Sunan Ibne-Majah 2158

تجارت ومعاملات کا بیان

2158Sunan Ibne-Majah

قرآن سکھانے پر اجرت لینا۔

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْكَلَاعِيِّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: عَلَّمْتُ رَجُلًا الْقُرْآنَ، فَأَهْدَى إِلَيَّ قَوْسًا فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنْ أَخَذْتَهَا أَخَذْتَ قَوْسًا مِنْ نَارٍ فَرَدَدْتُهَا.

ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو قرآن پڑھنا سکھایا تو اس نے مجھے ایک کمان ہدیے میں دی، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تم نے یہ لی تو آگ کی ایک کمان لی ، اس وجہ سے میں نے اس کو واپس کردیا۔

It was narrated that Ubayy bin Ka’b said: “I taught a man the Qur’ân, and he gave me a bow. I mentioned that to the Messenger of Allah ﷺ and he said: ‘If you accept it you will be accepting a bow of fire.’ So I returned it.” (Da’if)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٩، ومصباح الزجاجة: ٧٥٨) (صحیح) (سند میں عطیہ اور أبی بن کعب ؓ کے درمیان انقطاع ہے، اور عبدالرحمن بن سلم مجہول راوی ہیں، سند میں اضطراب بھی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٤٩٣ )