Sunan Abu Dawoodسنن ابو داؤد

All 5,295 hadiths in order · Page 214 of 265

4278Sunan Abu Dawoodصحیح

قتل ہونے میں کیا امید کی جائے

حَدَثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمَّتِي هَذِهِ أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ لَيْسَ عَلَيْهَا عَذَابٌ فِي الْآخِرَةِ، عَذَابُهَا فِي الدُّنْيَا الْفِتَنُ وَالزَّلَازِلُ وَالْقَتْلُ.

ابوموسیٰ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری اس امت پر اللہ کی رحمت ہے آخرت میں اسے عذاب (دائمی) نہیں ہوگا اور دنیا میں اس کا عذاب : فتنوں، زلزلوں اور قتل کی شکل میں ہوگا ۔

Narrated Abu Musa (RA) : The Prophet ﷺ said: This people of mine is one to which mercy is shown. It will have no punishment in the next world, but its punishment in this world will be trials, earthquakes and being killed.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٩٠٩٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤١٠، ٤١٨) (صحیح )
4279Sunan Abu Dawoodصحیح

قتل ہونے میں کیا امید کی جائے

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا حَتَّى يَكُونَ عَلَيْكُمُ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ تَجْتَمِعُ عَلَيْهِ الْأُمَّةُ، فَسَمِعْتُ كَلَامًا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَفْهَمْهُ، قُلْتُ لِأَبِي مَا يَقُولُ ؟ قَالَ: كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ.

جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : یہ دین برابر قائم رہے گا یہاں تک کہ تم پر بارہ خلیفہ ہوں گے، ان میں سے ہر ایک پر امت اتفاق کرے گی پھر میں نے نبی اکرم ﷺ سے ایک ایسی بات سنی جسے میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا : آپ نے کیا فرمایا ؟ تو انہوں نے بتایا کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے : یہ سارے خلفاء قریش میں سے ہوں گے ۔

Narrated Jabir ibn Samurah (RA) : The Prophet ﷺ said: The religion will continue to be established till there are twelve caliphs over you, and the whole community will agree on each of them. I then heard from the Prophet ﷺ some remarks which I could not understand. I asked my father: What is he saying: He said: all of them will belong to Quraysh.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢١٣٤) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأحکام ٥١ (٧٢٢٢) ، صحیح مسلم/الإمارة ١ (١٨٢١) ، سنن الترمذی/الفتن ٤٦ (٢٢٢٤) ، مسند احمد (٥/٨٦، ٨٨، ٩٦، ١٠٥) (صحیح) (اس میں : تجتمع علیہ الأمة کا ٹکڑا منکر ہے، صحیح نہیں ہے) ، (ابو خالد الاحمسی لین الحدیث ہیں، اور اس کی روایت میں متفرد ہیں، ملاحظہ ہو : الصحیحة : ٣٧٦، وتراجع الألباني : ٢٠٨ )
4280Sunan Abu Dawoodصحیح

قتل ہونے میں کیا امید کی جائے

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً، قَالَ: فَكَبَّرَ النَّاسُ وَضَجُّوا، ثُمَّ قَالَ: كَلِمَةً خَفِيفَةً، قُلْتُ لِأَبِي: يَا أَبَتِ مَا قَالَ: قَالَ: كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ.

جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : یہ دین بارہ خلفاء تک برابر غالب رہے گا لوگوں نے یہ سن کر اللہ اکبر کہا، اور ہنگامہ کرنے لگے پھر آپ نے ایک بات آہستہ سے فرمائی، میں نے اپنے والد سے پوچھا : ابا جان ! نبی اکرم ﷺ نے کیا فرمایا ؟ کہا : آپ ﷺ نے فرمایا ہے : یہ سب قریش میں سے ہوں گے ۔

Narrated Jabir bin Samurah (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ say: This religion will continue to be strong till the time of twelve caliphs. The people then uttered: Allah is more great and uproared. He then silently a word which I could not understand. So I said to my father: What did he say, father ? He said: All of them will belong to Quraish.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الإمارة ١ (١٨٢١) ، (تحفة الأشراف : ٢٢٠٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٨٧، ٨٨، ٩٠، ٩٣، ٩٦، ١٠١، ١٠٦) (صحیح )
4281Sunan Abu Dawoodصحیح

قتل ہونے میں کیا امید کی جائے

حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ زَادَ فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ أَتَتْهُ قُرَيْشٌ فَقَالُوا: ثُمَّ يَكُونُ مَاذَا ؟ قَالَ: ثُمَّ يَكُونُ الْهَرْجُ.

اس سند سے بھی جابر بن سمرہ (رض) سے یہی حدیث مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے : پھر آپ ﷺ اپنے گھر واپس گئے تو قریش کے لوگ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے عرض کیا : پھر کیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : پھر قتل ہوگا ۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Jabir bin Samurah through a different chain of narrators. This version adds: When he came back to his home. the Quraish came to him and said: Then what will happen ? He said: Then turmoil will prevail.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢١٢٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٩٢) (صحیح) (اس میں : فلما جمع کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے )
4282Sunan Abu Dawoodصحیح

قتل ہونے میں کیا امید کی جائے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَهُمْ. ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ. ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ. ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا زَائِدَةُ. ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ فِطْرٍ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ كُلُّهُمْ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ، قَالَ: زَائِدَةُ فِي حَدِيثِهِ لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ، ثُمَّ اتَّفَقُوا: حَتَّى يَبْعَثَ فِيهِ رَجُلًا مِنِّي أَوْ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي وَاسْمُ أَبِيهِ اسْمَ أَبِي زَادَ فِي حَدِيثِ فِطْرٍ يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا، وَقَالَ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ: لَا تَذْهَبُ أَوْ لَا تَنْقَضِي الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَفْظُ عُمَرَ، وَأَبِي بَكْرٍ بِمَعْنَى سُفْيَانَ.

عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر دنیا کا ایک دن بھی رہ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دے گا، یہاں تک کہ اس میں ایک شخص کو مجھ سے یا میرے اہل بیت میں سے اس طرح کا برپا کرے گا کہ اس کا نام میرے نام پر، اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہوگا، وہ عدل و انصاف سے زمین کو بھر دے گا، جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھر دی گئی ہے ۔ سفیان کی روایت میں ہے : دنیا نہیں جائے گی یا ختم نہیں ہوگی تاآنکہ عربوں کا مالک ایک ایسا شخص ہوجائے جو میرے اہل بیت میں سے ہوگا اس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عمر اور ابوبکر کے الفاظ سفیان کی روایت کے مفہوم کے مطابق ہیں۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : The Prophet ﷺ said: If only one day of this world remained. Allah would lengthen that day (according to the version of Zaidah), till He raised up in it a man who belongs to me or to my family whose fathers name is the same as my fathers, who will fill the earth with equity and justice as it has been filled with oppression and tyranny (according to the version of Fitr). Sufyans version says: The world will not pass away before the Arabs are ruled by a man of my family whose name will be the same as mine. Abu Dawud said: The version of Umar and Abu Bakr is the same as that of Sufyan.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفتن ٥٢ (٢٢٣٠) ، (تحفة الأشراف : ٩٢٠٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٧٦، ٣٧٧، ٤٣٠، ٤٤٨) (حسن صحیح )
4283Sunan Abu Dawoodصحیح

قتل ہونے میں کیا امید کی جائے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِي بَزَّةَ، عَنِ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْعَلِيٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدَّهْرِ إِلَّا يَوْمٌ لَبَعَثَ اللَّهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَمْلَؤُهَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا.

علی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر زمانہ سے ایک ہی دن باقی رہ جائے گا تو بھی اللہ تعالیٰ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کھڑا بھیجے گا وہ اسے عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جیسے یہ ظلم و جور سے بھر دی گئی ہے ۔

Narrated Ali ibn Abu Talib: The Prophet ﷺ said: If only one day of this time (world) remained, Allah would raise up a man from my family who would fill this earth with justice as it has been filled with oppression.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٠١٥٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٩٩) (صحیح )
4284Sunan Abu Dawoodصحیح

قتل ہونے میں کیا امید کی جائے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ بَيَانٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ نُفَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الْمَهْدِيُّ مِنْ عِتْرَتِي مِنْ وَلَدِ فَاطِمَةَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، وَسَمِعْتُ أَبَا الْمَلِيحِ، يُثْنِي عَلَى عَلِيِّ بْنِ نُفَيْلٍ وَيَذْكُرُ مِنْهُ صَلَاحًا.

ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : مہدی میری نسل سے فاطمہ کی اولاد میں سے ہوں گے ۔

Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ said: The Mahdi will be of my family, of the descendants of Fatimah. Abdullah ibn Jafar said: I heard Abul Malih praising Ali ibn Nufayl and describing his good qualities.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٤ (٤٠٨٦) ، (تحفة الأشراف : ١٨١٥٣) (حسن )
4285Sunan Abu Dawoodصحیح

قتل ہونے میں کیا امید کی جائے

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ تَمَّامِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَهْدِيُّ مِنِّي أَجْلَى الْجَبْهَةِ أَقْنَى الْأَنْفِ يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا يَمْلِكُ سَبْعَ سِنِينَ.

ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مہدی میری اولاد میں سے کشادہ پیشانی، اونچی ناک والے ہوں گے، وہ روئے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، جیسے کہ وہ ظلم و جور سے بھر دی گئی ہے، ان کی حکومت سات سال تک رہے گی ۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The Prophet ﷺ said: The Mahdi will be of my stock, and will have a broad forehead a prominent nose. He will fill the earth will equity and justice as it was filled with oppression and tyranny, and he will rule for seven years.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤٣٧٨) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الفتن ٥٣ (٢٢٣٢) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٤ (٤٠٨٦) (حسن )
4286Sunan Abu Dawoodضعیف

قتل ہونے میں کیا امید کی جائے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ صَاحِبٍ لَهُ، عَنْأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَكُونُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ هَارِبًا إِلَى مَكَّةَ فَيَأْتِيهِ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَيُخْرِجُونَهُ وَهُوَ كَارِهٌ، فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ وَيُبْعَثُ إِلَيْهِ بَعْثٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، فَيُخْسَفُ بِهِمْ بِالْبَيْدَاءِ بَيْنَ مَكَّةَ، وَالْمَدِينَةِ فَإِذَا رَأَى النَّاسُ ذَلِكَ أَتَاهُ أَبْدَالُ الشَّامِ وَعَصَائِبُ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَيُبَايِعُونَهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ ثُمَّ يَنْشَأُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ كَلْبٌ، فَيَبْعَثُ إِلَيْهِمْ بَعْثًا فَيَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ وَذَلِكَ بَعْثُ كَلْبٍ وَالْخَيْبَةُ لِمَنْ لَمْ يَشْهَدْ غَنِيمَةَ كَلْبٍ فَيَقْسِمُ الْمَالَ وَيَعْمَلُ فِي النَّاسِ بِسُنَّةِ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُلْقِي الْإِسْلَامُ بِجِرَانِهِ إِلى الْأَرْضِ فَيَلْبَثُ سَبْعَ سِنِينَ ثُمَّ يُتَوَفَّى وَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ بَعْضُهُمْ: عَنِ هِشَامٍ تِسْعَ سِنِينَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ سَبْعَ سِنِينَ.

ام المؤمنین ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایک خلیفہ کی موت کے وقت اختلاف ہوگا تو اہل مدینہ میں سے ایک شخص مکہ کی طرف بھاگتے ہوئے نکلے گا، اہل مکہ میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آئیں گے اور اس کو امامت کے لیے پیش کریں گے، اسے یہ پسند نہ ہوگا، پھر حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان لوگ اس سے بیعت کریں گے، اور شام کی جانب سے ایک لشکر اس کی طرف بھیجا جائے گا تو مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام بیداء میں وہ سب کے سب دھنسا دئیے جائیں گے، جب لوگ اس صورت حال کو دیکھیں گے تو شام کے ابدال اور اہل عراق کی جماعتیں اس کے پاس آئیں گی، حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اس سے بیعت کریں گی، اس کے بعد ایک شخص قریش میں سے اٹھے گا جس کا ننہال بنی کلب میں ہوگا جو ایک لشکر ان کی طرف بھیجے گا، وہ اس پر غالب آئیں گے، یہی کلب کا لشکر ہوگا، اور نامراد رہے گا وہ شخص جو کلب کے مال غنیمت میں حاضر نہ رہے، وہ مال غنیمت تقسیم کرے گا اور لوگوں میں ان کے نبی کی سنت کو جاری کرے گا، اور اسلام اپنی گردن زمین میں ڈال دے گا، وہ سات سال تک حکمرانی کرے گا، پھر وفات پا جائے گا، اور مسلمان اس کی نماز جنازہ پڑھیں گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : بعض نے ہشام سے نو سال کی روایت کی ہے اور بعض نے سات کی۔

Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ said: Disagreement will occur at the death of a caliph and a man of the people of Madina will come flying forth to Makkah. Some of the people of Makkah will come to him, bring him out against his will and swear allegiance to him between the Corner and the Maqam. An expeditionary force will then be sent against him from Syria but will be swallowed up in the desert between Makkah and Madina. When the people see that, the eminent saints of Syria and the best people of Iraq will come to him and swear allegiance to him between the Corner and the Maqam. Then there will arise a man of Quraysh whose maternal uncles belong to Kalb and send against them an expeditionary force which will be overcome by them, and that is the expedition of Kalb. Disappointed will be the one who does not receive the booty of Kalb. He will divide the property, and will govern the people by the Sunnah of their Prophet ﷺ and establish Islam on Earth. He will remain seven years, then die, and the Muslims will pray over him. Abu Dawud said: Some transmitted from Hisham nine years and some seven years.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٨١٧٠، ١٨٢٥٠ ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٥٩، ٣١٦) (ضعیف )
4287Sunan Abu Dawoodضعیف

قتل ہونے میں کیا امید کی جائے

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ تِسْعَ سِنِينَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَالَ غَيْرُ مُعَاذٍ، عَنِ هِشَامٍ تِسْعَ سِنِينَ.

اس سند سے قتادہ سے بھی یہی حدیث مروی ہے اس میں نو سال ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : معاذ کے علاوہ نے ہشام سے نو سال کی روایت کی ہے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Qatadah through a different chain of narrators. This version has nine years. Abu Dawud said: The other narrators mentioned nine years from Hisham except Muadh.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٨١٧٠) (ضعیف )
4288Sunan Abu Dawoodضعیف

قتل ہونے میں کیا امید کی جائے

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَوَّامِ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَحَدِيثُ مُعَاذٍ أَتَمُّ.

اس سند سے بھی ام المؤمنین ام سلمہ (رض) نبی اکرم ﷺ سے یہی حدیث روایت کرتی ہیں، معاذ کی حدیث زیادہ کامل ہے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Umm Salamah from the Prophet ﷺ through a different chain of narrators. The tradition of Muadh is more perfect.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٤٢٨٦) ، (تحفة الأشراف : ١٨١٧٠) (ضعیف )
4289Sunan Abu Dawoodصحیح

قتل ہونے میں کیا امید کی جائے

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِصَّةِ جَيْشِ الْخَسْفِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَيْفَ بِمَنْ كَانَ كَارِهًا ؟ قَالَ: يُخْسَفُ بِهِمْ وَلَكِنْ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى نِيَّتِهِ.

ام المؤمنین ام سلمہ (رض) نبی اکرم ﷺ سے دھنسائے جانے والے لشکر کا واقعہ روایت کرتی ہیں اس میں ہے : میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس شخص کا کیا حال ہوگا جو نہ چاہتے ہوئے زبردستی لایا گیا ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا البتہ قیامت کے دن وہ اپنی نیت پر اٹھایا جائے گا ۔

Umm salamah reported the Prophet ﷺ as saying about the swallowing up an army by the earth. I asked: How will a man who comes against his will (be swallowed up by the earth), Messenger of Allah ? He replied: All will be swallowed up, but each will be raised according to his intention on the Day of Resurrection.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/ الفتن ٢ (٢٨٨٢) ،(تحفة الأشراف : ١٨١٩٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٩٠) (صحیح )
4290Sunan Abu Dawoodضعیف

قتل ہونے میں کیا امید کی جائے

قَالَ أَبُو دَاوُد: حُدِّثْتُ عَنْ هَارُونَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَنَظَرَ إِلَى ابْنِهِ الْحَسَنِ، فَقَالَ: إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ كَمَا سَمَّاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَيَخْرُجُ مِنْ صُلْبِهِ رَجُلٌ يُسَمَّى بِاسْمِ نَبِيِّكُمْ يُشْبِهُهُ فِي الْخُلُقِ وَلَا يُشْبِهُهُ فِي الْخَلْقِ، ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةً يَمْلَأُ الْأَرْضَ عَدْلًا. وَقَالَ هَارُونُ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ وَرَاءِ النَّهْرِ يُقَالُ لَهُ الْحَارِثُ بْنُ حَرَّاثٍ عَلَى مُقَدِّمَتِهِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مَنْصُورٌ يُوَطِّئُ أَوْ يُمَكِّنُ لِآلِ مُحَمَّدٍ كَمَا مَكَّنَتْ قُرَيْشٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَبَ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ نَصْرُهُ أَوْ قَالَ إِجَابَتُهُ.

ابواسحاق کہتے ہیں کہ علی (رض) نے اپنے بیٹے حسن (رض) کی طرف دیکھا، اور کہا : یہ میرا بیٹا سردار ہوگا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام رکھا ہے، اور عنقریب اس کی نسل سے ایک ایسا شخص پیدا ہوگا جس کا نام تمہارے نبی کے نام جیسا ہوگا، اور سیرت میں ان کے مشابہ ہوگا البتہ صورت میں مشابہ نہ ہوگا پھر انہوں نے سيملأ الأرض عدلاً کا واقعہ ذکر کیا۔

Abu Dawud said: Abu Ishaq told that Ali looked at his son al-Hasan and said: This son of mine is a sayyid (chief) as named by the Prophet ﷺ , and from his loins will come forth a man who will be called by the name of your Prophet ﷺ and resemble him in conduct but not in appearance. He then mentioned the story about his filling the earth with justice. Narrated Ali ibn Abu Talib: The Prophet ﷺ said: A man called al-Harith ibn Harrath will come forth from Ma Wara an-Nahr. His army will be led by a man called Mansur who will establish or consolidate things for Muhammads family as Quraysh consolidated them for the Messenger of Allah ﷺ . Every believer must help him, or he said: respond to his sermons.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٢٥٣، ١٠٣٠٩) (ضعیف ) ہارون کہتے ہیں : ہم سے عمرو بن ابی قیس نے بیان کیا وہ مطرف بن طریف سے وہ ابوالحسن سے اور وہ ہلال بن عمرو سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں : میں نے علی (رض) کو کہتے سنا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نہر اس پار سے ایک شخص نکلے گا جس کا نام حارث بن حراث ہوگا اس کے آگے ایک شخص ہوگا اس کا نام منصور ہوگا، وہ آل محمد کو غالب کرے گا، جیسا کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ کو غالب کیا تھا، اس کی مدد کرنا، یا کہا : اس کا حکم ماننا ہر مومن پر واجب ہے ۔ تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٢٥٣، ١٠٣٠٩) (ضعیف )
4291Sunan Abu Dawoodصحیح

ہرصدی کی تکمیل پر مجدد دین ہونے کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ شَرَاحِيلَ بْنِ يَزِيدَ الْمُعَافِرِيِّ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِيمَا أَعْلَمُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ لَمْ يَجُزْ بِهِ شَرَاحِيلَ.

ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ اس امت کے لیے ہر صدی کی ابتداء میں ایک ایسے شخص کو مبعوث فرمائے گا جو اس کے لیے اس کے دین کی تجدید کرے گا ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Allah will raise for this community at the end of every hundred years the one who will renovate its religion for it. Abu Dawud said: Abdur-Rahman bin Shuriah al-Iskandarani has also transmitted this tradition, but he did not exceed Shrahil.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٤٥١) (صحیح )
4292Sunan Abu Dawoodصحیح

رومیوں کی لڑائیوں اور معرکہ کا بیان

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، قَالَ: مَالَ مَكْحُولٌ، وابْنُ أَبِي زَكَرِيَّا إِلَى خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ وَمِلْتُ مَعَهُمْ فَحَدَّثَنَا، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ الْهُدْنَةِ، قَالَ: قَالَ جُبَيْرٌ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ذِي مِخْبَرٍ ٍ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْنَاهُ فَسَأَلَهُ جُبَيْرٌ عَنِ الْهُدْنَةِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: سَتُصَالِحُونَ الرُّومَ صُلْحًا آمِنًا فَتَغْزُونَ أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا مِنْ وَرَائِكُمْ فَتُنْصَرُونَ وَتَغْنَمُونَ وَتَسْلَمُونَ ثُمَّ تَرْجِعُونَ، حَتَّى تَنْزِلُوا بِمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ النَّصْرَانِيَّةِ الصَّلِيبَ فَيَقُولُ: غَلَبَ الصَّلِيبُ فَيَغْضَبُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَيَدُقُّهُ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَغْدِرُ الرُّومُ وَتَجْمَعُ لِلْمَلْحَمَةِ.

حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ مکحول اور ابن ابی زکریا : خالد بن معدان کی طرف چلے، میں بھی ان کے ساتھ چلا تو انہوں نے ہم سے جبیر بن نفیر کے واسطہ سے صلح کے متعلق بیان کیا، جبیر نے کہا : ہمارے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے ذی مخبر نامی ایک شخص کے پاس چلو چناچہ ہم ان کے پاس آئے، جبیر نے ان سے صلح کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : عنقریب تم رومیوں سے ایک پر امن صلح کرو گے، پھر تم اور وہ مل کر ایک ایسے دشمن سے لڑو گے جو تمہارے پیچھے ہے، اس پر فتح پاؤ گے، اور غنیمت کا مال لے کر صحیح سالم واپس ہو گے یہاں تک کہ ایک میدان میں اترو گے جو ٹیلوں والا ہوگا، پھر نصرانیوں میں سے ایک شخص صلیب اٹھائے گا اور کہے گا : صلیب غالب آئی، یہ سن کر مسلمانوں میں سے ایک شخص غصہ میں آئے گا اور اس کو مارے گا، اس وقت اہل روم عہد شکنی کریں گے اور لڑائی کے لیے اپنے لوگوں کو جمع کریں گے ۔

Dhu Mikhbar said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: you will make a secure peace with the Byzantines, then you and they will fight an enemy behind you, and you will be victorious, take booty, and be safe. You will then return and alight in a meadow with mounds and one of the Christians will raise the cross and say: The cross has conquered. One of the Muslims will become angry and smash it, and the Byzantines will act treacherously and prepare for the battle.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٢٧٦٧) ، (تحفة الأشراف : ٣٥٤٧) (صحیح )
4293Sunan Abu Dawoodصحیح

رومیوں کی لڑائیوں اور معرکہ کا بیان

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَزَادَ فِيهِ وَيَثُورُ الْمُسْلِمُونَ إِلَى أَسْلِحَتِهِمْ، فَيَقْتَتِلُونَ، فَيُكْرِمُ اللَّهُ تِلْكَ الْعِصَابَةَ بِالشَّهَادَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: إِلَّا أَنَّ الْوَلِيدَ جَعَلَ الْحَدِيثَ عَنْ جُبَيْرٍ، عَنْ ذِي مِخْبَرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ رَوْحٌ، وَيَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، وَبِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، كَمَا قَالَ عِيسَى.

اس سند سے بھی حسان بن عطیہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے : پھر جلدی سے مسلمان اپنے ہتھیاروں کی طرف بڑھیں گے، اور لڑنے لگیں گے، تو اللہ تعالیٰ اس جماعت کو شہادت سے نوازے گا ۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Hassan bin ’Atiyyah through a different chain of narrators. This version add: The Muslims will then make for their weapons and will fight, and Allah will honor that body with martryrdom. Abu Dawud said: But al-Walid has narrated this tradition from Dhu Mikhbar from the Prophet ﷺ . Abu Dawud said: Rawh, Yahya bin Hamzah and Bishr bin Bakr has also transmitted it from al-Awzai as mentioned by Isa.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : (٢٧٦٧) ، (تحفة الأشراف : ٣٥٤٧) (صحیح )
4294Sunan Abu Dawoodصحیح

احادیث میں جن لڑائیوں کی علامات بیان کی گئی ہیں ان کا بیان

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عُمْرَانُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ خَرَابُ يَثْرِبَ، وَخَرَابُ يَثْرِبَ خُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ، وَخُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ فَتْحُ قُسْطَنْطِينِيَّةَ، وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ خُرُوجُ الدَّجَّالِ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِ الَّذِي حَدَّثَ أَوْ مَنْكِبِهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذَا لَحَقٌّ كَمَا أَنَّكَ هَاهُنَا أَوْ كَمَا أَنَّكَ قَاعِدٌ يَعْنِي مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ.

معاذ بن جبل (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیت المقدس کی آبادی مدینہ کی ویرانی ہوگی، مدینہ کی ویرانی لڑائیوں اور فتنوں کا ظہور ہوگا، فتنوں کا ظہور قسطنطنیہ کی فتح ہوگی، اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کا ظہور ہوگا پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس شخص یعنی معاذ بن جبل کی ران یا مونڈھے پر مارا جن سے آپ یہ بیان فرما رہے تھے، پھر فرمایا : یہ ایسے ہی یقینی ہے جیسے تمہارا یہاں ہونا یا بیٹھنا یقینی ہے ۔

Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : The Prophet ﷺ said: The flourishing state of Jerusalem will be when Yathrib is in ruins, the ruined state of Yathrib will be when the great war comes, the outbreak of the great war will be at the conquest of Constantinople and the conquest of Constantinople when the Dajjal (Antichrist) comes forth. He (the Prophet) struck his thigh or his shoulder with his hand and said: This is as true as you are here or as you are sitting (meaning Muadh ibn Jabal).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٣٦١) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الفتن ٥٨ (٢٢٣٩) ، مسند احمد (٥/٢٣٢، ٢٤٥) (حسن )
4295Sunan Abu Dawoodضعیف

پے درپے معرکوں کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ سُفْيَانَ الْغَسَّانِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُتَيْبٍ السَّكُونِيِّ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَلْحَمَةُ الْكُبْرَى وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ وَخُرُوجُ الدَّجَّالِ فِي سَبْعَةِ أَشْهُرٍ.

معاذ بن جبل (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بڑی جنگ، قسطنطنیہ کی فتح اور دجال کا نکلنا تینوں چیزیں سات مہینے کے اندر ہوں گی ۔

Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : The Prophet ﷺ said: The greatest war, the conquest of Constantinople and the coming forth of the Dajjal (Antichrist) will take place within a period of seven months.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفتن ٥٨ (٢٢٣٨) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٥ (٤٠٩٢) ، (تحفة الأشراف : ١١٣٢٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٣٤) (ضعیف) (ابوبکر بن ابی مریم اور ولید بن سفیان ضعیف اور یزید سکونی لین الحدیث ہیں )
4296Sunan Abu Dawoodضعیف

پے درپے معرکوں کا بیان

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَيْنَ الْمَلْحَمَةِ وَفَتْحِ الْمَدِينَةِ سِتُّ سِنِينَ وَيَخْرُجُ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ فِي السَّابِعَةِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عِيسَى.

عبداللہ بن بسر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بڑی جنگ اور فتح قسطنطنیہ کے درمیان چھ سال کی مدت ہوگی اور ساتویں سال میں مسیح دجال کا ظہور ہوگا ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ عیسیٰ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔

Narrated Abdullah ibn Busr (RA) : The Prophet ﷺ said: The time between the great war and the conquest of the city (Constantinople) will be six years, and the Dajjal (Antichrist) will come forth in the seventh. Abu Dawud said: This is sounder than the tradition narrated by Isa (bin Yunus)

Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ حدیث اوپر والی حدیث کی معارض ہے، اور دونوں ضعیف ہیں، دونوں میں تطبیق اس طرح سے دی جاتی ہے کہ بڑی جنگ کی ابتداء و انتہاء کے درمیان چھ سال کا وقفہ ہوگا، اور بڑی جنگ کا اختتام اور قسطنطنیہ کی فتح اور مسیح دجال کا ظہور یہ تینوں قریب قریب واقع ہوں گے، یعنی سات مہینے کے عرصہ میں واقع ہوجائیں گے ، ایک دوسرا جواب وہ ہے جو ابوداود نے دیا ہے کہ دوسری حدیث سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے لہٰذا پہلی حدیث اس کے معارض نہیں ہوسکتی کیونکہ تعارض کے لئے یکساں وجوہ ضروری ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٥ (٥١٩٤) ، (تحفة الأشراف : ٥١٩٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٤/١٨٩) (ضعیف) (سند میں بقیہ بن ولید ضعیف اور ابن ابی بلال لین الحدیث ہیں )
4297Sunan Abu Dawoodصحیح

مسلمانوں پر اقوم عالم کا چڑھ آنا

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَى عَلَيْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَى قَصْعَتِهَا، فَقَالَ قَائِلٌ: وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ: بَلْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّيْلِ وَلَيَنْزَعَنَّ اللَّهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَهَابَةَ مِنْكُمْ وَلَيَقْذِفَنَّ اللَّهُ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنَ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْوَهْنُ ؟ قَالَ: حُبُّ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَةُ الْمَوْتِ.

ثوبان (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں تو ایک کہنے والے نے کہا : کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں وہن ڈال دے گا تو ایک کہنے والے نے کہا : اللہ کے رسول ! وہن کیا چیز ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے ۔

Narrated Thawban (RA) : The Prophet ﷺ said: The people will soon summon one another to attack you as people when eating invite others to share their dish. Someone asked: Will that be because of our small numbers at that time? He replied: No, you will be numerous at that time: but you will be scum and rubbish like that carried down by a torrent, and Allah will take fear of you from the breasts of your enemy and last enervation into your hearts. Someone asked: What is wahn (enervation). Messenger of Allah ﷺ : He replied: Love of the world and dislike of death.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٢٠٩١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٥/٢٧٨) (صحیح )