یَا بَدِیْعَ السَّمٰوٰتِ یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ اِنِّیْ اَسْاَلُكَ
Yā Badī‘as samāwāti, yā Ḥayyu yā Qayyumu, innī as’aluka.
O Originator of the heavens, O Ever Living, O Self Subsisting, indeed I ask You.
اے آسمانوں کو نئے سرے سے بنانے والے! اے زنده رہنے والے! اے قائم رکھنے والے! بے شک میں آپ سے سوال کرتا ہوں
Al-Adab al-Mufrad lil-Bukhārī: 705
الأدب المفرد للبخاری: 705
Background & narration
Anas bin Mālik (r.a) said, ‘I was with the Prophet (s.a.w) when a man made supplication, saying, O Originator of the heavens, O Ever Living, O Self Subsisting, indeed I ask You. He (s.a.w) said, ‘Do you know by what he has made supplication? By the One in whose hand my soul is! He has asked Allah by that Name with which if He is asked, He answers.’ [Al-Adab al-Mufrad lil-Bukhārī: 705]
حضرت انس رضی الله عنه سے روایت ہے که میں نبی صلی الله علیه وسلم کے ساتھ تھا تو ایک شخص نے دعا کرتے ہوئے کہا: یَا بَدِیْعَ السَّمٰوٰتِ یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ۔ اے آسمانوں کو نئے سرے سے بنانے والے! اے زنده رہنے والے! اے قائم رکھنے والے! بے شک میں آپ سے سوال کرتا ہوں۔ تو آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو که اس نے کس چیز کے ساتھ دعا کی۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس نے الله کے اس نام کے ساتھ دعا کی ہے جس کے ساتھ دعا کی جائے تو قبول کی جاتی ہے۔ (الأدب المفرد للبخاری: 705)