37. Surah As-Saaffaat

الصافاتThose drawn up in Ranks · 182 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 37:41–42

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌۙ Open ayah 37:41 in the Quran reader

وہ لوگ جو ہیں ان کے واسطے روزی ہے مقرر

فَوَاكِهُ١ۚ وَ هُمْ مُّكْرَمُوْنَۙ Open ayah 37:42 in the Quran reader

میوے7 اور ان کی عزت ہے8

7 یعنی عجیب و غریب میوے کھانے کو ملیں گے۔ جن کی پوری صفت تو اللہ ہی کو معلوم ہے ہاں کچھ مختصر سی بندوں کو بھی بتلا دی ہے جیسے فرمایا " (لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّلَا مَمْنُوْعَةٍ ) 56 ۔ واقعہ :33) 8 خدا ہی جانے کیا کیا اعزازو اکرام ہوں گے۔
Ayahs 37:43–47

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 37:43 in the Quran reader

نعمت کے باغوں میں

عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 37:44 in the Quran reader

تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے

یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِكَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۭۙ Open ayah 37:45 in the Quran reader

لوگ لیے پھرتے ہیں ان کے پاس پیالہ شراب صاف کا

بَیْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَۚۖ Open ayah 37:46 in the Quran reader

سفید رنگ مزہ دینے والی پینے والوں کو

لَا فِیْهَا غَوْلٌ وَّ لَا هُمْ عَنْهَا یُنْزَفُوْنَ Open ayah 37:47 in the Quran reader

نہ اس میں سر پھرتا ہے اور نہ وہ اس کو پی کر بہکیں9

9 یعنی مزہ اور نشاط پورا ہوگا۔ اور دنیا کی شراب میں جو خرابیاں ہوتی ہیں ان کا نام و نشان نہ ہوگا نہ سرگرانی ہوگی نہ نشہ چڑھے گا، نہ قے آئے گی، نہ پھیپھڑے وغیرہ خراب ہوں گے، نہ اس کی نہریں خشک ہو کر ختم ہو سکیں گی۔
Ayah 37:48

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌۙ Open ayah 37:48 in the Quran reader

اور ان کے پاس ہیں عورتیں نیچی نگاہ رکھنے والیاں بڑی آنکھوں والیاں10

10 یعنی شرم و ناز سے نگاہ نیچی رکھنے والی حوریں جو اپنے ازواج کے سوا کسی دوسرے کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھیں۔
Ayah 37:49

كَاَنَّهُنَّ بَیْضٌ مَّكْنُوْنٌ Open ayah 37:49 in the Quran reader

گویا وہ انڈے ہیں چھپے دھرے11

11 یعنی صاف و شفاف رنگ ہوگا جیسے انڈا جس کو پرند اپنے پروں میں نیچے چھپائے رکھے کہ نہ داغ لگے نہ گردو غبار پہنچے۔ یا انڈے کے اندر کی سفید تہ جو سخت چھلکے کے نیچے پوشیدہ رہتی ہے۔ اور بعض نے کہا کہ شتر مرغ کے انڈے مراد ہیں جو بہت خو شرنگ ہوتے ہیں۔ بہرحال تشبیہ صفائی یا خو شرنگ ہونے میں ہے سفیدی میں نہیں۔ چناچہ دوسری جگہ فرمایا۔ (كَاَنَّهُنَّ الْيَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ ) 55 ۔ الرحمن :58)
Ayahs 37:50–53

فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 37:50 in the Quran reader

پھر منہ کیا ایک نے دوسرے کی طرف لگے پوچھنے

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ اِنِّیْ كَانَ لِیْ قَرِیْنٌۙ Open ayah 37:51 in the Quran reader

بولا ایک بولنے والا ان میں میرا تھا ایک ساتھی

یَّقُوْلُ اَئِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ Open ayah 37:52 in the Quran reader

کہا کرتا کیا تو یقین کرتا ہے

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ Open ayah 37:53 in the Quran reader

کیا جب ہم مرگئے اور ہوگئے مٹی اور ہڈیاں کیا ہم کو جزا ملے گی1

1 یعنی یاران جلسہ جمع ہوں گے اور شراب طہور کا جام چل رہا ہوگا۔ اس عیش و تنعم کے وقت اپنے بعض گذشتہ حالات کا مذاکرہ کریں گے۔ ایک جتنی کہے گا کہ میاں دنیا میں میرا ایک ملنے والا تھا۔ جو مجھے آخرت پر یقین رکھنے کی وجہ سے ملامت کیا کرتا اور احمق بنایا کرتا تھا۔ اس کے نزدیک یہ بالکل مہمل بات تھی کہ ایک شخص مٹی میں مل جائے اور گوشت پوست کچھ باقی نہ رہے محض بوسیدہ ہڈیاں رہ جائیں، پھر اسے اعمال کا بدلہ دینے کے لیے ازسر نو زندہ کردیں ؟ بھلا ایسی بےتکی بات پر کون یقین کرسکتا ہے ؟
Ayah 37:54

قَالَ هَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ Open ayah 37:54 in the Quran reader

کہنے لگا بھلا تم جھانک کر دیکھو گے2

2 یعنی وہ ساتھی یقینا دوزخ میں پڑا ہوگا۔ آؤ ذرا جھانک کر دیکھیں کس حال میں ہے۔ (یہ اس جنتی کا مقولہ ہوا۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ مقولہ اللہ کا ہے۔ یعنی حق تعالیٰ فرمائیں گے کہ تم جھانک کر اس کو دیکھنا چاہتے ہو)
Ayahs 37:55–57

فَاطَّلَعَ فَرَاٰهُ فِیْ سَوَآءِ الْجَحِیْمِ Open ayah 37:55 in the Quran reader

پھر جھانکا تو اس کو دیکھا بیچوں بیچ دوزخ کے

قَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِیْنِۙ Open ayah 37:56 in the Quran reader

بولا قسم اللہ کی تو تو مجھ کو ڈالنے لگا تھا گڑھے میں

وَ لَوْ لَا نِعْمَةُ رَبِّیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 37:57 in the Quran reader

اور اگر نہ ہوتا میرے رب کا فضل تو میں بھی ہوتا انہی میں جو پکڑے ہوئے آئے3

3 یعنی اس جنتی کو اپنے ساتھی کا حال دکھلا دیا جائے گا کہ ٹھیک دوزخ کی آگ میں پڑا ہوا ہے۔ یہ حال دیکھ کر اسے عبرت ہوگی اور اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان یاد آئے گا۔ کہے گا، کم بخت ! تو نے تو مجھے بھی اپنے ساتھ برباد کرنا چاہا تھا۔ محض اللہ کے احسان نے دستگیری فرمائی جو اس مصیبت سے بچا لیا اور میرا قدم راہ ایمان و عرفان سے ڈگمگانے نہ دیا ورنہ آج میں بھی تیری طرح پکڑا ہوا آتا۔ اور اس دردناک عذاب میں گرفتار ہوتا۔
Ayahs 37:58–61

اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَۙ Open ayah 37:58 in the Quran reader

کیا اب ہم کو مرنا نہیں

اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰى وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ Open ayah 37:59 in the Quran reader

مگر جو پہلی بار مرچکے اور ہم کو تکلیف نہیں پہنچنے کی

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 37:60 in the Quran reader

بیشک یہی ہے بڑی مراد ملنی

لِمِثْلِ هٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ Open ayah 37:61 in the Quran reader

ایسی چیزوں کے واسطے چاہے محنت کریں محنت کرنے والے4

4 اس وقت فرط مسرت سے کہے گا کہ کیا یہ واقعہ نہیں کہ اس پہلی موت کے سوا جو دنیا میں آچکی اب ہم کو کبھی مرنا نہیں اور نہ کبھی اس عیش و بہار سے نکل کر تکلیف و عذاب کی طرف جانا ہے۔ خدا تعالیٰ کے فضل و رحمت سے اسی تنعم و رفاہیت میں ہمیشہ رہیں گے۔ بیشک بڑی بھاری کامیابی اسی کو کہتے ہیں اور یہ ہی وہ اعلیٰ مقصد ہے جس کی تحصیل کے لیے چاہیے کہ ہر طرح کی محنتیں اور قربانیاں گوارا کی جائیں۔
Ayahs 37:62–64

اَذٰلِكَ خَیْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّوْمِ Open ayah 37:62 in the Quran reader

بھلا یہ بہتر ہے مہمانی یا درخت سیہنڈ کا

اِنَّا جَعَلْنٰهَا فِتْنَةً لِّلظّٰلِمِیْنَ Open ayah 37:63 in the Quran reader

ہم نے اس کو رکھا ہے ایک بلا ظالموں کے واسطے

اِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِیْۤ اَصْلِ الْجَحِیْمِۙ Open ayah 37:64 in the Quran reader

وہ ایک درخت ہے کہ نکلتا ہے دوزخ کی جڑ میں5

5 اوپر بہشتیوں کی مہمانی کا ذکر تھا۔ یہاں سے دوزخیوں کی مہمانی کا حال سناتے ہیں۔ " زقوم " کسی درخت کا نام ہے جو سخت کڑوا، بدذائقہ ہوتا ہے۔ جیسے ہمارے یہاں تھوہر، یا سیہنڈ، دوزخ کے اندر حق تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ایک درخت اگایا ہے اس کو یہاں " شجرۃ الزقوم " سے موسوم کیا۔ وہ ایک بلا ہے ظالموں کے واسطے آخرت میں۔ کیونکہ جب دوزخ والے بھوک سے بیقرار ہوں گے تو یہ ہی کھانے کو دیا جائے گا اور اس کا حلق سے اتارنا یا اترنے کے بعد ایک خاص اثر پیدا کرنا سخت تکلیف دہ اور مستقل عذاب ہوگا اور دنیا میں بھی ایک طرح کی بلا اور آزمائش ہے کہ قرآن میں اس کا ذکر سن کر گمراہ ہوتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ سبز درخت دوزخ کی آگ میں کیونکر اگا۔ (حالانکہ ممکن ہے اس کا مزاج ہی ناری ہو جیسے آگ کا کیڑا آگ کے سمندر میں زندہ رہتا ہے (اور سہارنپور کے کمپنی باغ میں بعض درختوں کی تربیت آگ کے ذریعہ ہوتی ہے) کسی نے کہا " زقوم " فلاں لغت میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں انہیں سامنے دیکھ کر ایک دوسرے کو بلاتے ہیں کہ آؤ زقوم کھائیں گے۔
Ayah 37:65

طَلْعُهَا كَاَنَّهٗ رُءُوْسُ الشَّیٰطِیْنِ Open ayah 37:65 in the Quran reader

اس کا خوشہ جیسے سر شیطان کے6

6 یعنی سخت بدنما شیطان کی صورت یا شیاطین کہا سانپوں کو۔ یعنی اس کا خوشہ سانپ کے سر کی طرح ہوگا جیسے ہمارے ہاں ایک درخت کو اسی تشبیہ سے " ناگ پھن " کہتے ہیں۔
Ayahs 37:66–67

فَاِنَّهُمْ لَاٰكِلُوْنَ مِنْهَا فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَؕ Open ayah 37:66 in the Quran reader

سو وہ کھائیں گے اس میں سے پھر بھریں گے اس سے پیٹ

ثُمَّ اِنَّ لَهُمْ عَلَیْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِیْمٍۚ Open ayah 37:67 in the Quran reader

پھر ان کے واسطے اس کے اوپر ملونی ہے جلتے پانی کی7

7 " زقوم " کھا کر پیاس لگے گی تو سخت جلتا پانی پلایا جائے گا جس سے آنتیں کٹ کر باہر آپڑیں گی۔ (فَقَطَّعَ اَمْعَاۗءَهُمْ ) 47 ۔ محمد :15) اعاذنا اللہ منہا۔
Ayah 37:68

ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَاۡاِلَى الْجَحِیْمِ Open ayah 37:68 in the Quran reader

پھر ان کو لے جانا آگ کے ڈھیر میں8

8 یعنی بہت بھوکے ہوں گے تو آگ سے ہٹا کر یہ کھانا پانی کھلا پلا کر پھر آگ میں ڈال دیں گے۔
Ayahs 37:69–70

اِنَّهُمْ اَلْفَوْا اٰبَآءَهُمْ ضَآلِّیْنَۙ Open ayah 37:69 in the Quran reader

انہوں نے پایا اپنے باپ دادوں کو بہکے ہوئے

فَهُمْ عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ یُهْرَعُوْنَ Open ayah 37:70 in the Quran reader

سو وہ انہی کے قدموں پر دوڑتے ہیں1

1 یعنی پچھلے کافر اگلوں کی اندھی تقلید میں گمراہ ہوئے۔ جس راہ پر انہیں چلتے دیکھا اسی پر دوڑ پڑے۔ کنواں کھائی کچھ نہ دیکھا۔
Ayahs 37:71–74

وَ لَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ اَكْثَرُ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 37:71 in the Quran reader

اور بہک چکے ہیں ان سے پہلے بہت لوگ اگلے

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْهِمْ مُّنْذِرِیْنَ Open ayah 37:72 in the Quran reader

اور ہم نے بھیجے ہیں ان میں ڈر سنانے والے

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَۙ Open ayah 37:73 in the Quran reader

اب دیکھ کیسا ہوا انجام ڈرائے ہوؤں کا

اِلَّا عِبَادَ اللّٰهِ الْمُخْلَصِیْنَ۠ Open ayah 37:74 in the Quran reader

مگر جو بندے اللہ کے ہیں چنے ہوئے2

2 یعنی ہر زمانہ میں انجام سے آگاہ کرنے والے آخرت کا ڈر سنانے والے آتے رہے۔ آخر جنہوں نے نہ سنا اور نہ مانا دیکھ لو ! ان کا انجام کیسا ہوا۔ بس اللہ کے وہ ہی چنے ہوئے بندے محفوظ رہے جن کو خدا کا ڈر اور عاقبت کی فکر تھی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " ڈر سب ہی کو سناتے ہیں ان میں نیک بچتے ہیں اور بدکھیتے ہیں۔ " آگے بعض منذرین (بالکسر) اور منذرین (بالفتح) کے قصے سنائے جاتے ہیں۔ مکذبین کی عبرت اور مومنین کی تسلی کے لیے۔