Ayah 68:413 یعنی اگر عقلی و نقلی دلیل کوئی نہیں، محض جھوٹے دیوتاؤں کے بل بوتے پر یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ وہ ہم کو یوں کردیں گے اور یوں مرتبے دلا دیں گے، کیونکہ وہ خود خدائی کے شریک اور حصہ دار ہیں تو اس دعوے میں ان کا سچا ہونا اسی وقت ثابت ہوگا جب وہ ان شرکاء کو خدا کے مقابلہ پر بلا لائیں اور اپنی من مانی کارروائی کرا دیں۔ لیکن یاد رہے کہ وہ معبود عابدوں سے زیادہ عاجز اور بےبس ہیں۔ وہ تمہاری کیا مدد کریں گے، خود اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے۔
Ayah 68:424 اس کا قصہ حدیث شیخین میں مرفوعاً اس طرح آیا ہے کہ حق تعالیٰ میدان قیامت میں اپنی ساق ظاہر فرمائے گا " ساق " (پنڈلی) کو کہتے ہیں اور یہ کوئی خاص صفت یا حقیقت ہے صفات و حقائق الٰہیہ میں سے جس کو کسی خاص مناسبت سے " ساق " فرمایا۔ جیسے قرآن میں " ید " (ہاتھ) " وجہ " (چہرہ) کا لفظ آیا ہے۔ یہ مفہومات متشابہات میں سے کہلاتے ہیں۔ ان پر اسی طرح بلا کیف ایمان رکھنا چاہیے جیسے اللہ کی ذات، وجود، حیات اور سمع و بصر وغیرہ صفات پر ایمان رکھتے ہیں۔ اسی حدیث میں ہے کہ اس تجلی کو دیکھ کر تمام مومنین و مومنات سجدہ میں گرپڑیں گے۔ مگر جو شخص ریا، سے سجدہ کرتا تھا، اس کی کمر نہیں مڑے گی۔ تختہ سی ہو کر رہ جائے گی، اور جب اہل ریاء و نفاق سجدہ پر قادر نہ ہوں گے تو کفار کا اس پر قادر نہ ہونا بطریق اولیٰ معلوم ہوگیا۔ یہ سب کچھ محشر میں اس لیے کیا جائے گا کہ مومن و کافر اور مخلص و منافق صاف طور پر کھل جائیں اور ہر ایک کی اندرونی حالت حسی طور پر مشاہد ہوجائے (تنبیہ) " متشابہات " پر پہلے کلام کیا جا چکا ہے اور حضرت شاہ عبدالعزیز (رح) نے اس آیت " کشف ساق " کی تفسیر میں نہایت عالی اور عجیب تبصرہ متشابہات پر کیا ہے۔ فلیراجع۔
Ayah 68:435 یعنی ندامت اور شرمندگی کے مارے آنکھ اوپر نہ اٹھ سکے گی۔
6 یعنی دنیا میں سجدہ کا حکم دیا گیا تھا جس وقت اچھے خاصے تندرست تھے اور باختیار خود سجدہ کرسکتے تھے وہاں کبھی اخلاص سے سجدہ نہ کیا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ استعداد ہی باطل ہوگئی۔ اب چاہیں بھی تو سجدہ نہیں کرسکتے۔
Ayah 68:447 یعنی ان کو عذاب ہونا تو یقینی ہے لیکن چندے عذاب کے توقف سے رنج نہ کیجیے اور ان کا معاملہ میرے اوپر چھوڑ دیجیے۔ میں خود ان سے نبٹ لوں گا اور اس طرح بتدریج آہستہ آہستہ دوزخ کی طرف لے جاؤں گا کہ ان کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ یہ اپنی حالت پر مگن رہیں گے اور اندر ہی اندر سکھ کی جڑیں کٹتی چلی جائیں گیں۔
Ayah 68:458 یعنی میری لطیف اور خفیہ تدبیر ایسی پکی ہے، جس کو یہ لوگ سمجھ بھی نہیں سکتے بھلا اس کا توڑ تو کیا کرسکتے ہیں۔
Ayahs 68:46–479 یعنی افسوس اور تعجب کا مقام ہے کہ یہ لوگ اس طرح تباہی کی طرف چلے جا رہے ہیں لیکن آپ کی بات نہیں مانتے۔ آخر نہ ماننے کی وجہ کیا ہے ؟ کیا آپ ان سے کچھ معاوضہ (تنخواہ یا کمیشن وغیرہ) طلب کرتے ہیں ؟ جس کے بوجھ میں وہ دبے جا رہے ہیں۔ یا خود ان کے پاس غیب کی خبریں اور اللہ کی وحی آتی ہے ؟ جسے وہ حفاظت کے لیے قرآن کی طرح لکھ لیتے ہیں۔ اس لیے آپ کی اتباع کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ آخر کچھ سبب تو ہونا چاہیے۔ جب ان پر کچھ بار بھی ڈالا نہیں جاتا اس چیز سے استغنا بھی نہیں تو نہ ماننے کا سبب بجزعناد اور ہٹ دھرمی کے اور کیا ہوسکتا ہے۔
Ayah 68:4810 یعنی مچھلی کے پیٹ میں جانے والے پیغمبر (حضرت یونس علیہ السلام) کی طرح مکذبین کے معاملہ میں تنگ دلی اور گھبراہٹ کا اظہار نہ کیجیے۔ ان کا قصہ پہلے کئی جگہ تھوڑا تھوڑا گزر چکا ہے۔11 یعنی قوم کی طرف سے غصہ میں بھرے ہوئے تھے جھنجھلا کر شتابی عذاب کی دعا بلکہ پیشن گوئی کر بیٹھے (تنبیہ) " مکظوم " کے معنی بعض مفسرین نے یہ کیے ہیں کہ وہ غم سے گھٹ رہے تھے اور یہ غم مجموعہ تھا کئی غموں کا۔ قوم کے ایمان نہ لانے کا، ایک عذاب کے ٹل جانے کا، ایک بلا اذن صریح شہر چھوڑ کر چلے آنے کا، ایک مچھلی کے پیٹ میں محبوس رہنے کا۔ اس وقت اللہ کو پکارا اور یہ دعاء کی ( لَّآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰــنَكَ ڰ اِنِّىْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ ) 21 ۔ الانبیاء :87) اس پر اللہ کا فضل ہوا اور مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی۔
Ayah 68:491 یعنی اگر قبول توبہ کے بعد اللہ کا مزید فضل و احسان دستگیری نہ کرتا تو اسی چٹیل میدان میں جہاں مچھلی کے پیٹ سے نکال کر ڈالے گئے تھے الزام کھائے ہوئے پڑے رہتے اور وہ کمالات و کرامات باقی نہ رہنے دیے جاتے جو محض خدا کی مہربانی سے اس ابتلاء کے وقت بھی باقی رہے۔
Ayah 68:502 یعنی پھر ان کا اور زیادہ رتبہ بڑھایا۔ اور اعلیٰ درجہ کے نیک و شائستہ لوگوں میں داخل رکھا۔ حدیث میں حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص نہ کہے کہ میں (محمد ﷺ یونس بن متّٰی سے بہتر ہوں۔
Ayah 68:513 یعنی قرآن سن کر غیظ و غضب میں بھر جاتے ہیں اور اس قدر تیز نظروں سے تیری طرف گھورتے ہیں جانے تجھ کو اپنی جگہ سے ہٹا دیں گے۔ زبان سے بھی آوازے کستے ہیں کہ یہ شخص تو مجنون ہوگیا ہے۔ اس کی کوئی بات قابل التفات نہیں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس طرح آپ کو گھبرا کر مقام صبرو استقلال سے ڈگمگا دیں۔ مگر آپ برابر اپنے مسلک پر جمے رہیے۔ اور تنگدل ہو کر کسی معاملہ میں گھبراہٹ یا جلدی یا مداہنت اختیار نہ کیجیے۔ (تنبیہ) بعض نے " لَيُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ " سے یہ مطلب لیا ہے کہ کفار نے بعض لوگوں کو جو نظر لگانے میں مشہور تھے اس پر آمادہ کیا تھا کہ وہ آپ کو نظر لگائیں۔ چناچہ جس وقت حضور ﷺ قرآن تلاوت فرما رہے تھے، ان میں سے ایک آیا اور پوری ہمت سے نظر لگانے کی کوشش کی۔ آپ نے " لاحول ولا قوۃ الا باللہ " پڑھا اور وہ ناکام و نامراد واپس چلا گیا۔ باقی نظر لگنے یا لگانے سے مسئلہ پر بحث کرنے کا یہ موقع نہیں۔ اور آجکل جبکہ " مسمریزم " ایک باقاعدہ فن بن چکا ہے، اس میں مزید ردوکد کرنا بیکار سا معلوم ہوتا ہے۔
Ayah 68:524 یعنی قرآن میں جنون اور باؤلے پن کی بات کون سی ہے جس کو تم جنون کہہ رہے ہو وہ تو تمام عالم کے لیے اعلیٰ ترین پندو نصیحت کا ذخیرہ ہے۔ اسی سے بنی نوع انسان کی اصلاح اور دنیا کی کایا پلٹ ہوگی۔ اور وہ ہی لوگ دیوانے قرار پائیں گے جو اس کلام کے دیوانے نہیں ہیں۔