Sunan Abu Dawood 4654

سنت کا بیان

4654Sunan Abu Dawood

خلفاء کا بیان

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَاحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ مُوسَى: فَلَعَلَّ اللَّهَ، وَقَالَ ابْنُ سِنَانٍ: اطَّلَعَ اللَّهُ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (موسیٰ کی روایت میں فلعل الله کا لفظ ہے، اور ابن سنان کی روایت میں اطلع الله ہے) اللہ تعالیٰ بدر والوں کی طرف متوجہ ہوا اور انہیں نظر رحمت و مغفرت سے دیکھا تو فرمایا: جو عمل چاہو کرو میں نے تمہیں معاف کردیا ہے ١ ؎۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying – will be according to the version of Musa: Perhaps Allah, and Ibn Sinan’s version has: Allah looked at the participants of the battle of Badr (with mercy) and said: Do whatever you wish ; I have forgiven you.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان اصحاب بدر صحابہ کرام ؓ سے اس کے بعد کوئی عمل اللہ کی منشاء کے خلاف بھی ہوجائے تو وہ ان سے باز پرس نہ فرمائے گا کیونکہ ان کو معاف کرچکا ہے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ان کو بداعمالیوں کی اجازت دی جا رہی ہے یا یہ کہ ان سے دنیا میں بھی باز پرس نہ ہوگی بلکہ اگر خدانخواستہ وہ دنیا میں کوئی عمل قابل حد کر بیٹھے تو حد جاری کی جائے گی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: ٢٦٥٠، (تحفة الأشراف: ١٢٨٠٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٩٥) (حسن صحیح )