اَللّٰهُمَّ رَبَّ جِبْرَائِیْلَ وَمِیْكَائِیْلَ وَاِسْرَافِیْلَ فَاطِرَ السَّمَاواتِ وَالْاَرْضِ، عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ، اَنْتَ تَحْكُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ، اِهْدِنِیْ لِمَا اخْتُلِفَ فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِكَ، اِنَّكَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَاءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٍ
Allāhumma rabba Jibrā’īla wa Mīkā’īla wa Isrāfīla faṭir al-samāwāti wa al-arḍ, ‘ālim al-ghaybi wa al-šahāda, anta taḥkumu bayna ‘ibādika fīmā kānū fīhi yakhtalifūn, ihdinī limā ikhtulifa fīhi min al-ḥaqqi bi-idhnika, innaka tahdī man tashā’u ilā ṣirāṭin mustaqīm
O Allah! Lord of Gabriel, Mickhael and Israf'eel, Creator of the Heavens and the Earth, Knower of the unseen and the evident, You will settle the matters which Your servants differ in, Guide me with Your consent to the Truth in what they differ, Indeed You guide whomever You will towards the straight path.
اے اللہ ! جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب ، آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غائب اور حاضر کے جاننے والے، تو اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں، اختلاف کی ان باتوں میں تو مجھے اپنی توفیق سے حق کی راہ دکھا کیونکہ تو ہی جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے
( صحیح مسلم ، کتاب صلاة المسافرین :1811 )