Ayah 8:411 آغاز سورت میں فرمایا تھا " قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُولِ " الانفال :2) یہاں اس کی قدرے تفصیل بیان فرمائی ہے کہ جو مال غنیمت کافروں سے لڑ کر ہاتھ آئے اس میں پانچواں حصہ خدا کی نیاز ہے، جسے خدا کی نیابت کے طور پر پیغمبر (علیہ السلام) وصول کر کے پانچ جگہ خرچ کرسکتے ہیں۔ اپنی ذات پر اپنے ان قرابت داروں (بنی ہاشم و بنی المطلب) پر جنہوں نے قدیم سے خدا کے کام میں آپ کی نصرت و امداد کی اور اسلام کی خاطر یا محض قرابت کی وجہ سے آپ کا ساتھ دیا اور مد زکوٰۃ وغیرہ سے لینا ان کے لیے حرام ہوا۔ یتیموں پر، حاجت مند مسلمانوں پر، مسافروں پر۔ پھر غنیمت میں جو چار حصے باقی رہے، وہ لشکر پر تقسیم کئے جائیں۔ سوار کو دو حصے اور پیدل کو ایک۔ حضور ﷺ کی وفات کے بعد خمس کے پانچ مصارف میں سے " حنفیہ " کے نزدیک صرف تین اخیر کے باقی رہ گئے۔ کیونکہ حضور ﷺ کی رحلت کے بعد حضور ﷺ کی ذات کا خرچ نہیں رہا اور نہ اہل قرابت کا وہ حصّہ رہا جو ان کو حضور ﷺ کی نصرت قدیمہ کی بناء پر ملتا تھا البتہ مساکین اور حاجت مندوں کا جو حصہ ہے اس میں حضور ﷺ کے قرابت دار مساکین اور اہل حاجت کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔ بعض علماء کے نزدیک حضور ﷺ کے بعد امیر المومنین کو اپنے مصارف کے لیے خمس الخمس ملنا چاہیے۔ واللہ اعلم۔ بعض روایات میں ہے کہ جب " غنیمت " میں سے خمس (اللہ کے نام کا پانچواں حصہ) نکالا جاتا تھا تو نبی کریم ﷺ اول اس کا کچھ حصہ بیت اللہ (کعبہ) کے لیے نکالتے تھے۔ بعض فقہاء نے لکھا ہے کہ جہاں سے کعبہ بعید ہے، وہاں مساجد کے لیے نکالنا چاہیے۔
2 " فیصلہ کے دن " سے مراد " یوم بدر " ہے جس میں حق و باطل کی کشمکش کا کھلا ہوا فیصلہ ہوگا۔ اس دن حق تعالیٰ نے اپنے کامل ترین بندے پر فتح و نصرت اتاری۔ فرشتوں کی امدادی کمک بھیجی۔ اور سکون و اطمینان کی کیفیت نازل فرمائی۔ تو جو لوگ خدا پر اور اس کی تائید غیبی پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان کو غنیمت میں سے خدا کے نام کا پانچواں حصہ نکالنا بھاری نہیں ہوسکتا۔
3 جیسے اس دن تم کو مظفر و منصور کیا، وہ قادر ہے کہ آئندہ بھی تم کو غلبہ اور فتوحات عنایت فرمائے۔
Ayah 8:424 " ورلے کنارے " سے مراد میدان جنگ کی وہ جانب ہے جو مدینہ طیبہ سے قریب تھی۔ اسی طرح " پرلا کنارہ " وہ ہوگا جو مدینہ سے بعید تھا۔
5 یعنی ابو سفیان کا تجارتی قافلہ نیچے کی طرف ہٹ کر سمندر کے کنارے کنارے جا رہا تھا۔ قافلہ اور مسلمانوں کے درمیان قریش کی فوج حائل ہوچکی تھی۔
6 یعنی اگر فریقین پہلے سے لڑائی کا کوئی وقت ٹھہرا کر جانا چاہتے تو ممکن تھا اس میں اختلاف ہوتا، یا وعدہ کے وقت پہنچنے میں ایک فریق پس و پیش کرتا۔ کیونکہ ادھر مسلمان کفار کی تعداد اور ظاہری ساز و سامان سے خائف تھے۔ ادھر کفار مسلمانوں کی حقانیت، خدا پرستی اور بےجگری سے مرعوب رہتے تھے۔ دونوں کو جنگ کی ذمہ داری لینے یا شرکت کرنے میں تردد اور تقاعد ہوسکتا تھا۔
7 یعنی قریش اپنے قافلہ کی مدد کو آئے تھے اور تم قافلہ پر حملہ کرنے کو، قافلہ بچ گیا اور دو فوجیں ایک میدان کے دو کناروں پر آپڑیں۔ ایک کو دوسرے کی خبر نہیں۔ یہ تدبیر اللہ کی تھی۔ اگر تم قصداً جاتے تو ایسا بروقت نہ پہنچتے۔ اور اس فتح کے بعد کافروں پر صدق پیغمبر کھل گیا۔ جو مرا وہ بھی یقین جان کر مرا اور جو جیتا رہا وہ بھی حق پہچان کر۔ تاکہ اللہ کا الزام پورا ہو۔ کذافی الموضح۔ اور ممکن ہے مرنے اور جینے سے کفر و ایمان مراد ہوں۔ یعنی اب جو ایمان لائے اور جو کفر پر جما رہے دونوں کا ایمان یا کفر وضوح حق کے بعد ہو۔
8 یعنی اللہ کمزور مظلوموں کی فریاد سننے والا ہے اور جانتا ہے کہ کس طریقہ سے ان کی مدد کی جائے، دیکھو بدر میں مسلمانوں کی فریاد کیسی سنی اور کیسی مدد فرمائی۔
Ayah 8:439 یعنی مسلمان کو چاہیے کہ خدا کی مدد اور حمایت پر بھروسہ کر کے جہاد کریں، کفار کی کثرت اور سازو سامان سے مرعوب نہ ہوں جیسے جنگ بدر میں دیکھ چکے کہ خدا نے مسلمانوں کی کیا خوب امداد اور حمایت کی۔
10 یعنی انہیں زیادہ سمجھ کر کوئی لڑنے کی ہمت نہ کرتا۔ اس طرح اختلاف ہو کر کام میں کھنڈت پڑجاتی۔ لیکن خدا نے پیغمبر ﷺ کو خواب میں تھوڑی تعداد دکھلا کر اس بزدلی اور نزاع باہمی سے تم کو بچا لیا وہ خوب جانتا ہے کہ کس چیز سے دلوں میں ہمت و شجاعت پیدا ہوتی ہے اور کس بات سے جبن و نامردی۔
Ayah 8:441 پیغمبر کو خواب میں کافر تھوڑے نظر آئے اور مسلمانوں کو مقابلہ کے وقت تاکہ جرأت سے لڑیں۔ پیغمبر کا خواب غلط نہیں، ان میں کافر رہنے والے کم ہی تھے، اکثر وہ تھے جو پیچھے مسلمان ہوئے اور خواب کی تعبیر یہ بھی ہوسکتی ہے کہ تھوڑی تعداد سے مقصود ان کی مغلوبیت کا اظہار ہو۔ باقی کفار کی نظر میں جو مسلمان تھوڑے دکھلائی دیے تو وہ واقعی تھوڑے تھے۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب دونوں فوجیں اول آمنے سامنے ہوئیں۔ پھر جب مسلمانوں نے دلیرانہ حملے کیے اور فرشتوں کا لشکر مدد کو پہنچا اس وقت کفار کو مسلمان دگنے نظر آنے لگے کما فی (وَاُخْرٰى كَافِرَةٌ يَّرَوْنَھُمْ مِّثْلَيْهِمْ رَاْيَ الْعَيْنِ ) 3 ۔ آل عمران :13)
Ayah 8:452 اس میں نماز، دعا، تکبیر اور ہر قسم کا ذکر اللہ شامل ہے۔ " ذکر اللہ " کی تاثیر یہ ہے کہ ذاکر کا دل مضبوط اور مطمئن ہوتا ہے جس کی جہاد میں سب سے زیادہ ضرورت ہے صحابہ ؓ کا سب سے بڑا ہتھیار یہ ہی تھا۔ (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ ۭ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ ) 13 ۔ الرعد :28)
Ayah 8:463 یعنی ہوا خیزی ہو کر اقبال و رعب کم ہوجائے گا۔ بد رعبی کے بعد فتح و ظفر کیسے حاصل کرسکو گے۔
4 جو سختیاں اور شدائد جہاد کے وقت پیش آئیں ان کو صبر و استقامت سے برداشت کرو ہمت نہ ہارو، مثل ہے کہ ہمت کا حامی خدا ہے۔ اس آیت میں مسلمانوں کو بتلا دیا گیا کہ کامیابی کی کنجی کیا ہے ؟ معلوم ہوا کہ دولت، لشکر اور میگزین وغیرہ سے فتح و نصرت حاصل نہیں ہوتی۔ ثابت قدمی، صبر و استقلال، قوت و طمانینت قلب، یاد الٰہی، خدا و رسول اور ان کے قائم مقام سرداروں کی اطاعت و فرمانبرداری اور باہمی اتفاق و اتحاد سے حاصل ہوتی ہے۔ اس موقع پر بےساختہ جی چاہتا ہے کہ صحابہ ؓ کے متعلق " ابن کثیر " کے چند الفاظ نقل کر دوں جو اخلاص و ایمان کی انتہائی گہرائی سے نکلے ہوئے ہیں۔ وَقَدْ کَان للصَّحَابَۃِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ فِی بَاب الشُّجَاعَۃِ وَالاِئتِمَارِ بِمَا اَمَرَہُمُ اللّٰہُ وَرَسُولُہٌ بِہٖ وَامْتِثَالُ مَا اَرْشَدَہُمْ اِلَیْہِ مَالَمْ یَکَنْ لِاَ حَدٍ مِّنَ الْاُمَمِ وَالْقُرُونِ قَبْلَہُمْ وَ لَا یَکُونُ لِاَ حَدٍ مِّمَّنْ بَعْدَ ہُمْ فَاِنَّہُمْ بِبَرَکَۃِ الرَّسُولٍ صَلْعَمَ وَطَاعْتِہٖ فِیْمَا اَمْرَہُمْ فَتَحَوا الْقُلُوبُ وَالْا قَالِیم شَرْقاً وَّغَرْباً فِی الْمُدَّۃٍ الیَسِیْرَۃِ مَعَ قلۃ عددھم بالنسبۃ الی جیوش سائر الاقالیم من الروم والفرس والتُّرْکِ وَالصَّقَالِبَۃِ وَالْبَرْبَرِوَالْحُبُوشِ وَاصْنَاف السُّودَ انِ وَالْقِبْطِ وَطَوَائِفِ بَنِی اٰدَمَ قَہَرُوا الْجَمِیْعٌ حَتّٰی عَلَتْ کَلِمَۃُ اللّٰہِ وَظَہَرَ دِیْنُہ، عَلَی سَآئِرِ الْاَدْیَانِ وَاَمْتَدَتْ الْمَمَالِکِ الِاسْلَامِیَۃِ فِیْ مَشَارِقِ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَہَا فِیْ اَقَلَّ مِنْ ثَلاَثِیْنَ سَنَۃَ فَرَضِیَ اللّٰہ، عَنْہُمْ وَاَرْضَاہُمْ اَجْمَعِیْنَ وَحَشَرْنَا فِیْ زُمْرتِہِمْ اِنَّہ، کَرِیْمٌ تَوَّابٌ۔
Ayah 8:475 ابو جہل لشکر لے کر بڑی دھوم دھام اور با جے گاجے کے ساتھ نکلا تھا تاکہ مسلمان مرعوب ہوجائیں اور دوسرے قبائل عرب پر مشرکین کی دھاک بیٹھ جائے۔ راستہ میں اس کو ابو سفیان کا پیام پہنچا کہ قافلہ سخت خطرہ سے بچ نکلا ہے۔ اب تم مکہ کو لوٹ جاؤ۔ ابو جہل نے نہایت غرور سے کہا کہ ہم اس وقت واپس جاسکتے ہیں جبکہ بدر کے چشمہ پر پہنچ کر مجلس طرب و نشاط منعقد کرلیں۔ گانے والی عورتیں خوشی اور کامیابی کے گیت گائیں، شرابیں پئیں، مزے اڑائیں اور تین روز تک اونٹ ذبح کر کے قبائل عرب کی ضیافت کا انتظام کریں، تاکہ یہ دن عرب میں ہمیشہ کے لیے ہماری یادگار رہے۔ اور آئندہ کے لیے ان مٹھی بھر مسلمانوں کے حوصلے پست ہوجائیں کہ پھر کبھی ہمارے مقابلہ کی جرأت نہ کریں۔ اسے کیا خبر تھی کہ جو منصوبے باندھ رہے ہیں اور تجویزیں سوچ رہے ہیں وہ سب خدا کے قابو میں ہیں چلنے دے یا نہ چلنے دے۔ بلکہ چاہے تو انہی پر الٹ دے۔ چناچہ یہ ہی ہوا۔ بدر کے پانی اور جام شراب کی جگہ انہیں موت کا پیالہ پینا پڑا۔ محفل سرود و نشاط تو منعقد نہ کرسکے ہاں نوحہ و ماتم کی صفیں " بدر " سے " مکہ " تک بچھ گئیں جو مال تفاخر و نمائش میں خرچ کرنا چاہتے تھے وہ مسلمانوں کے لیے لقمہ غنیمت بنا۔ ایمان و توحید کے دائمی غلبہ کا بنیادی پتھر بدر کے میدان میں نصب ہوگیا۔ گویا ایک طرح اس چھوٹے سے قطعہ زمین میں خدا تعالیٰ نے روئے زمین کو ملل و اقوام کی قسمتوں کا فیصلہ فرما دیا۔ بہرحال اس آیت میں مسلمانوں کو آگاہ فرمایا کہ جہاد محض ہنگامہ کشت و خون کا نام نہیں، بلکہ عظیم الشان عبادت ہے۔ عبادت اتراوے یا دکھانے کو کرے تو قبول نہیں۔ لہذا تم فخر و غرور اور نمود و نمائش میں کفار کی چال مت چلو۔
Ayah 8:486 قریش اپنی قوت و جمعیت پر مغرور تھے لیکن بنی کنانہ سے ان کی چھیڑ چھاڑ رہتی تھی۔ خطرہ یہ ہوا کہ کہیں بنی کنانہ کامیابی کے راستے میں آڑے نہ آجائیں۔ فوراً شیطان ان کی پیٹھ ٹھونکنے اور ہمت بڑھانے کے لیے کنانہ کے سردار اعظم سراقہ بن مالک کی صورت میں اپنی ذریت کی فوج لے کر نمودار ہوا اور ابو جہل وغیرہ کو اطمینان دلایا کہ ہم سب تمہاری امداد و حمایت پر ہیں۔ " کنانہ کی طرف سے بےفکر رہو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ جب بدر میں زور کا رن پڑا اور شیطان کو جبرائیل وغیرہ فرشتے نظر آئے تو ابو جہل کے ہاتھ میں سے ہاتھ چھڑا کر الٹے پاؤں بھاگا۔ ابو جہل نے کہا، سراقہ ! عین وقت پر دغا دے کر کہاں جاتے ہو، کہنے لگا میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ مجھے وہ چیزیں دکھائی دے رہی ہیں۔ جو تم کو نظر نہیں آتیں (یعنی فرشتے) خدا کے (یعنی اس خدائی فوج کے) ڈر سے میرا دل بیٹھا جاتا ہے۔ اب ٹھہرنے کی ہمت نہیں۔ کہیں سخت عذاب آفت میں نہ پکڑا جاؤں۔ قتادہ کہتے ہیں کہ ملعون نے جھوٹ بولا، اس کے دل میں خدا کا ڈر نہ تھا۔ ہاں وہ جانتا تھا کہ اب قریش کا لشکر ہلاکت میں گھر چکا ہے کوئی قوت بچا نہیں سکتی۔ یہ اس کی قدیم عادت ہے کہ اپنے متبعین کو دھوکہ دے کر اور ہلاکت میں پھنسا کر عین وقت پر کھسک جایا کرتا ہے۔ اسی کے موافق یہاں بھی کہا (يَعِدُھُمْ وَيُمَنِّيْهِمْ ۭ وَمَا يَعِدُھُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا) 4 ۔ النساء :120) (كَمَثَلِ الشَّيْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّنْكَ اِنِّىْٓ اَخَاف اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِيْنَ ) 59 ۔ الحشر :16) (وَقَال الشَّيْطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ ۭ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِيْ ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِيْ وَلُوْمُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ مَآ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِيَّ ۭ اِنِّىْ كَفَرْتُ بِمَآ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ ۭ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ) 14 ۔ ابراہیم :22)
Ayah 8:491 مسلمانوں کی تھوڑی جمعیت اور بےسروسامانی اور اس پر ایسی دلیری و شجاعت کو دیکھتے ہوئے منافقین اور ضعیف القلب کلمہ گو کہنے لگے تھے کہ یہ مسلمان اپنے دین اور حقانیت کے خیال پر مغرور ہیں جو اس طرح اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈال دیتے ہیں حق تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ یہ غرور نہیں، توکل ہے۔ جس کو خدا کی زبردست قدرت پر اعتماد ہو اور یقین رکھے کہ جو کچھ ادھر سے ہوگا عین حکمت و صواب ہوگا، وہ حق کے معاملہ میں ایسا ہی بےجگر اور دلیر ہوجاتا ہے۔
Ayah 8:502 یعنی مار کر کہتے ہیں کہ ابھی تو یہ لو، اور عذاب جہنم کا مزہ آئندہ چکھنا۔ بہت سے مفسرین نے اس کو بھی بدر کے واقعہ میں داخل کیا ہے یعنی اس وقت جو کافر مارے جاتے تھے ان کے ساتھ فرشتوں کا یہ معاملہ تھا۔ مگر الفاظ آیت کے سب کافروں کو عام ہیں اس لیے راجح یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ عالم برزخ کا ہوا۔ اب بدر کے واقعات سے تعلق یہ ہوگا کہ دنیا میں ان کافروں کی یہ گت بنی۔ برزخ میں یہ ہوگا اور آخرت کے عذاب کا تو کہنا ہی کیا ہے۔
Ayah 8:513 یعنی یہ سب تمہاری کرتوت کی سزا ہے ورنہ خدا کے یہاں ظلم کی کوئی صورت ہی نہیں۔ اگر معاذ اللہ ادھر سے رتی برابر ظلم کا امکان ہو تو پھر وہ اپنی عظمت شان کے لحاظ سے ظالم نہیں ظلام ہی ٹھہرے کیونکہ کامل کی ہر صفت کامل ہی ہونی چاہیے۔
Ayah 8:524 یعنی قدیم سے یہ ہی دستور رہا ہے کہ جب لوگ آیات اللہ کی تکذیب و انکار یا انبیاء سے جنگ کرنے پر مصر ہوئے تو اللہ نے ان کو کسی نہ کسی عذاب میں پکڑ لیا۔
Ayah 8:535 یعنی جب لوگ اپنی بےاعتدالی اور غلط کاری سے نیکی کے فطری قویٰ اور استعداد کو بدل ڈالتے ہیں اور خدا کی بخشی ہوئی داخلی یا خارجی نعمتوں کو اس کے بتلائے ہوئے کام میں ٹھیک موقع پر خرچ نہیں کرتے بلکہ الٹے اس کی مخالفت میں صرف کرنے لگتے ہیں تو حق تعالیٰ اپنی نعمتیں ان سے چھین لیتا ہے اور شان انعام کو انتقام سے بدل دیتا ہے۔ وہ بندوں کی تمام باتوں کو سنتا اور تمام احوال کو جانتا ہے کوئی چیز اس سے پردہ میں نہیں۔ لہذا جس سے جو معاملہ کرے گا نہایت ٹھیک اور برمحل ہوگا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " نیت اور اعتقاد جب تک نہ بدلے تو اللہ کی بخشی ہوئی نعمت چھینی نہیں جاتی۔ " گویا " مَابِاَنْفُسِہِمْ " سے خاص نیت اور اعتقاد مراد لیا ہے جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہو رہا ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 8:546 فرعونیوں اور ان سے پہلی قوموں کو ان کے جرائم کی پاداش میں ہلاک کیا۔ اور خصوصیت کے ساتھ فرعونیوں کا بیڑا غرق کردیا۔ یہ سب اس وقت ہوا جب انہوں نے خدا سے بغاوت اور شرارت کر کے خود اپنی جانوں پر ظلم کیے۔ ورنہ خدا کو کسی مخلوق سے ذاتی عداوت نہیں۔
Ayahs 8:55–561 جو لوگ ہمیشہ کے لیے کفر اور بےایمانی پر تل گئے اور انجام سے بالکل بےخوف ہو کر غداری اور بدعہدی کے خوگر ہو رہے ہیں، وہ خدا کے نزدیک بدترین جانور ہیں۔ فرعونیوں کا حال بدعہدی اور غداری میں یہ ہی تھا۔ (وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا يٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ ۚ لَىِٕنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ 134ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰٓي اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ يَنْكُثُوْنَ 135) 7 ۔ الاعراف :134 ۔ 135) اور حضور ﷺ کے زمانہ میں یہود بنی قریظہ وغیرہ کی یہ ہی خصلت تھی۔ آپ سے عہد کرلیتے کہ ہم مشرکین مکہ کو مدد نہ دیں گے، پھر ان کی امداد کرتے اور کہہ دیتے کہ ہم کو عہد یاد نہ رہا تھا۔ بار بار ایسا ہی کرتے تھے۔ آگے بتلایا ہے کہ ایسے غداروں کے ساتھ کیا معاملہ ہونا چاہیے۔
Ayahs 8:57–582 یعنی اگر یہ دغا باز غدار معاہدوں کو اعلانیہ پس پشت ڈال کر آپ کے مقابل میدان جنگ میں آجائیں تو ان کو ایسی سخت سزا دیجئے، جسے دیکھ کر ان کے پیچھے رہنے والے یا ان کے بعد آنے والی نسلیں بھی عبرت حاصل کریں اور عہد شکنی کی کبھی جرأت نہ کرسکیں اور اگر ایک قوم نے اعلانیہ دغابازی نہیں کی، ہاں آثار و قرائن بتا رہے ہیں کہ عہد شکنی پر آمادہ ہے تو آپ کو اجازت ہے کہ مصلحت سمجھیں تو ان کا عہد واپس کردیں اور معاہدہ سے دستبرداری کی اطلاع کر کے مناسب کارروائی کریں۔ تاکہ فریقین پچھلے معاہدات کی نسبت شک و اشتباہ میں نہ رہیں۔ دونوں مساویانہ طور پر آگاہ و بیدار ہو کر اپنی تیاری اور حفاظت میں مشغول ہوں۔ آپ کی جانب سے کوئی چور اور خیانت نہ ہو سب معاملہ صاف صاف ہو۔ حق تعالیٰ خیانت کی کارروائی کو خواہ کفار کے ساتھ ہو پسند نہیں کرتا۔ سنن میں روایت ہے کہ امیر معاویہ ؓ اور روم میں میعادی معاہدہ تھا، میعاد کے اندر امیر معاویہ نے اپنی فوجوں کو روم کی سرحد کی طرف بڑھانا شروع کیا مقصد یہ تھا کہ رومیوں کی سرحد سے اس قدر قریب اور پہلے سے تیار رہیں کہ میعاد معاہدہ گزرتے ہی فوراً دھاوا بول دیا جائے۔ جس وقت یہ کارروائی جاری تھی، ایک شیخ سواری پر یہ کہتے ہوئے آئے۔ " اللہ اکبر اللہ اکبر وفاءً لاغدراً " یعنی عہد پورا کرو عہد شکنی مت کرو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب کسی قوم سے معاہدہ ہو تو کوئی گرہ نہ کھولی جائے نہ باندھی جائے یہاں تک کہ معاہدہ کی مدت پوری ہوجائے۔ یا فریق ثانی کو مساویانہ حیثیت میں معاہدہ واپس کیا جائے۔ معاویہ کو جب یہ خبر پہنچی تو الٹے واپس آگئے۔ پھر جو دیکھا تو وہ شیخ حضرت عمرو بن عنبسہ ؓ تھے۔
Ayah 8:593 نبذ عہد کا جو حکم اوپر مذکور ہوا، ممکن تھا کہ کفار اس کو مسلمانوں کی سادہ لوحی پر حمل کر کے خوش ہوتے کہ جب ان کے یہاں خیانت و غدر جائز نہیں تو ہم کو خبردار اور بیدار ہونے کے بعد پورا موقع اپنے بچاؤ اور مسلمانوں کے خلاف تیاری کرنے کا ملے گا۔ اس کا جواب دے دیا کہ کتنی ہی تیاری اور انتظامات کرلو۔ جب مسلمانوں کے ہاتھوں خدا تم کو مغلوب و رسوا کرنا اور دنیا یا آخرت میں سزا دینا چاہے گا، تو تم کسی تدبیر سے اس کو عاجز نہ کرسکو گے۔ نہ اس کے احاطہ قدرت و تسلط سے نکل کر بھاگ سکو گے۔ گویا مسلمانوں کی تسلی کردی کہ وہ خدا پر بھروسہ کر کے اس کے احکام کا امتثال کریں تو سب پر غالب آئیں گے۔
Ayah 8:604 یعنی خدا پر بھروسہ کرنے کے معنی یہ نہیں کہ اسباب ضروریہ مشروعہ کو ترک کردیا جائے۔ نہیں، مسلمانوں پر فرض ہے کہ جہاں تک ضرورت ہو سامان جہاد فراہم کریں۔ نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک میں گھوڑے کی سواری، شمشیر زنی اور تیر اندازی وغیرہ کی مشق کرنا، سامان جہاد تھا۔ آج بندوق، توپ، ہوائی جہاز، آبدوز کشتیاں، آہن پوش کروز وغیرہ کا تیار کرنا اور استعمال میں لانا اور فنون حربیہ کا سیکھنا، بلکہ ورزش وغیرہ کرنا سب سامان جہاد ہے۔ اسی طرح آئندہ جو اسلحہ و آلات حرب و ضرب تیار ہوں، انشاء اللہ وہ سب آیت کے منشاء میں داخل ہیں، باقی گھوڑے کی نسبت تو آپ خود ہی فرما چکے۔ " اَلْخَیْل مَعْقُودُ فِی نَوَاصِیْہَا الْخَیرِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ " کہ قیامت تک کے لیے خدا نے اس کی پیشانی میں خیر رکھ دی ہے اور احادیث میں ہے کہ " جو شخص گھوڑا جہاد کی نیت سے پالتا ہے، اس کے کھانے پینے بلکہ ہر قدم اٹھانے میں اجر ملتا ہے اور اس کی خوراک وغیرہ تک کا قیامت کے دن ترازو میں وزن کیا جائے گا۔ "
5 یعنی یہ سب سامان اور تیاری دشمنوں پر رعب جمانے اور دھاک بٹھلانے کا ایک ظاہری سبب ہے۔ باقی فتح و ظفر کا اصلی سبب تو خدا کی مدد ہے جو پہلے بیان ہوچکا۔ اور وہ لوگ جن کو بالیقین تم نہیں جانتے منافقین ہیں جو مسلمانی کے پردہ میں تھے یا یہود " بنی قریظہ " یا روم وفارس وغیرہ وہ سب قومیں جن سے آئندہ مقابلہ ہونے والا تھا۔
6 یہ مالی جہاد کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی جہاد کی تیاری میں جس قدر مال خرچ کرو گے، اس کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ یعنی ایک درہم کے ساتھ دو درہم واللّٰہُ یُضَاعِفُ لِمَنْ یَّشَآء اور بسا اوقات دنیا میں بھی اس سے کہیں زیادہ معاوضہ مل جاتا ہے۔
Ayah 8:617 مسلمانوں کی تیاری اور مجاہدانہ قربانیوں کو دیکھ کر بہت ممکن ہے کہ کفار مرعوب ہو کر صلح و آشتی کے خواستگار ہوں تو آپ کو ارشاد ہے کہ حسب صوابدید آپ بھی صلح کا ہاتھ بڑھا دیں۔ کیونکہ جہاد سے خونریزی نہیں، اعلائے کلمۃ اللہ اور دفع فتنہ مقصود ہے۔ اگر بدون خونریزی کے یہ مقصد حاصل ہو سکے تو خواہی نخواہی خون بہانے کی کیا حاجت ہے اگر یہ احتمال ہو کہ شاید کفار صلح کے پردہ میں ہم کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں تو کچھ پروا نہ کیجئے اللہ پر بھروسہ رکھئے وہ ان کی نیتوں کو جانتا اور ان کے اندرونی مشوروں کو سنتا ہے اس کی حمایت کے سامنے ان کی بدنیتی نہ چل سکے گی آپ اپنی نیت صاف رکھئے۔
Ayah 8:621 اگر صلح کر کے وہ لوگ دغابازی اور عہد شکنی کا ارادہ کرلیں تو فکر نہ کیجئے۔ خدا آپ کی مدد کے لیے کافی ہے ان کے سب فریب خدا بیکار کر دے گا۔ اسی نے بدر میں آپ کی غیبی امداد فرمائی، اور ظاہری طور پر جاں نثار سرفروش مسلمانوں سے آپ کی تائید کی۔
Ayah 8:632 اسلام سے پہلے عرب میں جدال و قتال اور نفاق و شقاق کا بازار گرم تھا۔ ادنیٰ ادنیٰ باتوں پر قبائل آپس میں ٹکراتے رہتے تھے۔ دو جماعتوں میں جب لڑائی شروع ہوجاتی تو صدیوں تک اس کی آگ ٹھنڈی نہ ہوتی تھی مدینہ کے دو زبردست قبیلوں " اوس " و " خزرج " کی حریفانہ نبرد آزمائی اور دیرینہ عداوت و بغض کا سلسلہ کسی طرح ختم نہ ہوتا تھا۔ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے اور عزت و آبرو کے بھوکے تھے۔ ان حالات میں آقائے نامدار محمد رسول اللہ ﷺ توحید و معرفت اور اتحاد و اخوت کا عالمگیر پیغام لے کر مبعوث ہوئے۔ لوگوں نے انہیں بھی ایک فریق ٹھہرا لیا اور سب نے مل کر خلاف و شقاق کا رخ ادھر پھیر دیا۔ پرانے کینے اور عداوتیں چھوڑ کر ہر قسم کی دشمنی کے لیے حضور ﷺ کی ذات قدسی صفات کو مطمح نظر بنا لیا۔ وہ آپ کی پند و نصیحت سے گھبراتے تھے اور آپ کے سایہ سے بھاگتے تھے۔ دنیا کی کوئی طاقت نہ تھی جو درندوں کی بھیڑ اور بہائم کے گلہ میں معرفت الٰہی اور حب نبوی کی روح پھونک کر اور شراب اور توحید کا متوالا بنا کر سب کو ایک دم اخوت و الفت باہمی کی زنجیر میں جکڑ دیتی اور اس مقدس ہستی کا درہم ناخریدہ غلام اور عاشق جاں نثار بنا دیتی جس سے زیادہ چند روز پہلے ان کے نزدیک کوئی مبغوض ہستی نہ تھی بلاشبہ روئے زمین کے خزانے خرچ کر کے بھی یہ مقصد حاصل نہ کیا جاسکتا تھا جو اللہ کی رحمت و اعانت سے ایسی سہولت کے ساتھ حاصل ہوگیا۔ خدا نے حقیقی بھائیوں سے زیادہ ایک کی الفت دوسرے کے دل میں ڈال دی۔ اور پھر سب کی الفتوں کا اجتماعی مرکز حضور انور کی ذات منبع البرکات کو بنادیا۔ قلوب کو دفعۃً ایسا پلٹ دینا خدا کے زور قدرت کا کرشمہ ہے اور ایسی شدید ضرورت کے وقت سب کو محبت و الفت کے ایک نقطہ پر جمع کردینا اس کے کمال حکمت کی دلیل ہے۔
Ayah 8:643 اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ اکثر سلف کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ اے پیغمبر ! خدا تجھ کو اور تیرے ساتھیوں کو کافی ہے۔ یعنی قلت عدد اور بےسروسامانی سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ اور بعض علماء نے یہ معنی لیے ہیں کہ اے پیغمبر ! تجھ کو فی الحقیقت اکیلا خدا کافی ہے اور ظاہری اسباب کے اعتبار سے مخلص مسلمانوں کی جماعت خواہ کتنی ہی تھوڑی ہو کافی ہے۔ پہلے جو فرمایا تھا۔ ( ۭهُوَ الَّذِيْٓ اَيَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَبِالْمُؤْمِنِيْنَ ) 8 ۔ الانفال :62) گویا یہ اسی کا خلاصہ ہوا۔
Ayah 8:654 یہ مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دی کہ تھوڑے بھی ہوں تو جی نہ چھوڑیں خدا کی رحمت سے دس گنے دشمنوں پر غالب آئیں گے سبب یہ ہے کہ مسلمان کی لڑائی محض خدا کے لیے ہے۔ وہ خدا کو اور اس کی مرضی کو پہچان کر اور یہ سمجھ کر میدان جنگ میں قدم رکھتا ہے کہ خدا کے راستہ میں مرنا اصلی زندگی ہے اس کو یقین ہے کہ میری تمام قربانیوں کا ثمرہ آخرت میں ضرور ملنے والا ہے خواہ میں غالب ہوں یا مغلوب۔ اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جو تکلیف میں اٹھاتا ہوں وہ فی الحقیقت مجھ کو دائمی خوشی اور ابدی مسرت سے ہمکنار کرنے والی ہے۔ مسلمان جب یہ سمجھ کر جنگ کرتا ہے تو تائید ایزدی مددگار ہوتی ہے اور موت سے وحشت نہیں رہتی۔ اسی لیے پوری دلیری اور بےجگری سے لڑتا ہے۔ کافر چونکہ اس حقیقت کو نہیں سمجھ سکتا۔ اس لیے محض حقیر اور فانی اغراض کے لیے بہائم کی طرح لڑتا ہے اور قوت قلبی اور امداد غیبی سے محروم رہتا ہے۔ بناء علیہ خبر اور بشارت کے رنگ میں حکم دیا گیا کہ مومنین کو اپنے سے دس گنے دشمنوں کے مقابلہ میں ثابت قدمی سے لڑنا چاہیے۔ اگر مسلمان بیس ہوں تو دو سو کے مقابلہ سے نہ ہٹیں اور سو ہوں تو ہزار کو پیٹھ نہ دکھلائیں۔
(تنبیہ) بیس اور سو، دو عدد شاید اس لیے بیان فرمائے کہ اس وقت مسلمانوں کی تعداد کے لحاظ سے " سریہ " میں کم از کم بیس اور " جیش " میں ایک سو سپاہی ہوتے ہوں گے۔ اس لیے سریہ کم ازکم ایک سو کا اور جیش ایک ہزار کا ہوگا۔ دونوں آیتوں میں بیان نسبت کے وقت اعداد کا یہ تفاوت ظاہر کرتا ہے کہ اگلی آیت کے نزول کے وقت مسلمانوں کی مردم شماری بڑھ گئی تھی۔
Ayah 8:665 بخاری میں ابن عباس سے منقول ہے کہ گذشتہ آیت جس میں مسلمانوں کو دس گنا کافروں کے مقابلہ پر ثابت قدم رہنے کا حکم تھا، جب لوگوں کو بھاری معلوم ہوئی تو اس کے بعد یہ آیت اتری۔ (اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ ) 8 ۔ الانفال :66) یعنی خدا نے تمہاری ایک قسم کی کمزوری اور سستی کو دیکھ کر پہلا حکم اٹھا لیا۔ اب صرف اپنے سے دوگنی تعداد کے مقابلہ میں ثابت قدم رہنا ضروری اور بھاگنا حرام ہے یہ کمزوری یا سستی جس کی وجہ سے حکم میں تخفیف ہوئی، کئی وجوہ سے ہوسکتی ہے۔ ابتدائے ہجرت میں گنے چنے مسلمان تھے جن کی قوت و جلادت معلوم تھی، کچھ مدت کے بعد ان میں سے بہت افراد بوڑھے اور کمزور ہوگئے اور جو نئی پود آئی ان میں پرانے مہاجرین و انصار جیسی بصیرت، استقامت اور تسلیم و تفویض نہ تھی، اور تعداد بڑھ جانے سے کسی درجہ میں اپنی کثرت پر نظر اور " توکل علی اللہ " میں قدرے کمی ہوئی ہوگی۔ اور ویسے بھی طبیعت انسانی کا خاصہ ہے کہ جو سخت کام تھوڑے آدمیوں پر پڑجائے تو کرنے والوں میں جوش عمل زیادہ ہوتا ہے اور ہر شخص اپنی بساط سے بڑھ کر ہمت کرتا ہے لیکن وہی کام جب بڑے مجمع پر ڈال دیا جائے تو ہر ایک دوسرے کا منتظر رہتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ آخر کچھ میں ہی تنہا تو اس کا ذمہ دار نہیں۔ اسی قدر جوش، حرارت اور ہمت میں کمی ہوجاتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ " اول کے مسلمان یقین میں کامل تھے، ان پر حکم ہوا تھا کہ اپنے سے دس گنے کافروں پر جہاد کریں، پچھلے مسلمان ایک قدم کم تھے، تب یہی حکم ہوا کہ دوگنوں پر جہاد کریں۔ یہی حکم اب بھی باقی ہے لیکن اگر دگنے سے زیادہ پر حملہ کریں تو بڑا اجر ہے۔ حضرت عمر کے وقت میں ہزار مسلمان اسی ہزار سے لڑے ہیں۔ " غزوہ موتہ " میں تین ہزار مسلمان دو لاکھ کفار کے مقابلہ میں ڈٹے رہے۔ اس طرح کے واقعات سے اسلام کی تاریخ بحمد اللہ بھری پڑی ہے۔
Ayah 8:671 بدر کی لڑائی سے ستر کافر مسلمانوں کے ہاتھ میں قید ہو کر آئے حق تعالیٰ نے ان کے متعلق دو صورتیں مسلمانوں کے سامنے پیش کیں۔ قتل کردینا، یا فدیہ لے کر چھوڑ دینا اس شرط پر کہ آئندہ سال اسی تعداد میں تمہارے آدمی قتل کیے جائیں گے۔ حقیقت میں خدا کی طرف سے ان دو صورتوں کا انتخاب کے لیے پیش کرنا، امتحان و آزمائش کے طریقہ پر تھا کہ ظاہر ہوجائے کہ مسلمان اپنی رائے اور طبیعت سے کس طرف جھکتے ہیں۔ جیسے ازواج مطہرات کو دو صورتوں میں تخییر دی گئی تھی۔ ( اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا فَتَعَالَيْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَاُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا) 33 ۔ الاحزاب :28) یا معراج میں آپ کے سامنے خمر و لبن (دودھ اور شراب) کے دو برتن پیش کیے گئے تھے، آپ ﷺ نے دودھ کو اختیار فرمایا۔ جبرائیل نے کہا کہ اگر بالفرض آپ شراب کو اختیار فرماتے تو آپ ﷺ کی امت بہک جاتی۔ بہرحال آپ نے صحابہ سے اس معاملہ میں رائے طلب کی۔ ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا کہ یا رسول اللہ یہ سب قیدی اپنے خویش و اقارب اور بھائی بند ہیں۔ بہتر ہے کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اس نرم سلوک اور احسان کے بعد ممکن ہے کچھ لوگ مسلمان ہو کر وہ خود اور ان کی اولاد و اتباع ہمارے دست وبازو بنیں اور جو مال بالفعل ہاتھ آئے اس سے جہاد وغیرہ دینی کاموں میں سہارا لگے۔ باقی آئندہ سال ہمارے ستر آدمی شہید ہوجائیں تو مضائقہ نہیں درجہ شہادت ملے گا۔ نبی کریم ﷺ کا میلان بھی فطری رحم دلی اور شفقت و صلہ رحمی کی بنا پر اسی رائے کی طرف تھا۔ بلکہ صحابہ کی عام رائے اسی جانب تھی۔ بہت سے تو ان ہی وجوہ کی بنا پر جو ابوبکر نے بیان فرمائیں اور بعض محض مالی فائدہ کو دیکھتے ہوئے اس رائے سے متفق تھے۔ (کما یظہر من قولہ (ۭتُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا) 8 ۔ الانفال :67) صرح بہ الحافظ ابن حجر و ابن القیم رحمہا اللہ) حضرت عمر اور سعد بن معاذ نے اس سے اختلاف کیا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ یا رسول اللہ ! یہ قیدی کفر کے امام اور مشرکین کے سردار ہیں ان کو ختم کردیا جائے تو کفر و شرک کا سر ٹوٹ جائے گا، تمام مشرکین پر ہیبت طاری ہوجائے گی، آئندہ مسلمانوں کو ستانے اور خدا کے راستہ سے روکنے کا حوصلہ نہ رہے گا۔ اور خدا کے آگے مشرکین سے ہماری انتہائی نفرت و بغض اور کامل بیزاری کا اظہار ہوجائے گا کہ ہم نے خدا کے معاملہ میں اپنی قرابتوں اور مالی فوائد کی کچھ پروا نہیں کی اس لیے مناسب ہے کہ ان قیدیوں میں جو کوئی ہم میں سے کسی کا عزیز و قریب ہو، وہ اسے اپنے ہاتھ سے قتل کرے۔ الغرض بحث و تمحیص کے بعد حضرت ابوبکر کے مشورہ پر عمل ہوا، کیونکہ کثرت رائے ادھر تھی اور خود نبی کریم ﷺ طبعی رافت و رحمت کی بناء پر اسی طرف مائل تھے اور ویسے بھی اخلاقی اور کلی حیثیت سے عام حالات میں وہ ہی رائے قرین صواب معلوم ہوتی ہے لیکن اسلام اس وقت جن حالات میں سے گزر رہا تھا، ان پر نظر کرتے ہوئے وقتی مصالح کا تقاضا یہ تھا کہ کفار کے مقابلہ میں سخت کمر شکن کارروائی کی جائے۔ تیرہ سال کے ستم کشوں کو طاغوت کے پرستاروں پر یہ ثابت کردینے کا پہلا موقع ملا تھا کہ تمہارے تعلقات قرابت اموال جتھے اور طاقتیں اب کوئی چیز تم کو خدا کی شمشیر انتقام سے پناہ نہیں دے سکتی ابتداءً ایک مرتبہ ظالم مشرکین پر رعب وہیبت بٹھلا دینے کے بعد نرم خوئی اور صلہ رحمی کے استعمال کے لیے آئندہ بہتیرے مواقع باقی رہتے تھے۔ ادھر ستر مسلمانوں کے آئندہ قتل پر راضی ہوجانا معمولی بات نہ تھی۔ اسی لیے اس رائے کو اختیار فرمانا وقتی مصالح اور ہنگامی حیثیت سے حق تعالیٰ کے یہاں پسندیدہ نہ ہوا " مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ " میں اسی ناپسندیدگی کی طرف اشارہ ہے۔ صحابہ ؓ کی یہ ایک سخت خطرناک اجتہادی غلطی قرار دی گئی۔ اور جن بعض لوگوں نے زیادہ تر مالی فوائد پر نظر کر کے اس سے اتفاق کیا تھا ان کو صاف طور پر " تریدون عرض الدنیا " سے خطاب کیا گیا۔ یعنی تم دنیا کے فانی اسباب پر نظر کر رہے ہو، حالانکہ مومن کی نظر انجام پر ہونی چاہیے۔ خدا کی حکمت مقتضی ہو تو وہ تمہارا کام اپنے زور قدرت سے ظاہری سامان کے بدون بھی کرسکتا ہے۔ بہرحال فدیہ لے کر چھوڑ دینا اس وقت کے حالات کے اعتبار سے بڑی بھاری غلطی قرار دی گئی۔ اتنا یاد رکھنا چاہیے کہ روایات سے حضور ﷺ کی نسبت صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ محض صلہ رحمی اور رحم دلی کی بناء پر آپ کا رجحان اس رائے کی طرف تھا۔ البتہ صحابہ میں بعض صرف مالی فوائد کو پیش نظر رکھ کر اور اکثر حضرات دوسری مصالح دینیہ اور اخلاقی داعیہ کے ساتھ مالی ضروریات کو بھی ملحوظ رکھتے ہوئے یہ رائے پیش کر رہے تھے۔ گویا صحابہ کے مشورہ میں کلاً یا جزءً مالی حیثیت ضرور زیر نظر تھی کسی درجہ میں مالی فوائد کے خیال سے " بغض فی اللہ " میں کوتاہی کرنا اور اصل مقصد " جہاد " سے غفلت برتنا اور ستر مسلمانوں کے قتل کیے جانے پر اپنے اختیار سے رضامند ہوجانا صحابہ جیسے مقربین کی شان عالی اور منصب جلیل کے منافی سمجھا گیا۔ اسی لیے ان آیات میں سخت عتاب آمیز لہجہ اختیار کیا گیا ہے۔ حدیث میں ہے کہ لڑائی میں ایک شخص کے سر پر زخم آیا، اسے غسل کی حاجت ہوئی۔ پانی سر پر استعمال کرنا سخت مہلک تھا۔ ساتھیوں سے مسئلہ پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی موجودگی میں ہم تیرے لیے کوئی گنجائش نہیں پاتے۔ اس نے غسل کرلیا اور فوت ہوگیا۔ حضور ﷺ کو جب اس واقعہ کی اطلاع ہوئی فرمایا " قَتَلُوہُ قَتَلَہُمُ اللَّہُ " الحدیث اس سے ظاہر ہوا کہ اجتہادی غلطی اگر زیادہ واضح اور خطرناک ہو تو اس پر عتاب ہوسکتا ہے۔ گویا یہ سمجھا جاتا ہے کہ مجتہد نے پوری قوت اجتہاد صرف کرنے میں کوتاہی کی۔
Ayah 8:682 یعنی یہ غلطی تو فی حدذاتہ ایسی تھی کہ سخت سزا ان لوگوں کو دی جاتی جنہوں نے دنیاوی سامان کا خیال کر کے ایسا مشورہ دیا مگر سزا دہی سے وہ چیز مانع ہے جو خدا پہلے سے لکھ چکا اور طے کرچکا ہے۔ اور وہ کئی باتیں ہوسکتی ہیں۔ (1) مجتہد کو اس قسم کی اجتہادی خطاء پر عذاب نہیں ہوگا (2) جب تک خدا امراً و نہیاً کسی چیز کا صاف حکم بیان نہ فرمائے اس وقت تک اس کے مرتکب کو عذاب نہیں دیتا (3) اہل بدر کی خطاؤں کو خدا معاف فرما چکا ہے (4) غلطی سے جو رویہ قبل از وقت اختیار کرلیا گیا یعنی فدیہ لے کر قیدیوں کو چھوڑ دینا خدا کے علم میں طے شدہ تھا کہ آئندہ اس کی اجازت ہوجائے گی۔ " فاما منا بعد واما فداءً " (5) یہ بھی طے شدہ ہے کہ جب تک پیغمبر ﷺ ان میں موجود ہیں یا لوگ صدق دل سے استغفار کرتے ہیں، عذاب نہ آئے گا (6) ان قیدیوں میں سے بہت کی قسمت میں اسلام لانا لکھا گیا تھا۔ الغرض اس قسم کے موانع اگر نہ ہوتے تو یہ غلطی اتنی عظیم و ثقیل تھی کہ سخت عذاب نازل ہوجانا چاہیے تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ اس قولی تنبیہ کے بعد وہ عذاب جو اس طرح کی خوفناک غلطی پر آسکتا تھا آپ کے سامنے نہایت قریب کر کے پیش کیا گیا۔ گویا یہ قولی تنبیہ کو زیادہ موثر بنانے کی ایک صورت تھی آپ ﷺ اس منظر کو دیکھ کر وقف گریہ و بکا ہوگئے۔ حضرت عمر نے سبب پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے سامنے ان کا عذاب پیش کیا گیا ہے یعنی جس کا آنا ان پر ممکن تھا اگر موانع مذکورہ بالا نہ ہوتے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ آپ کے سامنے یہ پیش کرنا اسی قسم کا تھا جیسے صلوٰۃ کسوف ادا کرتے وقت آپ کے سامنے جنت و دوزخ دیوار قبلہ میں متمثل کردی گئی تھی۔ یعنی اس متوقع عذاب کا نظارا کرانا تھا اور بس۔
Ayah 8:693 پچھلے عتاب و تہدید سے مسلمان ڈر گئے کہ مال غنیمت کو جس میں فدیہ اساری بھی شامل ہے، اب ہاتھ نہیں لگانا چاہیے۔ اس آیت میں تسلی فرما دی کہ وہ اللہ کی عطاء ہے خوشی سے کھاؤ، ہاں جہاد کے سلسلہ میں مال غنیمت وغیرہ کو مطمح نظر بنانا یا اس قدر اہمیت دینا نہیں چاہیے کہ مقاصد عالیہ اور مصالح کلیہ سے اغماض ہونے لگے۔ بیشک وقتی حالات و مصالح کے اعتبار سے تم نے ایک غلط طریقہ کار اختیار کیا۔ مگر نفس مال میں کوئی خبث نہیں۔ خدا سے ڈرتے رہو گے تو وہ اپنی رحمت سے غلطیوں کو معاف فرما دے گا۔
Ayahs 8:70–714 بعض قیدیوں نے اپنے اسلام کا اظہار کیا تھا (مثلاً حضرت عباس ؓ وغیرہ) ان سے کہا گیا کہ اللہ دیکھے گا کہ واقعی تمہارے دل میں ایمان و تصدیق موجود ہے تو جو کچھ زر فدیہ اس وقت تم سے وصول کیا گیا ہے اس سے کہیں زیادہ اور کہیں بہتر تم کو مرحمت فرمائے گا، اور پچھلی خطاؤں سے درگزر کرے گا۔ اور اگر اظہار اسلام سے صرف پیغمبر کو فریب دینا مقصود ہے یا دغابازی کرنے کا ارادہ ہے تو پیشتر خدا سے جو دغابازی کرچکے ہیں، یعنی فطری عہدالست کے خلاف کفر و شرک اختیار کیا یا بعض " بنی ہاشم " جو ابو طالب کی زندگی میں عہد کر کے آنحضرت ﷺ کی حمایت پر متفق ہوئے تھے۔ اب کافروں کے ساتھ ہو کر آئے اس کا انجام آنکھوں سے دیکھ لیا کہ آج کس طرح مسلمانوں کی قید اور قابو میں ہیں۔ آئندہ بھی دغا بازی کی ایسی ہی سزا مل سکتی ہے۔ خدا تعالیٰ سے اپنے دلوں اور نیتوں کو چھپا نہیں سکتے اور نہ اس کے حکیمانہ انتظامات کو روک سکتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " خدا کا وعدہ پورا ہوا، ان میں جو مسلمان ہوئے حق تعالیٰ نے بیشمار دولت بخشی، جو نہ ہوئے وہ خراب ہو کر تباہ ہوگئے۔ "
Ayah 8:721 قیدیوں میں بعض ایسے تھے جو دل سے مسلمان تھے، مگر حضرت ﷺ کے ساتھ مکہ سے ہجرت نہ کرسکے اور بادل نخواستہ کفار کے ساتھ ہو کر بدر میں آئے۔ ان آیات میں یہ بتلانا ہے کہ ایسے مسلمانوں کا حکم کیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت کے اصحاب دو فرقے تھے " مہاجرین " اور " انصار " مہاجرین کنبہ اور گھر چھوڑنے والے اور انصار جگہ دینے والے اور مدد کرنے والے۔ ان دونوں میں آنحضرت ﷺ نے مواخاۃ (بھائی چارہ) قائم کردیا تھا آیت کا مضمون یہ ہوا کہ جتنے مسلمان حضرت کے ساتھ حاضر ہیں ان سب کی صلح و جنگ ایک ہے، ایک کا موافق سب کا موافق، ایک کا مخالف سب کا مخالف، بلکہ آغاز ہجرت میں رشتہ مواخاۃ کے لحاظ سے ایک دوسرے کے ترکہ کا وارث بھی ہوتا تھا۔ اور جو مسلمان اپنے ملک میں رہے جہاں کافروں کا زور اور تسلط ہو۔ یعنی دارالحرب سے ہجرت نہ کی ان کی صلح و جنگ میں " دارالاسلام " کے رہنے والے مسلمان (مہاجرین و انصار) شریک نہیں۔ اگر دارالحرب کے مسلمانوں نے صلح و معاہدہ کسی جماعت کفار سے کرلیا تو دارالاسلام کے آزاد مسلمان اس معاہدہ کے پابند نہیں ہوسکتے، بلکہ ان سے حسب مصلحت جنگ کرسکتے ہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ دارالحرب کے مسلمان جس وقت دینی معاملہ میں آزاد مسلمانوں سے مدد طلب کریں تو ان کو اپنے مقدور کے موافق مدد کرنا چاہیے۔ مگر جس جماعت سے ان آزاد مسلمانوں کا معاہدہ ہوچکا اس کے مقابلہ میں تابقائے عہد دارالحرب کے مسلمانوں کی امداد نہیں کی جاسکتی۔ نیز توریث باہمی کا سلسلہ جو مہاجرین و انصار میں قائم کیا گیا تھا، اس میں بھی دارالحرب کے مسلمان شامل نہیں تھے۔
Ayah 8:732 یعنی کافر و مسلم میں نہ حقیقی رفاقت ہے نہ ایک دوسرے کا وارث بن سکتا ہے۔ ہاں کافر، کافر کا رفیق و وارث ہے بلکہ سب کفار تم سے دشمنی کرنے کو آپس میں ایک ہیں، جہاں پائیں گے ضعیف مسلمانوں کو ستائیں گے اس کے بالمقابل اگر مسلمان ایک دوسرے کے رفیق اور مددگار نہ ہوں گے یا کمزور مسلمان اپنے کو آزاد مسلمانوں کی معیت ورفاقت میں لانے کی کوشش نہ کریں گے تو سخت خرابی اور فتنہ بپا ہوجائے گا۔ یعنی ضعیف مسلمان مامون نہ رہ سکیں گے ان کا ایمان تک خطرہ میں ہوگا۔
Ayah 8:743 یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی سردار کے ساتھ والے مسلمان اعلیٰ ہیں گھر بیٹھنے والوں سے۔ آخرت میں ان کے لیے بڑی بھاری بخشش ہے اور دنیا میں عزت کی روزی یعنی غنیمت اور دوسرے فائق حقوق۔
Ayah 8:754 یعنی مہاجرین میں جتنے بعد کو شامل ہوتے جائیں وہ سب باعتبار احکام " مہاجرین اولین " کی برادری میں منسلک ہیں ہجرت کے تقدم و تاخر کی وجہ سے صلح و جنگ یا توریث وغیرہ کے احکام پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ہاں اگر قدیم مہاجرین کا کوئی رشتہ دار پیچھے مسلمان ہو یا بعد میں ہجرت کر کے آیا تو وہ اس قدیم مہاجر کی میراث کا زیادہ حق دار ہے اگرچہ رفاقت قدیم اوروں سے ہے۔
5 وہی جانتا ہے کہ کس کا کس قدر حق ہونا چاہیے لہذا اس کے احکام سراسر علم و حکمت پر مبنی ہیں۔