Sunan Ibne-Majah 2155

تجارت ومعاملات کا بیان

2155Sunan Ibne-Majah

ذخیرہ اندوزی اور اپنے شہر میں تجارت کیلئے دوسرے شہر سے مال لانا۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى الْمَكِّيُّ، عَنْ فَرُّوخَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنِ احْتَكَرَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ طَعَامَهُمْ ضَرَبَهُ اللَّهُ بِالْجُذَامِ وَالْإِفْلَاسِ.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جو مسلمانوں کے کھانے کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے جذام (کوڑھ) یا افلاس (فقر) میں مبتلا کر دے گا ۔

It was narrated that Umar bin Khattab said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Whoever hoards food (and keeps it from) the Muslims, Allah will afflict him with leprosy and bankruptcy." (Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٠٦٢٢، ومصباح الزجاجة: ٧٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢١) (ضعیف) سند میں ابویحییٰ المکی مجہول ہیں، صرف ابن+حبان نے ان کی توثیق ہے، اور یہ معلوم ہے کہ وہ مجہول رواة کی توثیق کرتے ہیں ایسے ہی فروخ کی توثیق بھی صرف ابن+حبان نے کی ہے، جو حجت نہیں ہے، ابن الجوزی نے العلل المتناہیة میں حدیث کی تضعیف ابویحییٰ کی جہالت کی وجہ سے کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجة: ٧٦٤ )