37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 37:75–82

وَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ٘ۖ Open ayah 37:75 in the Quran reader

اور ہم کو پکارا تھا نوح نے سو کیا خوب پہنچنے والے ہیں ہم پکار پر،

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِ٘ۖ Open ayah 37:76 in the Quran reader

اور بچا دیا اس کو اور اس کے گھر کو اس بڑی گھبراہٹ سے

وَ جَعَلْنَا ذُرِّیَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:77 in the Quran reader

اور رکھا اس کی اولاد کو وہی باقی رہنے والے،

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَ٘ۖ Open ayah 37:78 in the Quran reader

اور باقی رکھا اس پر پچھلے لوگوں میں

سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:79 in the Quran reader

کہ سلام ہے نوح پر سارے جہان والوں میں

اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:80 in the Quran reader

ہم یوں بدلہ دیتے ہیں نیکی والوں کو

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:81 in the Quran reader

وہ ہے ہمارے ایمان دار بندوں میں

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ Open ayah 37:82 in the Quran reader

پھر ڈبا دیا ہم نے دوسروں کو3

3 تقریباً ہزار سال تک حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کو سمجھاتے اور نصیحت کرتے رہے۔ مگر ان کی شرارت اور ایذاء رسانی برابر بڑھتی رہی۔ آخر حضرت نوح نے مجبور ہو کر اپنے بھیجنے والے کی طرف متوجہ ہو کر عرض کیا۔ (فَدَعَا رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ ) 54 ۔ القمر :10) اے پروردگار ! میں مغلوب ہوں آپ میری مدد کو پہنچئے۔ دیکھ لو کہ اللہ نے ان کی پکار کیسی سنی اور مدد کو کس طرح پہنچا۔ نوح (علیہ السلام) کو مع ان کے گھرانے کے رات دن کی ایذاء سے بچایا۔ پھر ہولناک طوفان کے وقت ان کی حفاظت کی۔ اور تنہا اس کی اولاد سے زمین کو آباد کردیا۔ اور رہتی دنیا تک اس کا ذکر خیر لوگوں میں باقی چھوڑا۔ چناچہ آج تک خلقت ان پر سلام بھیجتی ہے اور سارے جہان میں " نوح (علیہ السلام) " کہہ کر یاد کیے جاتے ہیں۔ یہ تو نیک بندوں کا انجام ہوا۔ دوسری طرف ان کے دشمنوں کا حال دیکھو کہ سب کے سب زبردست طوفان کی نذر کردیے گئے۔ آج ان کا نام و نشان تک باقی نہیں۔ اپنی حماقتوں اور شرارتوں کی بدولت دنیا کا بیڑا غرق کرا کر رہے۔ (تنبیہ) اکثر علماء کا قول یہ ہی ہے کہ آج تمام دنیا کے آدمی حضرت نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹوں (سام، حام، یافث) کی اولاد سے ہیں۔ جامع ترمذی کی بعض احادیث میں بھی اس کا ثبوت ملتا ہے۔ والتفصیل بطلب من مظانہ۔
Ayah 37:83

وَ اِنَّ مِنْ شِیْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 37:83 in the Quran reader

اور اسی کی راہ والوں میں ہے ابراہیم4

4 انبیاء (علیہم السلام) اصول دین میں سب ایک راہ پر ہیں، اور ہر پچھلا پہلے کی تصدیق و تائید کرتا ہے۔ اسی لیے براہیم کو نوح (علیہم السلام) کے گروہ سے فرمایا۔ (وَاِنَّ هٰذِهٖٓ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّاَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّــقُوْنِ ) 23 ۔ المؤمنون :52)
Ayah 37:84

اِذْ جَآءَ رَبَّهٗ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ Open ayah 37:84 in the Quran reader

جب آیا اپنے رب کے پاس لیکر دل نروگا (بےروگ، ستھرا)5

5 یعنی ہر قسم کے اعتقادی و اخلاقی روگ سے دل کو پاک کر کے اور دنیاوی خرخشوں سے آزاد ہو کر انکسار و تواضع کے ساتھ اپنے رب کی طرف جھک پڑا۔ اور اپنی قوم کو بھی بت پرستی سے باز رہنے کی نصیحت کی۔
Ayahs 37:85–86

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا ذَا تَعْبُدُوْنَۚ Open ayah 37:85 in the Quran reader

جب کہا اپنے باپ کو اور اس کی قوم کو تم کیا پوجتے ہو

اَئِفْكًا اٰلِهَةً دُوْنَ اللّٰهِ تُرِیْدُوْنَؕ Open ayah 37:86 in the Quran reader

کیا جھوٹ بنائے ہوئے حاکموں کو اللہ کے سوائے چاہتے ہو6

6 یعنی یہ آخر پتھر کی مورتیاں چیز کیا ہیں جنہیں تم اس قدر چاہتے ہو کہ اللہ کو چھوڑ کر ان کے پیچھے ہو لیے۔ کیا سچ مچ ان کے ہاتھ میں جہان کی حکومت ہے ؟ یا کسی چھوٹے بڑے نقصان کے مالک ہیں ؟ آخر سچے مالک کو چھوڑ کر ان جھوٹے حاکموں کی اتنی خوشامد اور حمایت کیوں ہے ؟
Ayah 37:87

فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 37:87 in the Quran reader

پھر کیا خیال کیا ہے تم نے پروردگار عالم کو7

7 یعنی کیا اس کے وجود میں شبہ ہے ؟ یا اس کی شان و رتبہ کو نہیں سمجھتے جو (معاذ اللہ) پتھروں کو اس کا شریک ٹھہرا رہے ہو۔ یا اس کے غضب و انتقام کی خبر نہیں ؟ جو ایسی گستاخی پر جری ہوگئے ہو۔ آخر بتلاؤ تو سہی تم نے پروردگار عالم کو کیا خیال کر رکھا ہے۔
Ayahs 37:88–91

فَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُوْمِۙ Open ayah 37:88 in the Quran reader

پھر نگاہ کی ایک بار تاروں میں

فَقَالَ اِنِّیْ سَقِیْمٌ Open ayah 37:89 in the Quran reader

پھر کہا میں بیمار ہونے والا ہوں،

فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِیْنَ Open ayah 37:90 in the Quran reader

پھر پھرگئے وہ اس سے پیٹھ دے کر

فَرَاغَ اِلٰۤى اٰلِهَتِهِمْ فَقَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَۚ Open ayah 37:91 in the Quran reader

پھر جاگھسا ان کے بتوں میں پھر بولا تم کیوں نہیں کھاتے8

8 ان کی قوم میں نجوم کا زور تھا۔ حضرت ابراہیم نے ان کے دکھانے کو تاروں کی طرف نظر ڈال کر کہا کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں (اور ایسا دنیا میں کون ہے جس کی طبیعت ہر طرح ٹھیک رہے کچھ نہ کچھ عوارض اندرونی یا بیرونی لگے ہی رہتے ہیں۔ یہ ہی تکلیف اور بدمزگی کی کیا کم تھی کہ ہر وقت قوم کی ردی حالت دیکھ کر کڑھتے تھے) یا یہ مطلب تھا کہ میں بیمار ہونے والا ہوں (بیماری نام ہے مزاج کے اعتدال سے ہٹ جانے کا۔ تو موت سے پہلے ہر شخص کو یہ صورت پیش آنے والی ہے) بہرحال حضرت ابراہیم کی مراد صحیح تھی۔ لیکن ستاروں کی طرف دیکھ کر " انی سقیم " کہنے سے لوگ یہ مطلب سمجھے کہ بذریعہ نجوم کے انہوں نے معلوم کرلیا ہے کہ عنقریب بیمار پڑنے والے ہیں۔ وہ لوگ اپنے ایک تہوار میں شرکت کرنے کے لیے شہر سے باہر جا رہے تھے۔ یہ کلام سن کر حضرت ابراہیم کو ساتھ جانے سے معذور سمجھا اور تنہا چھوڑ کر چلے گئے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی غرض یہ ہی تھی کہ کوئی موقع فرصت اور تنہائی کا ملے تو ان جھوٹے خداؤں کی خبر لوں۔ چناچہ بت خانہ میں جا گھسے اور بتوں کو خطاب کر کے کہا " یہ کھانے اور چڑھاوے جو تمہارے سامنے رکھے ہوئے ہیں کیوں نہیں کھاتے۔ " باوجودیکہ تمہاری صورت کھانے والوں کی سی ہے (تنبیہ) تقریر بالا سے ظاہر ہوگیا کہ حضرت ابراہیم کا " انی سقیم " کہنا مطلب واقعی کے اعتبار سے جھوٹ نہ تھا، ہاں مخاطبین نے جو مطلب سمجھا اس کے اعتبار سے خلاف واقعہ تھا۔ اسی لیے بعض احادیث صحیحہ میں اس پر لفظ کذب کا اطلاق کیا گیا ہے۔ حالانکہ فی الحقیقت یہ کذب نہیں۔ بلکہ " توریہ " ہے اور اس طرح کا " توریہ " مصلحت شرعی کے وقت مباح ہے۔ جیسے حدیث ہجرت میں " ممن الرجل " کے جواب میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا " من المآء " اور ابوبکر صدیق ؓ نے ایک سوال کے جواب میں کہا " رجل یہدینی السبیل " ہاں چونکہ یہ توریہ بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے رتبہ بلند کے لحاظ سے خلاف اولیٰ تھا۔ اس لیے بقاعدہ حسنات الابرابر سئیات المقربین " حدیث میں اس کو " ذنب " قرار دیا گیا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 37:92

مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُوْنَ Open ayah 37:92 in the Quran reader

تم کو کیا ہے کہ نہیں بولتے9

9 جب بتوں کی طرف سے کھانے کے متعلق کچھ جواب نہ ملا تو کہنے لگا کہ تم بولتے کیوں نہیں۔ یعنی اعضاء اور صورت تو تمہاری انسانوں کی سی بنادی لیکن انسانوں کی روح تم میں نہ ڈال سکے۔ پھر تعجب ہے کہ کھانے پینے اور بولنے والے انسان، بےحس و حرکت انسان کے سامنے سربسجود ہوں اور اپنی مہمات میں ان سے مدد مطلب کریں ؟
Ayah 37:93

فَرَاغَ عَلَیْهِمْ ضَرْبًۢا بِالْیَمِیْنِ Open ayah 37:93 in the Quran reader

پھر گھسا ان پر مارتا ہوا داہنے ہاتھ سے10

10 یعنی زور سے مار مار کر توڑ ڈالا۔ پہلے غالباً سورة انبیاء میں یہ قصہ مفصل گزر چکا ہے۔
Ayah 37:94

فَاَقْبَلُوْۤا اِلَیْهِ یَزِفُّوْنَ Open ayah 37:94 in the Quran reader

پھر لوگ آئے اس پر دوڑ کر گھبراتے ہوئے1

1 لوگ جب اپنے میلے ٹھیلے سے واپس آئے، دیکھا بت ٹوٹے پڑے ہیں۔ قرائن سے سمجھا کہ ابراہیم کے سوا یہ کسی کا کام نہیں۔ چناچہ سب ان کی طرف جھپٹ پڑے۔
Ayahs 37:95–96

قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَۙ Open ayah 37:95 in the Quran reader

بولا کیوں پوجتے ہو جو آپ تراشتے ہو

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 37:96 in the Quran reader

اور اللہ نے بنایا تم کو اور جو تم بناتے ہو2

2 یعنی جس کسی نے بھی توڑا۔ مگر تم یہ احمقانہ حرکت کرتے کیوں ہو ؟ کیا پتھر کی بیجان مورت جو خود تم نے اپنے ہاتھوں سے تراش کر تیار کی پرستش کے لائق ہوگی ؟ اور جو اللہ تمہارا اور تمہارے ہر ایک عمل و معمول کا نیز ان پتھروں کا پیدا کرنے والا ہے، اس سے کوئی سروکار نہ تھا ؟ پیدا تو ہر چیز کو وہ کرے اور بندگی دوسروں کی ہونے لگے، پھر دوسرے بھی کیسے جو مخلوق درمخلوق ہیں۔ آخر یہ کیا اندھیرا ہے ؟
Ayahs 37:97–98

قَالُوا ابْنُوْا لَهٗ بُنْیَانًا فَاَلْقُوْهُ فِی الْجَحِیْمِ Open ayah 37:97 in the Quran reader

بولے بناؤ اس کے واسطے ایک عمارت پھر ڈالو اس کو آگ کے ڈھیر میں

فَاَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَسْفَلِیْنَ Open ayah 37:98 in the Quran reader

پھر چاہنے لگے اس پر برا داؤ کرنا پھر ہم نے ڈالا انہی کو نیچے3

3 جب ابراہیم (علیہ السلام) کی معقول باتوں کا کچھ جواب نہ بن پڑا تو یہ تجویز کی کہ ایک بڑا آتش خانہ بنا کر ابراہیم کو اس میں ڈال دو ۔ اس تدبیر سے لوگوں کے دلوں میں بتوں کی عقیدت راسخ ہوجائے گی اور ہیبت بیٹھ جائے گی کہ ان کے مخالف کا انجام ایسا ہوتا ہے آئندہ کوئی ایسی جرأت نہ کرے گا مگر اللہ نے ان ہی کو نیچا دکھلایا۔ ابراہیم پر آگ گلزار کردی گئی۔ جس سے علیٰ رؤس الاشہاد ثابت ہوگیا کہ تم اور تمہارے جھوٹے معبود سب مل کر خدائے واحد کے ایک مخلص بندے کا بال بیکا نہیں کرسکتے۔ آگ کی مجال نہیں کہ رب ابراہیم کی اجازت کے بدون ایک ناخن بھی جلا سکے۔
Ayah 37:99

وَ قَالَ اِنِّیْ ذَاهِبٌ اِلٰى رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 37:99 in the Quran reader

اور بولا میں جاتا ہوں اپنے رب کی طرف وہ مجھ کو راہ دے گا4

4 جب قوم کی طرف سے مایوسی ہوئی اور باپ نے بھی سختی شروع کی تو حضرت ابراہیم نے ہجرت کا ارادہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو " شام " کا راستہ دکھلایا۔
Ayah 37:100

رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:100 in the Quran reader

اے رب بخش مجھ کو کوئی نیک بیٹا5

5 یعنی کنبہ اور وطن چھوٹا تو اچھی اولاد عطا فرما، جو دینی کام میں میری مدد کرے اور اس سلسلہ کو باقی رکھے۔
Ayah 37:101

فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ Open ayah 37:101 in the Quran reader

پھر خوشخبری دی ہم نے اس کو ایک لڑکے کی جو ہوگا تحمل والاف 6

6 یہاں سے معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم نے اولاد کی دعا مانگی اور خدا نے قبول کی اور وہ ہی لڑکا قربانی کے لیے پیش کیا گیا۔ موجودہ تورات سے ثابت ہے کہ جو لڑکا حضرت ابراہیم کی دعا سے پیدا ہوا وہ حضرت اسماعیل ہیں۔ اور اسی لیے ان کا نام " اسماعیل " رکھا گیا۔ کیونکہ " اسماعیل " دو لفظوں سے مرکب ہے۔ " سمع " اور " ایل "، " سمع " کے معنی سننے کے اور " ایل " کے معنی خدا کے ہیں۔ یعنی خدا نے حضرت ابراہیم کی دعا سن لی۔ " تورات " میں ہے کہ خدا نے حضرت ابراہیم سے کہا کہ اسماعیل کے بارے میں میں نے تیری سن لی اس بناء پر آیت حاضرہ میں جس کا ذکر ہے وہ حضرت اسماعیل ہیں۔ حضرت اسحاق نہیں۔ اور ویسے بھی ذبح وغیرہ کا قصہ ختم کرنے کے بعد حضرت اسحاق کی بشارت کا جداگانہ ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ آگے آتا ہے۔ (وَبَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ ) 37 ۔ الصافات :12) معلوم ہوا کہ (فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِـيْمٍ ) 37 ۔ الصافات :101) میں ان کے علاوہ کسی دوسرے لڑکے کی بشارت مذکور ہے۔ نیز اسحاق کی بشارت دیتے ہوئے ان کے نبی بنائے جانے کی بھی خوشخبری دی گئی اور سورة ہود میں ان کے ساتھ ساتھ یعقوب کا مژدہ بھی سنایا گیا۔ جو حضرت اسحاق کے بیٹے ہوں گے۔ (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ ) 11 ۔ ہود :71) پھر کیسے گمان کیا جاسکتا ہے کہ حضرت اسحاق ذبح ہوں۔ گویا نبی بنائے جانے اور اولاد عطا کیے جانے سے پیشتر ہی ذبح کردیئے جائیں۔ لامحالہ ماننا پڑے گا کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہیں جن کے متعلق بشارت ولادت کے وقت نہ نبوت عطا فرمانے کا وعدہ ہوا نہ اولاد دیے جانے کا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ قربانی کی یادگار اور اس کی متعلقہ رسوم بنی اسماعیل میں برابر بطور وراثت منتقل ہوتی چلی آئیں۔ اور آج بھی اسماعیل کی روحانی اولاد ہی (جنہیں مسلمان کہتے ہیں) ان مقدس یادگاروں کی حامل ہے۔ موجودہ تورات میں تصریح ہے کہ قربانی کا مقام " مورا " یا " مریا " تھا۔ یہود و نصاریٰ نے اس مقام کا پتہ بتلانے میں بہت ہی دور ازکار احتمالات سے کام لیا ہے حالانکہ نہایت ہی اقرب اور بےتکلف بات یہ ہے کہ یہ مقام " مردہ " ہو جو کعبہ کے سامنے بالکل نزدیک واقعہ ہے اور جہاں سعی بین الصفا والمروۃ ختم کر کے معتمرین حلال ہوتے ہیں اور ممکن ہے " بلغ معہ السعی ' میں اسی سعی کی طرف ایماء ہو۔ موطا امام مالک کی ایک روایت میں نبی کریم ﷺ نے " مروہ " کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ قربان گاہ یہ ہے۔ غالبا وہ اسی ابراہیم و اسماعیل کی قربان گاہ کی طرف اشارہ ہوگا۔ ورنہ آپ ﷺ کے زمانہ میں لوگ عموماً مکہ سے تین میل " منیٰ " میں قربانی کرتے تھے جیسے آج تک کی جاتی ہے معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم کی اصل قربان گاہ " مروہ " تھی۔ پھر حجاج اور ذبائح کہ کثرت دیکھ کر منیٰ تک وسعت دے دی گئی۔ قرآن کریم میں بھی (هَدْيًۢا بٰلِــغَ الْكَعْبَةِ ) 5 ۔ المائدہ :95) اور (ثُمَّ مَحِلُّهَآ اِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيْقِ ) 22 ۔ الحج :33) فرمایا ہے جس سے کعبہ کا قرب ظاہر ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔ بہرحال قرائن و آثار یہ ہی بتلاتے ہیں کہ " ذبیح اللہ " وہ ہی اسماعیل تھے جو مکہ میں آخر رہے اور وہیں اس کی نسل پھیلی۔ تورات میں یہ بھی تصریح ہے کہ حضرت ابراہیم کو اپنے اکلوتے اور محبوب بیٹے کے ذبح کا حکم دیا گیا تھا اور یہ مسلم ہے کہ حضرت اسماعیل حضرت اسحاق سے عمر میں بڑے ہیں۔ پھر حضرت اسحاق (علیہ السلام) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی موجودگی میں اکلوتے کیسے ہوسکتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہاں حضرت ابراہیم کی دعاء کے جواب میں جس لڑکے کی بشارت ملی اسے " غلام حلیم " کہا گیا ہے۔ لیکن حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت جب فرشتوں نے ابتداء خدا کی طرف سے دی تو " غلام علیم " سے تعبیر کیا۔ حق تعالیٰ کی طرف سے " حلیم " کا لفظ ان پر یا کسی اور نبی پر قرآن میں کہیں اطلاق نہیں کیا گیا۔ صرف اس لڑکے کو جس کی بشارت یہاں دی گئی اور اس کے باپ ابراہیم کو یہ لقب عطا ہوا ہے۔ ( اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَحَلِيْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِيْبٌ) 11 ۔ ہود :75) اور (اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ) 9 ۔ التوبہ :114) جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ہی دونوں باپ بیٹے اس لقب خاص سے ملقب کرنے کے مستحق ہوئے۔ " حلیم " اور " صابر " کا مفہوم قریب قریب ہے۔ اسی " غلام حلیم " کی زبان سے یہاں نقل کیا۔ (سَتَجِدُنِيْٓ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ ) 37 ۔ الصافات :102) " دوسری جگہ صاف فرما دیا (وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِدْرِيْسَ وَذَا الْكِفْلِ ۭ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِيْنَ ) 21 ۔ الانبیاء :85) شاید اسی لیے سورة " مریم " میں حضرت اسماعیل کو " صادق الوعد " فرمایا کہ " ستجدنی انشاء اللہ من الصابرین " کے وعدہ کو کس طرح سچا کر دکھایا۔ بہرحال " حلیم "، " صابر "، " صادق الوعد " کے القاب کا مصداق ایک ہی معلوم ہوتا ہے۔ یعنی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ۔ (وَكَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِيًّا) 19 ۔ مریم :55) سورة " بقرہ " میں تعمیر کعبہ کے وقت حضرت ابراہیم و اسماعیل کی زبان سے جو دعا نقل فرمائی ہے اس میں یہ الفاظ بھی ہیں۔ (رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ ) 2 ۔ البقرۃ :128) بعینہ اسی مسلم کے تثنیہ کو یہاں قربانی کے ذکر میں " فلما اسلما الخ " کے لفظ سے ادا کردیا۔ اور ان ہی دونوں کی ذریت کو خصوصی طور پر " مسلم " کے لقب سے نامزد کیا۔ بیشک اس سے بڑھ کر اسلام و تفویض اور صبر تحمل کیا ہوگا جو دونوں باپ بیٹے نے ذبح کرنے اور ذبح ہونے کے متعلق دکھلایا۔ یہ اسی " اسلما " کا صلہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی ذریت کو " امت مسلمہ " بنادیا فللہ الحمد علی ذلک۔
Ayah 37:102

فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى١ؕ قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ١٘ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 37:102 in the Quran reader

پھر جب پہنچا اس کے ساتھ دوڑنے کو کہا اے بیٹے میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ تجھ کو ذبح کرتا ہوں پھر دیکھ تو تو کیا دیکھتا ہے بولا اے باپ کر ڈال جو تجھ کو حکم ہوتا ہے تو مجھ کو پائے گا اگر اللہ نے چاہا سہارنے والاف 7

7 یعنی جب اسماعیل بڑا ہو کر اس قابل ہوگیا کہ اپنے باپ کے ساتھ دوڑ سکے اور اس کے کام آسکے اس وقت ابراہیم نے اپنا خواب بیٹے کو سنایا تاکہ اس کا خیال معلوم کریں کہ خوشی سے آمادہ ہوتا ہے یا زبردستی کرنی پڑے گی۔ کہتے ہیں کہ تین رات مسلسل یہ ہی خواب دیکھتے رہے۔ تیسرے روز بیٹے کو اطلاع کی، بیٹے نے بلا توقف قبول کیا کہنے لگا کہ ابا جان ! (دیر کیا ہے) مالک کا جو حکم ہو کر ڈالیے (ایسے کام میں مشورہ کی ضرورت نہیں۔ امر الٰہی کے امتثال میں شفقت پدری مانع نہ ہونی چاہیے) رہا میں ! سو آپ انشاء اللہ دیکھ لیں گے کہ کس صبرو تحمل سے اللہ کے حکم کی تعمیل کرتا ہوں ہزاروں ہزار رحمتیں ہوں ایسے بیٹے اور باپ پر۔
Ayah 37:103

فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ Open ayah 37:103 in the Quran reader

پھر جب دونوں نے حکم مانا اور پچھاڑا اس کو ماتھے کے بل8

8 تاکہ بیٹے کا چہرہ سامنے ہو مبادا محبت پدری جوش مارنے لگے، کہتے ہیں یہ بات بیٹے نے سکھلائی۔ آگے اللہ نے نہیں فرمایا کہ کیا ماجرا گزرا۔ یعنی کہنے میں نہیں آتا جو حال گزرا اس کے دل پر اور فرشتوں پر۔
Ayahs 37:104–105

وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ Open ayah 37:104 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو پکارا یوں کہ اے ابراہیم

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَا١ۚ اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:105 in the Quran reader

تو نے سچ کر دکھایا خواب9 ہم یوں دیتے ہیں بدلہ نیکی کرنے والوں کو

9 یعنی بس بس ! رہنے دے۔ تو نے خواب سچا کر دکھایا۔ مقصود بیٹے کا ذبح کرانا نہیں۔ محض تیرا امتحان منظور تھا۔ سو اس میں پوری طرح کامیاب ہوا۔
Ayah 37:106

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْبَلٰٓؤُا الْمُبِیْنُ Open ayah 37:106 in the Quran reader

بیشک یہی ہے صریح جانچنا10

10 یعنی ایسے مشکل حکم کر کے آزماتے ہیں، پھر ان کو ثابت قدم رکھتے ہیں۔ تب درجے بلند دیتے ہیں۔ تورات میں ہے کہ جب ابراہیم نے بیٹے کو قربان کرنا چاہا اور فرشتہ نے ندا دی کہ ہاتھ روک لو، تو فرشتے نے یہ الفاظ کہے۔ " خدا کہتا ہے کہ چونکہ تو نے ایسا کام کیا اور اپنے اکلوتے بیٹے کو بچا نہیں رکھا۔ میں تجھ کو برکت دوں گا۔ اور تیری نسل کو آسمان کے ستاروں اور ساحل بحر کی ریت کی طرح پھیلا دوں گا۔ " (تورات تکوین اصحاح 22، آیت 15)
Ayah 37:107

وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ Open ayah 37:107 in the Quran reader

اور اس کا بدلہ دیا ہم نے ایک جانور ذبح کرنے کے واسطے11 بڑا

11 یعنی بڑے درجہ کا جو بہشت سے آیا۔ یا بڑا قیمتی، فربہ، تیار۔ پھر یہ ہی رسم قربانی کی اسماعیل (علیہ السلام) کی عظیم الشان یادگار کے طور پر ہمیشہ کے لیے قائم کردی۔
Ayahs 37:108–109

وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ Open ayah 37:108 in the Quran reader

اور باقی رکھا ہم نے اس پر پچھلے لوگوں میں

سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ Open ayah 37:109 in the Quran reader

کہ سلام ہے ابراہیم پر12

12 آج تک دنیا ابراہیم کو بھلائی اور بڑائی سے یاد کرتی ہے۔ علٰی نبینا وعلیہ الف الف سلام وتحیۃ۔
Ayahs 37:110–111

كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 37:110 in the Quran reader

ہم یوں دیتے ہیں بدلہ نیکی کرنے والوں کو

اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 37:111 in the Quran reader

وہ ہے ہمارے ایماندار بندوں میں13

13 یعنی ہمارے اعلیٰ درجہ کے ایماندار بندوں میں۔
Ayah 37:112

وَ بَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 37:112 in the Quran reader

اور خوشخبری دی ہم نے اس کو اسحاق کی جو نبی ہوگا نیک بختوں میں1

1 معلوم ہوا وہ پہلی خوشخبری اسماعیل کی تھی۔ اور سارا قصہ ذبح کا ان ہی پر تھا۔
Ayah 37:113

وَ بٰرَكْنَا عَلَیْهِ وَ عَلٰۤى اِسْحٰقَ١ؕ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَّ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ مُبِیْنٌ۠ Open ayah 37:113 in the Quran reader

اور برکت دی ہم نے اس پر اور اسحاق پر اور دونوں کی اولاد میں نیکی والے ہیں اور بدکار بھی ہیں اپنے حق میں صریح2

2 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہ دونوں کہا دونوں بیٹوں کو۔ دونوں سے بہت اولاد پھیلی۔ اسحاق کی اولاد میں انبیاء بنی اسرائیل ہوئے۔ اور اسماعیل کی اولاد میں عرب ہیں جن میں ہمارے پیغمبر مبعوث ہوئے۔ یعنی اولاد میں سب یکساں نہیں، اچھے بھی جو بڑوں کا نام روشن رکھیں اور برے بھی جو اپنی بدکاریوں کی وجہ سے ننگ خاندان کہلانے کے مستحق ہیں۔ (تنبیہ) عموماً مفسرین نے " ومن ذریتہما " کی ضمیر " ابراہیم واسحاق " کی طرف راجع کی ہے۔ مگر حضرت شاہ صاحب نے اسماعیل و اسحاق کی طرف راجع کر کے مضمون میں زیادہ وسعت پید اکردی۔