اپنے ساتھیوں کے سامنے تکیہ لگا کر بیٹھے کا بیان۔ خ (رض) کا بیان ہے کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا، آپ (رض) چادر کا تکیہ بنائے ہوئے تھے، میں نے عرض کیا، کیا آپ اللہ سے دعا نہیں فرمائیں گے؟ (یہ سن کر) آپ بیٹھ گئے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، مِثْلَهُ، وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ، فَقَالَ: أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ، فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا: لَيْتَهُ سَكَتَ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے اسی طرح مثال بیان کیا، (اور یہ بھی بیان کیا کہ) نبی کریم ﷺ ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا ہاں اور جھوٹی بات بھی۔ نبی کریم ﷺ اسے اتنی مرتبہ باربار دہراتے رہے کہ ہم نے کہا، کاش آپ خاموش ہوجاتے۔
Narrated Bishr (RA) : as above (No. 290) adding: The Prophet ﷺ was reclining (leaning) and then he sat up saying, "And I warn you against giving a false statement." And he kept on saying that warning so much so that we said, "Would that he had stopped."