Ayahs 33:41–425 یعنی حق تعالیٰ نے اتنا بڑا احسان فرمایا کہ ایسے عظیم الشان پیغمبر اور پیغمبروں کے سردار محمد ﷺ کو تمہاری ہدایت کے لیے بھیجا۔ اس پر اس کا شکر ادا کرو۔ اور منعم حقیقی کو کبھی نہ بھولو، اٹھتے، بیٹھتے، چلتے پھرتے، رات، دن صبح و شام، ہمہ اوقات اس کو یاد رکھو۔
Ayah 33:436 یعنی اللہ کو بکثرت یاد کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ اپنی رحمت تم پر نازل کرتا ہے جو فرشتوں کے توسط سے آتی ہے۔ یہ ہی رحمت و برکت ہے جو تمہارا ہاتھ پکڑ کر جہالت و ضلالت کی اندھیریوں سے علم وتقویٰ کے اجالے میں لاتی ہے۔ اگر اللہ کی خاص مہربانی ایمان والوں پر نہ ہو تو دولت ایمان کہاں سے ملے اور کیونکر محفوظ رہے۔ اسی کی مہربانی سے مومنین رشد و ہدایت اور ایمان و احسان کی راہوں میں ترقی کرتے ہیں۔ یہ تو دنیا میں ان کا حال ہوا، آخرت کا اعزاو اکرام آگے مذکور ہے۔
Ayah 33:447 یعنی اللہ ان پر سلام بھیجے گا اور فرشتے سلام کرتے ہوئے ان کے پاس آئیں گے۔ اور مومنین کی آپس میں بھی یہ ہی دعا ہوگی جیسا کہ دنیا میں ہے۔
Ayah 33:458 یعنی اللہ کی توحید سکھاتے اور اس کا راستہ بتاتے ہیں۔ جو کچھ کہتے ہیں دل سے اور عمل سے اس پر گواہ ہیں اور محشر میں بھی امت کی نسبت گواہی دیں گے کہ خدا کے پیغام کو کس نے کس قدر قبول کیا۔
9 یعنی نافرمانوں کو ڈراتے اور فرمانبرداروں کو خوشخبری سناتے ہیں۔
Ayah 33:4610 پہلے جو فرمایا تھا کہ اللہ کی رحمت مومنین کو اندھیرے سے نکال کر اجالے میں لاتی ہے۔ یہاں بتلا دیا کہ وہ اجالا اس روشن چراغ سے پھیلا ہے۔ شاید چراغ کا لفظ اس جگہ اس معنی میں ہو جو سورة " نور " میں فرمایا " وجعل القمر فیہن نورا وجعل الشمس سراجا " (اللہ نے چاند کو نور اور سورج کو چراغ بنایا) یعنی آپ آفتاب نبوت و ہدایت ہیں جس کے طلوع ہونے کے بعد کسی دوسری روشنی کی ضرورت نہیں رہی سب روشنیاں اسی نور اعظم میں محو و مدغم ہوگئیں۔
Ayah 33:4711 یعنی دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ نے اس امت کو حضرت کے طفیل سب امتوں پر بزرگی اور برتری دی۔
Ayah 33:4812 یعنی جب اللہ نے آپ کو ایسے کمالات اور ایسی برگزیدہ جماعت عنایت فرمائی تو آپ حسب معمول فریضہ دعوت و اصلاح کو پوری مستعدی سے ادا کرتے رہے اور اللہ جو حکم دے اس کے کہنے یا کرنے میں کسی کافر و منافق کی یادہ گوئی کی پروا نہ کیجئے۔
1 یعنی اگر یہ بدبخت زبان اور عمل سے آپ ﷺ کو ستائیں تو ان کا خیال چھوڑ کر اللہ پر بھروسہ رکھیے۔ وہ اپنی قدرت و رحمت سے سب کام بنا دے گا۔ منکروں کو راہ پر لے آنا یا سزا دینا سب اسی کے ہاتھ میں ہے، آپ کو اس فکر اور الجھن میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ ان کا تو مطلب ہی یہ ہے کہ آپ طعن وتشنیع وغیرہ سے گھبرا کر اپنا کام چھوڑ بیٹھیں۔ اگر بفرض محال آپ ایسا کریں تو گویا ان کا مطلب پورا کردیں گے اور ان کا کہا مان لیں گے۔ العیاذ باللہ۔
Ayah 33:492 یعنی جو مرد اپنی عورت کو بغیر صحبت کیے طلاق دے اگر اس کا مہر بندھا تھا تو نصف مہر دینا ہوگا ورنہ کچھ فائدہ پہنچا کر (یعنی عرف اور حیثیت کے موافق ایک جوڑا پوشاک دے کر) خوبصورتی کے ساتھ رخصت کر دے۔ اور عورت اسی وقت چاہے تو نکاح کرلے۔ اس صورت میں عدت نہیں۔ (حنفیہ کے نزدیک خلوت صحیحہ بھی صحبت کے حکم میں ہے تفصیل فقہ میں دیکھ لی جائے) یہ مسئلہ یہاں بیان فرمایا۔ حضرت کی ازواج کے ذکر میں جس کا سلسلہ دور سے چلا آتا تھا۔ درمیان میں چند آیات ضمنی مناسبت سے آگئی تھیں۔ یہاں سے پھر مضمون سابق کی طرف عود کیا گیا ہے۔ روایات میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک عورت سے نکاح کیا۔ جب اس کے نزدیک گئے کہنے لگی اللہ تجھ سے پناہ دے، حضرت نے اس کو جواب دیا کہ تو نے بڑے کی پناہ پکڑی۔ اس پر یہ حکم فرمایا اور خطاب فرمایا، ایمان والوں کو معلوم ہو کہ یہ پیغمبر کے لیے خاص حکم نہیں، سب مسلمانوں پر یہ ہی حکم ہے۔ اسی کے موافق حضرت نے اس کو جوڑا دے کر رخصت کردیا۔ پھر وہ ساری عمر اپنی محرومی پر پچھتاتی رہی۔
Ayah 33:503 یعنی لونڈیاں، باندیاں جو غنیمت وغیرہ سے ہاتھ لگی ہوں۔
4 تیری عورتیں جن کا مہر دے چکا یعنی جواب تیرے نکاح میں ہیں خواہ قریش سے ہوں اور مہاجر ہوں یا نہ ہوں سب حلال رہیں ان میں سے کسی کو چھوڑنے کی ضرورت نہیں۔ اور چچا، پھوپھی، ماموں، خالہ کی بیٹیاں یعنی قریش میں سے جو باپ یا ماں کی طرف سے قرابت دار ہوں بشرط ہجرت کے حلال ہیں ان سے نکاح کرسکتے ہو۔ اور جو عورت بخشے نبی کو اپنی جان یعنی بلا مہر کے نکاح میں آنا چاہے وہ بھی حلال ہے اگر آپ اس طرح نکاح میں لانا پسند کریں۔ یہ اجازت خاص پیغمبر کے لیے ہے گو آپ نے بھی اس پر عمل نہیں کیا (کما فی الفتح) شاید " ان اراد النبی " کی شرط سے اباحت مرجوحہ سمجھی ہو۔ بہرحال دوسرے مسلمانوں کے لیے وہ ہی حکم ہے جو معلوم ہوچکا (اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ ) 4 ۔ النسآء :24) یعنی بلا مہر نکاح نہیں، خواہ عقد کے وقت ذکر آیا خواہ پیچھے ٹھہرا لیا یا نہ ٹھہرایا تو مہر مثل (جو اس کی قوم کا مہر ہو) واجب ہوگا۔ پیغمبر پر سے اللہ تعالیٰ نے یہ مہر کی قید اٹھا دی تھی۔ برخلاف مومنین کے کہ ان کو نہ چار سے زائد سے اجازت نہ بدون مہر کے نکاح درست۔ (تنبیہ) آنحضرت ﷺ نے پچیس سال کی عمر تک جو شباب کی امنگوں کے اصلی دن ہوتے ہیں محض تجرد میں گزارے۔ پھر اقرباء کے اصرار اور دوسری جانب کی درخواست پر حضرت خدیجہ ؓ سے (جن کی عمر ڈھل چکی تھی اور دو مرتبہ بیوہ ہوچکی تھیں) آپ نے عقد کیا۔ تریپن سال کی عمر تک پورے سکون و طمانیت سے اسی پاکباز بیوی کے ساتھ زندگی بسر کی۔ یہ ہی زمانہ تھا کہ آپ ساری دنیا سے الگ غاروں اور پہاڑوں میں جا کر خدائے واحد کی عبادت کیا کرتے تھے اور یہ اللہ کی نیک بندی آپ ﷺ کے لیے توشہ تیار کرتی اور عبادت الٰہی اور سکون قلبی کے حصول میں آپ ﷺ کی اعانت و امداد کیا کرتی تھی۔ زندگی کے اس طویل عرصہ میں جو دوسرے لوگوں کے لیے عموما نفسانی جذبات کی انتہائی ہنگامہ خیزیوں کے اٹھ اٹھ کر ختم ہوجانے کا زمانہ ہوتا ہے، کوئی معاند سے معاند اور کٹر سے کٹر متعصب دشمن بھی ایک حرف ایک نقطہ، ایک شوشہ آپ کی پیغمبرانہ عصمت اور خارق عادت عفاف و پاکبازی کے خلاف نقل نہیں کرسکتا۔ اور واضح رہے کہ یہ اس اکمل البشر کی سیرت کا ذکر ہے جس نے خود اپنی نسبت فرمایا کہ مجھ کو جو جسمانی قوت عطا ہوئی ہے وہ اہل جنت میں سے چالیس مردوں کی برابر ہے جن میں سے ایک مرد کی قوت سو کے برابر ہوگی گویا اس حساب سے دنیا کے چار ہزار مردوں کی برابر قوت حضور کو عطا فرمائی گئی تھی۔ اور بیشک دنیا کے اکمل ترین بشر کی تمام روحانی و جسمانی قوتیں ایسے ہی اعلیٰ اور اکمل پیمانہ پر ہونی چاہیں۔ اس حساب سے اگر فرض کیجئے چار ہزار بیویاں آپ کے نکاح میں ہوتیں تو آپ ﷺ کی قوت کے اعتبار سے اس درجہ میں شمار کیا جاسکتا تھا جیسے ایک مرد ایک عورت سے نکاح کرلے۔ لیکن اللہ اکبر ! اس شدید ریاضت اور ضبط نفس کا کیا ٹھکانہ ہے کہ تریپن سال کی عمر اس تجرد یا زہد کی حالت میں گزار دی۔ پھر حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد اپنے سب سے بڑے جان نثار وفادار رفیق کی صاحبزادی حضرت عائشہ صدیقہ سے عقد کیا۔ ان کے سوا آٹھ بیوائیں آپ کے نکاح میں آئیں۔ وفات کے بعد نو موجود تھیں۔ جن کے اسمائے گرامی یہ ہیں۔ حضرت عائشہ، حضرت حفصہ، حضرت سودہ، حضرت ام سلمہ، حضرت زینب، حضرت ام حبیبہ، حضرت جویرہ، حضرت صفیہ، حضرت میمونہ ؓ و ارضاہن (ان میں پچھلی تین قریشی نہیں) دنیا کا سب سے بڑا بےمثال انسان جو اپنے فطری قویٰ کے لحاظ سے کم از کم چار ہزار بیویوں کا مستحق ہو، کیا نو کا عدد دیکھ کر کوئی انصاف پسند اس پر کثرت ازواج کا الزام لگا سکتا ہے۔ پھر جب ہم ایک طرف دیکھتے ہیں کہ آپ ﷺ کی عمر تریپن سال سے متجاوز ہوچکی تھی، باوجو ود عظیم الشان فتوحات کے ایک دن پیٹ بھر کر کھانا نہ کھاتے تھے۔ جو آتا اللہ کے راستہ میں دے ڈالتے، اختیاری فقر و فاقہ سے پیٹ کو پتھر باندھتے، مہینوں ازواج مطہرات کے مکانوں سے دھواں نہ نکلتا، پانی اور کھجور پر گذارہ چلتا۔ روزہ پر روزوہ رکھتے، کئی کئی دن افطار نہ کرتے، راتوں کو اللہ کی عبادت میں کھڑے رہنے سے پاؤں پر ورم ہوجاتا، لوگ دیکھ کر رحم کھانے لگتے، عیش و طرب کا سامان تو کجا، تمام بیویوں سے صاف کہہ دیا تھا کہ جسے آخرت کی زندگی پسند ہو۔ ہمارے ساتھ رہے جو دنیا کا عیش چاہے رخصت ہوجائے۔ ان حالات کے باوجود دوسری طرف دیکھا جاتا ہے کہ سب ازواج کے حقوق ایسے اکمل و احسن طریقہ سے ادا فرماتے جس کا تحمل بڑے سے بڑا طاقتور مرد نہیں کرسکتا۔ اور میدان جنگ میں لشکروں کے مقابلہ پر جب بڑے بڑے جوان مرد بہادر دل چھوڑ بیٹھتے تھے آپ ﷺ پہاڑ کی طرح ڈٹے رہتے اور زبان سے فرماتے " الی عباد اللہ ! انا رسول اللہ " اور " انا النبی لا کذب انا بن عبدالمطلب۔ " بیویوں کا تعلق فرائض عبودیت و رسالت کی بجا آوری میں ذرہ برابر فرق نہ ڈالتا۔ نہ کسی سخت سے سخت کٹھن کام میں ایک منٹ کے لیے ضعف و تعب لاحق ہوتا۔ کیا یہ خارق عادت احوال اہل بصیرت کے نزدیک معجزہ سے کچھ کام ہیں ؟ حقیقت میں جس طرح آپ ﷺ کا بچپن اور آپ ﷺ کی جوانی ایک معجزہ تھی، بڑھاپا بھی ایک معجزہ ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے آپ ﷺ کی پاک زندگی کے ہر ایک دور میں پاک بزرگ متقیوں کے لیے کچھ نمونے رکھ دیے ہیں جو انسانی زندگی کے ہر شعبہ میں ان کی عملی رہبری کرسکیں۔ ازواج مطہرات کے جس نام نہاد کثرت پر مخالفین کو اعتراض ہے وہ ہی امت مرحومہ کے لیے اس کا ذریعہ بنی۔ کہ پیغمبر کا اتباع کرنے والے مرد اور عورتیں ان حکموں اور نمونوں سے بےتکلف واقف ہوں یا بالخصوص باطنی احوال اور خانگی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ گویا کثرت ازواج میں ایک بڑی مصلحت یہ ہوئی کہ خانگی معاشرت اور نسوائی مسائل کے متعلق نبی کے احکام اور اسوہ حسنہ کی اشاعت کافی حد تک بےتکلف ہو سکے۔ نیز مختلف قبائل اور جماعتوں کو آپ کی دامادی کا شرف حاصل ہوا اور اس طرح ان کی وحشت و نفرت بھی کم ہوئی اور اپنے کنبہ کی عورتوں سے آپ ﷺ کی پاکدامنی، خوبی اخلاق، حسن معاملہ اور بےلوث کریکٹر کو سن کر اسلام کی طرف رغبت بڑھی۔ شیطانی شکوک و اوہام کا ازالہ ہوا، اور اس طرح خدا کے عاشقوں، آپ ﷺ کے فدا کاروں اور دنیا کے ہادیوں کی وہ عظیم الشان جماعت تیار ہوئی جس سے زیادہ پرہیزگار و پاکباز کوئی جماعت (بجز انبیاء کے) آسمان کے نیچے کبھی نہیں پائی گئی اور جو کسی برے کریکٹر رکھنے والے کی تربیت میں محال تھا کہ تیار ہو سکے۔
Ayah 33:511 یعنی واہبتہ النفس کے متعلق اختیار ہے قبول کرو یا نہ کرو۔ اور موجودہ بیویوں میں سے جس کو چاہو رکھو یا طلاق دے دو ۔ نیز جو بیویاں رہیں آپ پر قسم (باری باری سے رہنا) واجب نہیں، جسے چاہیں باری میں آگے پیچھے کرسکتے ہیں۔ اور جسے کنارے کردیا ہو اسے دوبارہ واپس لینے کا بھی اختیار ہے۔ یہ حقوق و اختیارات آپ ﷺ کو دیے گئے تھے، مگر آپ نے مدت العمران سے کام نہیں لیا۔ معاملات میں اس قدر عدل و مساوات کی رعایت فرماتے تھے جو بڑے سے بڑا محتاط آدمی نہیں کرسکتا۔ اس پر بھی اگر قلبی میلان کس کی طرف بےاختیار ہوتا تو فرماتے۔ " اللہم ہذا قسمی فیمآ املک فلا تلمنی فیما تملک ولا املک " (اے اللہ ! یہ میری تقسیم ہے ان چیزوں میں جو میرے اختیار میں ہیں، جو چیز صاف تیرے قبضہ میں ہے میرے اختیار میں نہیں اس پر ملامت نہ کیجئے) شاید (وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ ۭ وَكَان اللّٰهُ عَلِــيْمًا حَلِــيْمًا) 33 ۔ الاحزاب :51) کسی مرد کی کئی عورتیں ہوں تو اس پر باری سے سب کے پاس برابر رہنا واجب ہے، حضرت پر یہ واجب نہ تھا۔ اس واسطے کہ عورتیں اپنا حق نہ سمجھیں، تو جو دیں راضی ہو کر قبول کریں (ورنہ روز یہ ہی کشمکش اور جھنجھٹ رہا کرتی، مہمات دین میں خلل پڑتا، اور ازواج کی نظر بھی دنیا سے بالکل یکسو ہو کر مقصد اصلی کی طرف نہ رہتی۔ اسی غم و فکر میں مبتلا رہا کرتیں) پر حضرت نے اپنی طرف سے فرق نہیں کیا سب کی باری برابر رکھی۔ ایک حضرت سودہ نے (جب عمر زیادہ ہوگئی) اپنی باری حضرت عائشہ کو بخش دی تھی۔ "
Ayah 33:522 یعنی جتنی قسمیں (اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِيْٓ اٰتَيْتَ اُجُوْرَهُنَّ ) 33 ۔ الاحزاب :50) میں فرما دیں، اس سے زیادہ حلال نہیں۔ اور جواب موجود ہیں ان کو بدلنا حلال نہیں۔ یعنی یہ کہ ان میں سے کسی کو اس لیے چھوڑ دو کہ دوسری اس کی جگہ کر لاؤ۔ حضرت عائشہ اور ام سلمہ سے روایت ہے کہ یہ ممانعت آخر کو موقوف ہوگئی۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے نہ اس کے بعد کوئی نکاح کیا نہ ان میں سے کسی کو بدلا۔ آپ ﷺ کی وفات کے وقت سب ازواج برابر موجود رہیں۔
3 یعنی لونڈی یا باندی۔ حضور ﷺ کی دو حرم (باندیاں) مشہور ہیں۔ ایک ماریہ قبطیہ جن کے شکم سے صاحبزادہ حضرت ابراہیم پیدا ہوئے تھے بچپن میں انتقال کر گئے۔ دوسری ریحانہ، ؓ ۔
4 یعنی اللہ کی نگاہ میں ہے جو اس کے احکام و حدود کی پابندی کرتے ہیں یا نہیں کرتے، اس کا خیال رکھ کر کام کرنا چاہیے۔
Ayah 33:535 یعنی بدون حکم و اجازت کے دعوت میں مت جاؤ اور جب تک بلائیں نہیں پہلے سے جا کر نہ بیٹھو کہ وہاں بیٹھ کر انتظار کرنا پڑے۔ اور گھر والوں کے کام کاج میں حرج واقع ہو۔
6 یعنی کھانے سے فارغ ہو کر اپنے اپنے گھر کا راستہ لینا چاہیے۔ وہاں مجلس جمانے سے میزبان اور دوسرے مکان والوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ یہ باتیں گو نبی کے مکانوں کے متعلق فرمائی ہیں۔ کیونکہ شان نزول کا تعلق ان ہی سے تھا۔ مگر مقصود ایک عام ادب سکھلانا ہے۔ بےدعوت کسی کے یہاں کھانا کھانے کی غرض سے جا بیٹھنا یا طفیلی بن کر جانا، یا کھانے سے قبل یوں ہی مجلس جمانا، یا فارغ ہونے کے بعد گپ شپ لڑانا درست نہیں۔
7 یعنی آپ حیا کی وجہ سے اپنے نفس پر تکلیف برداشت کرتے ہیں۔ لحاظ کی وجہ سے صاف نہیں فرماتے کہ اٹھ جاؤ مجھے کلفت ہوتی ہے یہ تو آپ کے اخلاق اور مروت کی باتیں ہوئی۔ مگر اللہ تعالیٰ کو تمہاری تادیب و اصلاح میں کیا چیزیں مانع ہوسکتی ہیں۔ اس نے بہرحال پیغمبر ہی کی زبان سے اپنے احکام سنا دیئے۔
8 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آداب سکھلائے۔ کبھی کھانے کو حضرت کے گھر میں جمع ہوتے تو پیچھے باتیں کرنے لگ جاتے۔ حضرت ﷺ کا مکان آرام کا وہ ہی تھا۔ شرم سے نہ فرماتے کہ اٹھ جاؤ۔ ان کے واسطے اللہ نے فرما دیا، اور اس آیت میں حکم ہوا پردہ کا کہ مرد حضرت کی ازواج کے سامنے نہ جائیں کوئی چیز مانگنی ہو تو وہ بھی پردہ کے پیچھے سے مانگیں اس میں جانبین کے دل ستھرے اور صاف رہتے ہیں اور شیطانی وساوس کا استیصال ہوجاتا ہے۔
1 یعنی کافر منافق جو چاہیں بکتے پھریں اور ایذاء رسانی کریں، مومنین جو دلائل وبراہین کی روشنی میں پیغمبر (علیہ السلام) کی انتہائی راستبازی اور پاکبازی کو معلوم کرچکے ہیں، انھیں لائق نہیں کہ حضور ﷺ کی حیات میں یا وفات کے بعد کوئی بات ایسی کہیں یا کریں جو حنیف درجہ میں آپ ﷺ کی ایذا کا سبب بن جائے۔ لازم ہے کہ مومنین اپنے محبوب و مقدس پیغمبر کی عظمت شان کو ہمیشہ مرعی رکھیں۔ مبادا غفلت یا تساہل سے کوئی تکلیف دہ حرکت صادر ہوجائے اور دنیا و آخرت کا خسارہ اٹھانا پڑے۔ ان تکلیف دہ حرکات میں سے ایک بہت سخت اور بھاری گناہ یہ ہے کہ کوئی شخص ازواج مطہرات سے آپ کے بعد نکاح کرنا چاہے یا ایسے نالائق ارادہ کا حضور ﷺ کی موجودگی میں اظہار کرے۔ ظاہر ہے کہ ازواج مطہرات کی مخصوص عظمت پیغمبر (علیہ السلام) کے تعلق کی وجہ سے قائم ہوئی ہے کہ روحانی حیثیت سے وہ تمام مومنین کی محترم مائیں قرار دی گئیں۔ کیا کسی امتی کے عقد نکاح میں آنے کے بعد ان کا یہ احترام کماحقہ ملحوظ رہ سکتا ہے یا آپ کے بعد وہ خانگی بکھیڑوں میں پڑ کر تعلیم و تلقین دین کی اس اعلیٰ غرض کو آزادی کے ساتھ پورا کرسکتی ہیں جس کے لیے ہی فی الحقیقت قدرت نے نبی کی زوجیت کے لیے ان کو چنا تھا۔ اور کیا کوئی پرلے درجہ کا بےحس و بےشعور انسان بھی باور کرسکتا ہے کہ سید البشر امام المتقین اور پیکر خلق عظیم کی خدمت میں عمر گزارنے والی خاتون ایک لمحہ کے لیے بھی کسی دوسری جگہ رہ کر قلبی مسرت و سکون حاصل کرنے کی امید رکھ سکے گی۔ خصوصا جبکہ معلوم ہوچکا ہے کہ یہ وہ منتخب خواتین تھیں جن کے سامنے دنیا و آخرت کے دو راستوں میں سے ایک راستہ انتخاب کے لیے پیش کیا گیا تو انہوں نے بڑی خوشی اور آزادی سے دنیا کے عیش و بہار پر لات مار کر اللہ رسول کی خوشنودی اور آخرت کا راستہ اختیار کرلینے کا اعلان کردیا۔ چناچہ تاریخ بتلاتی ہے کہ حضور ﷺ کی وفات کے بعد کیسے عدیم النظیر زہد و ورع اور صبر و توکل کے ساتھ ان مقدس خواتین جنت نے عبادت الٰہی میں اپنی زندگیاں گزاریں اور احکام دین کی اشاعت اور اسلام کی خدمات مہمہ کے لیے اپنے کو وقف کیے رکھا ان میں سے کسی ایک کو کبھی بھول کر بھی دنیا کی لذتوں کا خیال نہیں آیا۔ اور کیسے آسکتا تھا جبکہ پہلے ہی حق تعالیٰ نے (اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا) 33 ۔ الاحزاب :33) فرما کر ان کے تزکیہ و تطہیر کی کفالت فرمائی تھی۔ ؓ وارضاہن وجعلنا ممن یعظمہن حق تعظیمہن فوق مانعظم امہاتنا التی ولدتنا، آمین۔ اس مسئلہ کی نہایت محققانہ بحث حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس سرہ کی کتاب آب حیات میں ہے۔
Ayah 33:542 یعنی زبان سے کہنا تو کجا دل میں بھی ایسا وسوسہ کبھی نہ لانا۔ اللہ کے سامنے ظاہر و باطن سب یکساں ہے دل کا کوئی بھید اس سے پوشیدہ نہیں۔
Ayah 33:553 اوپر ازواج مطہرات کے سامنے مردوں کے جانے کی ممانعت ہوئی تھی۔ اب بتلا دیا کہ محارم کا سامنے جانا منع نہیں۔ اس بارے میں جو حکم عام مستورات کا سورة " نور " میں گزر چکا وہ ہی ازواج مطہرات کا ہے۔ " وَلَا نِسَاۗىِٕـهِنَّ وَلَا مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ " کی تشریح ہم سورة " نور " میں کرچکے ہیں وہاں مطالعہ کرلیا جائے۔
4 یعنی پردہ کے جو احکام بیان ہوئے اور جو استثناء کیا گیا پوری طرح ملحوظ رکھو ذرا بھی گڑ بڑ نہ ہونے پائے۔ ظاہر و باطن میں حدود الٰہیہ محفوظ رہنی چاہئیں۔ اللہ سے تمہارا کوئی حال چھپا ہوا نہیں۔ یعلم خائنۃ الاعین وماتخفی الصدور
Ayah 33:565 صلوٰۃ النبی کا مطلب ہے " نبی کی ثناء و تعظیم رحمت و عطوفت کے ساتھ " پھر جس کی طرف " صلوٰۃ " منسوب ہوگی اسی کی شان و مرتبہ کے لائق ثناء و تعظیم اور رحمت و عطوفت مراد لیں گے، جیسے کہتے ہیں کہ باپ بیٹے پر، بیٹا باپ پر اور بھائی بھائی پر مہربان ہے یا ہر ایک دوسرے سے محبت کرتا ہے تو ظاہر ہے جس طرح کی محبت اور مہربانی باپ کے بیٹے پر ہے اس نوعیت کی بیٹے کی باپ پر نہیں اور بھائی کی بھائی پر ان دونوں سے جداگانہ ہوتی ہے۔ ایسے ہی یہاں سمجھ لو۔ اللہ بھی نبی کریم ﷺ پر صلوٰۃ بھیجتا ہے یعنی رحمت و شفقت کے ساتھ آپ ﷺ کی ثناء اور عزاز و اکرام کرتا ہے اور فرشتے بھی بھیجتے ہیں، مگر ہر ایک کی صلوٰۃ اور رحمت و تکریم اپنی شان و مرتبہ کے موافق ہوگی۔ آگے مومنین کو حکم ہے کہ تم بھی صلوٰۃ و رحمت بھیجو۔ اس کی حیثیت ان دونوں سے علیحدہ ہونی چاہیے۔ علماء نے کہا کہ اللہ کی صلوٰۃ رحمت بھیجنا اور فرشتوں کی صلوٰۃ استغفار کرنا اور مومنین کی صلوٰۃ دعا کرنا ہے۔ حدیث میں ہے کہ جب آیت نازل ہوئی صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! " سلام " کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہوچکا (یعنی نماز کے تشہد میں جو پڑھا جاتا ہے) " السلام علیک ایہا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ " " صلوٰۃ " کا طریقہ بھی ارشاد فرما دیجئے جو نماز میں پڑھا کریں۔ آپ ﷺ نے یہ درود شریف تلقین کیا۔ " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی إِبْرَاهِيمَ وَعَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔ " غرض یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے مومنین کو حکم دیا کہ تم بھی نبی پر صلوٰۃ (رحمت) بھیجو۔ نبی نے بتلا دیا کہ تمہارا بھیجنا یہ ہی ہے کہ اللہ سے درخواست کرو کہ وہ اپنی بیش از بیش ابدالآباد تک نبی پر نازل فرماتا رہے۔ کیونکہ اس کی رحمتوں کی کوئی حد و نہایت نہیں۔ یہ بھی اللہ کی رحمت ہے کہ اس درخواست پر جو مزید رحمتیں نازل فرمائے وہ ہم عاجز و ناچیز بندوں کی طرف منسوب کردی جائیں۔ گویا ہم نے بھیجی ہیں۔ حالانکہ ہر حال میں رحمت بھیجنے والا وہ ہی اکیلا ہے کسی بندہ کی کیا طاقت تھی کہ سیدالانبیاء کی بارگاہ میں ان کے رتبہ کے لائق تحفہ پیش کرسکتا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " اللہ سے رحمت مانگنی اپنے پیغمبر پر اور ان کے ساتھ ان کے گھرانے پر بڑی قبولیت رکھتی ہے۔ ان پر ان کے لائق رحمت اترتی ہے، اور ایک دفعہ مانگنے سے دس رحمتیں اترتی ہیں مانگنے والے پر۔ اب جس کا جتنا جی چاہے اتنا حاصل کرلے۔ " (تنبیہ) صلوٰۃ علی النبی کے متعلق مزید تفصیلات ان مختصر فوائد میں نہیں سما سکتیں۔ شروع حدیث میں مطالعہ کی جائیں۔ اور اس باب میں شیخ شمس الدین سخاوی کا رسالہ " القول ابدیع فی الصلوٰۃ علی الحبیب الشفیع " قابل دید ہے۔ ہم نے شرح صحیح مسلم میں بقدر کفالت لکھ دیا ہے فالحمد للہ علی ذلک۔
Ayah 33:576 اوپر مسلمانوں کو حکم تھا کہ نبی کریم ﷺ کی ایذاء کا سبب نہ بنیں بلکہ ان کی انتہائی تعظیم و تکریم کریں جس کی ایک صورت صلوٰۃ وسلام بھیجنا ہے۔ اب بتلایا کہ اللہ و رسول کو ایذا دینے والے دنیا و آخرت میں ملعون و مطرود اور سخت رسواکن عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ اللہ کو ستانا یہ ہی ہے کہ اس کے پیغمبروں کو ستائیں یا اس کی جناب میں نالائق باتیں کہیں۔
Ayah 33:587 یہ منافق تھے جو پیٹھ پیچھے بد گوئی کرتے رسول کی، آپ کی ازواج مطاہرات پر جھوٹے طوفان اٹھاتے جیسا کہ سورة " نور " میں گزر چکا۔ آگے بعض ایذاؤں کے انسداد کا بندوبست کیا گیا ہے جو مسلمان عورتوں کو ان کی طرف سے پہنچتی تھیں۔ روایات میں ہے کہ مسلمان مستورات جب ضروریات کے لیے باہر نکلتیں، بدمعاش منافق تاک میں رہتے۔ اور چھیڑ چھاڑ کرتے پھر پکڑے جاتے تو کہتے ہم نے سمجھا نہیں تھا کہ کوئی شریف عورت ہے۔ لونڈی باندی سمجھ کر چھیڑ دیا تھا۔
Ayah 33:591 یعنی بدن ڈھانپنے کے ساتھ چادر کا کچھ حصہ سر سے نیچے چہرہ پر بھی لٹکا لیویں۔ روایات میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے پر مسلمان عورتیں بدن اور چہرہ چھپا کر اس طرح نکلتی تھیں کہ صرف ایک آنکھ دیکھنے کے لیے کھلی رہتی تھی۔ اس سے ثابت ہوا کہ فتنہ کے وقت آزاد عورت کو چہرہ بھی چھپا لینا چاہیے۔ لونڈی باندیوں کو ضرورت شدیدہ کی وجہ سے اس کا مکلف نہیں کیا۔ کیونکہ کاروبار میں حرج عظیم واقع ہوتا ہے۔
2 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی پہچانی پڑیں کہ لونڈی نہیں بی بی ہے صاحب ناموس، بدذات نہیں نیک بخت ہے، تو بدنیت لوگ اس سے نہ الجھیں۔ گھونگھٹ اس کا نشان رکھ دیا۔ یہ حکم بہتری کا ہے۔ آگے فرما دیا اللہ ہے بخشنے والا مہربان۔ " یعنی باوجود اہتمام کے کچھ تقصیر رہ جائے تو اللہ کی مہربانی سے بخشش کی توقع ہے۔ (تکمیل) یہ تو آزاد عورتوں کے متعلق انتظام تھا کہ انھیں پہچان کر ہر ایک کا حوصلہ چھیڑنے کا نہ ہو، اور جھوٹے عذر کرنے کا موقع نہ رہے۔ آگے عام چھیڑ چھاڑ کی نسبت دھمکی دی ہے خواہ بی بی سے ہو یا لونڈی سے۔
Ayah 33:603 یعنی جن کو بدنظری اور شہوت پرستی کا روگ لگا ہوا ہے۔
4 یہ غالبا یہود ہیں جو اکثر جھوٹی خبریں اڑا کر اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کیا کرتے تھے اور ممکن ہے منافق ہی مراد ہوں۔
Ayah 33:615 یعنی اگر اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم آپ کو ان پر مسلط کردیں گے تاچند روز میں ان کو مدینہ سے نکال باہر کریں، اور جتنے دن رہیں ذلیل و مرعوب ہو کر رہیں چناچہ یہود نکالے گئے اور منافقوں نے دھمکی سن کر شاید اپنا رویہ بدل دیا ہوگا اس لیے سزا سے بچے رہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " جو لوگ بدنیت تھے مدینہ میں عورتوں کو چھیڑتے، ٹوکتے، اور جھوٹی خبریں اڑاتے، مخالفوں کے زور اور مسلمانوں کے ضعف و شکست کی وجہ سے تھا۔ " ان کو یہ فرمایا۔
Ayah 33:626 یعنی عادت اللہ یہ ہی رہی ہے کہ پیغمبروں کے مقابلہ میں جنہوں نے شرارتیں کیں اور فتنے فساد پھیلائے اسی طرح ذلیل و خوار، یا ہلاک کیے گئے۔ یا یہ مطلب ہے کہ پہلی کتابوں میں یہ بھی حکم ہوا ہے کہ مفسدوں کو اپنے درمیان سے نکال باہر کرو۔ جیسا کہ حضرت شاہ صاحب " تورات " سے نقل فرماتے ہیں۔
Ayah 33:637 گویا قیامت کے وقت کی ٹھیک تعیین کر کے اللہ نے کسی کو نہیں بتلایا۔ مگر یہاں اس کے قرب کی طرف اشارہ کردیا۔ حدیث میں ہے کہ آپ نے شہادت کی اور بیچ کی انگلی اٹھا کر فرمایا " انا والساعۃ کہا تین " (میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہیں) یعنی بیچ کی انگلی جس قدر آگے نکلی ہوئی ہے میں قیامت سے بس اتنا پہلے آگیا ہوں قیامت بہت قریب لگی چلی آرہی ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " شاید یہ بھی منافقوں نے ہتھکنڈا پکڑا ہوگا کہ جس چیز کا (دنیا میں کسی کے پاس) جواب نہیں وہ ہی بار بار سوال کریں۔ اس پر یہاں ذکر کردیا۔ " اور ممکن ہے پہلے جو فرمایا تھا۔ (لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا) 33 ۔ الاحزاب :57) اس پر بطور تکذیب و استہزاء کے کہتے ہوں گے کہ وہ قیامت اور آخرت کب آئے گی جس کی دھمکیاں دی جاتی ہیں ؟ آخر اس کا کچھ وقت تو بتاؤ۔
Ayah 33:648 اسی پھٹکار کا اثر ہے کہ لا طائل سوالات کرتے ہیں، انجام کی فکر نہیں کرتے۔
Ayahs 33:65–669 یعنی اوندھے منہ ڈال کر ان کے چہروں کو آگ میں الٹ پلٹ کیا جائے گا۔
10 اس وقت حسرت کریں گے کہ کاش ہم دنیا میں اللہ و رسول کے کہنے پر چلتے تو یہ دن دیکھنا نہ پڑتا۔
Ayahs 33:67–681 یہ شدت غیظ سے کہیں گے کہ ہمارے ان دنیاوی سرداروں اور مذہبی پیشواؤں نے دھوکے دے کر اور جھوٹ فریب کہہ کر اس مصیبت میں پھنسوایا۔ ان ہی کے اغواء پر ہم راہ حق سے بھٹکے رہے۔ اگر ہمیں سزا دی جاتی ہے تو ان کو دوگنی سزا دیجئے۔ اور جو پھٹکار ہم پر ہے اس سے بڑی پھٹکار ان بڑوں پر پڑنی چاہیے۔ گویا ان کو دوگنی سزا دلوا کر اپنا دل ٹھنڈا کرنا چاہیں گے۔ اسی مضمون کی ایک آیت سورة " اعراف " کے چوتھے رکوع میں گزر چکی ہے۔ وہیں ان کی اس فریاد کا جواب بھی دیا گیا ہے۔ ملاحظہ کرلیا جائے۔
Ayah 33:692 یعنی تم ایسا کوئی کام یا کوئی بات نہ کرنا جس سے تمہارے نبی کو ایذاء پہنچے۔ نبی کا تو کچھ نہیں بگڑے گا، کیونکہ اللہ کے ہاں ان کی بڑے آبرو ہے وہ سب اذیت دہ باتوں کو رد کر دے گا ہاں تمہاری عاقبت خراب ہوگی۔ دیکھو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نسبت لوگوں نے کیسی اذیت دہ باتیں کیں مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی وجاہت و مقبولیت کی وجہ سے سب کا ابطال فرما دیا اور موسیٰ کا بےخطا اور بےداغ ہونا ثابت کردیا۔ روایات میں ہے کہ بعض مفسد حضرت موسیٰ کو تہمت لگانے لگے کہ حضرت ہارون کو جنگل میں لے جا کر قتل کر آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایک خارق عادت طریقہ سے اس کی تردید کردی۔ اور صحیحین میں ہے کہ حضرت موسیٰ حیا کی وجہ سے (ابنائے زمانہ کے دستور کے خلاف) چھپ کر غسل کرتے تھے، لوگوں نے کہا کہ ان کے بدن میں کچھ عیب ہے، برص کا داغ یا خصیہ پھولا ہوا۔ ایک روز حضرت موسیٰ اکیلے نہانے لگے، کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھ دیے وہ پتھر کپڑے لے کر بھاگا۔ حضرت موسیٰ عصا لے کر اس کے پیچھے دوڑے، جہاں سب لوگ دیکھتے تھے پتھر کھڑا ہوگیا سب نے برہنہ دیکھ کر معلوم کرلیا کہ بےعیب ہیں۔ کسی نے خوب کہا ہے " پوشاند لباس ہر کرا عیب سے دید۔ بع عیباں رالباس عریانی داد۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ قارون نے ایک عورت کو کچھ دے دلا کر مجمع میں کہلا دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) (العیاذ باللہ) اس کے ساتھ مبتلا ہیں۔ حق تعالیٰ نے آخرکار قارون کو زمین میں دھنسا دیا اور اسی عورت کی زبان سے اس تہمت کی تردید کرائی جیسا کہ سورة " قصص " میں گزرا۔ (تنبیہ) موسیٰ (علیہ السلام) کا پتھر کے تعاقب میں برہنہ چلے جانا مجبوری کی وجہ سے تھا اور شاید یہ خیال بھی نہ ہو کہ پتھر مجمع میں لیجا کر کھڑا کر دے گا رہی پتھر کی حرکت وہ بطور خرق عادت تھی۔ خوارق عادات پر ہم نے ایک مستقل مضمون لکھا ہے اسے پڑھ لینے کے بعد اس قسم کی جزئیات میں الجھنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ بہرحال اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں انبیاء (علیہم السلام) کو جسمانی و روحانی عیوب سے پاک ثابت کرنے کا کس قدر اہتمام ہے تاکہ لوگوں کے دلوں میں ان کی طرف سے تنفر اور استخفاف کے جذبات پیدا ہو کر قبول حق میں رکاوٹ نہ ہو۔
Ayahs 33:70–713 یعنی اللہ سے ڈر کر درست اور سیدھی بات کہنے والے کو بہترین اور مقبول اعمال کی توفیق ملتی ہے اور تقصیرات معاف کی جاتی ہیں حقیقت میں اللہ و رسول کی اطاعت ہی میں حقیقی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے جس نے یہ راستہ اختیار کیا مراد کو پہنچ گیا۔
Ayah 33:724 یعنی ستم کر دئیے، جو بوجھ آسمان، زمین اور پہاڑوں سے نہ اٹھ سکتا تھا اس نادان نے اپنے نازک کندھوں پر اٹھا لیا آسماں بار امانت نتوانست کشید قرہ فال بنام من دیوانہ زدند۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی اپنی جان پر ترس نہ کھایا۔ امانت کیا ہے ؟ پرائی چیز رکھنی اپنی خواہش کو روک کر۔ آسمان و زمین وغیرہ میں اپنی خواہش کچھ نہیں، یا ہے تو وہ ہی ہے جس پر قائم ہیں۔ انسان میں خواہش اور ہے اور حکم خلاف اس کے۔ اس پرائی چیز (یعنی حکم) کو برخلاف اپنے جی کے تھامنا بڑا زور چاہتا ہے۔ اس کا انجام یہ ہے کہ منکروں کو قصور پر پکڑا جائے اور ماننے والوں کا قصور معاف کیا جائے۔ اب بھی یہ ہی حکم ہے کسی کی امانت کوئی جان کر ضائع کر دے تو بدلہ (ضمان) دینا پڑے گا اور بےاختیار ضائع ہوجائے تو بدلہ نہیں۔ " (موضح) اصل یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنی ایک خاص امانت مخلوق کی کسی نوع میں رکھنے کا ارادہ کیا جو اس امانت کو اگر چاہے تو اپنی سعی و کسب اور قوت بازو سے محفوظ رکھ سکے اور ترقی دے سکے۔ تاکہ اس سلسلہ میں اللہ کی ہر قسم کی شؤن وصفات کا ظہور ہو مثلا اس نوع کے جو افراد امانت کو پوری طرح محفوظ رکھیں اور ترقی دیں ان پر انعام و اکرام کیا جائے۔ جو غفلت یا شرارت سے ضائع کردیں ان کو سزا دی جائے اور جو لوگ اس بارے میں قدرے کوتاہی کریں ان سے عفو درگزر کا معاملہ ہو۔ میرے خیال میں یہ امانت ایمان و ہدایت کا ایک تخم ہے جو قلوب بنی آدم میں بکھیرا گیا۔ جس کو " مایہ التکلیف " بھی کہہ سکتے ہیں۔ " لا ایمان لمن لا امانۃ لہ " اسی کی نگہداشت اور تردد کرنے سے ایمان کا درخت اگتا ہے گویا بنی آدم کے قلوب اللہ کی زمینیں ہیں، بیج بھی اسی نے ڈال دیا ہے بارش برسانے کے لیے رحمت کے بادل بھی اس نے بھیجے جن کے سینوں سے وحی الٰہی کی بارش ہوئی۔ آدمی کا فرض یہ ہے کہ ایمان کے اس بیج کو جو امانت الٰہیہ ہے ضائع نہ ہونے دے بلکہ پوری سعی و جہد اور تردد و تفقد سے اس کی پرورش کرے مبادا غلطی یا غفلت سے بجائے درخت اگنے کے بیج بھی سوخت ہوجائے اسی کی طرف اشارہ ہے۔ حذیفہ کی اس حدیث میں " ان الا مانۃ نزلت من السماء فی جذر قلوب الرجال ثم علموا من القرٰن " (الحدیث) یہ امانت وہ ہی تخم ہدایت ہے جو اللہ کی طرف سے قلوب رجال میں تہ نشین کیا گیا۔ پھر علوم قرآن و سنت کی بارش ہوئی جس سے اگر ٹھیک طور پر انتفاع کیا جائے تو ایمان کا پودا اگے، بڑھے، پھولے، پھلے اور آدمی کو اس کے ثمرہ شیریں سے لذت اندوز ہونے کا موقع ملے۔ اگر انتفاع میں کوتاہی کی جائے تو اسی قدر درخت کے ابھرنے اور پھولنے پھلنے میں نقصان رہے یا بالکل غفلت برتی جائے تو سرے سے تخم بھی برباد ہوجائے۔ یہ امانت تھی جو اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور پہاڑوں کو دکھلائی۔ مگر کس میں استعداد تھی جو اس امانت عظیمہ کو اٹھانے کا حوصلہ کرتا۔ ہر ایک نے بلسان حال یا بزبان قال ناقابل برداشت ذمہ داریوں سے ڈر کر انکار کردیا کہ ہم سے یہ بار نہ اٹھ سکے گا۔ خود سوچ لو کہ بجز انسان کے کون سی مخلوق ہے جو اپنے کسب و محنت سے اس تخم ایمان کی حفاظت و پرورش کر کے ایمان کا شجر بارآور حاصل کرسکے۔ فی الحقیقت عظیم الشان امانت کا حق ادا کر سکنا اور ایک افتادہ زمین کو جس میں مالک نے تخم تیزی کردی تھی خون پسینہ ایک کر کے باغ و بہار بنا لینا اسی ظلوم و جہول انسان حصہ ہوسکتا ہے جس کے پاس زمین قابل موجود ہے اور محنت و تردد کر کے کسی چیز کو بڑھانے کی قدرت اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا فرمائی ہے۔ " ظلوم " و " جہول "۔ " ظالم " و " جاہل " کا مبالغہ ہے۔ ظالم و جاہل وہ کہلاتا ہے جو بالفعل عدل اور علم سے خالی ہو مگر استعداد و صلاحیت ان صفات کے حصول کی رکھتا ہو۔ پس جو مخلوق بدء فطرت سے علم و عدل کے ساتھ متصف ہے اور ایک لمحہ کے لیے بھی یہ اوصاف سے جدا نہیں ہوئے مثلا ملائکۃ اللہ یا جو مخلوق ان چیزوں کے حاصل کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی (مثلا زمین آسمان پہاڑ وغیرہ) ظاہر ہے کہ دونوں اس امانت الٰہیہ کے حامل نہیں بن سکتے۔ بیشک انسان کے سوا " جن " ایک نوع ہے جس میں فی الجملہ استعداد اس کے تحمل کی پائی جاتی ہے اور اسی لیے (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ ) 51 ۔ الذاریات :56) میں دونوں کو جمع کیا گیا۔ لیکن انصاف یہ ہے کہ ادائے حق امانت کی استعداد ان میں اتنی ضعیف تھی کہ حمل امانت کے مقام میں چنداں قابل ذکر اور درخور اعتناء نہیں سمجھے گئے۔ گویا وہ اس معاملہ میں انسان کے تابع قرار دیئے گئے جن کا نام مستقل طور پر لینے کی ضرورت نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
Ayah 33:735 میرے نزدیک اس جگہ " ویتوب اللہ علی المومنین " الخ کے معنی معاف کرنے کے نہ لیے جائیں بلکہ ان کے حال پر متوجہ ہونے اور مہربانی فرمانے کے لیں تو بہتر ہے جیسے (لَقَدْ تَّاب اللّٰهُ عَلَي النَّبِيِّ وَالْمُهٰجِرِيْنَ ) 9 ۔ التوبہ :117) میں لیے گئے ہیں۔ یہ تو مومنین کاملین کا بیان ہوا۔ اور " وکان اللہ غفورا رحیما " میں قاصرین و مقصرین کے حال کی طرف اشارہ فرما دیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ نسال اللہ تعالیٰ ان یتوب علینا ویغفرلنا وثیبنبا بالفوز اعلیم۔ انہ جل جلالہ وعم نوالہ غفور رحیم۔ تم سورة الاحزاب وللہ الحمد والمنۃ۔