Sahih Bukhari

All 7,282 hadiths in order · Page 92 of 365

1940Sahih Bukhari

باب: روزہ دار کا پچھنا لگوانا اور قے کرنا کیسا ہے۔

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَكُنْتُمْ تَكْرَهُونَ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا مِنْ أَجْلِ الضَّعْفِ، وَزَادَ شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ثابت بنانی سے سنا، انہوں نے انس بن مالک ؓ سے پوچھا تھا کہ کیا آپ لوگ روزہ کی حالت میں پچھنا لگوانے کو مکروہ سمجھا کرتے تھے؟ آپ نے جواب دیا کہ نہیں البتہ کمزوری کے خیال سے (روزہ میں نہیں لگواتے تھے) شبابہ نے یہ زیادتی کی ہے کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ (ایسا ہم) نبی کریم ﷺ کے عہد میں (کرتے تھے) ۔

Narrated Thabit Al-Bunani: Anas bin Malik (RA) was asked whether they disliked the cupping for a fasting person. He replied in the negative and said, "Only if it causes weakness."

1941Sahih Bukhari

باب: سفر میں روزہ رکھنا اور افطار کرنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ، سَمِعَ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ لِرَجُلٍ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الشَّمْسُ، قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي، قَالَ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، الشَّمْسُ، قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي، فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ فَشَرِبَ، ثُمَّ رَمَى بِيَدِهِ هَاهُنَا، ثُمَّ قَالَ: إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ أَقْبَلَ مِنْ هَاهُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ، تَابَعَهُ جَرِيرٌ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ.

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق شیبانی نے، انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے سنا کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے (روزہ کی حالت میں) نبی کریم ﷺ نے ایک صاحب (بلال ؓ) سے فرمایا کہ اتر کر میرے لیے ستو گھول لے، انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ! ابھی تو سورج باقی ہے، آپ ﷺ نے پھر فرمایا کہ اتر کر ستو گھول لے، اب کی مرتبہ بھی انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ! ابھی سورج باقی ہے لیکن آپ کا حکم اب بھی یہی تھا کہ اتر کر میرے لیے ستو گھول لے، پھر آپ ﷺ نے ایک طرف اشارہ کر کے فرمایا جب تم دیکھو کہ رات یہاں سے شروع ہوچکی ہے تو روزہ دار کو افطار کرلینا چاہیے۔ اس کی متابعت جریر اور ابوبکر بن عیاش نے شیبانی کے واسطہ سے کی ہے اور ان سے ابواوفی ؓ نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھا۔

Narrated Ibn Abi Aufa: We were in the company of Allahs Apostle ﷺ on a journey. He said to a man, "Get down and mix Sawiq (powdered barley) with water for me." The man said, "The sun (has not set yet), O Allahs Apostle." The Prophet ﷺ again said to him, "Get down and mix Sawiq with water for me." The man again said, "O Allahs Apostle ﷺ ! The sun!" The Prophet ﷺ said to him (for the third time) "Get down and mix Sawiq with water for me." The man dismounted and mixed Sawiq with water for him. The Prophet ﷺ drank it and then beckoned with his hand (towards the East) and said, "When you see the night falling from this side, then a fasting person should break his fast."

1942Sahih Bukhari

باب: سفر میں روزہ رکھنا اور افطار کرنا۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنِّي أَسْرُدُ الصَّوْمَ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے باپ عروہ نے بیان کیا، ان سے عائشہ ؓ نے کہ حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ نے عرض کی یا رسول اللہ! میں سفر میں لگاتار روزہ رکھتا ہوں۔

Narrated Aisha (RA): Hamza bin Amr Al-Aslami said, "O Allahs Apostle ﷺ ! I fast continuously." Narrated Aisha (RA): (the wife of the Prophet) Hamza bin Amr Al-Aslami asked the Prophet, "Should I fast while traveling?" The Prophet ﷺ replied, "You may fast if you wish, and you may not fast if you wish."

1943Sahih Bukhari

باب: سفر میں روزہ رکھنا اور افطار کرنا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَأَصُومُ فِي السَّفَرِ، وَكَانَ كَثِيرَ الصِّيَامِ ؟ فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ.

( دوسری سند امام بخاری (رح) نے کہا کہ) اور ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہیں امام مالک نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے اور انہیں نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ ؓ نے کہ حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی میں سفر میں روزہ رکھوں؟ وہ روزے بکثرت رکھا کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر جی چاہے تو روزہ رکھ اور جی چاہے افطار کر۔

Narrated `Aisha: (the wife of the Prophet) Hamza bin `Amr Al-Aslami asked the Prophet, "Should I fast while traveling?" The Prophet ﷺ replied, "You may fast if you wish, and you may not fast if you wish".

1944Sahih Bukhari

باب: جب رمضان میں کچھ روزے رکھ کر کوئی سفر کرے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ، أَفْطَرَ فَأَفْطَرَ النَّاسُ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَالْكَدِيدُ مَاءٌ بَيْنَ عُسْفَانَ، وَقُدَيْدٍ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور انہیں ابن عباس ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ (فتح مکہ کے موقع پر) مکہ کی طرف رمضان میں چلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے تھے لیکن جب کدید پہنچے تو روزہ رکھنا چھوڑ دیا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری (رح)) نے کہا کہ عسفان اور قدید کے درمیان کدید ایک تالاب ہے۔

Narrated Ibn Abbas (RA): Allahs Apostle ﷺ set out for Makkah in Ramadan and he fasted, and when he reached Al-Kadid, he broke his fast and the people (with him) broke their fast too. (Abu Abdullah said, "Al-Kadid is a land covered with water between Usfan and Qudaid.")

1945Sahih Bukhari

رمضان کے چند روزے رکھ کر سفر کرنے کا بیان۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فِي يَوْمٍ حَارٍّ، حَتَّى يَضَعَ الرَّجُلُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ، وَمَا فِينَا صَائِمٌ إِلَّا مَا كَانَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنِ رَوَاحَةَ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، ان سے ابوعبدالرحمٰن بن یزید بن جابر نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن عبیداللہ نے بیان کیا، اور ان سے ام الدرداء ؓ نے بیان کیا کہ ابودرداء ؓ نے کہا ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر کر رہے تھے۔ دن انتہائی گرم تھا۔ گرمی کا یہ عالم تھا کہ گرمی کی سختی سے لوگ اپنے سروں کو پکڑ لیتے تھے، نبی کریم ﷺ اور ابن رواحہ ؓ کے سوا کوئی شخص روزہ سے نہیں تھا۔

Narrated Abu Ad-Darda (RA): We set out with Allahs Apostle ﷺ on one of his journeys on a very hot day, and it was so hot that one had to put his hand over his head because of the severity of heat. None of us was fasting except the Prophet ﷺ and Ibn Rawaha.

1946Sahih Bukhari

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا اس شخص کے لیے جس پر شدت گرمی کی وجہ سے سایہ کر دیا گیا تھا کہ سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَأَى زِحَامًا وَرَجُلًا قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَا هَذَا ؟ فَقَالُوا: صَائِمٌ، فَقَالَ: لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ.

ہم سے آدم بن ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن انصاری نے بیان کیا، کہا کہ میں نے محمد بن عمرو بن حسن بن علی ؓ سے سنا اور انہوں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر (غزوہ فتح) میں تھے آپ ﷺ نے دیکھا کہ ایک شخص پر لوگوں نے سایہ کر رکھا ہے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ایک روزہ دار ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ سفر میں رو زہ رکھنا اچھا کام نہیں ہے۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA): Allahs Apostle ﷺ was on a journey and saw a crowd of people, and a man was being shaded (by them). He asked, "What is the matter?" They said, "He (the man) is fasting." The Prophet ﷺ said, "It is not righteousness that you fast on a journey."

1947Sahih Bukhari

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم (سفر میں) روزہ رکھتے یا نہ رکھتے وہ ایک دوسرے پر نکتہ چینی نہیں کیا کرتے تھے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنَّا نُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَعِبْ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ، وَلَا الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ.

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس بن مالک ؓ نے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ (رمضان میں) سفر کیا کرتے تھے۔ (سفر میں بہت سے روزے سے ہوتے اور بہت سے بےروزہ ہوتے) لیکن روزے دار بےروزہ دار پر اور بےروزہ دار روزے دار پر کسی قسم کی عیب جوئی نہیں کیا کرتے تھے۔

Narrated Anas bin Malik (RA): We used to travel with the Prophet ﷺ and neither did the fasting persons criticize those who were not fasting, nor did those who were not fasting criticize the fasting ones.

1948Sahih Bukhari

باب: سفر میں لوگوں کو دکھا کر روزہ افطار کر ڈالنا۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ، فَرَفَعَهُ إِلَى يَدَيْهِ لِيُرِيَهُ النَّاسَ، فَأَفْطَرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ، فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ.

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے منصور نے، ان سے مجاہد نے، ان سے طاؤس نے اور ان سے عبداللہ بن عباس ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے (غزوہ فتح میں) مدینہ سے مکہ کے لیے سفر شروع کیا تو آپ ﷺ روزہ سے تھے، جب آپ عسفان پہنچے تو پانی منگوایا اور اسے اپنے ہاتھ سے (منہ تک) اٹھایا تاکہ لوگ دیکھ لیں پھر آپ ﷺ نے روزہ چھوڑ دیا یہاں تک کہ مکہ پہنچے۔ ابن عباس ؓ کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے (سفر میں) روزہ رکھا بھی اور نہیں بھی رکھا اس لیے جس کا جی چاہے روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔

Narrated Tawus (RA): Ibn Abbas (RA) said, "Allahs Apostle ﷺ set out from Madinah to Makkah and he fasted till he reached Usfan, where he asked for water and raised his hand to let the people see him, and then broke the fast, and did not fast after that till he reached Makkah, and that happened in Ramadan." Ibn Abbas (RA) used to say, "Allahs Apostle ﷺ (sometimes) fasted and (sometimes) did not fast during the journeys so whoever wished to fast could fast, and whoever wished not to fast, could do so."

1949Sahih Bukhari

باب: اور جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں ان پر فدیہ ہے۔

حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَرَأَ فِدْيَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ، قَالَ: هِيَ مَنْسُوخَةٌ.

ہم سے عیاش نے بیان کیا، ان سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے (آیت مذکور بالا) فديه طعام مسكين پڑھی اور فرمایا یہ منسوخ ہے۔

Narrated Nafi (RA): Ibn Umar (RA) recited the verse: "They had a choice either to fast or to feed a poor person for every day, and said that the order of this Verse was cancelled.

1950Sahih Bukhari

باب: رمضان کے قضاء روزے کب رکھے جائیں۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: كَانَ يَكُونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَ إِلَّا فِي شَعْبَانَ، قَالَ يَحْيَى: الشُّغْلُ مِنَ النَّبِيِّ، أَوْ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ ؓ سے سنا وہ فرماتیں کہ رمضان کا روزہ مجھ سے چھوٹ جاتا۔ شعبان سے پہلے اس کی قضاء کی توفیق نہ ہوتی۔ یحییٰ نے کہا کہ یہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں مشغول رہنے کی وجہ سے تھا۔

Narrated Aisha (RA): Sometimes I missed some days of Ramadan, but could not fast in lieu of them except in the month of Shaban." Said Yahya, a sub-narrator, "She used to be busy serving the Prophet ﷺ ."

1951Sahih Bukhari

باب: حیض والی عورت نہ نماز پڑھے اور نہ روزے رکھے۔

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدٌ ، عَنْ عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ، فَذَلِكَ نُقْصَانُ دِينِهَا.

ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے زید بن اسلم نے بیان کیا، ان سے عیاض نے اور ان سے ابوسعید ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا جب عورت حائضہ ہوتی ہے تو نماز اور روزے نہیں چھوڑ دیتی؟ یہی اس کے دین کا نقصان ہے۔

Narrated Abu Said (RA): The Prophet ﷺ said, "Isnt it true that a woman does not pray and does not fast on menstruating? And that is the defect (a loss) in her religion."

1952Sahih Bukhari

باب: اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ، صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ، تَابَعَهُ ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ .

ہم سے محمد بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن موسیٰ ابن اعین نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے عمرو بن حارث نے، ان سے عبیداللہ بن ابی جعفر نے، ان سے محمد بن جعفر نے کہا، ان سے عروہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص مرجائے اور اس کے ذمہ روزے واجب ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھ دے، موسیٰ کے ساتھ اس حدیث کو ابن وہب نے بھی عمرو سے روایت کیا اور یحییٰ بن ایوب سختیانی نے بھی ابن ابی جعفر سے۔

Narrated Aisha (RA): Allahs Apostle ﷺ said, "Whoever died and he ought to have fasted (the missed days of Ramadan) then his guardians must fast on his behalf."

1953Sahih Bukhari

باب: اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ، أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى، قَالَ سُلَيْمَانُ : فَقَالَ الْحَكَمُ وَسَلَمَةُ وَنَحْنُ جَمِيعًا جُلُوسٌ، حِينَ حَدَّثَ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَا: سَمِعْنَا مُجَاهِدًا يَذْكُرُ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، وَسَلَمَةِ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَعَطَاءٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ، وَقَالَ يَحْيَى، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ، وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ نَذْرٍ، وَقَالَ أَبُو حَرِيزٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَاتَتْ أُمِّي وَعَلَيْهَا صَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا.

ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے زائدہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم بطین نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ! میری ماں کا انتقال ہوگیا اور ان کے ذمے ایک مہینے کے روزے باقی رہ گئے ہیں۔ کیا میں ان کی طرف سے قضاء رکھ سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ضرور، اللہ تعالیٰ کا قرض اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ اسے ادا کردیا جائے۔ سلیمان اعمش نے بیان کیا کہ حکم اور سلمہ نے کہا جب مسلم بطین نے یہ حدیث بیان کیا تو ہم سب وہیں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان دونوں حضرات نے فرمایا کہ ہم نے مجاہد سے بھی سنا تھا کہ وہ یہ حدیث ابن عباس ؓ سے بیان کرتے تھے۔ ابوخالد سے روایت ہے کہ اعمش نے بیان کیا ان سے حکم، مسلم بطین اور سلمہ بن کہیل نے، ان سے سعید بن جبیر، عطاء اور مجاہد نے ابن عباس ؓ سے کہ ایک خاتون نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی کہ میری بہن کا انتقال ہوگیا ہے پھر یہی قصہ بیان کیا، یحییٰ اور سعید اور ابومعاویہ نے کہا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے مسلم نے، ان سے سعید نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے کہ ایک خاتون نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی کہ میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے زید ابن ابی انیسہ نے، ان سے حکم نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے کہ ایک خاتون نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی کہ میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور ان پر نذر کا ایک روزہ واجب تھا اور ابوحریز عبداللہ بن حسین نے بیان کیا، کہا ہم سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس ؓ نے کہ ایک خاتون نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور ان پر پندرہ دن کے روزے واجب تھے۔

Narrated Ibn Abbas (RA): A man came to the Prophet ﷺ and said, "O Allahs Apostle ﷺ ! My mother died and she ought to have fasted one month (for her missed Ramadan). Shall I fast on her behalf?" The Prophet ﷺ replied in the affirmative and said, "Allahs debts have more right to be paid." In another narration a woman is reported to have said, "My sister died..." Narrated Ibn Abbas (RA): A woman said to the Prophet ﷺ "My mother died and she had vowed to fast but she didnt fast." In another narration Ibn Abbas (RA) is reported to have said, "A woman said to the Prophet, "My mother died while she ought to have fasted for fifteen days."

1954Sahih Bukhari

باب: روزہ کس وقت افطار کرے؟

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَاهُنَا، وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ.

ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے عاصم بن عمر ؓ بن خطاب سے سنا، ان سے ان کے باپ عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، جب رات اس طرف (مشرق) سے آئے اور دن ادھر مغرب میں چلا جائے کہ سورج ڈوب جائے تو روزہ کے افطار کا وقت آگیا۔

Narrated Umar bin Al-Khattab (RA): Allahs Apostle ﷺ said, "When night falls from this side and the day vanishes from this side and the sun sets, then the fasting person should break his fast."

1955Sahih Bukhari

باب: روزہ کس وقت افطار کرے؟

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ""إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَاهُنَا، وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ"".

ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن شیبانی نے، ان سے عبداللہ بن ابی اوفی ؓ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (غزوہ فتح جو رمضان میں ہوا) سفر میں تھے اور نبی کریم ﷺ روزہ سے تھے۔ جب سورج غروب ہوگیا آپ ﷺ نے ایک صحابی (بلال ؓ) سے فرمایا کہ اے فلاں! میرے لیے اٹھ کے ستو گھول، انہوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! آپ تھوڑی دیر اور ٹھہرتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اتر کر ہمارے لیے ستو گھول، اس پر انہوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ تھوڑی دیر اور ٹھہرتے نبی کریم ﷺ نے پھر وہی حکم دیا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول لیکن ان کا اب بھی خیال تھا کہ ابھی دن باقی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس مرتبہ پھر فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول چناچہ اترے اور ستو انہوں نے گھول دیا اور رسول اللہ ﷺ نے پیا۔ پھر فرمایا کہ جب تم یہ دیکھ لو کہ رات اس مشرق کی طرف سے آگئی تو روزہ دار کو افطار کرلینا چاہیے۔

Narrated Abdullah bin Abi Aufa (RA): We were in the company of the Prophet ﷺ on a journey and he was fasting, and when the sun set, he addressed somebody, "O so-and-so, get up and mix Sawiq with water for us." He replied, "O Allahs Apostle ﷺ ! (Will you wait) till it is evening?" The Prophet ﷺ said, "Get down and mix Sawiq with water for us." He replied, "O Allahs Apostle ﷺ ! (If you wait) till it is evening." The Prophet ﷺ said again, "Get down and mix Sawiq with water for us." He replied, "It is still daytime."(1) The Prophet ﷺ said again, "Get down and mix Sawiq with water for us." He got down and mixed Sawiq for them. The Prophet ﷺ drank it and then said, "When you see night falling from this side, the fasting person should break his fast."

1956Sahih Bukhari

باب: پانی وغیرہ جو چیز بھی پاس ہو اس سے روزہ افطار کر لینا چاہئے۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ سُلَيْمَانُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ أَمْسَيْتَ، قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا، قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا، فَنَزَلَ فَجَدَحَ، ثُمَّ قَالَ: إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ أَقْبَلَ مِنْ هَاهُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے سنا، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں جا رہے تھے، آپ ﷺ روزے سے تھے، جب سورج غروب ہوا تو آپ نے ایک شخص سے فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول، انہوں نے کہا یا رسول اللہ! تھوڑی دیر اور ٹھہرئیے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول انہوں نے پھر یہی کہا کہ یا رسول اللہ! ابھی تو دن باقی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اتر کر ستو ہمارے لیے گھول، چناچہ انہوں نے اتر کر ستو گھولا۔ نبی کریم ﷺ نے پھر فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات کی تاریکی ادھر سے آگئی تو روزہ دار کو روزہ افطار کرلینا چاہیے۔ آپ ﷺ نے اپنی انگلی سے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔

Narrated Abdullah bin Abi Aufa" We were traveling with Allahs Apostle ﷺ and he was fasting, and when the sun set, he said to (someone), "Get down and mix Sawiq with water for us." He replied, "O Allahs Apostle ﷺ ! (Will you wait) till it is evening?" The Prophet ﷺ again said, "Get down and mix Sawiq with water for us." He replied, "O Allahs Apostle ﷺ ! It is still daytime." The Prophet ﷺ said again, "Get down and mix Sawiq with water for us." So, he got down and carried out that order. The Prophet ﷺ then said, "When you see night falling from this side, the fasting person should break his fast," and he beckoned with his finger towards the east.

1957Sahih Bukhari

باب: روزہ کھولنے میں جلدی کرنا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوحازم سلمہ بن دینار نے، انہیں سہل بن سعد ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، میری امت کے لوگوں میں اس وقت تک خیر باقی رہے گی، جب تک وہ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔

Narrated Sahl bin Sad (RA): Allahs Apostle ﷺ said, "The people will remain on the right path as long as they hasten the breaking of the fast."

1958Sahih Bukhari

باب: روزہ کھولنے میں جلدی کرنا۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَصَامَ حَتَّى أَمْسَى، قَالَ لِرَجُلٍ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي، قَالَ: لَوِ انْتَظَرْتَ حَتَّى تُمْسِيَ، قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي، إِذَا رَأَيْتَ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَاهُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ.

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ان سے سلیمان شیبانی نے اور ان سے ابن ابی اوفی ؓ نے کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔ آپ ﷺ روزے سے تھے، جب شام ہوئی تو آپ ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا کہ (اونٹ سے) اتر کر میرے لیے ستو گھول، اس نے کہا: یا رسول اللہ! اگر شام ہونے کا کچھ اور انتظار فرمائیں تو بہتر ہو، آپ ﷺ نے فرمایا، اتر کر میرے لیے ستو گھول (وقت ہوگیا ہے) جب تم یہ دیکھ لو کہ رات ادھر مشرق سے آگئی تو روزہ دار کے روزہ کھولنے کا وقت ہوگیا۔

Narrated Ibn Abi Aufa (RA): I was with the Prophet ﷺ on a journey, and he observed the fast till evening. The Prophet ﷺ said to a man, "Get down and mix Sawiq with water for me." He replied, "Will you wait till it is evening?" The Prophet ﷺ said, "Get down and mix Sawiq with water for me; when you see night falling from this side, the fasting person should break his fast."

1959Sahih Bukhari

باب: ایک شخص نے سورج غروب سمجھ کر روزہ کھول لیا اس کے بعد سورج نکل آیا۔

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَتْ: أَفْطَرْنَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَيْمٍ، ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، قِيلَ لِهِشَامٍ: فَأُمِرُوا بِالْقَضَاءِ، قَالَ: لَا بُدَّ مِنْ قَضَاءٍ، وَقَالَ مَعْمَرٌ: سَمِعْتُ هِشَامًا: لَا أَدْرِي أَقَضَوْا أَمْ لَا ؟.

ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماء بنت ابی بکر ؓ نے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں بادل تھا۔ ہم نے جب افطار کرلیا تو سورج نکل آیا۔ اس پر ہشام (راوی حدیث) سے کہا گیا کہ پھر انہیں اس روزے کی قضاء کا حکم ہوا تھا؟ تو انہوں نے بتلایا کہ قضاء کے سوا اور چارہ کار ہی کیا تھا؟ اور معمر نے کہا کہ میں نے ہشام سے یوں سنا مجھے معلوم نہیں کہ ان لوگوں نے قضاء کی تھی یا نہیں۔

Narrated Abu Usama from Hisham bin Ursa from Fatima (RA): Asma bint Abi Bakr said, "We broke our fast during the lifetime of the Prophet ﷺ on a cloudy day and then the sun appeared." Hisham was asked, "Were they ordered to fast in lieu of that day?" He replied, "It had to be made up for." Mamar said, "I heard Hisham saying, "I dont know whether they fasted in lieu of that day or not."