قتل ہونے میں کیا امید کی جائے
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِصَّةِ جَيْشِ الْخَسْفِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَيْفَ بِمَنْ كَانَ كَارِهًا ؟ قَالَ: يُخْسَفُ بِهِمْ وَلَكِنْ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى نِيَّتِهِ.
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے دھنسائے جانے والے لشکر کا واقعہ روایت کرتی ہیں اس میں ہے: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کا کیا حال ہوگا جو نہ چاہتے ہوئے زبردستی لایا گیا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وہ بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا البتہ قیامت کے دن وہ اپنی نیت پر اٹھایا جائے گا ۔
Umm salamah reported the Prophet ﷺ as saying about the swallowing up an army by the earth. I asked: How will a man who comes against his will (be swallowed up by the earth), Messenger of Allah ? He replied: All will be swallowed up, but each will be raised according to his intention on the Day of Resurrection.