Ayahs 37:75–823 تقریباً ہزار سال تک حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کو سمجھاتے اور نصیحت کرتے رہے۔ مگر ان کی شرارت اور ایذاء رسانی برابر بڑھتی رہی۔ آخر حضرت نوح نے مجبور ہو کر اپنے بھیجنے والے کی طرف متوجہ ہو کر عرض کیا۔ (فَدَعَا رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ ) 54 ۔ القمر :10) اے پروردگار ! میں مغلوب ہوں آپ میری مدد کو پہنچئے۔ دیکھ لو کہ اللہ نے ان کی پکار کیسی سنی اور مدد کو کس طرح پہنچا۔ نوح (علیہ السلام) کو مع ان کے گھرانے کے رات دن کی ایذاء سے بچایا۔ پھر ہولناک طوفان کے وقت ان کی حفاظت کی۔ اور تنہا اس کی اولاد سے زمین کو آباد کردیا۔ اور رہتی دنیا تک اس کا ذکر خیر لوگوں میں باقی چھوڑا۔ چناچہ آج تک خلقت ان پر سلام بھیجتی ہے اور سارے جہان میں " نوح (علیہ السلام) " کہہ کر یاد کیے جاتے ہیں۔ یہ تو نیک بندوں کا انجام ہوا۔ دوسری طرف ان کے دشمنوں کا حال دیکھو کہ سب کے سب زبردست طوفان کی نذر کردیے گئے۔ آج ان کا نام و نشان تک باقی نہیں۔ اپنی حماقتوں اور شرارتوں کی بدولت دنیا کا بیڑا غرق کرا کر رہے۔ (تنبیہ) اکثر علماء کا قول یہ ہی ہے کہ آج تمام دنیا کے آدمی حضرت نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹوں (سام، حام، یافث) کی اولاد سے ہیں۔ جامع ترمذی کی بعض احادیث میں بھی اس کا ثبوت ملتا ہے۔ والتفصیل بطلب من مظانہ۔
Ayah 37:834 انبیاء (علیہم السلام) اصول دین میں سب ایک راہ پر ہیں، اور ہر پچھلا پہلے کی تصدیق و تائید کرتا ہے۔ اسی لیے براہیم کو نوح (علیہم السلام) کے گروہ سے فرمایا۔ (وَاِنَّ هٰذِهٖٓ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّاَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّــقُوْنِ ) 23 ۔ المؤمنون :52)
Ayah 37:845 یعنی ہر قسم کے اعتقادی و اخلاقی روگ سے دل کو پاک کر کے اور دنیاوی خرخشوں سے آزاد ہو کر انکسار و تواضع کے ساتھ اپنے رب کی طرف جھک پڑا۔ اور اپنی قوم کو بھی بت پرستی سے باز رہنے کی نصیحت کی۔
Ayahs 37:85–866 یعنی یہ آخر پتھر کی مورتیاں چیز کیا ہیں جنہیں تم اس قدر چاہتے ہو کہ اللہ کو چھوڑ کر ان کے پیچھے ہو لیے۔ کیا سچ مچ ان کے ہاتھ میں جہان کی حکومت ہے ؟ یا کسی چھوٹے بڑے نقصان کے مالک ہیں ؟ آخر سچے مالک کو چھوڑ کر ان جھوٹے حاکموں کی اتنی خوشامد اور حمایت کیوں ہے ؟
Ayah 37:877 یعنی کیا اس کے وجود میں شبہ ہے ؟ یا اس کی شان و رتبہ کو نہیں سمجھتے جو (معاذ اللہ) پتھروں کو اس کا شریک ٹھہرا رہے ہو۔ یا اس کے غضب و انتقام کی خبر نہیں ؟ جو ایسی گستاخی پر جری ہوگئے ہو۔ آخر بتلاؤ تو سہی تم نے پروردگار عالم کو کیا خیال کر رکھا ہے۔
Ayahs 37:88–918 ان کی قوم میں نجوم کا زور تھا۔ حضرت ابراہیم نے ان کے دکھانے کو تاروں کی طرف نظر ڈال کر کہا کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں (اور ایسا دنیا میں کون ہے جس کی طبیعت ہر طرح ٹھیک رہے کچھ نہ کچھ عوارض اندرونی یا بیرونی لگے ہی رہتے ہیں۔ یہ ہی تکلیف اور بدمزگی کی کیا کم تھی کہ ہر وقت قوم کی ردی حالت دیکھ کر کڑھتے تھے) یا یہ مطلب تھا کہ میں بیمار ہونے والا ہوں (بیماری نام ہے مزاج کے اعتدال سے ہٹ جانے کا۔ تو موت سے پہلے ہر شخص کو یہ صورت پیش آنے والی ہے) بہرحال حضرت ابراہیم کی مراد صحیح تھی۔ لیکن ستاروں کی طرف دیکھ کر " انی سقیم " کہنے سے لوگ یہ مطلب سمجھے کہ بذریعہ نجوم کے انہوں نے معلوم کرلیا ہے کہ عنقریب بیمار پڑنے والے ہیں۔ وہ لوگ اپنے ایک تہوار میں شرکت کرنے کے لیے شہر سے باہر جا رہے تھے۔ یہ کلام سن کر حضرت ابراہیم کو ساتھ جانے سے معذور سمجھا اور تنہا چھوڑ کر چلے گئے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی غرض یہ ہی تھی کہ کوئی موقع فرصت اور تنہائی کا ملے تو ان جھوٹے خداؤں کی خبر لوں۔ چناچہ بت خانہ میں جا گھسے اور بتوں کو خطاب کر کے کہا " یہ کھانے اور چڑھاوے جو تمہارے سامنے رکھے ہوئے ہیں کیوں نہیں کھاتے۔ " باوجودیکہ تمہاری صورت کھانے والوں کی سی ہے (تنبیہ) تقریر بالا سے ظاہر ہوگیا کہ حضرت ابراہیم کا " انی سقیم " کہنا مطلب واقعی کے اعتبار سے جھوٹ نہ تھا، ہاں مخاطبین نے جو مطلب سمجھا اس کے اعتبار سے خلاف واقعہ تھا۔ اسی لیے بعض احادیث صحیحہ میں اس پر لفظ کذب کا اطلاق کیا گیا ہے۔ حالانکہ فی الحقیقت یہ کذب نہیں۔ بلکہ " توریہ " ہے اور اس طرح کا " توریہ " مصلحت شرعی کے وقت مباح ہے۔ جیسے حدیث ہجرت میں " ممن الرجل " کے جواب میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا " من المآء " اور ابوبکر صدیق ؓ نے ایک سوال کے جواب میں کہا " رجل یہدینی السبیل " ہاں چونکہ یہ توریہ بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے رتبہ بلند کے لحاظ سے خلاف اولیٰ تھا۔ اس لیے بقاعدہ حسنات الابرابر سئیات المقربین " حدیث میں اس کو " ذنب " قرار دیا گیا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 37:929 جب بتوں کی طرف سے کھانے کے متعلق کچھ جواب نہ ملا تو کہنے لگا کہ تم بولتے کیوں نہیں۔ یعنی اعضاء اور صورت تو تمہاری انسانوں کی سی بنادی لیکن انسانوں کی روح تم میں نہ ڈال سکے۔ پھر تعجب ہے کہ کھانے پینے اور بولنے والے انسان، بےحس و حرکت انسان کے سامنے سربسجود ہوں اور اپنی مہمات میں ان سے مدد مطلب کریں ؟
Ayah 37:9310 یعنی زور سے مار مار کر توڑ ڈالا۔ پہلے غالباً سورة انبیاء میں یہ قصہ مفصل گزر چکا ہے۔
Ayah 37:941 لوگ جب اپنے میلے ٹھیلے سے واپس آئے، دیکھا بت ٹوٹے پڑے ہیں۔ قرائن سے سمجھا کہ ابراہیم کے سوا یہ کسی کا کام نہیں۔ چناچہ سب ان کی طرف جھپٹ پڑے۔
Ayahs 37:95–962 یعنی جس کسی نے بھی توڑا۔ مگر تم یہ احمقانہ حرکت کرتے کیوں ہو ؟ کیا پتھر کی بیجان مورت جو خود تم نے اپنے ہاتھوں سے تراش کر تیار کی پرستش کے لائق ہوگی ؟ اور جو اللہ تمہارا اور تمہارے ہر ایک عمل و معمول کا نیز ان پتھروں کا پیدا کرنے والا ہے، اس سے کوئی سروکار نہ تھا ؟ پیدا تو ہر چیز کو وہ کرے اور بندگی دوسروں کی ہونے لگے، پھر دوسرے بھی کیسے جو مخلوق درمخلوق ہیں۔ آخر یہ کیا اندھیرا ہے ؟
Ayahs 37:97–983 جب ابراہیم (علیہ السلام) کی معقول باتوں کا کچھ جواب نہ بن پڑا تو یہ تجویز کی کہ ایک بڑا آتش خانہ بنا کر ابراہیم کو اس میں ڈال دو ۔ اس تدبیر سے لوگوں کے دلوں میں بتوں کی عقیدت راسخ ہوجائے گی اور ہیبت بیٹھ جائے گی کہ ان کے مخالف کا انجام ایسا ہوتا ہے آئندہ کوئی ایسی جرأت نہ کرے گا مگر اللہ نے ان ہی کو نیچا دکھلایا۔ ابراہیم پر آگ گلزار کردی گئی۔ جس سے علیٰ رؤس الاشہاد ثابت ہوگیا کہ تم اور تمہارے جھوٹے معبود سب مل کر خدائے واحد کے ایک مخلص بندے کا بال بیکا نہیں کرسکتے۔ آگ کی مجال نہیں کہ رب ابراہیم کی اجازت کے بدون ایک ناخن بھی جلا سکے۔
Ayah 37:994 جب قوم کی طرف سے مایوسی ہوئی اور باپ نے بھی سختی شروع کی تو حضرت ابراہیم نے ہجرت کا ارادہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو " شام " کا راستہ دکھلایا۔
Ayah 37:1005 یعنی کنبہ اور وطن چھوٹا تو اچھی اولاد عطا فرما، جو دینی کام میں میری مدد کرے اور اس سلسلہ کو باقی رکھے۔
Ayah 37:1016 یہاں سے معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم نے اولاد کی دعا مانگی اور خدا نے قبول کی اور وہ ہی لڑکا قربانی کے لیے پیش کیا گیا۔ موجودہ تورات سے ثابت ہے کہ جو لڑکا حضرت ابراہیم کی دعا سے پیدا ہوا وہ حضرت اسماعیل ہیں۔ اور اسی لیے ان کا نام " اسماعیل " رکھا گیا۔ کیونکہ " اسماعیل " دو لفظوں سے مرکب ہے۔ " سمع " اور " ایل "، " سمع " کے معنی سننے کے اور " ایل " کے معنی خدا کے ہیں۔ یعنی خدا نے حضرت ابراہیم کی دعا سن لی۔ " تورات " میں ہے کہ خدا نے حضرت ابراہیم سے کہا کہ اسماعیل کے بارے میں میں نے تیری سن لی اس بناء پر آیت حاضرہ میں جس کا ذکر ہے وہ حضرت اسماعیل ہیں۔ حضرت اسحاق نہیں۔ اور ویسے بھی ذبح وغیرہ کا قصہ ختم کرنے کے بعد حضرت اسحاق کی بشارت کا جداگانہ ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ آگے آتا ہے۔ (وَبَشَّرْنٰهُ بِاِسْحٰقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ ) 37 ۔ الصافات :12) معلوم ہوا کہ (فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِـيْمٍ ) 37 ۔ الصافات :101) میں ان کے علاوہ کسی دوسرے لڑکے کی بشارت مذکور ہے۔ نیز اسحاق کی بشارت دیتے ہوئے ان کے نبی بنائے جانے کی بھی خوشخبری دی گئی اور سورة ہود میں ان کے ساتھ ساتھ یعقوب کا مژدہ بھی سنایا گیا۔ جو حضرت اسحاق کے بیٹے ہوں گے۔ (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ ) 11 ۔ ہود :71) پھر کیسے گمان کیا جاسکتا ہے کہ حضرت اسحاق ذبح ہوں۔ گویا نبی بنائے جانے اور اولاد عطا کیے جانے سے پیشتر ہی ذبح کردیئے جائیں۔ لامحالہ ماننا پڑے گا کہ ذبیح اللہ حضرت اسماعیل ہیں جن کے متعلق بشارت ولادت کے وقت نہ نبوت عطا فرمانے کا وعدہ ہوا نہ اولاد دیے جانے کا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ قربانی کی یادگار اور اس کی متعلقہ رسوم بنی اسماعیل میں برابر بطور وراثت منتقل ہوتی چلی آئیں۔ اور آج بھی اسماعیل کی روحانی اولاد ہی (جنہیں مسلمان کہتے ہیں) ان مقدس یادگاروں کی حامل ہے۔ موجودہ تورات میں تصریح ہے کہ قربانی کا مقام " مورا " یا " مریا " تھا۔ یہود و نصاریٰ نے اس مقام کا پتہ بتلانے میں بہت ہی دور ازکار احتمالات سے کام لیا ہے حالانکہ نہایت ہی اقرب اور بےتکلف بات یہ ہے کہ یہ مقام " مردہ " ہو جو کعبہ کے سامنے بالکل نزدیک واقعہ ہے اور جہاں سعی بین الصفا والمروۃ ختم کر کے معتمرین حلال ہوتے ہیں اور ممکن ہے " بلغ معہ السعی ' میں اسی سعی کی طرف ایماء ہو۔ موطا امام مالک کی ایک روایت میں نبی کریم ﷺ نے " مروہ " کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ قربان گاہ یہ ہے۔ غالبا وہ اسی ابراہیم و اسماعیل کی قربان گاہ کی طرف اشارہ ہوگا۔ ورنہ آپ ﷺ کے زمانہ میں لوگ عموماً مکہ سے تین میل " منیٰ " میں قربانی کرتے تھے جیسے آج تک کی جاتی ہے معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم کی اصل قربان گاہ " مروہ " تھی۔ پھر حجاج اور ذبائح کہ کثرت دیکھ کر منیٰ تک وسعت دے دی گئی۔ قرآن کریم میں بھی (هَدْيًۢا بٰلِــغَ الْكَعْبَةِ ) 5 ۔ المائدہ :95) اور (ثُمَّ مَحِلُّهَآ اِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيْقِ ) 22 ۔ الحج :33) فرمایا ہے جس سے کعبہ کا قرب ظاہر ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔ بہرحال قرائن و آثار یہ ہی بتلاتے ہیں کہ " ذبیح اللہ " وہ ہی اسماعیل تھے جو مکہ میں آخر رہے اور وہیں اس کی نسل پھیلی۔ تورات میں یہ بھی تصریح ہے کہ حضرت ابراہیم کو اپنے اکلوتے اور محبوب بیٹے کے ذبح کا حکم دیا گیا تھا اور یہ مسلم ہے کہ حضرت اسماعیل حضرت اسحاق سے عمر میں بڑے ہیں۔ پھر حضرت اسحاق (علیہ السلام) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی موجودگی میں اکلوتے کیسے ہوسکتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہاں حضرت ابراہیم کی دعاء کے جواب میں جس لڑکے کی بشارت ملی اسے " غلام حلیم " کہا گیا ہے۔ لیکن حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی بشارت جب فرشتوں نے ابتداء خدا کی طرف سے دی تو " غلام علیم " سے تعبیر کیا۔ حق تعالیٰ کی طرف سے " حلیم " کا لفظ ان پر یا کسی اور نبی پر قرآن میں کہیں اطلاق نہیں کیا گیا۔ صرف اس لڑکے کو جس کی بشارت یہاں دی گئی اور اس کے باپ ابراہیم کو یہ لقب عطا ہوا ہے۔ ( اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَحَلِيْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِيْبٌ) 11 ۔ ہود :75) اور (اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ) 9 ۔ التوبہ :114) جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ہی دونوں باپ بیٹے اس لقب خاص سے ملقب کرنے کے مستحق ہوئے۔ " حلیم " اور " صابر " کا مفہوم قریب قریب ہے۔ اسی " غلام حلیم " کی زبان سے یہاں نقل کیا۔ (سَتَجِدُنِيْٓ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ ) 37 ۔ الصافات :102) " دوسری جگہ صاف فرما دیا (وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِدْرِيْسَ وَذَا الْكِفْلِ ۭ كُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِيْنَ ) 21 ۔ الانبیاء :85) شاید اسی لیے سورة " مریم " میں حضرت اسماعیل کو " صادق الوعد " فرمایا کہ " ستجدنی انشاء اللہ من الصابرین " کے وعدہ کو کس طرح سچا کر دکھایا۔ بہرحال " حلیم "، " صابر "، " صادق الوعد " کے القاب کا مصداق ایک ہی معلوم ہوتا ہے۔ یعنی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ۔ (وَكَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِيًّا) 19 ۔ مریم :55) سورة " بقرہ " میں تعمیر کعبہ کے وقت حضرت ابراہیم و اسماعیل کی زبان سے جو دعا نقل فرمائی ہے اس میں یہ الفاظ بھی ہیں۔ (رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ ) 2 ۔ البقرۃ :128) بعینہ اسی مسلم کے تثنیہ کو یہاں قربانی کے ذکر میں " فلما اسلما الخ " کے لفظ سے ادا کردیا۔ اور ان ہی دونوں کی ذریت کو خصوصی طور پر " مسلم " کے لقب سے نامزد کیا۔ بیشک اس سے بڑھ کر اسلام و تفویض اور صبر تحمل کیا ہوگا جو دونوں باپ بیٹے نے ذبح کرنے اور ذبح ہونے کے متعلق دکھلایا۔ یہ اسی " اسلما " کا صلہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی ذریت کو " امت مسلمہ " بنادیا فللہ الحمد علی ذلک۔
Ayah 37:1027 یعنی جب اسماعیل بڑا ہو کر اس قابل ہوگیا کہ اپنے باپ کے ساتھ دوڑ سکے اور اس کے کام آسکے اس وقت ابراہیم نے اپنا خواب بیٹے کو سنایا تاکہ اس کا خیال معلوم کریں کہ خوشی سے آمادہ ہوتا ہے یا زبردستی کرنی پڑے گی۔ کہتے ہیں کہ تین رات مسلسل یہ ہی خواب دیکھتے رہے۔ تیسرے روز بیٹے کو اطلاع کی، بیٹے نے بلا توقف قبول کیا کہنے لگا کہ ابا جان ! (دیر کیا ہے) مالک کا جو حکم ہو کر ڈالیے (ایسے کام میں مشورہ کی ضرورت نہیں۔ امر الٰہی کے امتثال میں شفقت پدری مانع نہ ہونی چاہیے) رہا میں ! سو آپ انشاء اللہ دیکھ لیں گے کہ کس صبرو تحمل سے اللہ کے حکم کی تعمیل کرتا ہوں ہزاروں ہزار رحمتیں ہوں ایسے بیٹے اور باپ پر۔
Ayah 37:1038 تاکہ بیٹے کا چہرہ سامنے ہو مبادا محبت پدری جوش مارنے لگے، کہتے ہیں یہ بات بیٹے نے سکھلائی۔ آگے اللہ نے نہیں فرمایا کہ کیا ماجرا گزرا۔ یعنی کہنے میں نہیں آتا جو حال گزرا اس کے دل پر اور فرشتوں پر۔
Ayahs 37:104–1059 یعنی بس بس ! رہنے دے۔ تو نے خواب سچا کر دکھایا۔ مقصود بیٹے کا ذبح کرانا نہیں۔ محض تیرا امتحان منظور تھا۔ سو اس میں پوری طرح کامیاب ہوا۔
Ayah 37:10610 یعنی ایسے مشکل حکم کر کے آزماتے ہیں، پھر ان کو ثابت قدم رکھتے ہیں۔ تب درجے بلند دیتے ہیں۔ تورات میں ہے کہ جب ابراہیم نے بیٹے کو قربان کرنا چاہا اور فرشتہ نے ندا دی کہ ہاتھ روک لو، تو فرشتے نے یہ الفاظ کہے۔ " خدا کہتا ہے کہ چونکہ تو نے ایسا کام کیا اور اپنے اکلوتے بیٹے کو بچا نہیں رکھا۔ میں تجھ کو برکت دوں گا۔ اور تیری نسل کو آسمان کے ستاروں اور ساحل بحر کی ریت کی طرح پھیلا دوں گا۔ " (تورات تکوین اصحاح 22، آیت 15)
Ayah 37:10711 یعنی بڑے درجہ کا جو بہشت سے آیا۔ یا بڑا قیمتی، فربہ، تیار۔ پھر یہ ہی رسم قربانی کی اسماعیل (علیہ السلام) کی عظیم الشان یادگار کے طور پر ہمیشہ کے لیے قائم کردی۔
Ayahs 37:108–10912 آج تک دنیا ابراہیم کو بھلائی اور بڑائی سے یاد کرتی ہے۔ علٰی نبینا وعلیہ الف الف سلام وتحیۃ۔
Ayahs 37:110–11113 یعنی ہمارے اعلیٰ درجہ کے ایماندار بندوں میں۔
Ayah 37:1121 معلوم ہوا وہ پہلی خوشخبری اسماعیل کی تھی۔ اور سارا قصہ ذبح کا ان ہی پر تھا۔
Ayah 37:1132 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہ دونوں کہا دونوں بیٹوں کو۔ دونوں سے بہت اولاد پھیلی۔ اسحاق کی اولاد میں انبیاء بنی اسرائیل ہوئے۔ اور اسماعیل کی اولاد میں عرب ہیں جن میں ہمارے پیغمبر مبعوث ہوئے۔ یعنی اولاد میں سب یکساں نہیں، اچھے بھی جو بڑوں کا نام روشن رکھیں اور برے بھی جو اپنی بدکاریوں کی وجہ سے ننگ خاندان کہلانے کے مستحق ہیں۔ (تنبیہ) عموماً مفسرین نے " ومن ذریتہما " کی ضمیر " ابراہیم واسحاق " کی طرف راجع کی ہے۔ مگر حضرت شاہ صاحب نے اسماعیل و اسحاق کی طرف راجع کر کے مضمون میں زیادہ وسعت پید اکردی۔