باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ البقرہ میں) فرمان کہ ”اپنی پاک کمائی میں سے خرچ کرو“۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ بَيْتِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ، كَانَ لَهَا أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ، وَلِزَوْجِهَا بِمَا كَسَبَ، وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ، لَا يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ شَيْئًا.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابو وائل نے، ان سے مسروق نے، اور ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، جب عورت اپنے گھر کا کھانا (غلہ وغیرہ) بشرطیکہ گھر بگاڑنے کی نیت نہ ہو خرچ کرے تو اسے خرچ کرنے کا ثواب ملتا ہے اور اس کے شوہر کو کمانے کا اور خزانچی کو بھی ایسا ہی ثواب ملتا ہے ایک کا ثواب دوسرے کے ثواب کو کم نہیں کرتا۔
Narrated Aisha (RA):
The Prophet ﷺ said, "If a woman gives in charity from her house meals without wasting (i.e. being extravagant), she will get the reward for her giving, and her husband will also get the reward for his earning and the storekeeper will also get a similar reward. The acquisition of the reward of none of them will reduce the reward of the others."
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ البقرہ میں) فرمان کہ ”اپنی پاک کمائی میں سے خرچ کرو“۔
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ كَسْبِ زَوْجِهَا عَنْ غَيْرِ أَمْرِهِ، فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِهِ.
مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے بیان کیا، ان سے ہمام نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اگر عورت اپنے شوہر کی کمائی اس کی اجازت کے بغیر بھی (اللہ کے راستے میں) خرچ کرتی ہے تو اسے آدھا ثواب ملتا ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
The Prophet ﷺ said, "If a woman gives something (i.e. in charity) from her husbands earnings without his permission, she will get half his reward."
باب: جو روزی میں کشادگی چاہتا ہو وہ کیا کرے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْكِرْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ مُحَمَّدٌ هُوَ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ، أَوْ يُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ.
ہم سے محمد بن یعقوب کرمانی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حسان بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا، ان سے محمد بن مسلم نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک ؓ نے کیا کہ میں نے سنا رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے کہ جو شخص اپنی روزی میں کشادگی چاہتا ہو یا عمر کی دارازی چاہتا ہو تو اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے۔
Narrated Anas bin Malik (RA):
I heard Allahs Apostle ﷺ saying, "whoever desires an expansion in his sustenance and age, should keep good relations with his kith and kin."
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ادھار خریدنا۔
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ: ذَكَرْنَا عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ الرَّهْنَ فِي السَّلَمِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى طَعَامًا مِنْ يَهُودِيٍّ إِلَى أَجَلٍ، وَرَهَنَهُ دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ.
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا کہ ابراہیم نخعی کی مجلس میں ہم نے ادھار لین دین میں (سامان) گروی رکھنے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھ سے اسود نے عائشہ ؓ سے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک یہودی سے کچھ غلہ ایک مدت مقرر کر کے ادھا خریدا اور اپنی لوہے کی ایک زرہ اس کے پاس گروی رکھی۔
Narrated Aisha (RA):
The Prophet ﷺ purchased food grains from a Jew on credit and mortgaged his iron armor to him.
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ادھار خریدنا۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ . ح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ أَبُو الْيَسَعِ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ مَشَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ، وَلَقَدْ رَهَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دِرْعًا لَهُ بِالْمَدِينَةِ عِنْدَ يَهُودِيٍّ، وَأَخَذَ مِنْهُ شَعِيرًا لِأَهْلِهِ، وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَا أَمْسَى عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعُ، بُرٍّ وَلَا صَاعُ حَبٍّ، وَإِنَّ عِنْدَهُ لَتِسْعَ نِسْوَةٍ.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس ؓ نے (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسباط ابوالیسع بصریٰ نے، کہا کہ ہم سے ہشام دستوائی نے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے انس ؓ سے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں جَو کی روٹی اور بدبودار چربی (سالن کے طور پر) لے گئے۔ نبی کریم ﷺ نے اس وقت اپنی زرہ مدینہ میں ایک یہودی کے یہاں گروی رکھی تھی اور اس سے اپنے گھر والوں کے لیے قرض لیا تھا۔ میں نے خود آپ کو یہ فرماتے سنا کہ محمد ﷺ کے گھرانے میں کوئی شام ایسی نہیں آئی جس میں ان کے پاس ایک صاع گیہوں یا ایک صاع کوئی غلہ موجود رہا ہو، حالانکہ آپ ﷺ کی گھر والیوں کی تعداد نو تھی۔
Narrated Qatada (RA):
Anas went to the Prophet ﷺ with barley bread having some dissolved fat on it. The Prophet ﷺ had mortgaged his armor to a Jew in Madinah and took from him some barley for his family. Anas heard him saying, "The household of Muhammad did not possess even a single Sa of wheat or food grains for the evening meal, although he has nine wives to look after." (See Hadith No. 685)
باب: انسان کا کمانا اور اپنے ہاتھوں سے محنت کرنا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، قَالَ: لَقَدْ عَلِمَ قَوْمِي أَنَّ حِرْفَتِي لَمْ تَكُنْ تَعْجِزُ عَنْ مَئُونَةِ أَهْلِي، وَشُغِلْتُ بِأَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَسَيَأْكُلُ آلُأَبِي بَكْرٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ، وَيَحْتَرِفُ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ.
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر ؓ نے کہا کہ عائشہ ؓ نے کہا کہ جب ابوبکر ؓ خلیفہ ہوئے تو فرمایا، میری قوم جانتی ہے کہ میرا (تجارتی) کاروبار میرے گھر والوں کی گذران کے لیے کافی رہا ہے، لیکن اب میں مسلمانوں کے کام میں مشغول ہوگیا ہوں، اس لیے آل ابوبکر اب بیت المال میں سے کھائے گی، اور ابوبکر مسلمانوں کا مال تجارت بڑھاتا رہے گا۔
Narrated Aisha (RA):
When Abu Bakr (RA) As-Siddiq was chosen Caliph, he said, "My people know that my profession was not incapable of providing substance to my family. And as I will be busy serving the Muslim nation, my family will eat from the National Treasury of Muslims, and I will practise the profession of serving the Muslims."
باب: انسان کا کمانا اور اپنے ہاتھوں سے محنت کرنا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَّالَ أَنْفُسِهِمْ، وَكَانَ يَكُونُ لَهُمْ أَرْوَاحٌ، فَقِيلَ لَهُمْ: لَوِ اغْتَسَلْتُمْ، رَوَاهُ هَمَّامٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ .
مجھ سے محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوالاسود نے بیان کیا، ان سے عروہ نے کہ عائشہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ اپنے کام اپنے ہی ہاتھوں سے کیا کرتے تھے اور (زیادہ محنت و مشقت کی وجہ سے) ان کے جسم سے (پسینے کی) بو آجاتی تھی۔ اس لیے ان سے کہا گیا کہ اگر تم غسل کرلیا کرو تو بہتر ہوگا۔ اس کی روایت ہمام نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے باپ سے اور انہوں نے عائشہ ؓ سے کی ہے۔
Narrated Aisha (RA):
The companions of Allahs Apostle ﷺ used to practise manual labor, so their sweat used to smell, and they were advised to take a bath.
باب: انسان کا کمانا اور اپنے ہاتھوں سے محنت کرنا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ الْمِقْدَامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ، خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ، وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، كَانَ يَأْكُلُ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، انہیں ثور نے خبر دی، انہیں خالد بن معدان نے اور انہیں مقدام ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی انسان نے اس شخص سے بہتر روزی نہیں کھائی، جو خود اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتا ہے اللہ کے نبی داؤد (علیہ السلام) بھی اپنے ہاتھ سے کام کر کے روزی کھایا کرتے تھے۔
Narrated Al-Miqdam (RA):
The Prophet ﷺ said, "Nobody has ever eaten a better meal than that which one has earned by working with ones own hands. The Prophet ﷺ of Allah, David used to eat from the earnings of his manual labor."
باب: انسان کا کمانا اور اپنے ہاتھوں سے محنت کرنا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ دَاوُدَ النَّبِيَّ عَلَيْهِ السَّلَام، كَانَ لَا يَأْكُلُ إِلَّا مِنْ عَمَلِ يَدِهِ.
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں معمر نے خبر دی، انہیں ہمام بن منبہ نے، ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا، اور ان سے نبی کریم ﷺ نے کہ داؤد (علیہ السلام) صرف اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھایا کرتے تھے۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
Allahs Apostle ﷺ said, "The Prophet ﷺ David used not to eat except from the earnings of his manual labor."
باب: انسان کا کمانا اور اپنے ہاتھوں سے محنت کرنا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَأَنْ يَحْتَطِبَ أَحَدُكُمْ حُزْمَةً عَلَى ظَهْرِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ أَحَدًا فَيُعْطِيَهُ أَوْ يَمْنَعَهُ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کے غلام ابی عبید نے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ شخص جو لکڑی کا گھٹا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے، اس سے بہتر ہے جو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے چاہیے وہ اسے کچھ دیدے یا نہ دے۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
Allahs Apostle ﷺ said, "One would rather cut and carry a bundle of wood on his back than ask somebody who may or may not live him."
باب: انسان کا کمانا اور اپنے ہاتھوں سے محنت کرنا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ أَحْبُلَهُ.
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے زبیر بن عوام ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی اپنی رسیوں کو سنبھال لے اور ان میں لکڑی باندھ کر لائے تو وہ اس سے بہتر ہے جو لوگوں سے مانگتا ہے پھرتا ہے۔
Narrated Az-Zubair bin Al-Awwam (RA):
The Prophet ﷺ said, "One would rather take a rope and cut wood and carry it than ask others)."
باب: خرید و فروخت کے وقت نرمی، وسعت اور فیاضی کرنا اور کسی سے اپنا حق پاکیزگی سے مانگنا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا سَمْحًا، إِذَا بَاعَ، وَإِذَا اشْتَرَى، وَإِذَا اقْتَضَى.
ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوغسان محمد بن مطرف نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن منکدر نے بیان کیا، اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر رحم کرے جو بیچتے وقت اور خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت فیاضی اور نرمی سے کام لیتا ہے۔
Narrated Jabir bin Abdullah (RA):
Allahs Apostle ﷺ said, "May Allahs mercy be on him who is lenient in his buying, selling, and in demanding back his money."
باب: جو شخص مالدار کو مہلت دے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، أَنَّ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَلَقَّتِ الْمَلَائِكَةُ رُوحَ رَجُلٍ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، قَالُوا: أَعَمِلْتَ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا ؟ قَالَ: كُنْتُ آمُرُ فِتْيَانِي أَنْ يُنْظِرُوا وَيَتَجَاوَزُوا عَنِ الْمُوسِرِ، قَالَ: قَالَ: فَتَجَاوَزُوا عَنْهُ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَقَالَ أَبُو مَالِكٍ : عَنْ رِبْعِيٍّ : كُنْتُ أُيَسِّرُ عَلَى الْمُوسِرِ وَأُنْظِرُ الْمُعْسِرَ، وَتَابَعَهُ شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، وَقَالَ أَبُو عَوَانَةَ : عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ رِبْعِيٍّ أُنْظِرُ الْمُوسِرَ وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعْسِرِ، وَقَالَ نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ : عَنْ رِبْعِيٍّ، فَأَقْبَلُ مِنَ الْمُوسِرِ وَأَتَجَاوَزُ عَنِ الْمُعْسِرِ.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا کہا کہ ہم سے منصور نے، ان سے ربعی بن حراش نے بیان کیا اور ان سے حذیفہ بن یمان ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، تم سے پہلے گذشتہ امتوں کے کسی شخص کی روح کے پاس (موت کے وقت) فرشتے آئے اور پوچھا کہ تو نے کچھ اچھے کام بھی کئے ہیں؟ روح نے جواب دیا کہ میں اپنے نوکروں سے کہا کرتا تھا کہ وہ مالدار لوگوں کو (جو ان کے مقروض ہوں) مہت دے دیا کریں اور ان پر سختی نہ کریں۔ اور محتاجوں کو معاف کردیا کریں۔ راوی نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، پھر فرشتوں نے بھی اس سے درگزر کیا اور سختی نہیں کی اور ابومالک نے ربعی سے (اپنی روایت میں یہ الفاظ) بیان کئے ہیں کھاتے کماتے کے ساتھ ( اپنا حق لیتے وقت) نرم معاملہ کرتا تھا اور تنگ حال مقروض کو مہلت دیتا تھا۔ اس کی متابعت شعبہ نے کی ہے۔ ان سے عبدالملک نے اور ان سے ربعی نے بیان کیا، ابوعوانہ نے کہا کہ ان سے عبدالملک نے ربعی سے بیان کیا کہ (اس روح نے یہ الفاظ کہے تھے) میں کھاتے کماتے کو مہلت دے دیتا تھا اور تنگ حال والے مقروض سے درگزر کرتا تھا اور نعیم بن ابی ہند نے بیان کیا، ان سے ربعی نے (کہ روح نے یہ الفاظ کہے تھے) میں کھاتے کماتے لوگوں کے (جن پر میرا کوئی حق واجب ہوتا) عذر قبول کرلیا کرتا تھا اور تنگ حال والے سے درگزر کردیتا تھا۔
Narrated Hudhaifa (RA):
The Prophet ﷺ said, "Before your time the angels received the soul of a man and asked him, Did you do any good deeds (in your life)? He replied, I used to order my employees to grant time to the rich person to pay his debts at his convenience. So Allah said to the angels; "Excuse him." Rabi said that (the dead man said), I used to be easy to the rich and grant time to the poor. Or, in another narration, grant time to the well-off and forgive the needy, or, accept from the well-off and forgive the needy.
باب: جس نے تنگ دست کو مہلت دی اس کا ثواب۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ تَاجِرٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَإِذَا رَأَى مُعْسِرًا، قَالَ لِفِتْيَانِهِ: تَجَاوَزُوا عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهُ.
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن ولید زبیدی نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا جب کسی تنگ دست کو دیکھتا تو اپنے نوکروں سے کہہ دیتا کہ اس سے درگزر کر جاؤ۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے (آخرت میں) درگزر فرمائے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے (اس کے مرنے کے بعد) اس کو بخش دیا۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
The Prophet ﷺ said, "There was a merchant who used to lend the people, and whenever his debtor was in straitened circumstances, he would say to his employees, Forgive him so that Allah may forgive us. So, Allah forgave him."
باب: جب خریدنے والے اور بیچنے والے دونوں صاف صاف بیان کر دیں اور ایک دوسرے کی بہتری چاہیں۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، رَفَعَهُ إِلَىحَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، أَوْ قَالَ حَتَّى يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا، بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا، مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے ان سے صالح ابوخلیل نے، ان سے عبیداللہ بن حارث نے، انہوں نے حکیم بن حزام ؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، خریدنے اور بیچنے والوں کو اس وقت تک اختیار (بیع ختم کردینے کا) ہے جب تک دونوں جدا نہ ہوں یا آپ ﷺ نے ( ما لم يتفرقا کے بجائے) حتى يتفرقا فرمایا۔ (نبی کریم ﷺ نے مزید ارشاد فرمایا) پس اگر دونوں نے سچائی سے کام لیا اور ہر بات صاف صاف کھول دی تو ان کی خریدو فروخت میں برکت ہوتی ہے لیکن اگر کوئی بات چھپا رکھی یا جھوٹ کہی تو ان کی برکت ختم کردی جاتی ہے۔
Narrated Hakim bin Hizam (RA):
Allahs Apostle ﷺ said, "The seller and the buyer have the right to keep or return goods as long as they have not parted or till they part; and if both the parties spoke the truth and described the defects and qualities (of the goods), then they would be blessed in their transaction, and if they told lies or hid something, then the blessings of their transaction would be lost."
باب: مختلف قسم کی کھجور ملا کر بیچنا کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ وَهُوَ الْخِلْطُ مِنَ التَّمْرِ، وَكُنَّا نَبِيعُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا صَاعَيْنِ بِصَاعٍ، وَلَا دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَمٍ.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے ابوسلمہ نے، ان سے ابوسعید ؓ نے بیان کیا کہ ہمیں (نبی کریم ﷺ کی طرف سے) مختلف قسم کی کھجوریں ایک ساتھ ملا کرتی تھیں اور ہم دو صاع کھجور ایک صاع کے بدلے میں بیچ دیا کرتے تھے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دو صاع ایک صاع کے بدلہ میں نہ بیچی جائے اور نہ دو درہم ایک درہم کے بدلے بیچے جائیں۔
Narrated Abu Said (RA):
We used to be given mixed dates (from the booty) and used to sell (barter) two Sas of those dates) for one Sa (of good dates). The Prophet ﷺ said (to us), "No (bartering of) two Sas for one Sa nor two Dirhams for one Dirham is permissible", (as that is a kind of usury). (See Hadith No. 405).
باب: گوشت بیچنے والے اور قصاب کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُكْنَى أَبَا شُعَيْبٍ، فَقَالَ لِغُلَامٍ لَهُ قَصَّابٍ: اجْعَلْ لِي طَعَامًا يَكْفِي خَمْسَةً ؟ فَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَدْعُوَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ، فَإِنِّي قَدْ عَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْجُوعَ، فَدَعَاهُمْ فَجَاءَ مَعَهُمْ رَجُلٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَذَا قَدْ تَبِعَنَا، فَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ فَأْذَنْ لَهُ، وَإِنْ شِئْتَ أَنْ يَرْجِعَ رَجَعَ، فَقَالَ: لَا، بَلْ قَدْ أَذِنْتُ لَهُ.
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے شقیق نے بیان کیا، اور ان سے ابومسعود ؓ نے کہ انصار میں سے ایک صحابی جن کی کنیت ابوشعیب ؓ تھی، تشریف لائے اور اپنے غلام سے جو قصاب تھا۔ فرمایا کہ میرے لیے اتنا کھانا تیار کر جو پانچ آدمی کے لیے کافی ہو۔ میں نے نبی کریم ﷺ کی اور آپ کے ساتھ اور چار آدمیوں کی دعوت کا ارادہ کیا، کیونکہ میں نے آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر بھوک کا اثر نمایاں دیکھا ہے۔ چناچہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو بلایا۔ آپ ﷺ کے ساتھ ایک اور صاحب بھی آگئے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہمارے ساتھ ایک اور صاحب زائد آگئے ہیں۔ مگر آپ چاہیں تو انہیں بھی اجازت دے سکتے ہیں، اور اگر چاہیں تو واپس کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں، بلکہ میں انہیں بھی اجازت دیتا ہوں۔
Narrated Abu Mas`ud: An Ansari man, called Abu Shuaib, came and told his butcher slave, "Prepare meals sufficient for five persons, for I want to invite the Prophet ﷺ along with four other persons as I saw signs of hunger on his face." Abu Shuaib invited them and another person came along with them. The Prophet ﷺ said (to Abu Shuaib), This man followed us, so if you allow him, he will join us, and if you want him to return, he will go back." Abu Shuaib said, "No, I have allowed him (i.e. he, too, is welcomed to the meal).
باب: بیچنے میں جھوٹ بولنے اور عیب کو چھپانے سے برکت ختم ہو جاتی ہے۔
حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْخَلِيلِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْحَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، أَوْ قَالَ: حَتَّى يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا، بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا، مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا.
ہم سے بدل بن محبر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قتادہ نے، کہا کہ میں نے ابوخلیل سے سنا، وہ عبداللہ بن حارث سے نقل کرتے تھے اور وہ حکیم بن حزام ؓ سے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، خریدو فروخت کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں (کہ بیع فسخ کردیں یا رکھیں) یا آپ نے ( ما لم يتفرقا کے بجائے) حتى يتفرقا فرمایا۔ پس اگر دونوں نے سچائی اختیار کی اور ہر بات کھول کھول کر بیان کی تو ان کی خریدو فروخت میں برکت ہوگی اور اگر انہوں نے کچھ چھپائے رکھا یا جھوٹ بولا تو ان کے خریدو فروخت کی برکت ختم کردی جائے گی۔
Narrated Hakim bin Hizam (RA):
The Prophet ﷺ aid, "The buyer and the seller have the option to cancel or to confirm the deal, as long as they have not parted or till they part, and if they spoke the truth and told each other the defects of the things, then blessings would be in their deal, and if they hid something and told lies, the blessing of the deal would be lost."
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ ”اے ایمان والو! سود در سود مت کھاؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاس کو“۔
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ بِمَا أَخَذَ الْمَالَ، أَمِنْ حَلَالٍ أَمْ مِنْ حَرَامٍ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ انسان اس کی پرواہ نہیں کرے گا کہ مال اس نے کہاں سے لیا، حلال طریقہ سے یا حرام طریقہ سے۔
Narrated Abu Hurairah (ra):
The Prophet ﷺ said "Certainly a time will come when people will not bother to know from where they earned the money, by lawful means or unlawful means." (See Hadith no. 2050)
باب: سود کھانے والا اور اس پر گواہ ہونے والا اور سودی معاملات کا لکھنے والا، ان سب کی سزا کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ آخِرُ الْبَقَرَةِ، قَرَأَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ جب (سورۃ) بقرہ کی آخری آیتیں الذين يأکلون الربا *** الخ نازل ہوئیں تو نبی کریم ﷺ نے انہیں صحابہ ؓ کو مسجد میں پڑھ کر سنایا۔ اس کے بعد ان پر شراب کی تجارت حرام کردیا۔
Narrated Aisha (RA):
When the last Verses of Surat al- Baqara were revealed, the Prophet ﷺ recited them in the mosque and proclaimed the trade of alcohol as illegal.