Sahih Bukhari

All 7,282 hadiths in order · Page 176 of 365

3752Sahih Bukhari

باب: حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے فضائل کا بیان۔

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: أَخْبَرَنَامَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَنَسٌ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ.

مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے اور انہیں انس ؓ نے، اور عبدالرزاق نے بیان کیا کہ ہمیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے اور ان سے انس ؓ نے بیان کیا کہ حسن بن علی ؓ سے زیادہ اور کوئی شخص نبی کریم ﷺ سے زیادہ مشابہ نہیں تھا۔

Narrated Anas (RA): None resembled the Prophet ﷺ more than Al-Hasan bin Ali did.

3753Sahih Bukhari

باب: حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے فضائل کا بیان۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نُعْمٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، وَسَأَلَهُ عَنِ الْمُحْرِمِ، قَالَ شُعْبَةُ: أَحْسِبُهُ يَقْتُلُ الذُّبَابَ، فَقَالَ: أَهْلُ الْعِرَاقِ يَسْأَلُونَ عَنِ الذُّبَابِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا.

مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابی یعقوب نے، انہوں نے ابن ابی نعم سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے سنا اور کسی نے ان سے محرم کے بارے میں پوچھا تھا، شعبہ نے بیان کیا کہ میرے خیال میں یہ پوچھا تھا کہ اگر کوئی شخص (احرام کی حالت میں) مکھی مار دے تو اسے کیا کفارہ دینا پڑے گا؟ اس پر عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا: عراق کے لوگ مکھی کے بارے میں سوال کرتے ہیں جب کہ یہی لوگ رسول اللہ ﷺ کے نواسے کو قتل کرچکے ہیں، جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ دونوں (نواسے حسن و حسین ؓ) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔

Narrated Ibn Abi Num (RA): A person asked Abdullah bin Umar whether a Muslim could kill flies. I heard him saying (in reply). "The people of Iraq are asking about the killing of flies while they themselves murdered the son of the daughter of Allahs Apostle ﷺ . The Prophet ﷺ said, They (i.e. Hasan and Husain) are my two sweet basils in this world."

3754Sahih Bukhari

باب: ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مولیٰ بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کے فضائل۔

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَخْبَرَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ عُمَرُ،يَقُولُ: أَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا وَأَعْتَقَ سَيِّدَنَايَعْنِي: بِلَالًا..

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے کہا ہم کو جابر بن عبداللہ ؓ نے خبر دی کہ عمر ؓ کہا کرتے تھے کہ ابوبکر ؓ ہمارے سردار ہیں اور ہمارے سردار کو انہوں نے آزاد کیا ہے، ان کی مراد بلال حبشی ؓ سے تھی۔

Narrated Jabir bin Abdullah (RA): Umar used to say, " Abu Bakr (RA) is our chief, and he manumitted our chief," meaning Bilal (RA) .

3755Sahih Bukhari

باب: ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مولیٰ بلال بن رباح رضی اللہ عنہ کے فضائل۔

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، أَنَّ بِلَالًا، قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: إِنْ كُنْتَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي لِنَفْسِكَ فَأَمْسِكْنِي، وَإِنْ كُنْتَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي لِلَّهِ فَدَعْنِي وَعَمَلَ اللَّهِ.

ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبید نے کہا، ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، اور ان سے قیس نے کہ بلال ؓ نے ابوبکر ؓ سے کہا: اگر آپ نے مجھے اپنے لیے خریدا ہے تو پھر اپنے پاس ہی رکھئے اور اگر اللہ کے لیے خریدا ہے تو پھر مجھے آزاد کر دیجئیے اور اللہ کے راستے میں عمل کرنے دیجئیے۔

Narrated Qais (RA): Bilal (RA) said to Abu Bakr, "If you have bought me for yourself then keep me (for yourself), but if you have bought me for Allahs Sake, then leave me for Allahs Work."

3756Sahih Bukhari

باب: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر خیر۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: ضَمَّنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَدْرِهِ، وَقَالَ: اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَ. حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، وَقَالَ: عَلِّمْهُ الْكِتَابَ، حَدَّثَنَامُوسَى، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ مِثْلَهُ.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے خالد نے، ان سے عکرمہ نے کہ ابن عباس ؓ نے کہا: مجھے نبی کریم ﷺ نے سینے سے لگایا اور فرمایا اے اللہ! اسے حکمت کا علم عطا فرما۔

Narrated Ibn Abbas (RA): Once the Prophet ﷺ embraced me (pressed me to his chest) and said, "O Allah, teach him wisdom (i.e. the understanding of the knowledge of Quran)."

3757Sahih Bukhari

باب: خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے فضائل۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى زَيْدًا، وَجَعْفَرًا، وَابْنَ رَوَاحَةَ لِلنَّاسِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُمْ خَبَرُهُمْ، فَقَالَ: أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَ جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ، ثُمَّ أَخَذَ ابْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ حَتَّى أَخَذَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ.

ہم سے احمد بن واقد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس بن مالک ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے کسی اطلاع کے پہنچنے سے پہلے زید، جعفر اور ابن رواحہ ؓ کی شہادت کی خبر صحابہ کو سنا دی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اب اسلامی علم کو زید ؓ لیے ہوئے ہیں اور وہ شہید کردیئے گئے، اب جعفر ؓ نے علم اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کردیئے گئے، اب ابن رواحہ ؓ نے علم اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کردیئے گئے، نبی کریم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اور آخر اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار (خالد بن ولید ؓ) نے علم اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر مسلمانوں کو فتح عنایت فرمائی۔

Narrated Anas (RA): The Prophet ﷺ had informed the people about the death of Zaid, Jafar and Ibn Rawaha before the news of their death reached them. He said with his eyes flowing with tears, "Zaid took the flag and was martyred; then Jafar took the flag and was martyred, and then Ibn Rawaha took the flag and was martyred. Finally the flag was taken by one of Allahs Swords (i.e. Khalid bin Al-Walid) and Allah gave them (i.e. the Muslims) victory."

3758Sahih Bukhari

باب: ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ سالم رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: ذُكِرَ عَبْدُ اللَّهِ عِنْدَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، فَقَالَ: ذَاكَ رَجُلٌ لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَبَدَأَ بِهِ وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: لَا أَدْرِي بَدَأَ بِأُبَيٍّ أَوْ بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ.

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے ابراہیم نے اور ان سے مسروق نے کہ عبداللہ بن عمرو ؓ کے یہاں عبداللہ بن مسعود کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا میں ان سے ہمیشہ محبت رکھوں گا کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ چار اشخاص سے قرآن سیکھو۔ عبداللہ بن مسعود، آپ ﷺ نے ابتداء عبداللہ بن مسعود ؓ سے ہی کی اور ابوحذیفہ کے مولیٰ سالم، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل سے، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے پوری طرح یاد نہیں کہ نبی کریم ﷺ نے پہلے ابی بن کعب کا ذکر کیا یا معاذ بن جبل ؓ کا۔

Narrated Masruq (RA): Abdullah (bin Masud) was mentioned before Abdullah bin Amr (RA). The latter said, "That is a man I continue to love because I heard Allahs Apostle ﷺ saying, Learn the recitation of the Quran from (any of these) four persons: Abdullah bin Masud, Salim the freed slave of Abu Hudhaifa, Ubai bin Kab (RA) , and Muadh bin Jabal." I do not remember whether he mentioned Ubai first or Muadh.

3759Sahih Bukhari(3760)

باب: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مَسْرُوقًا، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا، وَقَالَ: إِنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إِلَيَّ أَحْسَنَكُمْ أَخْلَاقًا. وَقَالَ: اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ: مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ.

ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے بیان کیا، کہا میں نے ابو وائل سے سنا، کہا کہ میں نے مسروق سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمرو ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک پر کوئی برا کلمہ نہیں آتا تھا اور نہ آپ ﷺ کی ذات سے یہ ممکن تھا اور آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ تم میں سب سے زیادہ عزیز مجھے وہ شخص ہے جس کے عادات و اخلاق سب سے عمدہ ہوں۔ وَقَالَ: اسْتَقْرِئُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ: مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ .

Narrated Abdullah bin Amr (RA) (RA): Allahs Apostle ﷺ neither talked in an insulting manner nor did he ever speak evil intentionally. He used to say, "The most beloved to me amongst you is the one who has the best character and manners." He added, " Learn the Quran from (any of these) four persons. Abdullah bin Masud (RA), Salim the freed slave of Abu Hudhaifa, Ubai bin Kab (RA), and Muadh bin Jabal."

3761Sahih Bukhari

باب: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُوسَى، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ دَخَلْتُ الشَّأْمَ فَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا، فَرَأَيْتُ شَيْخًا مُقْبِلًا فَلَمَّا دَنَا، قُلْتُ: أَرْجُو أَنْ يَكُونَ اسْتَجَابَ، قَالَ: مِنْ أَيْنَ أَنْتَ ؟، قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، قَالَ: أَفَلَمْ يَكُنْ فِيكُمْ صَاحِبُ النَّعْلَيْنِ وَالْوِسَادِ وَالْمِطْهَرَةِ ؟ أَوَلَمْ يَكُنْ فِيكُمُ الَّذِي أُجِيرَ مِنَ الشَّيْطَانِ ؟ أَوَلَمْ يَكُنْ فِيكُمْ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي لَا يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ ؟ كَيْفَ قَرَأَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ وَاللَّيْلِ ؟ فَقَرَأْتُ: وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى 1 وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى 2 سورة الليل آية 1-2، 0 وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى 0، قَالَ: أَقْرَأَنِيهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاهُ إِلَى فِيَّ فَمَا زَالَ هَؤُلَاءِ حَتَّى كَادُوا يَرُدُّونِي.

ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، ان سے ابوعوانہ نے، ان سے مغیرہ نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے کہ میں شام پہنچا تو سب سے پہلے میں نے دو رکعت نماز پڑھی اور یہ دعا کی کہ اے اللہ! مجھے کسی (نیک) ساتھی کی صحبت سے فیض یابی کی توفیق عطا فرما۔ چناچہ میں نے دیکھا کہ ایک بزرگ آ رہے ہیں، جب وہ قریب آگئے تو میں نے سوچا کہ شاید میری دعا قبول ہوگئی ہے۔ انہوں نے دریافت فرمایا: آپ کا وطن کہاں ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں کوفہ کا رہنے والا ہوں، اس پر انہوں نے فرمایا: کیا تمہارے یہاں صاحب النعلين والوساد والمطهرة (عبداللہ بن مسعود ؓ) نہیں ہیں؟ کیا تمہارے یہاں وہ صحابی نہیں ہیں جنہیں شیطان سے (اللہ کی) پناہ مل چکی ہے۔ (یعنی عمار بن یاسر ؓ) کیا تمہارے یہاں سربستہ رازوں کے جاننے والے نہیں ہیں کہ جنہیں ان کے سوا اور کوئی نہیں جانتا (پھر دریافت فرمایا) ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود ؓ) آیت والليل کی قرآت کس طرح کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ والليل إذا يغشى * والنهار إذا تجلى * والذکر والأنثى آپ نے فرمایا کہ مجھے بھی رسول اللہ ﷺ نے خود اپنی زبان مبارک سے اسی طرح سکھایا تھا۔ لیکن اب شام والے مجھے اس طرح قرآت کرنے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔

Narrated Alqama (RA): I went to Sham and was offering a two-Rakat prayer; I said, "O Allah! Bless me with a (pious) companion." Then I saw an old man coming towards me, and when he came near I said, (to myself), "I hope Allah has given me my request." The man asked (me), "Where are you from?" I replied, "I am from the people of Kufa." He said, "Werent there amongst you the Carrier of the (Prophets) shoes, Siwak and the ablution water container? Werent there amongst you the man who was given Allahs Refuge from the Satan? And werent there amongst you the man who used to keep the (Prophets) secrets which nobody else knew? How did Ibn Um Abd (i.e. Abdullah bin Masud (RA)) use to recite Surat-al-lail (the Night:92)?" I recited:-- "By the Night as it envelops By the Day as it appears in brightness. And by male and female." (92.1-3) On that, Abu Darda said, "By Allah, the Prophet ﷺ made me read the Verse in this way after listening to him, but these people (of Sham) tried their best to let me say something different."

3762Sahih Bukhari

باب: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَأَلْنَا حُذَيْفَةَ، عَنْ رَجُلٍ قَرِيبِ السَّمْتِ وَالْهَدْيِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَأْخُذَ عَنْهُ، فَقَالَ: مَا أَعْرِفُ أَحَدًا أَقْرَبَ سَمْتًا وَهَدْيًا وَدَلًّا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ.

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، ان سے عبدالرحمٰن بن زید نے بیان کیا کہ ہم نے حذیفہ ؓ سے پوچھا کہ صحابہ میں نبی کریم ﷺ سے عادات و اخلاق اور طور طریق میں سب سے زیادہ قریب کون سے صحابی تھے؟ تاکہ ہم ان سے سیکھیں، انہوں نے کہا اخلاق، طور طریق اور سیرت و عادت میں ابن ام عبد سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب اور کسی کو میں نہیں سمجھتا۔

Narrated Abdur-Rahman bin Yazid (RA): We asked Hudhaifa to tell us of a person resembling (to some extent) the Prophet ﷺ in good appearance and straight forward behavior so that we may learn from him (good manners and acceptable conduct). Hudhaifa replied, "I do not know anybody resembling the Prophet ﷺ (to some extent) in appearance and conduct more than Ibn Um Abd.

3763Sahih Bukhari

باب: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِيالْأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنْ الْيَمَنِ فَمَكُثْنَا حِينًا مَا نُرَى إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا نَرَى مِنْ دُخُولِهِ وَدُخُولِ أُمِّهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن یوسف بن ابی اسحٰق نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، کہا کہ مجھ سے اسود بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوموسیٰ اشعری ؓ سے سنا: انہوں نے بیان کیا کہ میں اور میرے بھائی یمن سے (مدینہ طیبہ) حاضر ہوئے اور ایک زمانے تک یہاں قیام کیا، ہم اس پورے عرصہ میں یہی سمجھتے رہے کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نبی کریم ﷺ کے گھرانے ہی کے ایک فرد ہیں، کیونکہ نبی کریم ﷺ کے گھر میں عبداللہ بن مسعود ؓ اور ان کی والدہ کا (بکثرت) آنا جانا ہم خود دیکھا کرتے تھے۔

Narrated Abu Musa Al-Ashari (RA): My brother and I came from Yemen, and for some time we continued to consider Abdullah bin Masud (RA) as one of the members of the family of the Prophet ﷺ because we used to see him and his mother going in the house of the Prophet ﷺ very often.

3764Sahih Bukhari

باب: معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا بیان۔

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا الْمُعَافَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: أَوْتَرَ مُعَاوِيَةُ بَعْدَ الْعِشَاءِ بِرَكْعَةٍ وَعِنْدَهُ مَوْلًى لِابْنِ عَبَّاسٍفَأَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: دَعْهُ فَإِنَّهُ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

کہا ہم سے حسن بن بشیر نے بیان کیا، ان سے عثمان بن اسود نے اور ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ معاویہ ؓ نے عشاء کے بعد وتر کی نماز صرف ایک رکعت پڑھی وہیں ابن عباس ؓ کے مولیٰ (کریب) بھی موجود تھے، جب وہ ابن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو (امیر معاویہ ؓ کی ایک رکعت وتر کا ذکر کیا) اس پر انہوں نے کہا: کوئی حرج نہیں ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت اٹھائی ہے۔

Narrated Ibn Abu Mulaika (RA): Muawiyah offered one Raka Witr prayer after the Isha prayer, and at that time a freed slave of Ibn Abbas (RA) was present. He (i.e. the slave) went to Ibn Abbas (RA) (and told him that Muawiyah offered one Raka Witr prayer). Ibn Abbas (RA) said, "Leave him, for he was in the company of Allahs Apostle."

3765Sahih Bukhari

باب: معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا بیان۔

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: هَلْ لَكَ فِي أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مُعَاوِيَةَ فَإِنَّهُ مَا أَوْتَرَ إِلَّا بِوَاحِدَةٍ، قَالَ: إِنَّهُ فَقِيهٌ.

ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع بن عمر نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عباس ؓ سے کہا گیا کہ امیرالمؤمنین معاویہ ؓ کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں، انہوں نے وتر کی نماز صرف ایک رکعت پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ خود فقیہ ہیں۔

Narrated Ibn Abi Mulaika (RA): Somebody said to Ibn Abbas (RA), "Can you speak to the chief of the believers Muwaiya, as he does not pray except one Raka as Witr?" Ibn Abbas (RA) replied, "He is a Faqih (i.e. a learned man who can give religious verdicts) ."

3766Sahih Bukhari

باب: معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا بیان۔

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمْرَانَ بْنَ أَبَانَ، عَنْمُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: إِنَّكُمْ لَتُصَلُّونَ صَلَاةً لَقَدْ صَحِبْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْنَاهُ يُصَلِّيهَا وَلَقَدْ نَهَى عَنْهُمَا، يَعْنِي: الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ.

مجھ سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے بیان کیا، انہوں نے حمران بن ابان سے سنا کہ معاویہ ؓ نے کہا تم لوگ ایک خاص نماز پڑھتے ہو، ہم لوگ نبی کریم ﷺ کی صحبت میں رہے اور ہم نے کبھی آپ ﷺ کو اس وقت نماز پڑھتے نہیں دیکھا، بلکہ آپ نے تو اس سے منع فرمایا تھا۔ معاویہ ؓ کی مراد عصر کے بعد دو رکعت نماز سے تھی (جسے اس زمانے میں بعض لوگ پڑھتے تھے) ۔

Narrated Humran bin Abbas (RA): Muawiyah said (to the people), "You offer a prayer which we, who were the companions of the Prophet ﷺ never saw the Prophet ﷺ offering, and he forbade its offering," i.e. the two Rakat after the compulsory Asr prayer.

3767Sahih Bukhari

باب: فاطمہ علیہا السلام کے فضائل کا بیان۔

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَاطِمَةُ بِضْعَةٌ مِنِّي فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي.

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ فاطمہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔

Narrated Al-Miswar bin Makhrama (RA): Allahs Apostle ﷺ said, "Fatima is a part of me, and whoever makes her angry, makes me angry."

3768Sahih Bukhari

باب: عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: إِنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا: يَا عَائِشَ هَذَا جِبْرِيلُ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ، فَقُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، تَرَى مَا لَا أَرَى، تُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن فرمایا اے عائش یہ جبرائیل (علیہ السلام) تشریف فرما ہیں اور تمہیں سلام کہتے ہیں میں نے اس پر جواب دیا وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ وہ چیز ملاحظہ فرماتے ہیں جو مجھ کو نظر نہیں آتی (آپ کی مراد نبی کریم ﷺ سے تھی) ۔

Narrated Abu Salama (RA): Aisha (RA) said, "Once Allahs Apostle ﷺ said (to me), O Aish ( Aisha (RA))! This is Gabriel (علیہ السلام) greeting you. I said, Peace and Allahs Mercy and Blessings be on him, you see what I dont see " She was addressing Allah s Apostle.

3769Sahih Bukhari

باب: عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان۔

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: وحَدَّثَنَا عَمْرٌو، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا: مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ، وَفَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ.

ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا (امام بخاری (رح) نے) اور ہم سے عمرو نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں عمرو بن مرہ نے، انہیں مرہ نے اور انہیں ابوموسیٰ اشعری ؓ نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مردوں میں تو بہت سے کامل پیدا ہوئے لیکن عورتوں میں مریم بنت عمران، فرعون کی بیوی آسیہ کے سوا اور کوئی کامل پیدا نہیں ہوئی، اور عائشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت بقیہ تمام کھانوں پر ہے۔

Narrated Abu Musa Al-Ashari (RA): Allahs Apostle ﷺ said, "Many amongst men attained perfection but amongst women none attained the perfection except Mary, the daughter of Imran and Asiya, the wife of Pharaoh. And the superiority of Aisha (RA) to other women is like the superiority of Tharid (i.e. an Arabic dish) to other meals."

3770Sahih Bukhari

باب: عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ.

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے اور انہوں نے انس بن مالک ؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عائشہ ؓ کی فضیلت باقی عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت اور تمام کھانوں پر۔

Narrated Anas bin Malik (RA): Allahs Apostle ﷺ said, "The superiority of Aisha (RA) over other women is like the superiority of Tharid to other meals."

3771Sahih Bukhari

باب: عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عَائِشَةَ اشْتَكَتْ فَجَاءَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تَقْدَمِينَ عَلَى فَرَطِ صِدْقٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى أَبِي بَكْرٍ.

محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب بن عبدالمجید نے بیان کیا، ہم سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے قاسم بن محمد نے کہ عائشہ ؓ بیمار پڑیں تو ابن عباس ؓ عیادت کے لیے آئے اور عرض کیا: ام المؤمنین! آپ تو سچے جانے والے کے پاس جا رہی ہیں، یعنی رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر کے پاس (عالم برزخ میں ان سے ملاقات مراد تھی) ۔

Narrated Al-Qasim bin Muhammad (RA): Once Aisha (RA) became sick and Ibn Abbas (RA) went to see her and said, "O mother of the believers! You are leaving for truthful fore-runners i.e. for Allahs Apostle ﷺ and Abu Bakr.

3772Sahih Bukhari

باب: عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَ عَلِيٌّ عَمَّارًا وَالْحَسَنَ إِلَى الْكُوفَةِ لِيَسْتَنْفِرَهُمْ خَطَبَ عَمَّارٌ، فَقَالَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهَا زَوْجَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَكِنَّ اللَّهَ ابْتَلَاكُمْ لِتَتَّبِعُوهُ أَوْ إِيَّاهَا.

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے اور انہوں نے ابو وائل سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب علی ؓ نے عمار اور حسن ؓ کو کوفہ بھیجا تھا تاکہ لوگوں کو اپنی مدد کے لیے تیار کریں تو عمار ؓ نے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: مجھے بھی خوب معلوم ہے کہ عائشہ ؓ رسول اللہ ﷺ کی زوجہ ہیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، لیکن اللہ تعالیٰ تمہیں آزمانا چاہتا ہے کہ دیکھے تم علی ؓ کی اتباع کرتے ہو (جو برحق خلیفہ ہیں) یا عائشہ ؓ کی۔

Narrated Abu Wail (RA): When Ali sent Ammar and Al-Hasan to (the people of) Kufa to urge them to fight, Ammar addressed them saying, "I know that she (i.e. Aisha (RA)) is the wife of the Prophet ﷺ in this world and in the Hereafter (world to come), but Allah has put you to test, whether you will follow Him (i.e. Allah) or her."