خیبر کی زمین کا بیان اور اس کا حکم
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: لَوْلَا آخِرُ الْمُسْلِمِينَ مَا فُتِحَتْ قَرْيَةٌ إِلَّا قَسَمْتُهَا كَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ.
عمر ؓ کہتے ہیں اگر مجھے بعد میں آنے والے مسلمانوں کا (یعنی ان کی محتاجی کا) خیال نہ ہوتا تو جو بھی گاؤں و شہر فتح کیا جاتا اسے میں اسی طرح تقسیم کردیتا جس طرح رسول اللہ ﷺ نے خیبر کو تقسیم کیا۔
Umar said “Had I not considered the last Muslim, I would have any town I conquered divided as the Messenger of Allah ﷺ had divided Khaibar. ”
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحرث ١٤ (٢٣٣٤)، فرض الخمس ١٤ (٣١٢٥)، المغازي ٣٨ (٤٢٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣١، ٣٢) (صحیح )