Sahih Bukhari

All 7,282 hadiths in order · Page 77 of 365

1617Sahih Bukhari

باب: جو شخص (حج یا عمرہ کی نیت سے) مکہ میں آئے تو اپنے گھر لوٹ جانے سے پہلے طواف کرے پھر دوگانہ طواف ادا کرے پھر صفا پہاڑ پر جائے۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا طَافَ بالبيت الطَّوَافَ الْأَوَّلَ يَخُبُّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ، وَيَمْشِي أَرْبَعَةً، وَأَنَّهُ كَانَ يَسْعَى بَطْنَ الْمَسِيلِ إِذَا طَافَ بَيْنَ الصَّفَا والمروة.

ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ جب بیت اللہ کا پہلا طواف (یعنی طواف قدوم) کرتے تو اس کے تین چکروں میں آپ ﷺ دوڑ کر چلتے اور چار میں معمول کے موافق چلتے پھر جب صفا اور مروہ کی سعی کرتے تو بطن مسیل (وادی) میں دوڑ کر چلتے۔

Narrated Ibn Umar (RA): When the Prophet ﷺ performed the Tawaf of the Ka’bah, he did Ramal during the first three rounds and in the last four rounds he used to walk and while doing Tawaf between Safa and Marwa, he used to run in the midst of the rain water passage.

1618Sahih Bukhari

باب: عورتیں بھی مردوں کے ساتھ طواف کریں۔

وقال لِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قال: ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا، قال: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، إِذْ مَنَعَ ابْنُ هِشَامٍ النِّسَاءَ الطَّوَافَ مَعَ الرِّجَالِ، قَالَ: كَيْفَ يَمْنَعُهُنَّ وَقَدْ طَافَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الرِّجَالِ ؟ قُلْتُ: أَبَعْدَ الْحِجَابِ أَوْ قَبْلُ، قَالَ: إِي لَعَمْرِي، لَقَدْ أَدْرَكْتُهُ بَعْدَ الْحِجَابِ، قُلْتُ: كَيْفَ يُخَالِطْنَ الرِّجَالَ ؟، قَالَ: لَمْ يَكُنَّ يُخَالِطْنَ، كَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَطُوفُ حَجْرَةً مِنَ الرِّجَالِ لَا تُخَالِطُهُمْ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: انْطَلِقِي نَسْتَلِمْ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: انْطَلِقِي عَنْكِ، وَأَبَتْ كُنَّ يَخْرُجْنَ مُتَنَكِّرَاتٍ بِاللَّيْلِ فَيَطُفْنَ مَعَ الرِّجَالِ، وَلَكِنَّهُنَّ كُنَّ إِذَا دَخَلْنَ البيت قُمْنَ حَتَّى يَدْخُلْنَ وَأُخْرِجَ الرِّجَالُ، وَكُنْتُ آتِي عَائِشَةَ أَنَا وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ وَهِيَ مُجَاوِرَةٌ فِي جَوْفِ ثَبِيرٍ، قُلْتُ: وَمَا حِجَابُهَا، قَالَ: هِيَ فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ لَهَا غِشَاءٌ وَمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَهَا غَيْرُ ذَلِكَ، وَرَأَيْتُ عَلَيْهَا دِرْعًا مُوَرَّدًا.

امام بخاری (رح) نے کہا کہ مجھ سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا اور انہیں عطاء نے خبر دی کہ جب ابن ہشام (جب وہ ہشام بن عبدالملک کی طرف سے مکہ کا حاکم تھا) نے عورتوں کو مردوں کے ساتھ طواف کرنے سے منع کردیا تو اس سے انہوں نے کہا کہ تم کس دلیل پر عورتوں کو اس سے منع کر رہے ہو؟ جب کہ رسول اللہ ﷺ کی پاک بیویوں نے مردوں کے ساتھ طواف کیا تھا۔ ابن جریج نے پوچھا یہ پردہ (کی آیت نازل ہونے) کے بعد کا واقعہ ہے یا اس سے پہلے کا؟ انہوں نے کہا میری عمر کی قسم! میں نے انہیں پردہ (کی آیت نازل ہونے) کے بعد دیکھا۔ اس پر ابن جریج نے پوچھا کہ پھر مرد عورت مل جل جاتے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ اختلاط نہیں ہوتا تھا، عائشہ ؓ مردوں سے الگ رہ کر ایک الگ کونے میں طواف کرتی تھیں، ان کے ساتھ مل کر نہیں کرتی تھیں۔ ایک عورت (وقرہ نامی) نے ان سے کہا ام المؤمنین! چلئے (حجر اسود کو) بوسہ دیں۔ تو آپ نے انکار کردیا اور کہا تو جا چوم، میں نہیں چومتی اور ازواج مطہرات رات میں پردہ کر کے نکلتی تھیں کہ پہچانی نہ جاتیں اور مردوں کے ساتھ طواف کرتی تھیں۔ البتہ عورتیں جب کعبہ کے اندر جانا چاہتیں تو اندر جانے سے پہلے باہر کھڑی ہوجاتیں اور مرد باہر آجاتے (تو وہ اندر جاتیں) میں اور عبید بن عمیر عائشہ ؓ کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے جب آپ ثبیر (پہاڑ) پر ٹھہری ہوئی تھیں، (جو مزدلفہ میں ہے) ابن جریج نے کہا کہ میں نے عطاء سے پوچھا کہ اس وقت پردہ کس چیز سے تھا؟ عطاء نے بتایا کہ ایک ترکی قبہ میں ٹھہری ہوئی تھیں۔ اس پر پردہ پڑا ہوا تھا۔ ہمارے اور ان کے درمیان اس کے سوا اور کوئی چیز حائل نہ تھی۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ ان کے بدن پر ایک گلابی رنگ کا کرتہ تھا۔

Ibn Juraij said, "`Ata informed us that when Ibn Hisham forbade women to perform Tawaf with men he said to him, How do you forbid them while the wives of the Prophet ﷺ used to perform Tawaf with the men? I said, Was this before decreeing of the use of the veil or after it? `Ata took an oath and said, I saw it after the order of veil. I said, How did they mix with the men? `Ata said, The women never mixed with the men, and `Aishah used to perform Tawaf separately and never mixed with men. Once it happened that `Aishah was performing the Tawaf and woman said to her, O Mother of believers! Let us touch the Black stone. `Aishah said to her, Go yourself, and she herself refused to do so. The wives of the Prophet ﷺ used to come out in night, in disguise and used to perform Tawaf with men. But whenever they intended to enter the Ka`bah, they would stay outside till the men had gone out. I and `Ubaid bin `Umair used to visit `Aishah while she was residing at Jauf Thabir." I asked, "What was her veil?" `Ata said, "She was wearing an old Turkish veil, and that was the only thing (veil) which was screen between us and her. I saw a pink cover on her."

1619Sahih Bukhari

باب: عورتیں بھی مردوں کے ساتھ طواف کریں۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي، فَقَالَ: طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ، فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ البيت وَهُوَ يَقْرَأُ: وَالطُّورِ 1 وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ 2 سورة الطور آية 1-2.

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک (رح) نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، ان سے زینب بنت ابی سلمہ نے، ان سے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ ؓ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے بیمار ہونے کی شکایت کی (کہ میں پیدل طواف نہیں کرسکتی) تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ سواری پر چڑھ کر اور لوگوں سے علیحدہ رہ کر طواف کرلے۔ چناچہ میں نے عام لوگوں سے الگ رہ کر طواف کیا۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ کعبہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے اور آپ ﷺ والطور * وکتاب مسطور قرآت کر رہے تھے۔

Narrated Um Salama (RA): (the wife of the Prophet) I informed Allahs Apostle ﷺ that I was ill. So he said, "Perform the Tawaf while riding behind the people." I did so, and at that time the Prophet ﷺ was praying beside the Ka’bah and reciting Surat-at-Tur.

1620Sahih Bukhari

باب: طواف میں باتیں کرنا۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ، قال: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ ، أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ رَبَطَ يَدَهُ إِلَى إِنْسَانٍ بِسَيْرٍ أَوْ بِخَيْطٍ أَوْ بِشَيْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ، فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: قُدْهُ بِيَدِهِ.

ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا کہ ابن جریج نے انہیں خبر دی، کہا کہ مجھے سلیمان احول نے خبر دی، انہیں طاؤس نے خبر دی اور انہیں ابن عباس ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جس نے اپنا ہاتھ ایک دوسرے شخص کے ہاتھ سے تسمہ یا رسی یا کسی اور چیز سے باندھ رکھا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اسے کاٹ دیا اور پھر فرمایا کہ اگر ساتھ ہی چلنا ہے تو ہاتھ پکڑ کے چلو۔

Narrated Ibn Abbas (RA): While the Prophet ﷺ was performing Tawaf of the Kaba, he passed by a person who had tied his hands to another person with a rope or string or something like that. The Prophet ﷺ cut it with his own hands and said, "Lead him by the hand."

1621Sahih Bukhari

باب: جب طواف میں کسی کو باندھا دیکھے یا کوئی اور مکروہ چیز تو اس کو کاٹ سکتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِزِمَامٍ أَوْ غَيْرِهِ فَقَطَعَهُ.

ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے سلیمان احول نے، ان سے طاؤس نے اور ان سے ابن عباس ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ ایک شخص کعبہ کا طواف رسی یا کسی اور چیز کے ذریعہ کر رہا ہے تو آپ ﷺ نے اسے کاٹ دیا۔

Narrated Ibn Abbas (RA): The Prophet ﷺ saw a man performing Tawaf of the Kaba tied with a string or something else. So the Prophet ﷺ cut that string.

1622Sahih Bukhari

68- بَابُ إِذَا وَقَفَ فِي الطَّوَافِ:

باب: اگر طواف کرتے کرتے بیچ میں ٹھہر جائے

وَقَالَ عَطَاءٌ: فِيمَنْ يَطُوفُ، فَتُقَامُ الصَّلَاةُ أَوْ يُدْفَعُ عَنْ مَكَانِهِ إِذَا سَلَّمَ يَرْجِعُ إِلَى حَيْثُ قُطِعَ عَلَيْهِ فَيَبْنِي وَيُذْكَرُ نَحْوُهُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.

اگر طواف کرتے کرتے بیچ میں ٹھہر جائے تو کیا حکم ہے؟ ایک ایسے شخص کے بارے میں جو طواف کر رہا تھا کہ نماز کھڑی ہوگئی یا اسے اس کی جگہ سے ہٹا دیا گیا، عطاء یہ فرمایا کرتے تھے کہ جہاں سے اس نے طواف چھوڑا وہیں سے بناء کرے (یعنی دوبارہ وہیں سے شروع کر دے) ابن عمر اور عبدالرحمٰن بن ابی بکر ؓ سے بھی اس طرح منقول ہے۔

Narrated Abu Huraira: In the year prior to the last Hajj of the Prophet when Allah's Apostle made Abu Bakr the leader of the pilgrims, the latter (Abu Bakr) sent me in the company of a group of people to make a public announcement: 'No pagan is allowed to perform Hajj after this year, and no naked person is allowed to perform Tawaf of the Ka`ba.' (See Hadith No. 365 Vol. 1)

1623Sahih Bukhari(1624)

باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طواف کے ساتھ چکروں کے بعد دو رکعتیں پڑھنا۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَيَقَعُ الرَّجُلُ عَلَى امْرَأَتِهِ فِي الْعُمْرَةِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ؟، قال: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، ثُمَّ صَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَقَالَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21. قَالَ: وَسَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: لَا يَقْرَبُ امْرَأَتَهُ حَتَّى يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم نے عبداللہ بن عمر ؓ سے پوچھا کہ کیا کوئی عمرہ میں صفا مروہ کی سعی سے پہلے اپنی بیوی سے ہمبستر ہوسکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور کعبہ کا طواف سات چکروں سے پورا کیا۔ پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی اور صفا مروہ کی سعی کی۔ پھر عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا کہ تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کے طریقے میں بہترین نمونہ ہے۔ عمرو نے کہا کہ پھر میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے اس کے متعلق معلوم کیا تو انہوں نے بتایا کہ صفا مروہ کی سعی سے پہلے اپنی بیوی کے قریب بھی نہ جائے۔

Narrated Amr (RA): We asked Ibn Umar (RA): "May a man have sexual relations with his wife during the Umra before performing Tawaf between Safa and Marwa?" He said, "Allahs Apostle ﷺ arrived (in Makkah) and circumambulated the Kaba seven times, then offered two Rakat behind Maqam Ibrahim (the station of Abraham), then performed Tawaf between Safa and Marwa." Ibn Umar (RA) added, "Verily! In Allahs Apostle ﷺ you have a good example." And I asked Jabir bin Abdullah (RA) (the same question), and he replied, "You should not go near your wives (have sexual relations) till you have finished Tawaf between Safa and Marwa. " ________

1625Sahih Bukhari

باب: جو شخص پہلے طواف یعنی طواف قدوم کے بعد پھر کعبہ کے نزدیک نہ جائے اور عرفات میں حج کرنے کے لیے جائے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قال: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فَطَافَ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا والمروة، وَلَمْ يَقْرَبْ الْكَعْبَةَ بَعْدَ طَوَافِهِ بِهَا حَتَّى رَجَعَ مِنْ عَرَفَةَ.

ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے فضیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے کریب نے عبداللہ بن عباس ؓ سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ تشریف لائے اور سات (چکروں کے ساتھ) طواف کیا۔ پھر صفا مروہ کی سعی کی۔ اس سعی کے بعد آپ ﷺ کعبہ اس وقت تک نہیں گئے جب تک عرفات سے واپس نہ لوٹے۔

Narrated Ibn Abbas (RA): The Prophet ﷺ arrived at Makkah and performed Tawaf of the Kaba and Sai between Safa and Marwa, but he did not go near the Kaba after his Tawaf till he returned from Arafat.

1626Sahih Bukhari

باب: اس شخص کے بارے میں جس نے طواف کی دو رکعتیں مسجد الحرام سے باہر پڑھیں۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ يَحْيَى بْنُ أَبِي زَكَرِيَّاءَ الْغَسَّانِيُّ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ وَهُوَ بمكة وَأَرَادَ الْخُرُوجَ، وَلَمْ تَكُنْ أُمُّ سَلَمَةَ طَافَتْ بالبيت وَأَرَادَتِ الْخُرُوجَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أُقِيمَتْ صَلَاةُ الصُّبْحِ فَطُوفِي عَلَى بَعِيرِكِ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ، فَفَعَلَتْ ذَلِكَ، فَلَمْ تُصَلِّ حَتَّى خَرَجَتْ.

ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں امام مالک (رح) نے خبر دی، انہیں محمد بن عبدالرحمٰن نے، انہیں عروہ نے، انہیں زینب نے اور انہیں ام المؤمنین ام سلمہ ؓ نے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی۔ (دوسری سند) امام بخاری (رح) نے کہا کہ مجھ سے محمد بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابومروان یحییٰ ابن ابی زکریا غسانی نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے عروہ نے اور ان سے نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ جب مکہ میں تھے اور وہاں سے چلنے کا ارادہ ہوا تو ام سلمہ ؓ نے کعبہ کا طواف نہیں کیا اور وہ بھی روانگی کا ارادہ رکھتی تھیں آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ جب صبح کی نماز کھڑی ہو اور لوگ نماز پڑھنے میں مشغول ہوجائیں تو تم اپنی اونٹنی پر طواف کرلینا۔ چناچہ ام سلمہ ؓ نے ایسا ہی کیا اور انہوں نے باہر نکلنے تک طواف کی نماز نہیں پڑھی۔

Narrated Um Salama (RA): (the wife of the Prophet) I informed Allahs Apostle ﷺ (about my illness). (Through other sub-narrators, Um Salama narrated that when Allahs Apostle ﷺ was at Makkah and had just decided to leave (Makkah) while she had not yet done Tawaf of the Kaba (and after listening to her). The Prophet ﷺ said, "When the morning prayer is established, perform the Tawaf on your camel while the people are in prayer." So she did the same and did not offer the two Rakat of Tawaf until she came out of the Mosque. ________

1627Sahih Bukhari

باب: اس سے متعلق کہ جس نے طواف کی دو رکعتیں مقام ابراہیم کے پیچھے پڑھیں۔

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بالبيت سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21.

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا انہوں کہا کہ عم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عمر ؓ سے سنا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ (مکہ میں) تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کا سات چکروں سے طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی پھر صفا کی طرف (سعی کرنے) گئے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔

Narrated Ibn Umar (RA): The Prophet ﷺ reached Makkah, circumambulated the Kaba seven times and then offered a two Rakat prayer behind Maqam ibrahim. Then he went towards the Safa. Allah has said, "Verily, in Allahs Apostle ﷺ you have a good example."

1628Sahih Bukhari

باب: صبح اور عصر کے بعد طواف کرنا۔

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ نَاسًا طَافُوا بالبيت بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، ثُمَّ قَعَدُوا إِلَى الْمُذَكِّرِ حَتَّى إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَامُوا يُصَلُّونَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: قَعَدُوا حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّاعَةُ الَّتِي تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ قَامُوا يُصَلُّونَ.

ہم سے حسن بن عمر بصریٰ (رح) نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے حبیب نے، ان سے عطاء نے، ان سے عروہ نے، ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ ؓ نے کہ کچھ لوگوں نے صبح کی نماز کے بعد کعبہ کا طواف کیا۔ پھر ایک وعظ کرنے والے کے پاس بیٹھ گئے اور جب سورج نکلنے لگا تو وہ لوگ نماز (طواف کی دو رکعت) پڑھنے کے لیے کھڑے ہوگئے۔ اس پر عائشہ ؓ نے (ناگواری کے ساتھ) فرمایا جب سے تو یہ لوگ بیٹھے تھے اور جب وہ وقت آیا کہ جس میں نماز مکروہ ہے تو نماز کے لیے کھڑے ہوگئے۔

Narrated Urwa from Aisha (RA): Some people performed Tawaf (of the Kaba) after the morning prayer and then sat to listen to a preacher till sunrise, and then they stood up for the prayer. Then Aisha (RA) commented, "Those people kept on sitting till it was the time in which the prayer is disliked and after that they stood up for the prayer."

1629Sahih Bukhari

باب: صبح اور عصر کے بعد طواف کرنا۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عِنِ الصَّلَاةِ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَعِنْدَ غُرُوبِهَا.

ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوضمرہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا، میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے۔ آپ ﷺ سورج طلوع ہوتے اور غروب ہوتے وقت نماز پڑھنے سے روکتے تھے۔

Narrated Abdullah (RA): heard the Prophet ﷺ forbidding the offering of prayers at the time of sunrise and sunset.

1630Sahih Bukhari(1631)

باب: صبح اور عصر کے بعد طواف کرنا۔

حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ الزَّعْفَرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، قال: رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَطُوفُ بَعْدَ الْفَجْرِ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ. قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: وَرَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَيُخْبِرُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَدَّثَتْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَدْخُلْ بَيْتَهَا إِلَّا صَلَّاهُمَا.

ہم سے حسن بن محمد زعفرانی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیدہ بن حمیدنے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالعزیز بن رفیع نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن زبیر ؓ کو دیکھا کہ آپ فجر کی نماز کے بعد طواف کر رہے تھے اور پھر آپ نے دو رکعت (طواف کی) نماز پڑھی۔ عبدالعزیز نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن زبیر ؓ کو عصر کے بعد بھی دو رکعت نماز پڑھتے دیکھا تھا۔ وہ بتاتے تھے کہ عائشہ ؓ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب بھی ان کے گھر آتے (عصر کے بعد) تو یہ دو رکعت ضرور پڑھتے تھے۔

Narrated Abida bin Humaid (RA): Abdul, Aziz bin Rufai (RA) Said, "I saw Abdullah bin Az-Zubair performing Tawaf of the Kaba after the morning prayer then offering the two Rakat prayer." Abdul Aziz (RA) added, "I saw Abdullah bin Az-Zubair offering a two Rakat prayer after the Asr prayer." He informed me that Aisha (RA) told him that the Prophet ﷺ used to offer those two Rakat whenever he entered her house." ________

1632Sahih Bukhari

باب: مریض آدمی سوار ہو کر طواف کر سکتا ہے۔

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بالبيت وَهُوَ عَلَى بَعِيرٍ، كُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ بِشَيْءٍ فِي يَدِهِ وَكَبَّرَ.

ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد طحان نے خالد حذاء سے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے، ان سے عبداللہ بن عباس ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کا طواف اونٹ پر سوار ہو کر کیا۔ آپ ﷺ جب بھی (طواف کرتے ہوئے) حجر اسود کے نزدیک آتے تو اپنے ہاتھ کو ایک چیز (چھڑی) سے اشارہ کرتے اور تکبیر کہتے۔

Narrated Ibn Abbas (RA): Allahs Apostle ﷺ performed Tawaf (of the Kaba) ending a camel (at that time the Prophet ﷺ had foot injury). Whenever he came to the Corner (having the Black Stone) he would point out towards it with a thing in his hand and say, "Allahu-Akbar."

1633Sahih Bukhari

باب: مریض آدمی سوار ہو کر طواف کر سکتا ہے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِي، فَقَالَ: طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ، فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ البيت وَهُوَ يَقْرَأُ: بِ وَالطُّورِ 1 وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ 2 سورة الطور آية 1-2.

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے امام مالک (رح) نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل نے، ان سے عروہ نے بیان کیا، ان سے زینب بنت ام سلمہ نے، ان سے ام سلمہ ؓ نے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوگئی ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا پھر لوگوں کے پیچھے سے سوار ہو کر طواف کرلے۔ چناچہ میں نے جب طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کے پہلو میں (نماز کے اندر) والطور وکتاب مسطور کی قرآت کر رہے تھے۔

Narrated Um Salama (RA): I informed Allahs Apostle ﷺ that I was sick. He said, "Perform Tawaf (of the Kaba) while riding behind the people." So, I performed the Tawaf while Allahs Apostle ﷺ was offering the prayer beside the Kaba and was reciting Surat-at-Tur.

1634Sahih Bukhari

باب: حاجیوں کو پانی پلانا۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قال: اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيتَ بمكة لَيَالِيَ مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ، فَأَذِنَ لَهُ.

ہم سے عبداللہ بن محمد بن ابی الاسود نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوضمرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ عباس بن عبدالمطلب ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے پانی (زمزم کا حاجیوں کو) پلانے کے لیے منیٰ کے دنوں میں مکہ ٹھہرنے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے ان کو اجازت دے دی۔

Narrated Ibn Umar (RA): Al Abbas bin Abdul-Muttalib asked the permission of Allahs Apostle ﷺ to let him stay in Makkah during the nights of Mina in order to provide the pilgrims with water to drink, so the Prophet ﷺ permitted him.

1635Sahih Bukhari

باب: حاجیوں کو پانی پلانا۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى السِّقَايَةِ فَاسْتَسْقَى، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا فَضْلُ، اذْهَبْ إِلَى أُمِّكَ، فَأْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ مِنْ عِنْدِهَا، فَقَالَ: اسْقِنِي، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ أَيْدِيَهُمْ فِيهِ، قَالَ: اسْقِنِي، فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ وَهُمْ يَسْقُونَ وَيَعْمَلُونَ فِيهَا، فَقَالَ: اعْمَلُوا فَإِنَّكُمْ عَلَى عَمَلٍ صَالِحٍ، ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوا لَنَزَلْتُ حَتَّى أَضَعَ الْحَبْلَ عَلَى هَذِهِ يَعْنِي عَاتِقَهُ، وَأَشَارَ إِلَى عَاتِقِهِ.

ہم سے اسحاق بن شاہین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد طحان نے خالد حذاء سے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے، ان سے ابن عباس ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ پانی پلانے کی جگہ (زمزم کے پاس) تشریف لائے اور پانی مانگا (حج کے موقع پر) عباس ؓ نے کہا کہ فضل! اپنی ماں کے یہاں جا اور ان کے یہاں سے کھجور کا شربت لا۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے (یہی) پانی پلاؤ۔ عباس ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہر شخص اپنا ہاتھ اس میں ڈال دیتا ہے۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہی کہتے رہے کہ مجھے (یہی) پانی پلاؤ۔ چناچہ آپ ﷺ نے پانی پیا پھر زمزم کے قریب آئے۔ لوگ کنویں سے پانی کھینچ رہے تھے اور کام کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے (انہیں دیکھ کر) فرمایا کام کرتے جاؤ کہ ایک اچھے کام پر لگے ہوئے ہو۔ پھر فرمایا (اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ آئندہ لوگ) تمہیں پریشان کردیں گے تو میں بھی اترتا اور رسی اپنے اس پر رکھ لیتا۔ مراد آپ ﷺ کی شانہ سے تھی۔ آپ ﷺ نے اس کی طرف اشارہ کر کے کہا تھا۔

Narrated Ibn Abbas (RA): Allahs Apostle ﷺ came to the drinking place and asked for water. Al-Abbas said, "O Fadl! Go to your mother and bring water from her for Allahs Apostle ﷺ ." Allahs Apostle ﷺ said, "Give me water to drink." Al-Abbas said, "O Allahs Apostle ﷺ ! The people put their hands in it." Allahs Apostle ﷺ again said, Give me water to drink. So, he drank from that water and then went to the Zam-zam (well) and there the people were offering water to the others and working at it (drawing water from the well). The Prophet ﷺ then said to them, "Carry on! You are doing a good deed." Then he said, "Were I not afraid that other people would compete with you (in drawing water from Zam-zam), I would certainly take the rope and put it over this (i.e. his shoulder) (to draw water)." On saying that the Prophet ﷺ pointed to his shoulder. ________

1637Sahih Bukhari

باب: زمزم کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدَّثَهُ، قال: سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ، فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ، قَالَ عَاصِمٌ: فَحَلَفَ عِكْرِمَةُ، مَا كَانَ يَوْمَئِذٍ إِلَّا عَلَى بَعِيرٍ.

ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں مروان بن معاویہ فزاری نے خبر دی، انہیں عاصم نے اور انہیں شعبی نے کہ عبداللہ بن عباس ؓ نے ان سے بیان کیا، کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو زمزم کا پانی پلایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کھڑے ہو کر پیا تھا۔ عاصم نے بیان کیا کہ عکرمہ نے قسم کھا کر کہا کہ نبی کریم ﷺ اس دن اونٹ پر سوار تھے۔

Narrated Ibn Abbas (RA): I gave Zam-zam water to Allahs Apostle ﷺ and he drank it while standing. Asia (a sub-narrator) said that Ikrima took the oath that on that day the Prophet ﷺ had not been standing but riding a camel.

1638Sahih Bukhari

باب: قران کرنے والا ایک طواف کرے یا دو؟

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا، فَقَدِمْتُ بمكة وَأَنَا حَائِضٌ، فَلَمَّا قَضَيْنَا حَجَّنَا أَرْسَلَنِي مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذِهِ مَكَانَ عُمْرَتِكِ، فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ، ثُمَّ حَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى، وَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک (رح) نے ابن شہاب سے خبر دی، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ ؓ نے کہا کہ حجتہ الوداع میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (مدینہ سے) نکلے اور ہم نے عمرہ کا احرام باندھا۔ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی کا جانور ہو وہ حج اور عمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھے۔ ایسے لوگ دونوں کے احرام سے ایک ساتھ حلال ہوں گے۔ میں بھی مکہ آئی تھی لیکن مجھے حیض آگیا تھا۔ اس لیے جب ہم نے حج کے کام پورے کرلیے تو نبی کریم ﷺ نے مجھے عبدالرحمٰن کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا۔ میں نے وہاں سے عمرہ کا احرام باندھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تمہارے اس عمرہ کے بدلہ میں ہے (جسے تم نے حیض کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا) جن لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا انہوں نے سعی کے بعد احرام کھول دیا اور دوسرا طواف منٰی سے واپسی پر کیا لیکن جن لوگوں نے حج اور عمرہ کا احرام ایک ساتھ باندھا تھا انہوں نے صرف ایک طواف کیا۔

Narrated Aisha (RA): We set out with Allahs Apostle ﷺ in the year of his Last Hajj and we mended (the Ihram) for Umra. Then the Prophet ﷺ said, "Whoever has a Hadi with him should assume Ihram for both Hajj and Umra, and should not finish it till he performs both of the them (Hajj and Umra)." When we reached Makkah, I had my menses. When we had performed our Hajj, the Prophet ﷺ sent me with Abdur-Rahman to Tanim and I performed the Umra. The Prophet ﷺ said, "This is in lieu of your missed Umra." Those who had assumed Ihram for Umra performed Tawaf (between Safa and Marwa) and then finished their Ihram. And then they performed another Tawaf (between Safa and Marwa) after returning from Mina. And those who had assumed lhram for Hajj and Umra to get her ( Hajj-Qiran) performed only one Tawaf (between Safa and Marwa). ________

1639Sahih Bukhari

باب: قران کرنے والا ایک طواف کرے یا دو؟

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، دَخَلَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَظَهْرُهُ فِي الدَّارِ، فَقَالَ: إِنِّي لَا آمَنُ أَنْ يَكُونَ الْعَامَ بَيْنَ النَّاسِ قِتَالٌ فَيَصُدُّوكَ عَنْ البيت فَلَوْ أَقَمْتَ، فَقَالَ: قَدْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنهُ وَبَيْنَ البيت، فَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ أَفْعَلُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21، ثُمَّ قَالَ: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ مَعَ عُمْرَتِي حَجًّا، قَالَ: ثُمَّ قَدِمَ فَطَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا.

ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے نافع نے کہ ابن عمر ؓ کے لڑکے عبداللہ بن عبداللہ ان کے یہاں گئے۔ حج کے لیے سواری گھر میں کھڑی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خطرہ ہے کہ اس سال مسلمانوں میں آپس میں لڑائی ہوجائے گی اور آپ کو وہ بیت اللہ سے روک دیں گے۔ اس لیے اگر آپ نہ جاتے تو بہتر ہوتا۔ ابن عمر ؓ نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ بھی تشریف لے گئے تھے (عمرہ کرنے صلح حدیبیہ کے موقع پر) اور کفار قریش نے آپ کو بیت اللہ تک پہنچنے سے روک دیا تھا۔ اس لیے اگر مجھے بھی روک دیا گیا تو میں بھی وہی کام کروں گا جو رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا اور تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج (اپنے اوپر) واجب کرلیا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ مکہ آئے اور دونوں عمرہ اور حج کے لیے ایک ہی طواف کیا۔

Narrated Nafi: Abdullah bin Abdullah bin Umar and his riding animal entered the house of Ibn Umar (RA). He (the son of Ibn Umar (RA)) said, "I fear that this year a battle might take place between the people and you might be prevented from going to the Ka’bah. I suggest that you should stay here." Ibn Umar (RA) said, "Once Allahs Apostle ﷺ set out for the pilgrimage, and the pagans of Quraish intervened between him and the Ka’bah. So, if the people intervened between me and the Ka’bah, I would do the same as Allahs Apostle ﷺ had done . . . "Verily, in Allahs Apostle ﷺ you have a good example." Then he added, "I make you a witness that I have intended to perform Hajj along with Umra." After arriving at Makkah, Ibn Umar (RA) performed one Tawaf only (between Safa and Marwa). ________