Sunan Abu Dawood 4701

سنت کا بیان

4701Sunan Abu Dawood

تقدیر کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْمَعْنَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ طَاوُسًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُخْبِرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: احْتَجَّ آدَمُ، وَمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُونَا خَيَّبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ، فَقَالَ آدَمُ: أَنْتَ مُوسَى اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ، وَخَطَّ لَكَ التَّوْرَاةَ بِيَدِهِ تَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً، فَحَجَّ آدَمُ، مُوسَى، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ: عَنْعَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: آدم اور موسیٰ نے بحث کی تو موسیٰ نے کہا: اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں، آپ ہی نے ہمیں محرومی سے دو چار کیا، اور ہمیں جنت سے نکلوایا، آدم نے کہا: تم موسیٰ ہو تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی گفتگو کے لیے چن لیا، اور تمہارے لیے تورات کو اپنے ہاتھ سے لکھا، تم مجھے ایسی بات پر ملامت کرتے ہو جسے اس نے میرے لیے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے ہی لکھ دیا تھا، پس آدم موسیٰ پر غالب آگئے ١ ؎۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: Adam and Moses held a disputation. Moses said: Adam you are our father. You deprived us and caused us to come out from Paradise. Adam said: You are Moses Allah chose you for his speech and wrote the Torah for you with his hand. Do you blame me for doing a deed which Allah had decreed that I should do forty year before he created me? So Adam got the better of Moses in argument. Ahmad bin Salih said from Amr from Tawus who heard Abu Hurairah.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ بحث و تکرار اللہ کے سامنے ہوئی جیسا کہ مسلم کی روایت میں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٣١ (٣٤٠٩)، القدر ١١ (٦٦١٤)، صحیح مسلم/القدر ٢ (٢٦٥٢)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٠(٨٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٢٩)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/القدر ٢ (٢١٣٤)، موطا امام مالک/القدر ١ (١)، مسند احمد (٢/٢٤٨، ٢٦٨) (صحیح )