Sunan Ibne-Majah 2624

دیت کا بیان

2624Sunan Ibne-Majah

جس کا کوئی عزیز قتل کردیا جائے تو اسے تین باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ: إِمَّا أَنْ يَقْتُلَ وَإِمَّا أَنْ يُفْدَى.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کا کوئی شخص قتل کردیا جائے تو اسے دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے، یا تو وہ قاتل کو قصاص میں قتل کر دے، یا فدیہ لے لے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "If a person’s relative is killed, he has the choice of two things: He may either have the killer killed, or he may demand the blood money."

Notes · وضاحت
١ ؎: ایک تیسری بات یہ ہے کہ معاف کر دے، اور امام بخاری (رح) نے عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کی کہ نبی اسرائیل میں قصاص تھا لیکن دیت نہ تھی، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: كتب عليكم القصاص في القتلى (سورة البقرة: 178) مسلمانوں قتل میں تمہارے اوپر قصاص فرض کیا گیا ہے اور قصاص کے بارے میں فرمایا: ولکم في القصاص حياة (سورة البقرة: 179) تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے غرض ان آیات و احادیث سے قصاص ثابت ہے اور اس پر علماء کا اجماع ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٣٩ (١١٢)، اللقطة ٧ (٢٤٣٤)، الدیات ٨ (٦٨٨٠)، صحیح مسلم/الحج ٨٢ (١٣٥٥)، سنن ابی داود/الدیات ٤ (٤٥٠٥)، سنن الترمذی/الدیات ١٣ (١٤٠٥)، سنن النسائی/القسامة ٢٤ (٤٧٨٩، ٤٧٩٠)، (تحفة الأشراف: ١٥٣٨٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٣٨) (صحیح )