Sahih Bukhari 6203

ادب کا بیان

6203Sahih Bukhari

بچہ کی کنیت رکھنے اور جس کے بچہ پیدا نہ ہوا ہو اس کی کنیت رکھنے کا بیان۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا، وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ: أَبُو عُمَيْرٍ قَالَ: أَحْسِبُهُ فَطِيمًا، وَكَانَ إِذَا جَاءَ قَالَ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ ؟ نُغَرٌ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ، فَرُبَّمَا حَضَرَ الصَّلَاةَ وَهُوَ فِي بَيْتِنَا، فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ وَيُنْضَحُ، ثُمَّ يَقُومُ وَنَقُومُ خَلْفَهُ، فَيُصَلِّي بِنَا.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے اور ان سے انس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ حسن اخلاق میں سب لوگوں سے بڑھ کر تھے، میرا ایک بھائی ابوعمیر نامی تھا۔ بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ بچہ کا دودھ چھوٹ چکا تھا۔ نبی کریم ﷺ جب تشریف لاتے تو اس سے مزاحاً فرماتے يا أبا عمير ما فعل النغير اکثر ایسا ہوتا کہ نماز کا وقت ہوجاتا اور نبی کریم ﷺ ہمارے گھر میں ہوتے۔ آپ اس بستر کو بچھانے کا حکم دیتے جس پر آپ بیٹھے ہوئے ہوتے، چناچہ اسے جھاڑ کر اس پر پانی چھڑک دیا جاتا۔ پھر آپ کھڑے ہوتے اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوتے اور آپ ہمیں نماز پڑھاتے۔

Narrated Anas (RA) : The Prophet ﷺ was the best of all the people in character. I had a brother called Abu Umar, who, I think, had been newly weaned. Whenever he (that child) was brought to the Prophet ﷺ the Prophet ﷺ used to say, "O Abu Umar! What did Al-Nughair (nightingale) (do)?" It was a nightingale with which he used to play. Sometimes the time of the Prayer became due while he (the Prophet) was in our house. He would order that the carpet underneath him be swept and sprayed with water, and then he would stand up (for the prayer) and we would line up behind him, and he would lead us in prayer.