Sahih Bukhari 2377

مساقات کا بیان

2377Sahih Bukhari

15- بَابُ كِتَابَةِ الْقَطَائِعِ:

باب: قطعات اراضی بطور جاگیر دے کر ان کو سند لکھ دینا

وَقَالَ اللَّيْثُ: عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ لِيُقْطِعَ لَهُمْ بِالْبَحْرَيْنِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ فَعَلْتَ فَاكْتُبْ لِإِخْوَانِنَا مِنْ قُرَيْشٍ بِمِثْلِهَا، فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي.

اور لیث نے یحییٰ بن سعید سے بیان کیا اور انہوں نے انس ؓ سے کہ نبی کریم ﷺ نے انصار کو بلا کر بحرین میں انہیں قطعات اراضی بطور جاگیر دینے چاہے تو انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو ایسا کرنا ہی ہے تو ہمارے بھائی قریش (مہاجرین) کو بھی اسی طرح کی قطعات کی سند لکھ دیجئیے۔ لیکن نبی کریم ﷺ کے پاس اتنی زمین ہی نہ تھی اس لیے نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا میرے بعد تم دیکھو گے کہ دوسرے لوگوں کو تم پر مقدم کیا جائے گا۔ تو اس وقت تم مجھ سے ملنے تک صبر کئے رہنا۔

Narrated Anas (RA): The Prophet ﷺ called the Ansar so as to grant them a portion of (the land of) Bahrain. They said, "O Allahs Messenger! If you grant this to is, write a similar document on our Quraish (emigrant) brothers." But the Prophet ﷺ did not have enough grants and he said: "After me you will see the people giving preference (to others), so be patient till you meet me".