Sunan Ibne-Majah 2146

تجارت ومعاملات کا بیان

2146Sunan Ibne-Majah

تجارت میں تقوی اختیار کرنا۔

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْإِسْمَاعِيل بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رِفَاعَةَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ بُكْرَةً، فَنَادَاهُمْ: يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ، فَلَمَّا رَفَعُوا أَبْصَارَهُمْ وَمَدُّوا أَعْنَاقَهُمْ، قَالَ: إِنَّ التُّجَّارَ يُبْعَثُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فُجَّارًا إِلَّا مَنِ اتَّقَى اللَّهَ وَبَرَّ وَصَدَقَ.

رفاعہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ اچانک کچھ لوگ صبح کے وقت خریدو فروخت کرتے نظر آئے، آپ نے ان کو پکارا: اے تاجروں کی جماعت! جب ان لوگوں نے اپنی نگاہیں اونچی اور گردنیں لمبی کرلیں ١ ؎ تو آپ نے فرمایا: تاجر قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے جائیں گے کہ وہ فاسق و فاجر ہوں گے، سوائے ان کے جو اللہ سے ڈریں، اور نیکوکار اور سچے ہوں ١ ؎۔

It was narrated from Isrnail bin "Ubaid bin Rifa ah, from his father, that his grandfather Rifaah said: "We went out with the Messenger of Allah ﷺ , and the people were trading early in the morning. He called them: O merchants! and when they looked up and craned their necks, he said: The merchants will be raised on the Day of Resurrection as immoral people, apart from those who fear Allah and act righteously and speak the truth (i.e. those who are honest). (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: نیک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں سے اچھا سلوک کرے، مفلس کو مہلت دے، بلکہ اگر ہو سکے تو معاف کر دے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/البیوع ٤ (١٢١٠)، (تحفة الأشراف: ٣٦٠٧)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/البیوع ٧ (٢٥٨٠) (صحیح) (سند میں اسماعیل بن عبید ضعیف راوی ہے، لیکن اصل حدیث: إن التجار يبعثون يوم القيامة فجارا صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٤٥٨ )