Sunan Abu Dawood 5094

ادب کا بیان

5094Sunan Abu Dawood

گھر سے نکلتے وقت کی دعا

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: مَا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْتِي قَطُّ إِلَّا رَفَعَ طَرْفَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ، أَوْ أَزِلَّ أَوْ أُزَلَّ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب بھی میرے گھر سے نکلتے تو اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھاتے پھر فرماتے: اللهم إني أعوذ بك أن أضل أو أضل أو أزل أو أزل أو أظلم أو أظلم أو أجهل أو يجهل على اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں گمراہ کروں، یا گمراہ کیا جاؤں، میں خود پھسلوں یا پھسلایا جاؤں، میں خود ظلم کروں یا کسی کے ظلم کا شکار بنایا جاؤں، میں خود جہالت کروں، یا مجھ سے جہالت کی جائے۔

Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ never went out of my house without raising his eye to the sky and saying: O Allah! I seek refuge in Thee lest I stray or be led astray, or slip or made to slip, or cause injustice, or suffer injustice, or do wrong, or have wrong done to me.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدعوات ٣٥ (٣٤٢٧)، سنن النسائی/الاستعاذة ٢٩ (٥٤٨٨)، ٦٤ (٥٥٤١)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ١٨ (٣٨٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٨١٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٠٦، ٣١٨، ٣٢٢) (صحیح) حدیث میں رفع طرفہ إلی السماء (آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی) کا جملہ صحیح نہیں ہے، نیز صحیحین وغیرہ میں نماز میں نگاہ اٹھانے کی ممانعت آئی ہے، آسمان کی طرف نماز یا نماز سے باہر دونوں صورتوں میں نگاہ اٹھانا ممنوع ہے ملاحظہ ہو: (الصحیحة ٣١٦٣ وتراجع الالبانی ١٣٦ )