41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 41:41

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِیْزٌۙ Open ayah 41:41 in the Quran reader

جو لوگ منکر ہوئے نصیحت سے جب آئی ان کے پاس2 اور وہ کتاب ہے نادر

2 یعنی وہ خواہ مخواہ اپنی کجروی سے نصیحت کی بات میں شبہات پیدا کرتے ہیں۔ حالانکہ اس میں جھوٹ کی گنجائش کسی طرف سے نہیں۔ وہ نصیحت کیا ہے ؟ ایک صاف واضح اور مضبوط و محکم کتاب جس کا انکار ایک احمق یا شریر آدمی کے سوا کوئی نہیں کرسکتا۔
Ayah 41:42

لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ١ؕ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ Open ayah 41:42 in the Quran reader

اس پر جھوٹ کا دخل نہیں آگے سے اور نہ پیچھے سے اتاری ہوئی ہے حکمتوں والے سب تعریفوں والے کی3

3 یعنی اس کی اتاری ہوئی کتاب میں جھوٹ آئے تو کدھر سے آئے۔ اور جس کتاب کی حفاظت کا وہ ذمہ دار ہو، باطل کی کیا مجال ہے کہ اس کے پاس پھٹک سکے۔
Ayah 41:43

مَا یُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 41:43 in the Quran reader

تجھے وہی کہتے ہیں جو کہہ چکے ہیں سب رسولوں سے تجھ سے پہلے تیرے رب کے یہاں معافی بھی ہے اور سزا بھی ہے دردناک4

4 یعنی منکرین کا جو معاملہ آپ کے ساتھ ہے، یہ ہی ہر زمانہ کے منکرین کا پیغمبروں کے ساتھ رہا ہے پیغمبروں نے ہمیشہ خیر خواہی کی ہے، انہوں نے اس کے جواب میں ہر طرح کی تکلیفیں پہنچائیں۔ پھر جس طرح پیغمبروں نے سختیوں پر صبر کیا، آپ بھی صبر کرتے رہیے نتیجہ یہ ہوگا کہ کچھ لوگ توبہ کر کے راہ راست پر آجائیں گے جن کے لیے خدا کے ہاں معافی ہے اور کچھ اپنی کجروی اور ضد پر قائم رہیں گے جو آخرکار دردناک سزا کے مستوجب ہوں گے۔
Ayah 41:44

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ١ؕ ءَؔاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ١ؕ قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ١ؕ وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًى١ؕ اُولٰٓئِكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 41:44 in the Quran reader

اور اگر ہم اس کو کرتے قرآن اوپری زبان کا تو کہتے اس کی باتیں کیوں نہ کھولی گئیں کیا اوپری زبان کی کتاب اور عربی لوگ5 تو کہہ یہ ایمان والوں کے لیے سوجھ ہے اور روگ کا دور کرنے والاف 6 اور جو یقین نہیں لاتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے اور یہ قرآن ان کے حق میں اندھاپا ہے7 ان کو پکارتے ہیں دور کی جگہ سے8

5 یعنی ایک بات کو نہ ماننا ہو تو آدمی ہزار حیلے بہانے نکال سکتا ہے۔ کفار مکہ نے اور کچھ نہیں تو یہ ہی کہنا شروع کردیا کہ صاحب ! عربی پیغمبر کا معجزہ تو ہم اس وقت سمجھتے جب قرآن عربی کے سوا کسی اور زبان میں آتا۔ لیکن فرض کیجیے اگر ایسا ہوتا تو جھٹلانے کے لیے یوں کہنے لگتے کہ بھلا صاحب ! کہیں ایسی بےجوڑ بات بھی دیکھی ہے، کہ رسول عربی، اور اس کی قوم بھی جو اولین مخاطب ہے عرب، مگر کتاب بھیجی جائے ایسی زبان میں جس کا ایک حرف بھی عرب لوگ نہ سمجھ سکیں۔ 6 یعنی لغو اور بیہودہ شبہات تو کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ ہاں اس قدر تجربہ ہر ایک آدمی کرسکتا ہے کہ یہ کتاب مقدس اپنے اوپر ایمان لانے اور عمل کرنے والوں کی کیسی عجیب ہدایت و بصیرت اور سوجھ بوجھ عطا کرتی اور ان کے قرنوں اور صدیوں کے روگ مٹا کر کس طرح بھلا چنگا کردیتی ہے۔ 7 یعنی جس طرح خفاش (شپرک) کی آنکھیں سورج کی روشنی میں چندھیا جاتی ہیں، ان منکروں کو بھی قرآن کی روشنی میں کچھ نظر نہیں آتا۔ اس میں قرآن کا کیا قصور ہے۔ منکروں کو چاہیے کہ اپنی نگاہ کا ضعف و قصور محسوس کر کے علاج کی طرف متوجہ ہوں۔ 8 یعنی کسی کو دور سے آواز تو نہیں سنتا اور سنے تو اچھی طرح سمجھتا نہیں۔ اسی طرح منکرین قرآن بھی صداقت اور منبع صداقت سے اس قدر دور پڑے ہوئے ہیں کہ حق کی آواز ان کے دل کے کانوں تک نہیں پہنچتی اور کبھی پہنچتی ہے تو اس کا ٹھیک مطلب نہیں سمجھتے۔
Ayah 41:45

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 41:45 in the Quran reader

اور ہم نے دی تھی موسیٰ کو کتاب پھر اس میں اختلاف پڑا9 اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو پہلے نکل چکی تیرے رب کی طرف سے تو ان میں فیصلہ ہوجاتا10 اور وہ ایسے دھوکے میں ہیں اس قرآن سے جو چین نہیں لینے دیتا11

9 یعنی جیسے آج قرآن کے ماننے اور نہ ماننے والوں میں اختلاف پڑ رہا ہے۔ پہلے تورات کے متعلق بھی ایسا ہی اختلاف پڑچکا ہے پھر دیکھ لو وہاں کیا انجام ہوا تھا۔ 10 بات وہ ہی نکل چکی کہ فیصلہ آخرت میں ہے۔ 11 یعنی مہمل شکوک و شبہات ان کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتے۔ ہر وقت دل میں کھٹکتے رہتے ہیں۔
Ayah 41:46

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ Open ayah 41:46 in the Quran reader

جس نے کی بھلائی سو اپنے واسطے اور جس نے کی برائی سو وہ بھی اسی پر اور تیرا رب ایسا نہیں کہ ظلم کرے بندوں پر12

12 یعنی خدا کے ہاں ظلم نہیں۔ ہر آدمی اپنے عمل کو دیکھ لے۔ جیسا کرے گا وہ ہی سامنے آئے گا۔ نہ کسی کی نیکی اس کے ہاں ضائع ہوگی نہ ایک کی بدی دوسرے پر ڈالی جائے گی (ربط) چونکہ نیکی بدی کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن ملے گا اور کفار اکثر سوال کرتے تھے کہ قیامت کب آئے گی، اس لیے اس کے متعلق ارشاد ہوتا ہے۔ (اِلَيْهِ يُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ ) 41 ۔ فصلت :47)
Ayah 41:47

اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اَیْنَ شُرَكَآءِیْ١ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍۚ Open ayah 41:47 in the Quran reader

اسی کی طرف حوالہ ہے قیامت کی خبر کا1 اور نہیں نکلتے کوئی میوے اپنے غلاف سے اور نہیں رہتا حمل مادہ کو اور نہ جنے کہ جس کی اس کو خبر نہیں2 اور جس دن ان کو پکارے گا کہاں ہیں میرے شریک3 بولیں گے ہم نے تجھ کو کہہ سنایا ہم میں کوئی اس کا اقرار نہیں کرتا4

1 یعنی اسی کو خبر ہے کہ قیامت کب آئے گی۔ بڑے سے بڑا نبی اور فرشتہ بھی اس کے وقت کی تعیین نہیں کرسکتا۔ جس سے دریافت کرو گے۔ یہ ہی کہے گا " مَا الْمَسْؤلُ عَنْہَا بِاَعْلَمُ مِنَ السَّآئِل " 2 یعنی علم الٰہی ہر چیز کو محیط ہے۔ کوئی کھجور اپنے گابھے سے اور کوئی دانہ اپنے خوشہ اور کوئی میوہ یا پھل اپنے غلاف سے باہر نہیں آتا جس کی خبر خدا کو نہ ہو۔ نیز کسی عورت یا کسی مادہ (جانور) کے پیٹ میں جو بچہ موجود ہے اور جو چیز وہ جن رہی ہے سب کچھ اللہ کے علم میں ہے۔ اسی طرح سمجھ لو کہ موجودہ دنیا کے نتیجہ کے طور پر جو آخرت کا ظہور اور قیامت کا وقوع ہونے والا ہے اس کا وقت بھی خدا ہی کو معلوم ہے کہ کب آئے گا۔ کوئی انسان یا فرشتہ اس کی خبر نہیں رکھتا۔ اور نہ اس کو خبر رکھنے کی ضرورت۔ ضرورت اس کی ہے کہ آدمی قیامت کی خبر پر اللہ کے فرمانے کے موافق یقین رکھے اور اس دن کی فکر کرے جب کوئی شریک کام نہ آئے گا اور کہیں مخلص نہ ملے گا۔ 3 یعنی جن کو میری خدائی میں شریک ٹھہراتے تھے اب بلاؤنا، وہ کہاں ہیں ؟ 4 یعنی ہم تو آپ سے صاف عرض کرچکے ہیں کہ ہم میں کوئی اقبالی مجرم نہیں جو اس جرم (شرک) کا اعتراف کرنے کو تیار ہو (گویا اس وقت نہایت دیدہ دلیری سے جھوٹ بول کر واقعہ کا انکار کرنے لگیں گے) اور بعض نے شہید کو بمعنی شاہد لے کر یہ مطلب لیا ہے کہ اس وقت ہم میں سے کوئی ان شرکاء کو یہاں نہیں دیکھتا۔
Ayah 41:48

وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 41:48 in the Quran reader

اور چوک گیا ان سے جو پکارتے تھے پہلے اور سمجھ گئے کہ ان کو کہیں نہیں خلاصی5

5 یعنی دنیا میں جنہیں خدا کا شریک بنا کر پکارتے تھے آج ان کا کہیں پتہ نہیں۔ وہ اپنے پرستاروں کی مدد کو نہیں آتے۔ اور پرستاروں کے دلوں سے بھی وہ پکارنے کے خیالات اب غائب ہوگئے انہوں نے بھی سمجھ لیا کہ خدائی سزا سے بچنے کی اب کوئی سبیل نہیں۔ اور گلو خلاصی کا کوئی ذریعہ نہیں۔ آخر آس توڑ کر بیٹھ رہے۔ اور جن کی حمایت میں پیغمبروں سے لڑتے تھے آج ان سے قطعاً بےتعلقی اور بیزاری کا اظہار کرنے لگے۔
Ayahs 41:49–50

لَا یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ١٘ وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ Open ayah 41:49 in the Quran reader

نہیں تھکتا آدمی مانگنے سے بھلائی اور اگر لگ جائے اس کو برائی تو آس توڑ بیٹھے ناامید ہو کر

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ هٰذَا لِیْ١ۙ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّیْۤ اِنَّ لِیْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰى١ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا١٘ وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 41:50 in the Quran reader

اور اگر ہم چکھائیں اس کو کچھ اپنی مہربانی پیچھے ایک تکلیف کے جو اس کو پہنچی تھی تو کہنے لگے یہ میرے لائق اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت آنے والی ہے اور اگر میں پھر بھی گیا اپنے رب کی طرف بیشک میرے لیے ہے اس کے پاس خوبی6 سو ہم جتلا دیں گے منکروں کو جو انہوں نے کیا ہے اور چکھائیں گے ان کو ایک گاڑھا عذاب7

6 یعنی انسان کی طبیعت عجیب طرح کی ہے۔ جب دنیا کی ذرا سی بھلائی پہنچے اور کچھ عیش و آرام و تندرستی نصیب ہو، تو مارے حرص کے چاہتا ہے کہ اور زیادہ مزے اڑائے۔ کسی حد پر پہنچ کر اس کی حرص کا پیٹ نہیں بھرتا، اگر بس چلے تو ساری دنیا کی دولت لے کر اپنے گھر میں ڈال لے۔ لیکن جہاں ذرا کوئی افتاد پڑنا شروع ہوئی اور اسباب ظاہری کا سلسلہ اپنے خلاف دیکھا تو پھر مایوس اور ناامید ہوتے بھی دیر نہیں لگتی۔ اس وقت اس کا دل فوراً آس توڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔ کیونکہ اس کی نظر صرف پیش آمدہ اسباب پر محدود ہوتی ہے۔ اس قادر مطلق مسبب الاسباب پر اعتماد نہیں رکھتا جو چاہے تو ایک آن میں سلسلہ اسباب کو الٹ پلٹ کر کے رکھ دے۔ اس مایوسی کے بعد اگر فرض کیجیے اللہ نے تکلیف و مصیبت دور کر کے اپنی مہربانی سے پھر عیش و راحت کا سامان کردیا تو کہنے لگتا ہے " ہذا الی " یعنی میں نے فلاں تدبیر کی تھی، میری تدبیر اور لیاقت و فضیلت سے یوں ہی ہونا چاہیے تھا اب نہ خدا کی مہربانی یاد رہی نہ اپنی وہ مایوسی کی کیفیت جو چند منٹ پہلے قلب پر طاری تھی۔ اب عیش و آرام کے نشہ میں ایسا مخمور ہوجاتا ہے کہ آئندہ بھی کسی مصیبت اور تکلیف کے پیش آنے کا خطرہ نہیں رہتا۔ سمجھتا ہے کہ ہمیشہ اسی حالت میں رہوں گا۔ اور اگر کبھی تاثرات کے دوران میں قیامت کا نام سن لیتا ہے تو کہتا ہے کہ میں تو خیال نہیں کرتا کہ یہ چیز کبھی ہونے والی ہے۔ اور فرض کرو ایسی نوبت آہی گئی اور مجھ کو لوٹ کر اپنے رب کی طرف جانا ہی پڑا تب بھی مجھے یقین ہے وہاں میرا انجام بہتر ہوگا۔ اگر میں خدا کے نزدیک برا اور نالائق ہوتا تو دنیا میں مجھ کو یہ عیش و بہار کے مزے کیونکر ملتے۔ لہذا وہاں بھی توقع ہے کہ یہ ہی معاملہ میرے ساتھ ہوگا۔ 7 یعنی خوش ہو لو کہ اس کفر و غرور کے باوجود وہاں بھی مزے لوٹو گے۔ وہاں پہنچ کر پتہ لگ جائے گا کہ منکروں کو کیسی سخت سزا بھگتنا پڑتی ہے۔ اور کس طرح عمر بھر کے کرتوت سامنے آتے ہیں۔
Ayah 41:51

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ Open ayah 41:51 in the Quran reader

اور جب ہم نعمتیں بھیجیں انسان پر تو ٹلا جائے اور موڑ لے اپنی کروٹ اور جب لگے اس کو برائی تو دعائیں کرے چوڑی8

8 یعنی اللہ کی نعمتوں سے متمتع ہونے کے وقت تو منعم کی حق شناسی اور شکر گزاری سے اعراض کرتا اور بالکل بےپروا ہو کر ادھر سے کروٹ بدل لیتا ہے۔ پھر جب کوئی تکلیف اور مصیبت پیش آتی ہے تو اسی خدا کے سامنے ہاتھ پھیلا کر لمبی چوڑی دعائیں مانگنے لگتا ہے۔ شرم نہیں آتی کہ اب اسے کس منہ سے پکارے۔ اور تماشا یہ ہے کہ بعض اوقات اسباب پر نظر کر کے دل اندر سے مایوس ہوتا ہے۔ اس حالت میں بھی بدحواس اور پریشان ہو کر دعا کے ہاتھ بےاختیار خدا کی طرف اٹھ جاتے ہیں۔ قلب میں ناامیدی بھی ہے اور زبان پر یا اللہ بھی، حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہ سب بیان ہے انسان کے نقصان (و قصور) کا نہ سختی میں صبر ہے نہ نرمی میں شکر۔ '
Ayah 41:52

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 41:52 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو تو اگر یہ ہو اللہ کے پاس سے پھر تم نے اس کو نہ مانا پھر اس سے گمراہ زیادہ کون جو دور چلا جائے مخالف ہو کر1

1 اوپر انسان کی طبیعت کا عجیب و غریب نقشہ کھینچ کر اس کی کمزوریوں اور بیماریوں پر نہایت موثر انداز میں توجہ دلائی تھی۔ اب تنبیہ کرتے ہیں کہ یہ کتاب جو تمہاری کمزوریوں پر گاہ کرنے والی اور انجام کی طرف توجہ دلانے والی ہے، اگر خدا کے پاس سے آئی ہو (جیسا کہ واقع میں ہے) پھر تم نے اس کو نہ مانا، اور ایسی اعلیٰ اور بیش قیمت نصائح سے منکر رہ کر اپنی عاقبت کی فکر نہ کی، بلکہ حق کی مخالفت میں دور ہوتے چلے گئے تو کیا اس سے بڑھ کر گمراہی اور نقصان و خسارہ کچھ اور ہوسکتا ہے۔
Ayah 41:53

سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 41:53 in the Quran reader

اب ہم دکھلائیں گے ان کو اپنے نمونے دنیا میں اور خود ان کی جانوں میں یہاں تک کہ کھل جائے ان پر کہ یہ ٹھیک ہے2 کیا تیرا رب تھوڑا ہے ہر چیز پر گواہ ہونے کے لیے3

2 یعنی قرآن کی حقانیت کے دوسرے دلائل وبراہین تو بجائے خود رہے۔ اب ہم ان منکروں کو خود ان کی جانوں میں اور ان کے چاروں طرف سارے عرب بلکہ ساری دنیا میں اپنی قدرت کے وہ نمونے دکھلائیں گے جن سے قرآن اور حال قرآن کی صداقت بالکل روز روشن کی طرح آنکھوں سے نظر آنے لگے۔ وہ نمونے کیا ہیں ؟ وہ ہی اسلام کی عظیم الشان اور محیر العقول فتوحات جو سلسلہ اسباب ظاہری کے بالکل برخلاف قرآنی پیشین گوئیوں کے عین مطابق وقوع پذیر ہوئیں۔ چناچہ معرکہ " بدر " میں کفار مکہ نے خود اپنی جانوں کے اندر اور " فتح مکہ " میں مرکز عرب کے اندر اور خلفائے راشدین کے عہد میں تمام جہان کے اندر یہ نمونے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ " آیات " سے عام نشانہائے قدرت مراد ہوں جو غور کرنے والوں کو اپنے وجود میں اور اپنے وجود سے باہر تمام دنیا کی چیزوں میں نظر آتے ہیں جن سے حق تعالیٰ کی وحدانیت و عظمت کا ثبوت ملتا ہے اور قرآن کے بیانات کی تصدیق ہوتی ہے۔ جبکہ وہ ان سنن الٰہیہ اور نوامیس فطریہ کے موافق ثابت ہوتے ہیں جو اس عالم تکوین میں کارفرما ہیں۔ اس قسم کے تمام حقائق کونیہ اور آیات آفاقیہ و انفسیہ کا انکشاف چونکہ لوگوں کو دفعتاً نہیں ہوتا، بلکہ وقتاً فوقتاً بتدریج ان کے چہرہ سے پردہ اٹھتا رہتا ہے۔ اس لیے " سَنَرِیْہِمْ اَیَاتِنَا " سے تعبیر فرمایا۔ 3 یعنی قرآن کی حقانیت کو فرض کرو کوئی نہ مانے، تو اکیلے خدا کی گواہی کیا تھوڑی ہے جو ہر چیز پر گواہ ہے اور ہر چیز میں غور کرنے سے اس کی گواہی کا ثبوت ملتا ہے۔
Ayah 41:54

اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطٌ۠ Open ayah 41:54 in the Quran reader

سنتا ہے وہ دھوکے میں ہیں اپنے رب کی ملاقات سے سنتا ہے وہ گھیر رہا ہے ہر چیز کو4

4 یعنی یہ اس دھوکے میں ہیں کہ کبھی خدا سے ملنا اور اس کے سامنے جانا نہیں۔ حالانکہ خدا تعالیٰ ہر وقت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے کسی وقت بھی اس کے قبضہ اور احاطہ سے نکل کر نہیں جاسکتے۔ اگر مرنے کے بعد ان کے بدن کے ذرات مٹی میں مل جائیں یا پانی میں بہہ جائیں یا ہوا میں منتشر ہوجائیں تب بھی ایک ایک ذرہ پر اللہ کا علم اور قدرت محیط ہے۔ ان کو جمع کر کے از سر نو زندہ کردینا کچھ مشکل نہیں۔ تمت سورة حم السجدۃ فلہ الحمد والمنۃ۔