جوتوں کا ہار بنانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، ہم کو علی بن مبارک نے خبر دی، انہیں یحییٰ نے انہیں عکرمہ نے اور انہیں ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے (مثل سابق حدیث کے) ۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
From the Prophet: (as above).
باب: قربانی کے جانوروں کے لیے جھول کا ہونا۔
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِجِلَالِ الْبُدْنِ الَّتِي نَحَرْتُ وَبِجُلُودِهَا.
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے، ان سے مجاہد نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے علی ؓ نے بیان کیا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے ان قربانی کے جانوروں کے جھول اور ان کے چمڑے کو صدقہ کرنے کا حکم دیا تھا جن کی قربانی میں نے کردی تھی۔
Narrated Ali (RA):
Allahs Apostle ﷺ ordered me to give in charity the skin and the coverings of the Budn which I had slaughtered.
باب: اس شخص کے بارے میں جس نے اپنی ہدی راستہ میں خریدی اور اسے ہار پہنایا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا الْحَجَّ عَامَ حَجَّةِ الْحَرُورِيَّةِ فِي عَهْدِ ابْنِ الزُّبَيْر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ النَّاسَ كَائِنٌ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ وَنَخَافُ أَنْ يَصُدُّوكَ، فَقَالَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21، إِذًا أَصْنَعَ كَمَا صَنَعَ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي أَوْجَبْتُ عُمْرَةً حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ، قَالَ: مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلَّا وَاحِدٌ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ جَمَعْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَةٍ، وَأَهْدَى هَدْيًا مُقَلَّدًا اشْتَرَاهُ حَتَّى قَدِمَ فَطَافَ بالبيت وَبِالصَّفَا، وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ وَلَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَوْمِ النَّحْرِ، فَحَلَقَ وَنَحَرَ وَرَأَى أَنْ قَدْ قَضَى طَوَافَهُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ بِطَوَافِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: كَذَلِكَ صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوضمرہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ ابن عمر ؓ نے ابن زبیر ؓ کے عہد خلافت میں حجۃ الحروریہ کے سال حج کا ارادہ کیا تو ان سے کہا گیا کہ لوگوں میں باہم قتل و خون ہونے والا ہے اور ہم کو خطرہ اس کا ہے کہ آپ کو (مفسد لوگ حج سے) روک دیں، آپ نے جواب میں یہ آیت سنائی کہ تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ اس وقت میں بھی وہی کام کروں گا جو نبی کریم ﷺ نے کیا تھا۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ واجب کرلیا ہے، پھر جب آپ بیداء کے بالائی حصہ تک پہنچے تو فرمایا کہ حج اور عمرہ تو ایک ہی ہے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ عمرہ کے ساتھ میں نے حج کو بھی جمع کرلیا ہے، پھر آپ نے ایک ہدی بھی ساتھ لے لی جسے ہار پہنایا گیا تھا۔ آپ نے اسے خرید لیا یہاں تک کہ آپ مکہ آئے تو بیت اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی کی، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کیا جو چیزیں (احرام کی وجہ سے ان پر) حرام تھیں ان میں سے کسی سے قربانی کے دن تک وہ حلال نہیں ہوئے، پھر سر منڈوایا اور قربانی کی وجہ یہ سمجھتے تھے کہ اپنا پہلا طواف کر کے انہوں نے حج اور عمرہ دونوں کا طواف پورا کرلیا ہے پھر آپ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے بھی اسی طرح کیا تھا۔
Narrated Nafi:
Ibn Umar (RA) intended to perform Hajj in the year of the Hajj of Al-Harawriya during the rule of Ibn Az-Zubair. Some people said to him, "It is very likely that there will be a fight among the people, and we are afraid that they might prevent you (from performing Hajj)." He replied, "Verily, in Allahs Apostle ﷺ there is a good example for you (to follow). In this case I would do the same as he had done. I make you witness that I have intended to perform Umra." When he reached Al-Baida, he said, "The conditions for both Hajj and Umra are the same. I make you witness that I have intended to perform Hajj along with Umra." After that he took a garlanded Hadi (to Makkah) which he bought (on the way). When he reached (Makkah), he performed Tawaf of the Ka’bah and of Safa (and Marwa) and did not do more than that. He did not make legal for himself the things which were illegal for a Muhrim till it was the Day of Nahr (sacrifice), when he had his head shaved and slaughtered (the sacrifice) and considered sufficient his first Tawaf (between Safa and Marwa), as a (Sai) for his Hajj and Umra both. He then said, "The Prophet ﷺ used to do like that."
باب: کسی آدمی کا اپنی بیویوں کی طرف سے ان کی اجازت کے بغیر گائے کی قربانی کرنا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَتْ: سَمِعْتُعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذَا طَافَ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا والمروة أَنْ يَحِلَّ، قَالَتْ: فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا ؟ قَالَ: نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ، قَالَ يَحْيَى: فَذَكَرْتُهُ لِلْقَاسِمِ، فَقَالَ: أَتَتْكَ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک (رح) نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید نے، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ ؓ سے سنا، انہوں نے بتلایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (حج کے لیے) نکلے تو ذی قعدہ میں سے پانچ دن باقی رہے تھے ہم صرف حج کا ارادہ لے کر نکلے تھے، جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ جن لوگوں کے ساتھ قربانی نہ ہو وہ جب طواف کرلیں اور صفا ومروہ کی سعی بھی کرلیں تو حلال ہوجائیں گے، عائشہ ؓ نے کہا کہ قربانی کے دن ہمارے گھر گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے کہا کہ یہ کیا ہے؟ (لانے والے نے بتلایا) کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے یہ قربانی کی ہے، یحییٰ نے کہا کہ میں نے عمرہ کی یہ حدیث قاسم سے بیان کی انہوں نے کہا عمرہ نے یہ حدیث ٹھیک ٹھیک بیان کیا ہے۔
Narrated Amra bint AbdurRahman (RA):
I heard Aisha (RA) saying, "Five days before the end of Dhul-Qaada we set out from Madinah in the company of Allahs Apostle ﷺ with the intention of performing Hajj only. When we approached Makkah, Allahs Apostle ﷺ ordered those who had no Hadi with them to finish their lhram after performing Tawaf of the Ka’bah and (Sai) and between Safa and Marwa." Aisha (RA) added, "On the day of Nahr (slaughtering of sacrifice) beef was brought to us. I asked, What is this? The reply was, Allahs Apostle ﷺ has slaughtered (sacrifices) on behalf of his wives. "
________
باب: منیٰ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں نحر کیا وہاں نحر کرنا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سَمِعَ خَالِدَ بْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَنْحَرُ فِي الْمَنْحَرِ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: مَنْحَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نے بیان کیا، انہوں نے خالد بن حارث سے سنا، کہا ہم سے عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ عبداللہ ؓ نحر کرنے کی جگہ نحر کرتے تھے، عبیداللہ بن بتایا کہ مراد نبی کریم ﷺ کے نحر کرنے کی جگہ سے تھی۔
Narrated Nafi:
Abdullah (bin Umar (RA)), used to slaughter (his sacrifice) at the Manhar. (Ubaidullah, a sub-narrator said, "The Manhar of Allahs Apostle.")
باب: منیٰ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں نحر کیا وہاں نحر کرنا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يَبْعَثُ بِهَدْيِهِ مِنْ جَمْعٍ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، حَتَّى يُدْخَلَ بِهِ مَنْحَرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ حُجَّاجٍ فِيهِمُ الْحُرُّ وَالْمَمْلُوكُ.
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ ابن عمر ؓ اپنی قربانی کے جانوروں کو مزدلفہ سے آخر رات میں منیٰ بھجوا دیتے، یہ قربانیاں جن میں حاجی لوگ نیز غلام اور آزاد دونوں طرح کے لوگ ہوتے، اس مقام میں لے جاتے جہاں نبی کریم ﷺ نحر کیا کرتے تھے۔
Narrated Nafi:
Ibn Umar (RA) used to send his Hadi from Jam (to Mina) in the last third of the night with the pilgrims amongst whom there were free men and slaves, till it was taken into the Manhar (slaughtering place) of the Prophet ﷺ .
باب: اپنے ہاتھ سے نحر کرنا۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ سَبْعَ بُدْنٍ قِيَامًا، وَضَحَّى بالمدينة كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ مُخْتَصَرًا.
ہم سے سہل بن بکار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے، ان سے انس بن مالک ؓ نے اور انہوں نے مختصر حدیث بیان کی اور یہ بھی بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے سات اونٹ کھڑے کر کے اپنے ہاتھ سے نحر کئے اور مدینہ میں دو چتکبرے سینگ دار مینڈھوں کی قربانی کی۔
Narrated Sahl bin Bakkar (RA):
The narration of Anas abridged, saying, "The Prophet ﷺ slaughtered seven Budn (camels) while standing, with his own hands. On the day of Id-ul-Adha he slaughtered (sacrificed) two horned rams, black and white in color.
باب: اونٹ کو باندھ کر نحر کرنا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَتَى عَلَى رَجُلٍ قَدْ أَنَاخَ بَدَنَتَهُ يَنْحَرُهَا، قَالَ: ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً سُنَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَشُعْبَةُ : عَنْ يُونُسَ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ .
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے زیاد بن جبیر نے کہ میں نے دیکھا کہ عبداللہ بن عمر ؓ ایک شخص کے پاس آئے جو اپنا اونٹ بٹھا کر نحر کر رہا تھا، عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ اسے کھڑا کر اور باندھ دے، پھر نحر کر کہ یہی رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔ شعبہ نے یونس سے بیان کیا کہ مجھے زیادہ نے خبر دی۔
Narrated Zaid bin Jubair (RA):
I saw Ibn Umar (RA) passing by a man who had made his Badana sit to slaughter it. Ibn Umar (RA) said, "Slaughter it while it is standing with one leg tied up as is the tradition of Muhammad."
باب: اونٹوں کو کھڑا کر کے نحر کرنا۔
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ فَبَاتَ بِهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَجَعَلَ يُهَلِّلُ وَيُسَبِّحُ، فَلَمَّا عَلَا عَلَى الْبَيْدَاءِ لَبَّى بِهِمَا جَمِيعًا، فَلَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا، وَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ سَبْعَ بُدْنٍ قِيَامًا، وَضَحَّى بِالْمَدِينَةِ كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ.
ہم سے سہل بن بکار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے ظہر کی نماز مدینہ میں چار رکعت پڑھی اور عصر کی ذو الحلیفہ میں دو رکعات۔ رات آپ ﷺ نے وہیں گزاری، پھر جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر تہلیل و تسبیح کرنے لگے۔ جب بیداء پہنچے تو آپ ﷺ نے دونوں (حج و عمرہ) کے لیے ایک ساتھ تلبیہ کہا، جب مکہ پہنچے (اور عمرہ ادا کرلیا) تو صحابہ ؓ کو حکم دیا کہ حلال ہوجائیں۔ نبی کریم ﷺ نے خود اپنے ہاتھ سے سات اونٹ کھڑے کر کے نحر کئے اور مدینہ میں دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھے ذبح کئے۔
Narrated Anas :
The Prophet ﷺ offered four Rakat of Zuhr prayer at Medina; and two Rakat of Asr prayer at Dhul-hulaifa and spent the night there and when (the day) dawned, he mounted his Mount and started saying, "None has the right to be worshipped but Allah, and Glorified be Allah." When he reached Al-Baida he recited Talbiya for both Hajj and Umra. And when he arrived at Makkah, he ordered them (his companions) to finish their Ihram. The Prophet ﷺ slaughtered seven Budn (camel) with his own hands while the camels were standing He also sacrificed two horned rams (black and white in color) at Medina.
________
باب: اونٹوں کو کھڑا کر کے نحر کرنا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، وَعَنْ أَيُّوبَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ثُمَّ بَاتَ حَتَّى أَصْبَحَ، فَصَلَّى الصُّبْحَ، ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ الْبَيْدَاءَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس بن مالک ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے ظہر کی نماز مدینہ میں چار رکعت اور عصر کی ذو الحلیفہ میں دو رکعات پڑھی تھیں۔ ایوب نے ایک شخص کے واسطہ سے بروایت انس ؓ کہا پھر آپ ﷺ نے وہیں رات گزاری۔ صبح ہوئی تو فجر کی نماز پڑھی اور اپنی اونٹنی پر سوار ہوگئے، پھر جب مقام بیداء پہنچے تو عمرہ اور حج دونوں کا نام لے کر لبیک پکارا۔
Narrated Anas bin Malik (RA):
The Prophet ﷺ offered four Rakat of Zuhr prayer at Madinah and two Rakat of Asr prayer at Dhul-Hulaifa. Narrated Aiyub (RA): "A man said: Anas said, "Then he (the Prophet ﷺ passed the night there till dawn and then he offered the morning (Fajr) prayer, and mounted his Mount and when it arrived at Al-Baida he assumed Ihram for both Umra and Hajj."
________
باب: قصاب کو بطور مزدوری اس قربانی کے جانوروں میں سے کچھ نہ دیا جائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُمْتُ عَلَى الْبُدْنِ، فَأَمَرَنِي فَقَسَمْتُ لُحُومَهَا، ثُمَّ أَمَرَنِي فَقَسَمْتُ جِلَالَهَا وَجُلُودَهَا، قَالَ سُفْيَانُ : وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى الْبُدْنِ، وَلَا أُعْطِيَ عَلَيْهَا شَيْئًا فِي جِزَارَتِهَا.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، کہا مجھ کو ابن ابی نجیح نے خبر دی، انہیں مجاہد نے، انہیں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے علی ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے (قربانی کے اونٹوں کی دیکھ بھال کے لیے) بھیجا۔ اس لیے میں نے ان کی دیکھ بھال کی، پھر آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا تو میں نے ان کے گوشت تقسیم کئے، پھر آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا تو میں نے ان کے جھول اور چمڑے بھی تقسیم کر دئیے۔ سفیان نے کہا کہ مجھ سے عبدالکریم نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے علی ؓ نے بیان کیا کہ مجھے نبی کریم ﷺ نے حکم دیا تھا کہ میں قربانی کے اونٹوں کی دیکھ بھال کروں اور ان میں سے کوئی چیز قصائی کی مزدوری میں نہ دوں۔
Narrated Ali (RA):
The Prophet ﷺ sent me to supervise the (slaughtering of) Budn (Hadi camels) and ordered me to distribute their meat, and then he ordered me to distribute their covering sheets and skins. All added, "The Prophet ﷺ ordered me to supervise the slaughtering (of the Budn) and not to give anything (of their bodies) to the butcher as wages for slaughtering."
________
باب: قربانی کی کھال خیرات کر دی جائے گی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، وَعَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ ، أَنَّ مُجَاهِدًاأَخْبَرَهُمَا، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا لُحُومَهَا وَجُلُودَهَا وَجِلَالَهَا، وَلَا يُعْطِيَ فِي جِزَارَتِهَا شَيْئًا.
ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا کہ، ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے حسن بن مسلم اور عبدالکریم جزری نے خبر دی کہ مجاہد نے ان دونوں کو خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے خبر دی، انہیں علی ؓ نے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم دیا تھا کہ آپ ﷺ کی قربانی کے اونٹوں کی نگرانی کریں اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کی ہر چیز گوشت چمڑے اور جھول خیرات کردیں اور قصائی کی مزدوری اس میں سے نہ دیں۔
Narrated Ali (RA):
The Prophet ﷺ ordered me to supervise the (slaughtering) of Budn (Hadi camel) and to distribute their meat, skins and covering sheets in charity and not to give anything (of their bodies) to the butcher as wages for slaughtering.
باب: قربانی کے جانوروں کے جھول بھی صدقہ کر دیے جائیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: أَهْدَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ بَدَنَةٍ فَأَمَرَنِي بِلُحُومِهَا فَقَسَمْتُهَا، ثُمَّ أَمَرَنِي بِجِلَالِهَا فَقَسَمْتُهَا، ثُمَّ بِجُلُودِهَا فَقَسَمْتُهَا.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، ان سے سیف بن ابی سلیمان نے بیان کیا، کہا میں نے مجاہد سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن ابی لیلیٰ نے بیان کیا اور ان سے علی ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) سو اونٹ قربان کئے، میں نے آپ ﷺ کے حکم کے مطابق ان کے گوشت بانٹ دئیے، پھر آپ ﷺ نے ان کے جھول بھی تقسیم کرنے کا حکم دیا اور میں نے انہیں بھی تقسیم کیا، پھر چمڑے کے لیے حکم دیا اور میں نے انہیں بھی بانٹ دیا۔
Narrated Ali (RA):
The Prophet ﷺ offered one hundred Budn as Hadi and ordered me to distribute their meat (in charity) and I did so. Then he ordered me to distribute their covering sheets in charity and I did so. Then he ordered me to distribute their skins in charity and I did so.
________
باب: قربانی کے جانوروں میں سے کیا کھائیں اور کیا خیرات کریں۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: كُنَّا لَا نَأْكُلُ مِنْ لُحُومِ بُدْنِنَا فَوْقَ ثَلَاثِ مِنًى، فَرَخَّصَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كُلُوا وَتَزَوَّدُوا، فَأَكَلْنَا وَتَزَوَّدْنَا، قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَقَالَ حَتَّى جِئْنَا الْمَدِينَةَ، قَالَ: لَا.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعیدقطان نے، ان سے ابن جریج نے، ان سے عطاء نے، انہوں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ ہم اپنی قربانی کا گوشت منیٰ کے بعد تین دن سے زیادہ نہیں کھاتے تھے، پھر نبی کریم ﷺ نے ہمیں اجازت دے دی اور فرمایا کہ کھاؤ بھی اور توشہ کے طور پر ساتھ بھی لے جاؤ، چناچہ ہم نے کھایا اور ساتھ بھی لائے۔ ابن جریج نے کہا کہ میں نے عطاء سے پوچھا کیا جابر ؓ نے یہ بھی کہا تھا کہ یہاں تک کہ ہم مدینہ پہنچ گئے، انہوں نے کہا نہیں ایسا نہیں فرمایا۔
Narrated Ibn Juraij (RA):
Ata said, "I heard Jabir bin Abdullah saying, We never ate the meat of the Budn for more than three days of Mina. Later, the Prophet ﷺ gave us permission by saying: Eat and take (meat) with you. So we ate (some) and took (some) with us. " I asked Ata, "Did Jabir say (that they went on eating the meat) till they reached Medina?" Ata replied, "No."
باب: قربانی کے جانوروں میں سے کیا کھائیں اور کیا خیرات کریں۔
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ، وَلَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذَا طَافَ بالبيت، ثُمَّ يَحِلُّ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا ؟ فَقِيلَ: ذَبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ، قَالَ يَحْيَى: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمِ، فَقَالَ: أَتَتْكَ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ.
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن ہلال نے بیان کیا، کہا مجھ سے عمرہ نے بیان کیا، کہا میں نے عائشہ ؓ سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ ہم مدینہ سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تو ذی قعدہ کے پانچ دن باقی رہ گئے تھے، ہمارا ارادہ صرف حج ہی کا تھا، پھر جب مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جن کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ بیت اللہ کا طواف کر کے حلال ہوجائیں۔ عائشہ ؓ نے فرمایا کہ پھر ہمارے پاس بقر عید کے دن گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اس وقت معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے قربانی کی ہے۔ یحییٰ بن سعید نے کہا کہ میں نے اس حدیث کا قاسم بن محمد سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ عمرہ نے تم سے ٹھیک ٹھیک حدیث بیان کردی ہے۔ (ہر دو احادیث سے مقصد باب ظاہر ہے) کہ قربانی کا گوشت کھانے اور بطور توشہ رکھنے کی عام اجازت ہے، خود قرآن مجید میں فکلوا منها کا صیغہ موجود ہے کہ اسے غرباء مساکین کو بھی تقسیم کرو اور خود بھی کھاؤ۔
Narrated Amra (RA):
I heard Aisha (RA) saying, "We set out (from Medina) along with Allahs Apostle ﷺ five days before the end of Dhul-Qada with the intention of performing Hajj only. When we approached Makkah, Allahs Apostle ﷺ ordered those who had no Hadi along with them to finish the lhram after performing Tawaf of the Ka’bah, (Safa and Marwa). Aisha (RA) added, "Beef was brought to us on the Day of Nahr and I said, What is this? Somebody said, The Prophet ﷺ has slaughtered (cows) on behalf of his wives. "
________
باب: سر منڈوانے سے پہلے ذبح کرنا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّنْ حَلَقَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ وَنَحْوِهِ، فَقَالَ: لَا حَرَجَ لَا حَرَجَ.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا، ان سے ہشیم بن بشیر نے بیان کیا، انہیں منصور بن ذاذان نے خبر دی، انہیں عطا بن ابی رباح نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو قربانی کا جانور ذبح کرنے سے پہلے ہی سر منڈوا لے، تو آپ ﷺ نے فرمایا کوئی قباحت نہیں، کوئی قباحت نہیں۔ (ترجمہ اور باب میں موافقت ظاہر ہے) ۔
Narrated Ibn Abbas (RA):
The Prophet ﷺ was asked about a person who had his head shaved before slaughtering (his Hadi) (or other similar ceremonies of Hajj). He replied, "There is no harm, there is no harm."
باب: سر منڈوانے سے پہلے ذبح کرنا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: زُرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ؟ قَالَ: لَا حَرَجَ، قَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ ؟ قَالَ: لَا حَرَجَ، قَالَ: ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ؟ قَالَ: لَا حَرَجَ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحِيمِ الرَّازِيُّ : عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَى : حَدَّثَنِي ابْنُ خُثَيْمٍ ، عَنْعَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عَفَّانُ : أُرَاهُ عَنْ وُهَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ خُثَيْمٍ ، عَنْسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ حَمَّادٌ : عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍوَعَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوبکر بن عیاش نے خبر دی، انہیں عبدالعزیز بن رفیع نے، انہیں عطا بن ابی رباح نے اور انہیں ابن عباس ؓ نے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! رمی سے پہلے میں نے طواف زیارت کرلیا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں، پھر اس نے کہا اور یا رسول اللہ! قربانی کرنے سے پہلے میں نے سر منڈوا لیا، آپ ﷺ نے فرمایا کوئی حرج نہیں، پھر اس نے کہا اور قربانی کو رمی سے بھی پہلے کرلیا نبی کریم ﷺ نے پھر بھی یہی فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔ اور عبدالرحیم رازی نے ابن خشیم سے بیان کیا، کہا کہ عطاء نے خبر دی اور انہیں ابن عباس ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اور قاسم بن یحییٰ نے کہا کہ مجھ سے ابن خشیم نے بیان کیا، ان سے عطاء نے، ان سے ابن عباس ؓ نے نبی کریم ﷺ سے۔ عفان بن مسلم صغار نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہیب بن خالد سے روایت ہے کہ ابن خثیم نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے، ان سے ابن عباس ؓ نے نبی کریم ﷺ سے۔ اور حماد نے قیس بن سعد اور عباد بن منصور سے بیان کیا، ان سے عطاء نے اور ان سے جابر ؓ نے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔
Narrated Ibn Abbas (RA):
A man said to the Prophet ﷺ "I performed the Tawaf-al-Ifada before the Rami (throwing pebbles at the Jamra)." The Prophet ﷺ replied, "There is no harm." The man said, "I had my head shaved before slaughtering." The Prophet ﷺ replied, "There is no harm." He said, "I have slaughtered the Hadi before the Rami." The Prophet ﷺ replied, "There is no harm."
________
باب: سر منڈوانے سے پہلے ذبح کرنا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: رَمَيْتُ بَعْدَ مَا أَمْسَيْتُ ؟ فَقَالَ: لَا حَرَجَ، قَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ ؟ قَالَ: لَا حَرَجَ.
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ سے ایک آدمی نے مسئلہ پوچھا کہ شام ہونے کے بعد میں نے رمی کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔ سائل نے کہا کہ قربانی کرنے سے پہلے میں نے سر منڈا لیا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں۔
Narrated Ibn Abbas (RA):
The Prophet ﷺ was asked by a man who said, "I have done the Rami in the evening." The Prophet ﷺ replied, "There is no harm in it." Another man asked, "I had my head shaved before the slaughtering." The Prophet ﷺ replied, "There is no harm in it."
باب: سر منڈوانے سے پہلے ذبح کرنا۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ، فَقَالَ: أَحَجَجْتَ ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: بِمَا أَهْلَلْتَ ؟ قُلْتُ: لَبَّيْكَ بِإِهْلَالٍ كَإِهْلَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَحْسَنْتَ، انْطَلِقْ فَطُفْ بالبيت وَبِالصَّفَا والمروة، ثُمَّ أَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ بَنِي قَيْسٍ فَفَلَتْ رَأْسِي، ثُمَّ أَهْلَلْتُ بِالْحَجِّ فَكُنْتُ أُفْتِي بِهِ النَّاسَ حَتَّى خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَذَكَرْتُهُ لَهُ، فَقَالَ: إِنْ نَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ، فَإِنَّهُ يَأْمُرُنَا بِالتَّمَامِ، وَإِنْ نَأْخُذْ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى بَلَغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے باپ عثمان نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں قیس بن مسلم نے، انہیں طارق بن شہاب نے اور ان سے ابوموسیٰ ؓ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ بطحاء میں تھے۔ (جو مکہ کے قریب ایک جگہ ہے) آپ ﷺ نے پوچھا کیا تو نے حج کی نیت کی ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تو نے احرام کس چیز کا باندھا ہے میں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کے احرام کی طرح باندھا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو نے اچھا کیا اب جا۔ چناچہ (مکہ پہنچ کر) میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کی سعی کی، پھر میں بنو قیس کی ایک خاتون کے پاس آیا اور انہوں نے میرے سر کی جوئیں نکالی۔ اس کے بعد میں نے حج کی لبیک پکاری۔ اس کے بعد میں عمر ؓ کے عہد خلافت تک اسی کا فتویٰ دیتا رہا پھر جب میں نے عمر ؓ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ؓ نے فرمایا کہ ہمیں کتاب اللہ پر بھی عمل کرنا چاہیے اور اس میں پورا کرنے کا حکم ہے، پھر رسول اللہ ﷺ کی سنت پر بھی عمل کرنا چاہیے اور نبی کریم ﷺ قربانی سے پہلے حلال نہیں ہوئے تھے۔
Narrated Abu Musa (RA):
came upon Allahs Apostle ﷺ when he was at Al-Bat-ha. He asked me, "Have you intended to perform the Hajj?" I replied in the affirmative. He asked, "For what have you assumed lhram?" I replied," I have assumed Ihram with the same intention as that of the Prophet ﷺ ." The Prophet ﷺ said, "You have done well! Go and perform Tawaf round the Ka’bah and between Safa and Marwa." Then I went to one of the women of Bani Qais and she took out lice from my head. Later, I assumed the Ihram for Hajj. So, I used to give this verdict to the people till the caliphate of Umar. When I told him about it, he said, "If we take (follow) the Holy Book, then it orders us to complete Hajj and Umra (Hajj-at-Tamattu) and if we follow the tradition of Allahs Apostle ﷺ then Allahs Apostle ﷺ did not finish his lhram till the Hadi had reached its destination (had been slaughtered). (i.e. Hajj-al-Qiran). (See Hadith No. 630)
باب: اس کے متعلق جس نے احرام کے وقت سر کے بالوں کو جما لیا اور احرام کھولتے وقت سر منڈوا لیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا بِعُمْرَةٍ، وَلَمْ تَحْلِلْ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ ؟ قَالَ: إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہیں ابن عمر ؓ نے کہ حفصہ ؓ نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا وجہ ہوئی کہ اور لوگ تو عمرہ کر کے حلال ہوگئے اور آپ ﷺ نے عمرہ کرلیا اور حلال نہ ہوئے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنے سر کے بال جما لیے تھے اور قربانی کے گلے میں قلادہ پہنا کر میں (اپنے ساتھ) لایا ہوں، اس لیے جب تک میں نحر نہ کرلوں گا میں احرام نہیں کھولوں گا۔
Narrated Ibn Umar (RA):
Hafsah (RA) said, "O Allahs Apostle ﷺ ! What is wrong with the people; they finished their Ihram after performing Umra, but you have not finished it after your Umra?" He replied, "I matted my hair and have garlanded my Hadi. So, I cannot finish my Ihram till I slaughter (my Hadi). "
________