89- بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ بِعَرَفَةَ:
باب: عرفات میں دو نمازوں ( ظہر اور عصر) کو ملا کر پڑھنا
وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ مَعَ الْإِمَامِ جَمَعَ بَيْنَهُمَا.
وَقَال اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمٌ، أَنَّ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ عَامَ نَزَلَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، كَيْفَ تَصْنَعُ فِي الْمَوْقِفِ يَوْمَ عَرَفَةَ ؟، فَقَالَ سَالِمٌ: إِنْ كُنْتَ تُرِيدُ السُّنَّةَ فَهَجِّرْ بِالصَّلَاةِ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: صَدَقَ، إِنَّهُمْ كَانُوا يَجْمَعُونَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي السُّنَّةِ، فَقُلْتُ لِسَالِمٍ: أَفَعَلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ سَالِمٌ: وَهَلْ تَتَّبِعُونَ فِي ذَلِكَ إِلَّا سُنَّتَهُ.
اور عبداللہ بن عمر ؓ کی اگر نماز امام کے ساتھ چھوٹ جاتی تو بھی جمع کرتے۔
لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے عقیل نے ابن شہاب سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے سالم نے خبر دی کہ حجاج بن یوسف جس سال عبداللہ بن زبیر ؓ سے لڑنے کے لیے مکہ میں اترا تو اس موقع پر اس نے عبداللہ بن عمر ؓ سے پوچھا کہ عرفہ کے دن وقوف میں آپ کیا کرتے تھے؟ اس پر سالم (رح) بولے کہ اگر تو سنت پر چلنا چاہتا ہے تو عرفہ کے دن نماز دوپہر ڈھلتے ہی پڑھ لینا۔ عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا کہ سالم نے سچ کہا، صحابہ ؓ نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق ظہر اور عصر ایک ہی ساتھ پڑھتے تھے۔ میں نے سالم سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے بھی اسی طرح کیا تھا؟ سالم نے فرمایا اور کس کی سنت پر اس مسئلہ میں چلتے ہو۔
Ibn Shihab said: Salim said, "In the year when Al-Hajjaj bin Yusuf attacked Ibn Az-Zubair, the former asked Abdullah (Ibn Umar) what to do during the stay on the Day of Arafa (9th of Dhul-Hajjah). I said to him, "If you want to follow the Sunnah (the legal way of the Prophet ﷺ) you should offer the Salat just after midday on the Day of the Arafa. Abdullah bin Umar said, He (Salim) has spoken the truth. " They (the Companions of the Prophet ﷺ used to offer the Zuhr and Asr prayer together according to the Sunna, I asked Salim, "Did Allahs Messenger ﷺ do that ?" Salim said, "And in doing that do you (people) follow anything else except his ﷺ Sunnah"?
90 م- بَابُ التَّعْجِيلِ إِلَى الْمَوْقِفِ:
باب: وقوف کے لیے جلدی کرنا
Narrated Salim bin `Abdullah bin `Umar: `Abdul-Malik bin Marwan wrote to Al-Hajjaj that he should follow `Abdullah bin `Umar in all the ceremonies of Hajj. So when it was the Day of `Arafat (9th of Dhul-Hijja), and after the sun has deviated or has declined from the middle of the sky, I and Ibn `Umar came and he shouted near the cotton (cloth) tent of Al-Hajjaj, "Where is he?" Al-Hajjaj came out. Ibn `Umar said, "Let us proceed (to `Arafat)." Al-Hajjaj asked, "Just now?" Ibn `Umar replied, "Yes." Al-Hajjaj said, "Wait for me till I pour water on me (i.e. take a bath)." So, Ibn `Umar dismounted (and waited) till Al-Hajjaj came out. He was walking between me and my father. I informed Al-Hajjaj, "If you want to follow the Sunna today, then you should shorten the sermon and then hurry up for the stay (at `Arafat)." Ibn `Umar said, "He (Salim) has spoken the truth."
باب: میدان عرفات میں ٹھہرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، كُنْتُ أَطْلُبُ بَعِيرًا لِي. ح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ: أَضْلَلْتُ بَعِيرًا لِي فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا بِعَرَفَةَ، فَقُلْتُ: هَذَا وَاللَّهِ مِنَ الْحُمْسِ فَمَا شَأْنُهُ هَا هُنَا.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جبیر بن مطعم نے، ان سے ان کے باپ نے کہ میں اپنا ایک اونٹ تلاش کر رہا تھا (دوسری سند) اور ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمر بن دینار نے، انہوں نے محمد بن جبیر سے سنا کہ ان کے والد جبیر بن مطعم نے بیان کیا کہ میرا ایک اونٹ کھو گیا تھا تو میں عرفات میں اس کو تلاش کرنے گیا، یہ دن عرفات کا تھا، میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ عرفات کے میدان میں کھڑے ہیں۔ میری زبان سے نکلا قسم اللہ کی! یہ تو قریش ہیں پھر یہ یہاں کیوں ہیں۔
Narrated Muhammad bin Jubair bin Mutim (RA):
My father said, "(Before Islam) I was looking for my camel .." The same narration is told by a different sub-narrator. Jubair bin Mutim said, "My camel was lost and I went out in search of it on the day of Arafat, and I saw the Prophet ﷺ standing in Arafat. I said to myself: By Allah he is from the Hums (literally: strictly religious, Quraish were called so, as they used to say, We are the people of Allah we shall not go out of the sanctuary). What has brought him here?"
________
باب: میدان عرفات میں ٹھہرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، قَالَ عُرْوَةُ كَانَ النَّاسُ يَطُوفُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عُرَاةً إِلَّا الْحُمْسَ، وَالْحُمْسُ قُرَيْشٌ، وَمَا وَلَدَتْ، وَكَانَتِ الْحُمْسُ يَحْتَسِبُونَ عَلَى النَّاسِ يُعْطِي الرَّجُلُ الرَّجُلَ الثِّيَابَ يَطُوفُ فِيهَا، وَتُعْطِي الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ الثِّيَابَ تَطُوفُ فِيهَا، فَمَنْ لَمْ يُعْطِهِ الْحُمْسُ طَافَ بالبيت عُرْيَانًا، وَكَانَ يُفِيضُ جَمَاعَةُ النَّاسِ مِنْ عَرَفَاتٍ، وَيُفِيضُ الْحُمْسُ مِنْ جَمْعٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي الْحُمْسِ ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سورة البقرة آية 199، قَالَ: كَانُوا يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ فَدُفِعُوا إِلَى عَرَفَاتٍ.
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے عروہ بن زبیر ؓ نے کہا کہ حمس کے سوا بقیہ سب لوگ جاہلیت میں ننگے ہو کر طواف کرتے تھے، حمس قریش اور اس کی آل اولاد کو کہتے تھے، (اور بنی کنانہ وغیرہ، جیسے خزاعہ) لوگوں کو (اللہ کے واسطے) کپڑے دیا کرتے تھے۔ (قریش) کے مرد دوسرے مردوں کو تاکہ انہیں پہن کر طواف کرسکیں اور (قریش کی) عورتیں دوسری عورتوں کو تاکہ وہ انہیں پہن کر طواف کرسکیں، اور جن کو قریش کپڑا نہیں دیتے وہ بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر کرتے۔ دوسرے سب لوگ تو عرفات سے واپس ہوتے لیکن قریش مزدلفہ ہی سے (جو حرم میں تھا) واپس ہوجاتے۔ ہشام بن عروہ نے کہا کہ میرے باپ عروہ بن زبیر نے مجھے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے خبر دی کہ یہ آیت قریش کے بارے میں نازل ہوئی کہ پھر تم بھی (قریش) وہیں سے واپس آؤ جہاں سے اور لوگ واپس آتے ہیں (یعنی عرفات سے، سورة البقرہ) انہوں نے بیان کیا کہ قریش مزدلفہ ہی سے لوٹ آتے تھے اس لیے انہیں بھی عرفات سے لوٹنے کا حکم ہوا۔
Narrated Urwa (RA):
During the pre-lslamic period of Ignorance, the people used to perform Tawaf of the Ka’bah naked except the Hums; and the Hums were Quraish and their offspring. The Hums used to give clothes to the men who would perform the Tawaf wearing them; and women (of the Hums) used to give clothes to the women who would perform the Tawaf wearing them. Those to whom the Hums did not give clothes would perform Tawaf round the Ka’bah naked. Most of the people used to go away (disperse) directly from Arafat but they (Hums) used to depart after staying at Al-Muzdalifa. Urwa added, "My father narrated that Aisha (RA) had said, The following verses were revealed about the Hums: Then depart from the place whence all the people depart--(2.199) Urwa added, "They (the Hums) used to stay at Al-Muzdalifa and used to depart from there (to Mina) and so they were sent to Arafat (by Allahs order)."
باب: عرفات سے لوٹتے وقت کس چال سے چلے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ: سُئِلَ أُسَامَةُ وَأَنَا جَالِسٌ، كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ ؟ قَالَ: كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ، قَالَ هِشَامٌ: وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: فَجْوَةٌ مُتَّسَعٌ، وَالْجَمِيعُ فَجَوَاتٌ وَفِجَاءٌ، وَكَذَلِكَ رَكْوَةٌ وَرِكَاءٌ مَنَاصٌ لَيْسَ حِينَ فِرَارٍ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے ہشام بن عروہ سے خبر دی، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ اسامہ بن زید ؓ سے کسی نے پوچھا (میں بھی وہیں موجود تھا) کہ حجۃ الوداع کے موقع پر عرفات سے رسول اللہ ﷺ کے واپس ہونے کی چال کیا تھی؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ ﷺ پاؤں اٹھا کر چلتے تھے ذرا تیز، لیکن جب جگہ پاتے (ہجوم نہ ہوتا) تو تیز چلتے تھے، ہشام نے کہا کہ عنق تیز چلنا اور نص عنق سے زیادہ تیز چلنے کو کہتے ہیں۔ فجوة کے معنی کشادہ جگہ، اس کی جمع فجوات اور فجاء ہے جیسے زکوٰۃ مفرد زكاء اس کی جمع اور سورة ص میں مناص کا جو لفظ آیا ہے اس کے معنی بھاگنا ہے۔
Narrated Urwa (RA):
Usama was asked in my presence, "How was the speed of (the camel of) Allahs Apostle ﷺ while departing from Arafat during the Hajjatul Wada?" Usama replied, "The Prophet ﷺ proceeded on with a modest pace, and when there was enough space he would (make his camel) go very fast."
________
باب: عرفات اور مزدلفہ کے درمیان اترنا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ مَالَ إِلَى الشِّعْبِ فَقَضَى حَاجَتَهُ فَتَوَضَّأَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُصَلِّي ؟ فَقَالَ: الصَّلَاةُ أَمَامَكَ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے ان سے عبداللہ بن عباس ؓ کے غلام کریب نے اور ان سے اسامہ بن زید ؓ نے کہ جب رسول اللہ ﷺ عرفات سے واپس ہوئے تھے تو آپ ﷺ (راہ میں) ایک گھاٹی کی طرف مڑے اور وہاں قضائے حاجت کی پھر آپ ﷺ نے وضو کیا تو میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا (آپ ﷺ مغرب کی) نماز پڑھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نماز آگے چل کر پڑھی جائے گی۔ (یعنی عرفات سے مزدلفہ آتے ہوئے قضائے حاجت وغیرہ کے لیے راستہ میں رکنے میں کوئی حرج نہیں ہے) ۔
Narrated Usama bin Zaid (RA):
As soon as the Prophet ﷺ departed from Arafat, he went towards the mountain pass, and there he answered the call of) the prayer is ahead of you (i.e. at asked, "O Allahs Apostle ﷺ ! Will you offer the prayer here?" He replied, "(The place of) the prayer is ahead of you (i.e. at Al-Muzdalifa)."
باب: عرفات اور مزدلفہ کے درمیان اترنا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ، غَيْرَ أَنَّهُ يَمُرُّ بِالشِّعْبِ الَّذِي أَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَدْخُلُ فَيَنْتَفِضُ وَيَتَوَضَّأُ وَلَا يُصَلِّي حَتَّى يُصَلِّيَ بِجَمْعٍ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جویریہ نے نافع سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ عبداللہ بن عمر ؓ مزدلفہ میں آ کر نماز مغرب اور عشاء ملا کر ایک ساتھ پڑھتے، البتہ آپ اس گھاٹی میں بھی مڑتے جہاں رسول اللہ ﷺ مڑے تھے۔ وہاں آپ قضائے حاجت کرتے پھر وضو کرتے لیکن نماز نہ پڑھتے، نماز آپ مزدلفہ میں آ کر پڑھتے تھے۔
Narrated Nafi:
Abdullah bin Umar used to offer the Maghrib and Isha prayers together at Jam (Al-Muzdalifa). But he used to pass by that mountain pass where Allahs Apostle ﷺ went, and he would enter it and answer the call of nature and perform ablution, and would not offer any prayer till he had prayed at Jam.
________
باب: عرفات اور مزدلفہ کے درمیان اترنا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ: رَدِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ، فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشِّعْبَ الْأَيْسَرَ الَّذِي دُونَ الْمُزْدَلِفَةِ أَنَاخَ فَبَالَ، ثُمَّ جَاءَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ الْوَضُوءَ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، فَقُلْتُ: الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: الصَّلَاةُ أَمَامَكَ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّى، ثُمَّ رَدِفَ الْفَضْلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ.
قَالَ كُرَيْبٌ : فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ الْفَضْلِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى بَلَغَ الْجَمْرَةَ.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے محمد بن حرملہ نے، ان سے ابن عباس ؓ کے غلام کریب نے اور ان سے اسامہ بن زید ؓ نے کہ میں عرفات سے رسول اللہ ﷺ کی سواری پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ مزدلفہ کے قریب بائیں طرف جو گھاٹی پڑتی ہے جب نبی کریم ﷺ وہاں پہنچے تو آپ ﷺ نے اونٹ کو بٹھایا پھر پیشاب کیا اور تشریف لائے تو میں نے آپ ﷺ پر وضو کا پانی ڈالا۔ آپ ﷺ نے ہلکا سا وضو کیا۔ میں نے کہا یا رسول اللہ! اور نماز؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نماز تمہارے آگے ہے۔ (یعنی مزدلفہ میں پڑھی جائے گی) پھر آپ ﷺ سوار ہوگئے جب مزدلفہ میں آئے تو (مغرب اور عشاء کی) نماز (ملا کر) پڑھی۔ پھر مزدلفہ کی صبح (یعنی دسویں تاریخ) کو رسول اللہ ﷺ کی سواری کے پیچھے فضل بن عباس ؓ سوار ہوئے۔
کریب نے کہا کہ مجھے عبداللہ بن عباس ؓ نے فضل ؓ کے ذریعہ سے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ برابر لبیک کہتے رہے تاآنکہ جمرہ عقبہ پر پہنچ گئے (اور وہاں آپ ﷺ نے کنکریاں ماریں) ۔
Narrated Usama bin Zaid
rode behind Allahs Apostle ﷺ from Arafat and when Allahs Apostle ﷺ reached the mountain pass on the left side which is before Al-Muzdalifa he made his camel kneel and then urinated, and then I poured water for his ablution. He performed light ablution and then I said to him: (Is it the time for) the prayer, O Allahs Apostle! ﷺ " He replied, "The (place of) prayer is ahead of you (i.e. at Al-Muzdalifa)." So Allahs Apostle ﷺ rode till he reached Al-Muzdalifa and then he offered the prayer (there) . Then in the morning (10th Dhul-Hijja) Al-Faql (bin Abbas) rode behind Allahs Apostle. Kuraib, (a sub-narrator) said that Abdullah bin Abbas (RA) narrated from Al-Fadl, "Allahs Apostle ﷺ kept on reciting Talbiya (during the journey) till he reached the Jamra." (Jamrat-al-Aqabah)
________
باب: عرفات سے لوٹتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کو سکون و اطمینان کی ہدایت کرنا اور کوڑے سے اشارہ کرنا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى وَالِبَةَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ دَفَعَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ، فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَهُ زَجْرًا شَدِيدًا وَضَرْبًا وَصَوْتًا لِلْإِبِلِ، فَأَشَارَ بِسَوْطِهِ إِلَيْهِمْ، وَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ، فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالْإِيضَاعِ أَوْضَعُوا أَسْرَعُوا خِلَالَكُمْ مِنَ التَّخَلُّلِ بَيْنَكُمْ، وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا بَيْنَهُمَا.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سوید نے بیان کیا، کہا مجھ سے مطلب کے غلام عمرو بن ابی عمرو نے بیان کیا، انہیں والیہ کوفی کے غلام سعید بن جبیر نے خبر دی، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنما نے بیان کیا کہ عرفہ کے دن (میدان عرفات سے) وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ آ رہے تھے نبی کریم ﷺ نے پیچھے سخت شور (اونٹ ہانکنے کا) اور اونٹوں کی مار دھاڑ کی آواز سنی تو آپ نے ان کی طرف اپنے کوڑے سے اشارہ کیا اور فرمایا کہ لوگو! آہستگی و وقار اپنے اوپر لازم کرلو، (اونٹوں کو) تیز دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے۔ امام بخاری (رح) فرماتے ہیں کہ (سورۃ البقرہ میں) أوضعوا کے معنی ریشہ دوانیاں کریں، خلالکم کا معنی تمہارے بیچ میں، اسی سے (سورۃ الکہف) میں آیا ہے وفجرنا خلالهما یعنی ان کے بیچ میں۔
Narrated Ibn Abbas (RA) . :
I proceeded along with the Prophet ﷺ on the day of Arafat (9th Dhul-Hijja). The Prophet ﷺ heard a great hue and cry and the beating of camels behind him. So he beckoned to the people with his lash, "O people! Be quiet. Hastening is not a sign of righteousness."
باب: مزدلفہ میں دو نمازیں ایک ساتھ ملا کر پڑھنا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ، فَنَزَلَ الشِّعْبَ فَبَالَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغْ الْوُضُوءَ، فَقُلْتُ لَهُ: الصَّلَاةُ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ أَمَامَكَ، فَجَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے کہا، انہیں موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی، انہیں کریب نے، انہوں نے اسامہ بن زید ؓ کو یہ کہتے سنا کہ میدان عرفات سے رسول اللہ ﷺ روانہ ہو کر گھاٹی میں اترے (جو مزدلفہ کے قریب ہے) وہاں پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور پورا وضو نہیں کیا (خوب پانی نہیں بہایا ہلکا وضو کیا) میں نے نماز کے متعلق عرض کی تو فرمایا کہ نماز آگے ہے۔ اب آپ ﷺ مزدلفہ تشریف لائے وہاں پھر وضو کیا اور پوری طرح کیا پھر نماز کی تکبیر کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھی پھر ہر شخص نے اپنے اونٹ ڈیروں پر بٹھا دیئے پھر دوبارہ نماز عشاء کے لیے تکبیر کہی گئی اور آپ ﷺ نے نماز پڑھی، آپ ﷺ نے ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی (سنت یا نفل) نماز نہیں پڑھی تھی۔
Narrated Usama bin Zaid (RA):
Allahs Apostle ﷺ proceeded from Arafat and dismounted at the mountainous pass and then urinated and performed a light ablution. I said to him, "(Shall we offer) the prayer?" He replied, "The prayer is ahead of you (i.e. at Al-Muzdalifa)." When he came to Al-Muzdalifa, he performed a perfect ablution. Then Iqama for the prayer was pronounced and he offended the Maghrib prayer and then every person made his camel kneel at his place; and then Iqama for the prayer was pronounced and he offered the (Isha) prayer and he did not offer any prayer in between them (i.e. Maghrib and Isha prayers).
________
باب: مغرب اور عشاء مزدلفہ میں ملا کر پڑھنا اور سنت وغیرہ نہ پڑھنا۔
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِجَمْعٍ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بِإِقَامَةٍ، وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا، وَلَا عَلَى إِثْرِ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا.
ہم سے آدم بن ابی العلاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے زہری نے ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر ؓ نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ مزدلفہ میں نبی کریم ﷺ نے مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھیں تھیں ہر نماز الگ الگ تکبیر کے ساتھ نہ ان دونوں کے درمیان کوئی نفل و سنت پڑھی تھی اور نہ ان کے بعد۔
Narrated Ibn Umar (RA):
The Prophet ﷺ offered the Maghrib and Isha prayers together at Jam (i.e. Al-Muzdalifa) with a separate Iqama for each of them and did not offer any optional prayer in between them or after each of them.
باب: مغرب اور عشاء مزدلفہ میں ملا کر پڑھنا اور سنت وغیرہ نہ پڑھنا۔
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْخَطْمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْمُزْدَلِفَةِ.
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن ابی سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عدی بن ثابت نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن یزید خطمی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوایوب انصاری ؓ نے کہا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے مزدلفہ میں آ کر مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ ملا کر پڑھا تھا۔
Narrated Abu Aiyub Al-Ansari :
Allahs Apostle ﷺ coffered the Maghrib and Isha prayers together at Al-Muzdalifa.
باب: جس نے کہا کہ ہر نماز کے لیے اذان اور تکبیر کہنی چاہئے اس کی دلیل۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ، يَقُولُ: حَجَّ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَتَيْنَا الْمُزْدَلِفَةَ حِينَ الْأَذَانِ بِالْعَتَمَةِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَ رَجُلًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ وَصَلَّى بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِهِ فَتَعَشَّى، ثُمَّ أَمَرَ أُرَى فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، قَالَ عَمْرٌو: لَا أَعْلَمُ الشَّكَّ إِلَّا مِنْ زُهَيْرٍ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا طَلَعَ الْفَجْرُ، قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا هَذِهِ الصَّلَاةَ فِي هَذَا الْمَكَانِ مِنْ هَذَا الْيَوْمِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: هُمَا صَلَاتَانِ تُحَوَّلَانِ عَنْ وَقْتِهِمَا، صَلَاةُ الْمَغْرِبِ بَعْدَ مَا يَأْتِي النَّاسُ الْمُزْدَلِفَةَ، وَالْفَجْرُ حِينَ يَبْزُغُ الْفَجْرُ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ.
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسحٰق عمرو بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے سنا کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے حج کیا، آپ کے ساتھ تقریباً عشاء کی اذان کے وقت ہم مزدلفہ میں بھی آئے، آپ نے ایک شخص کو حکم دیا اس نے اذان اور تکبیر کہی اور آپ نے مغرب کی نماز پڑھی، پھر دو رکعت (سنت) اور پڑھی اور شام کا کھانا منگوا کر کھایا۔ میرا خیال ہے (راوی حدیث زہیر کا) کہ پھر آپ نے حکم دیا اور اس شخص نے اذان دی اور تکبیر کہی عمرو (راوی حدیث) نے کہا میں یہی سمجھتا ہوں کہ شک زہیر (عمرو کے شیخ) کو تھا، اس کے بعد عشاء کی نماز دو رکعت پڑھی۔ جب صبح صادق ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ اس نماز (فجر) کو اس مقام اور اس دن کے سوا اور کبھی اس وقت (طلوع فجر ہوتے ہی) نہیں پڑھتے تھے، عبداللہ بن مسعود ؓ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ صرف دو نمازیں (آج کے دن) اپنے معمولی وقت سے ہٹا دی جاتی ہیں۔ جب لوگ مزدلفہ آتے ہیں تو مغرب کی نماز (عشاء کے ساتھ ملا کر) پڑھی جاتی ہے اور فجر کی نماز طلوع فجر کے ساتھ ہی۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا تھا۔
Narrated Abdur-Rahman bin Yazid (RA):
Abdullah;- performed the Hajj and we reached Al-Muzdalifa at or about the time of the Isha prayer. He ordered a man to pronounce the Adhan and Iqama and then he offered the Maghrib prayer and offered two Rakat after it. Then he asked for his supper and took it, and then, I think, he ordered a man to pronounce the Adhan and Iqama (for the isha prayer). (Amr, a sub-narrator said: The intervening statement I think, was said by the sub-narrator Zuhair) (i.e. not by Abdu-Rahman). Then Abdullah offered two Rakat of Isha prayer. When the day dawned, Abdullah said, "The Prophet ﷺ never offered any prayer at this hour except this prayer at this time and at this place and on this day." Abdullah added, "These two prayers are shifted from their actual times -- the Maghrib prayer (is offered) when the people reached Al-Muzdalifa and the Fajr (morning) prayer at the early dawn." Abdullah added, "I saw the Prophet ﷺ doing that."
باب: عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ کی رات میں آگے منی روانہ کر دینا، وہ مزدلفہ میں ٹھہریں اور دعا کریں اور چاند ڈوبتے ہی چل دیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ سَالِمٌ : وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُقَدِّمُ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ، فَيَقِفُونَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ بِالْمُزْدَلِفَةِ بِلَيْلٍ فَيَذْكُرُونَ اللَّهَ مَا بَدَا لَهُمْ، ثُمَّ يَرْجِعُونَ قَبْلَ أَنْ يَقِفَ الْإِمَامُ وَقَبْلَ أَنْ يَدْفَعَ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ مِنًى لِصَلَاةِ الْفَجْرِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَإِذَا قَدِمُوا رَمَوْا الْجَمْرَةَ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: أَرْخَصَ فِي أُولَئِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن یونس نے بیان کیا، اور ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ سالم نے کہا کہ عبداللہ بن عمر ؓ اپنے گھر کے کمزوروں کو پہلے ہی بھیج دیا کرتے تھے اور وہ رات ہی میں مزدلفہ میں مشعر حرام کے پاس آ کر ٹھہرتے اور اپنی طاقت کے مطابق اللہ کا ذکر کرتے تھے، پھر امام کے ٹھہرنے اور لوٹنے سے پہلے ہی (منیٰ ) آجاتے تھے، بعض تو منیٰ فجر کی نماز کے وقت پہنچتے اور بعض اس کے بعد، جب منیٰ پہنچتے تو کنکریاں مارتے اور عبداللہ بن عمر ؓ فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سب لوگوں کے لیے یہ اجازت دی ہے۔
Narrated Salim (RA):
Abdullah bin Umar used to send the weak among his family early to Mina. So they used to depart from Al-Mashar Al-Haram (that is Al-Muzdalifa) at night (when the moon had set) and invoke Allah as much as they could, and then they would return (to Mina) before the Imam had started from Al-Muzdalifa to Mina. So some of them would reach Mina at the time of the Fajr prayer and some of them would come later. When they reached Mina they would throw pebbles on the Jamra (Jamrat-al-Aqabah) Ibn Umar (RA) used to say, "Allahs Apostle ﷺ gave the permission to them (weak people) to do so."
باب: عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ کی رات میں آگے منی روانہ کر دینا، وہ مزدلفہ میں ٹھہریں اور دعا کریں اور چاند ڈوبتے ہی چل دیں۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے مزدلفہ سے رات ہی میں منیٰ روانہ کردیا تھا۔
Narrated Ibn Abbas (RA):
Allahs Apostle ﷺ had sent me from Jam (i.e. Al-Muzdalifa) at night.
باب: عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ کی رات میں آگے منی روانہ کر دینا، وہ مزدلفہ میں ٹھہریں اور دعا کریں اور چاند ڈوبتے ہی چل دیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن ابی یزید نے خبر دی، انہوں نے ابن عباس ؓ کو یہ کہتے سنا کہ میں ان لوگوں میں تھا جنہیں نبی کریم ﷺ نے اپنے گھر کے کمزور لوگوں کے ساتھ مزدلفہ کی رات ہی میں منیٰ بھیج دیا تھا۔
Narrated Ibn Abbas (RA):
I as among those whom the Prophet ﷺ sent on the night of Al-Muzdalifa early being among the weak members of his family.
باب: عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ کی رات میں آگے منی روانہ کر دینا، وہ مزدلفہ میں ٹھہریں اور دعا کریں اور چاند ڈوبتے ہی چل دیں۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ، عَنْ أَسْمَاءَ ، أَنَّهَا نَزَلَتْ لَيْلَةَ جَمْعٍ عِنْدَ الْمُزْدَلِفَةِ، فَقَامَتْ تُصَلِّي، فَصَلَّتْ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَتْ: يَا بُنَيَّ، هَلْ غَابَ الْقَمَرُ ؟ قُلْتُ: لَا، فَصَلَّتْ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَتْ: يَا بُنَيَّ، هَلْ غَابَ الْقَمَرُ ؟ قُلْت: نَعَمْ، قَالَتْ: فَارْتَحِلُوا، فَارْتَحَلْنَا وَمَضَيْنَا حَتَّى رَمَتِ الْجَمْرَةَ، ثُمَّ رَجَعَتْ فَصَلَّتِ الصُّبْحَ فِي مَنْزِلِهَا، فَقُلْتُ لَهَا: يَا هَنْتَاهُ، مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ غَلَّسْنَا، قَالَتْ: يَا بُنَيَّ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلظُّعُنِ.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید بن قطان نے، ان سے ابن جریج نے بیان کیا کہ ان سے اسماء کے غلام عبداللہ نے بیان کیا کہ ان سے اسماء بنت ابوبکر ؓ نے کہ وہ رات ہی میں مزدلفہ پہنچ گئیں اور کھڑی ہو کر نماز پڑھنے لگیں، کچھ دیر تک نماز پڑھنے کے بعد پوچھا بیٹے! کیا چاند ڈوب گیا؟ میں نے کہا کہ نہیں، اس لیے وہ دوبارہ نماز پڑھنے لگیں کچھ دیر بعد پھر پوچھا کیا چاند ڈوب گیا؟ میں نے کہا ہاں، انہوں نے کہا کہ اب آگے چلو (منی کو) چناچہ ہم ان کے ساتھ آگے چلے، وہ (منی میں) رمی جمرہ کرنے کے بعد پھر واپس آگئیں اور صبح کی نماز اپنے ڈیرے پر پڑھی میں نے کہا جناب! یہ کیا بات ہوئی کہ ہم نے اندھیرے ہی میں نماز پڑھ لی۔ انہوں نے کہا بیٹے! رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو اس کی اجازت دی ہے۔
Narrated Abdullah (RA):
(the slave of Asma) During the night of Jam, Asma got down at Al-Muzdalifa and stood up for (offering) the prayer and offered the prayer for some time and then asked, "O my son! Has the moon set?" I replied in the negative and she again prayed for another period and then asked, "Has the moon set?" I replied, "Yes." So she said that we should set out (for Mina), and we departed and went on till she threw pebbles at the Jamra (Jamrat-al-Aqabah) and then she returned to her dwelling place and offered the morning prayer. I asked her, "O you! I think we have come (to Mina) early in the night." She replied, "O my son! Allahs Apostle ﷺ gave permission to the women to do so."
باب: عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ کی رات میں آگے منی روانہ کر دینا، وہ مزدلفہ میں ٹھہریں اور دعا کریں اور چاند ڈوبتے ہی چل دیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ جَمْعٍ، وَكَانَتْ ثَقِيلَةً ثَبْطَةً فَأَذِنَ لَهَا.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، ان سے قاسم نے اور ان سے عائشہ ؓ نے کہ ام المؤمنین سودہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے مزدلفہ کی رات عام لوگوں سے پہلے روانہ ہونے کی اجازت چاہی آپ ؓ بھاری بھر کم بدن کی عورت تھیں تو نبی کریم ﷺ نے انہیں اس کی اجازت دے دی۔
Narrated Aisha (RA):
Sauda asked the permission of the Prophet ﷺ to leave earlier at the night of Jam, and she was a fat and very slow woman. The Prophet ﷺ gave her permission.
باب: عورتوں اور بچوں کو مزدلفہ کی رات میں آگے منی روانہ کر دینا، وہ مزدلفہ میں ٹھہریں اور دعا کریں اور چاند ڈوبتے ہی چل دیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: نَزَلْنَا الْمُزْدَلِفَةَ، فَاسْتَأْذَنَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةُ أَنْ تَدْفَعَ قَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ، وَكَانَتِ امْرَأَةً بَطِيئَةً فَأَذِنَ لَهَا فَدَفَعَتْ قَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ، وَأَقَمْنَا حَتَّى أَصْبَحْنَا نَحْنُ، ثُمَّ دَفَعْنَا بِدَفْعِهِ فَلَأَنْ أَكُونَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مَفْرُوحٍ بِهِ.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے افلح بن حمید نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ ؓ نے کہ جب ہم نے مزدلفہ میں قیام کیا تو نبی کریم ﷺ نے سودہ ؓ کو لوگوں کے اژدہام سے پہلے روانہ ہونے کی اجازت دے دی تھیں، وہ بھاری بھر کم بدن کی خاتون تھیں، اس لیے آپ نے اجازت دے دی چناچہ وہ اژدہام سے پہلے روانہ ہوگئیں۔ لیکن ہم وہیں ٹھہرے رہے اور صبح کو آپ ﷺ کے ساتھ گئے اگر میں بھی سودہ ؓ کی طرح آپ ﷺ سے اجازت لیتی تو مجھ کو تمام خوشی کی چیزوں میں یہ بہت ہی پسند ہوتا۔
Narrated Aisha (RA):
We got down at Al-Muzdalifa and Sauda asked the permission of the Prophet ﷺ to leave (early) before the rush of the people. She was a slow woman and he gave her permission, so she departed (from Al-Muzdalifa) before the rush of the people. We kept on staying at Al-Muzdalifa till dawn, and set out with the Prophet ﷺ but (I suffered so much that) I wished I had taken the permission of Allahs Apostle ﷺ as Sauda had done, and that would have been dearer to me than any other happiness.
________
باب: فجر کی نماز مزدلفہ ہی میں پڑھنا۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَارَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً بِغَيْرِ مِيقَاتِهَا إِلَّا صَلَاتَيْنِ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ، وَصَلَّى الْفَجْرَ قَبْلَ مِيقَاتِهَا.
ہم سے عمرو بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمارہ نے عبدالرحمٰن بن یزید سے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہ دو نمازوں کے سوا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور کوئی نماز بغیر وقت نہیں پڑھتے دیکھا، آپ ﷺ نے مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھیں اور فجر کی نماز بھی اس دن (مزدلفہ میں) معمول کے وقت سے پہلے ادا کی۔
Narrated Abdullah (RA):
I never saw the Prophet ﷺ offering any prayer not at its stated time except two; he prayed the Maghrib and the Isha together and he offered the morning prayer before its usual time.