Ihram and stipulate the condition that you will exit Ihram from the point where you are prevented." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٨٩٢، ومصباح الزجاجة: ١٠٣٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٤٩) (صحیح) (سند میں ابوبکر بن عبد اللہ مستور ہیں، لیکن دوسرے طرق سے تقویت پاکر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ٤ / ١٨٧ )