30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 30:41

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 30:41 in the Quran reader

پھیل پڑی ہے خرابی جنگل میں اور دریا میں لوگوں کے ہاتھ کی کمائی سے چکھانا چاہیے ان کو کچھ مزہ ان کے کام کا تاکہ وہ پھر آئیں1

1 یعنی لوگ دین فطرت پر قائم نہ رہے کفر و ظلم دنیا میں پھیل پڑا اور اس کی شامت سے ملکوں اور جزیروں میں خرابی پھیل گئی۔ نہ خشکی میں امن و سکون رہا نہ تری میں، روئے زمین کو فتنہ و فساد نے گھیر لیا بحری لڑائیوں اور جہازوں کی لوٹ مار سے سمندروں میں بھی طوفان بپا ہوگیا۔ یہ سب اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ بندوں کی بد اعمالیوں کا تھوڑا سا مزہ دنیا میں بھی چکھا دیا جائے پوری سزا تو آخرت میں ملے گی۔ مگر کچھ نمونہ یہاں بھی دکھلا دیں، ممکن ہے بعض لوگ ڈر کر راہ راست پر آجائیں۔ (تنبیہ) بندوں کی بدکاریوں کی وجہ سے خشکی اور تری میں خرابی پھیلنا گو ہمیشہ ہوتا رہا اور ہوتا رہیگا۔ لیکن جس خوفناک عموم و شمول کے ساتھ بعثت محمدی ﷺ سے پہلے یہ تاریک گھٹا مشرق و مغرب اور برو بحر پر چھا گئی تھی، دنیا کی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی۔ یورپ کے محقیقن نے اس زمانہ کی تاریک حالت کا جو نقشہ کھینچا ہے اس کے دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ غیر مسلم مورخ بھی اس مشہور و معروف صداقت پر کوئی حرف گیری نہیں کرسکے (دیکھو دائرۃ المعارف فرید وجدی مادہ حمد) شاید اسی عموم فتنہ و فساد کو پیش نظر رکھ کر قتادہ (رح) نے آیت کا محمل زمانہ جاہلیت کو قرار دیا ہے۔
Ayah 30:42

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ Open ayah 30:42 in the Quran reader

تو کہہ پھرو ملک میں تو دیکھو کیسا ہوا انجام پہلوں کا2 بہت ان میں تھے شرک کرنے والے

2 یعنی اکثروں کی شامت شرک کی وجہ سے آئی۔ بعضوں پر دوسرے گناہوں کی وجہ سے آئی ہوگی۔
Ayah 30:43

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ Open ayah 30:43 in the Quran reader

سو تو سیدھا رکھ اپنا منہ سیدھی راہ پر3 اس سے پہلے کہ آپہنچے وہ دن جس کو پھرنا نہیں اللہ کی طرف سے4 اس دن لوگ جدا جدا ہوں گے5

3 یعنی دنیا میں فساد پھیل گیا تو تم دین قیم پر جو دین فطرت ہے ٹھیک ٹھیک قائم رہو۔ سب خرابیوں کا ایک یہ ہی علاج ہے۔ 4 یعنی اللہ کی طرف سے اس دن کا آنا اٹل ہے نہ کوئی طاقت اسے پھیر سکتی ہے نہ خود اللہ ملتوی کرے گا۔ 5 یعنی نیک جنت میں اور بد دوزخ میں بھیج دیے جائینگے۔ " فریق فی الجنۃ و فریق فی السعیر " (شوریٰ ۔ رکوع 1) حضرت شاہ صاحب اس کو دنیا کے احوال پر حمل کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ " یعنی دین کا غلبہ ہو، سزا پانیوالے الگ ہوں اور اللہ کے مقبول بندے الگ۔ "
Ayah 30:44

مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ Open ayah 30:44 in the Quran reader

جو منکر ہوا سو اس پر پڑے اس کا منکر ہونا6 اور جو کوئی کرے بھلے کام سو وہ اپنی راہ سنوارتے ہیں7

6 یعنی انکار کا وبال اسی پر پڑیگا۔ 7 یعنی جنت میں آرام کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
Ayah 30:45

لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 30:45 in the Quran reader

تاکہ وہ بدلہ دے ان کو جو یقین لائے اور کام کئے بھلے اپنے فضل سے8 بیشک اس کو نہیں بھاتے انکار والے9

8 یعنی کتنا ہی بڑا نیک ہو اسے بھی اللہ کے فضل سے جنت ملے گی۔ 9 جو اس سچے مالک کو نہ بھائے اسکا کہاں ٹھکانا۔
Ayah 30:46

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 30:46 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں ایک یہ ہے کہ چلاتا ہے ہوائیں خوشخبری لانے والیاں اور تاکہ چکھائے تم کو کچھ مزہ اپنی مہربانی کا10 اور تاکہ چلیں جہاز اس کے حکم سے11 اور تاکہ تلاش کرو اس کے فضل سے اور تاکہ تم حق مانو12

10 یعنی باران رحمت کی خوشخبری لاتی ہیں پھر خدا کی مہربانی سے مینہ برستا ہے 11 یعنی بادبانی جہاز اور کشتیاں ہوا سے چلتی ہیں اور دخانی اسٹیمروں کی رفتار میں بھی باد موافق مدد دیتی ہے۔ 12 یعنی جہازوں کے ذریعہ سے تجارتی مال سمندر پار منتقل کرسکو۔ اور اللہ کے فضل سے خوب نفع کماؤ۔ پھر ان نعمتوں پر خدا کا شکر ادا کرتے رہو۔ (تنبیہ) پہلے خشکی تری میں فساد پھیلنے کا ذکر تھا اس کے مقابل یہاں بشارت و نعمت الٰہی کا تذکرہ ہوا۔ شاید یہ بھی اشارہ ہو کہ آندھی اور غبار پھیل جانے کے بعد امید رکھو کہ باران رحمت آیا چاہتی ہے۔ ٹھنڈی ہوائیں چل پڑی ہیں جو رحمت و فضل کی خوشخبری سنا رہی ہیں کافروں کو چاہیے کہ شرارت اور کفران نعمت سے باز آجائیں اور خدا کی مہربانیوں کو دیکھ کر شکر گزار بندے بنیں۔
Ayah 30:47

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 30:47 in the Quran reader

اور ہم بھیج چکے ہیں تجھ سے پہلے کتنے رسول اپنی اپنی قوم کے پاس سو پہنچے ان کے پاس نشانیاں لے کر پھر بدلہ لیا ہم نے ان سے جو گناہ گار تھے اور حق ہے ہم پر مدد ایمان والوں کی1

1 پہلے فرمایا تھا کہ مقبول اور مردود جدا کردیے جائیں گے منکروں پر ان کے انکار کا وبال پڑے گا۔ وہ اللہ کو اچھے نہیں لگتے۔ اب بتلاتے ہیں کہ اسکا اظہار دنیا ہی میں ہو کر رہیگا۔ کیونکہ اللہ کی عادت اور وعدہ ہے کہ مجرمین و مکذبین سے انتقام لے اور مومنین کاملین کو اپنی امداد واعانت سے دشمنوں پر غالب کرے۔ بیچ میں ہوا کا ذکر اس واسطے آیا کہ جیسے باران رحمت کے نزول سے پہلے ہوائیں چلتی ہیں اسی طرح دین کے غلبہ کی نشانیاں روشن ہوتی جاتی ہیں۔
Ayah 30:48

اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ Open ayah 30:48 in the Quran reader

اللہ ہے جو چلاتا ہے ہوائیں پھر وہ اٹھاتی ہیں بادل کو پھر پھیلا دیتا ہے اس کو آسمان میں جس طرح چاہے2 اور رکھتا ہے اس کو تہ بہ تہ پھر تو دیکھے مینہ کو کہ نکلتا ہے اسکے بیچ میں سے پھر جب اس کو پہنچاتا ہے جس کو کہ چاہتا ہے اپنے بندوں میں تبھی وہ لگتے ہیں خوشیاں کرنے3

2 یعنی پہلے کسی طرف، پیچھے کسی طرف، اسی طرح دین بھی پھیلائے گا۔ چناچہ پھیلا دیا۔ 3 اسی طرح جو ایمانی اور روحانی بارش سے منتفع ہوں گے وہ خوشیاں منائیں گے۔
Ayah 30:49

وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ Open ayah 30:49 in the Quran reader

اور پہلے سے ہو رہے تھے اسکے اترنے سے پہلے ہی ناامید4

4 یعنی پہلے سے لوگ ناامید ہو رہے تھے۔ حتیٰ کہ بارش آنے سے ذرا پہلے تک بھی امید نہ تھی کہ مینہ برس کر ایسی جگ پر لو ہو جائیگی۔ انسان کا حال بھی عجیب ہے۔ ذرا دیر میں ناامید ہو کر بیٹھ جاتا ہے پھر ذرا سی دیر میں خوشی سے کھل پڑتا ہے۔
Ayah 30:50

فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 30:50 in the Quran reader

سو دیکھ لے اللہ کی مہربانی کی نشانیاں کیونکر زندہ کرتا ہے زمین کو اس کے مرگئے پیچھے5 بیشک وہی ہے مردوں کو زندہ کرنے والا اور وہ ہر چیز کرسکتا ہے6

5 یعنی چند گھنٹے پہلے ہر طرف خاک اڑ رہی تھی اور زمین خشک، بےرونق اور مردہ پڑی تھی ناگہاں اللہ کی مہربانی سے زندہ ہو کر لہلہانے لگی۔ بارش نے اس کی پوشیدہ قوتوں کو کتنی جلد ابھاردیا۔ یہ ہی حال روحانی بارش کا سمجھو، اس سے مردہ دلوں میں جان پڑیگی اور خدا کی زمین " ظہر الفساد فی البرو البحر " والی موت کے بعد دوبارہ زندہ ہو جائیگی۔ ہر طرف رحمت الٰہی کے نشان اور دین کے آثار نظر آئینگے جو قابلیتیں مدت سے مٹی میں مل رہی تھیں، باران رحمت کا ایک چھینٹا ان کو ابھار کر نمایاں کر دیگا۔ چناچہ حق تعالیٰ نے بعثت محمدی کے ذریعہ سے یہ جلوہ دنیا کو دکھلا دیا۔ ہمارے صوبہ کے شاعر حکیم نے کیا خوب کہا ہے۔ ہے یہ وہ نام خاک کو پاک کرے نکھار کر۔ ہے یہ وہ نام خار کو پھول کرے سنوار کر۔ ہے یہ وہ نام ارض کو کردے سما ابھار کر۔ اکبر اسی کو ورد تو صدق سے بیشمار کر۔ صل علی محمد صل علی محمد۔ 6 یعنی یہاں مردہ دلوں کو روحانی زندگی عطا فرمائے گا اور قیامت کے دن مردہ لاشوں میں دوبارہ جان ڈالے گا۔ اس کی قدرت کا ملہ کے آگے کوئی چیز مشکل نہیں۔
Ayah 30:51

وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 30:51 in the Quran reader

اور اگر ہم بھیجیں ایک ہوا پھر دیکھیں وہ کھیتی کو کہ زرد پڑگئی تو لگیں اس کے پیچھے ناشکری کرنے7

7 یعنی پہلے ناامید تھے، بارش آئی، زمین جی اٹھی، خوشیاں منانے لگے۔ اب اگر اس کے بعد ہم ایک ہوا چلا دیں جس سے کھیتیاں خشک ہو کر زرد پڑجائیں تو یہ لوگ فوراً پھر بدل جائیں گے اور اللہ کے سب احسان فراموش کر کے ناشکری شروع کردیں۔ غرض ان کا شکر اور ناشکری سب دنیاوی اغراض کے تابع ہیں اور یہاں اس پر فرمایا کہ اللہ کی مہربانی سے مراد پا کر بندہ نڈر نہ ہوجائے۔ اس کی قدرت رنگا رنگ ہے۔ معلوم نہیں دی ہوئی نعمت کب سلب کرلے۔ اور شاید ادھر بھی اشارہ ہو کر دین کی کھیتی دنیا میں سرسبز و شاداب ہونے کے بعد پھر باد مخالف کے جھونکوں سے مرجھا کر زرد پڑ جائیگی۔ اس وقت مایوس ہو کر ہمت ہارنی نہیں چاہئے۔
Ayahs 30:52–53

فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 30:52 in the Quran reader

سو تو سنا نہیں سکتا مردوں کو اور نہیں سنا سکتا بہروں کو پکارنا جبکہ پھریں پیٹھ دے کر

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 30:53 in the Quran reader

اور نہ تو راہ سجھائے اندھوں کو ان کے بھٹکنے سے تو تو سنائے اسی کو جو یقین لائے ہماری باتوں پر، سو وہ مسلمان ہوتے ہیں8

8 یعنی اللہ کو سب قدرت ہے، مردہ کو زندہ کردے، تم کو یہ قدرت نہیں کہ مردوں سے اپنی بات منوا سکو یا بہروں کو سنا دو ۔ یا اندھوں کو دکھلا دو ۔ خصوصاً جب وہ سننے اور دیکھنے کا ارادہ بھی نہ کریں۔ پس آپ ان کے کفر و ناسپاسی سے ملول و غمگین نہ ہوں۔ آپ صرف دعوت و تبلیغ کے ذمہ دار ہیں کوئی بدبخت نہ مانے تو آپ کا کیا نقصان ہے آپ کی بات وہ ہی سنیں گے جو ہماری باتوں پر یقین کر کے تسلیم وانقیاد کی خو اختیار کرتے ہیں۔ (تنبیہ) اسی قسم کی آیت سورة " نمل " کے آخر میں گزر چکی، اس پر ایک نظر ڈال لی جائے۔ مفسرین نے اس موقع پر " سماع موتیٰ " کی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس مسئلہ میں صحابہ ؓ کے عہد سے اختلاف چلا آتا ہے اور دونوں جانب سے نصوص قرآن و حدیث پیش کی گئی ہیں۔ یہاں ایک بات سمجھ لو کہ یوں تو دنیا میں کوئی کام اللہ کی مشیت و ارادہ کے بدون نہیں ہوسکتا مگر آدمی جو کام اسباب عادیہ کے دائرہ میں رہ کر با اختیار خود کرے وہ اسکی طرف منسوب ہوتا ہے اور جو عام عادت کے خلاف غیر معمولی طریقہ سے ہوجائے اسے براہ راست حق تعالیٰ کی طرف نسبت کرتے ہیں۔ مثلاً کسی نے گولی مار کر کسی کو ہلاک کردیا یہ اس قاتل کا فعل کہلائے گا اور فرض کیجئے ایک مٹھی کنکریاں پھینکیں جس سے لشکر تباہ ہوگیا، اسے کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے تباہ کردیا باوجودیکہ گولی سے ہلاک کرنا بھی اسی کی قدرت کا کام ہے۔ ورنہ اس کی مشیت کے بدون گولی یا گولا کچھ بھی اثر نہیں کرسکتا۔ قرآن کریم میں دوسری جگہ فرمایا (وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى) 8 ۔ الانفال :17) یہاں خارق عادت ہونے کی وجہ سے پیغمبر اور مسلمانوں سے " قتل " و " رمی " کی نفی کر کے براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کی گئی۔ ٹھیک اسی طرح " انک لا تسمع الموتیٰ " کا مطلب سمجھو۔ یعنی تم یہ نہیں کرسکتے کہ بولو اور اپنی آواز مردے کو سنا دو ۔ کیونکہ یہ چیز ظاہری اور عادی اسباب کے خلاف ہے۔ البتہ حق تعالیٰ کی قدرت سے ظاہری اسباب کے خلاف تمہاری کوئی بات مردہ سن لے اس کا انکار کوئی مومن نہیں کرسکتا۔ اب نصوص سے جن باتوں کا اس غیر معمولی طریقہ سے سننا ثابت ہوجائے گا اسی حد تک ہم کو سماع موتیٰ کا قائل ہونا چاہئے۔ محض قیاس کر کے دوسری باتوں کو سماع کے تحت میں نہیں لاسکتے۔ بہرحال آیت میں " اسماع " کی نفی سے مطلقاً سماع کی نفی نہیں ہوتی۔ واللہ اعلم۔
Ayah 30:54

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ Open ayah 30:54 in the Quran reader

اللہ ہے جس نے بنایا تم کو کمزوری سے پھر دیا کمزوری کے پیچھے زور پھر دے گا زور کے پیچھے کمزوری اور سفید بال بناتا ہے جو کچھ چاہے اور وہ ہے سب کچھ جانتا کرسکتا1

1 یعنی بچہ شروع میں پیدائش کے وقت بیحد کمزور ناتواں ہوتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ قوت آنے لگتی ہے حتیٰ کہ جوانی کے وقت اسکا زور انتہا کو پہنچ جاتا ہے اور تمام قوتیں شباب پر ہوتی ہیں، پھر عمر ڈھلنے لگتی ہے اور زور قوت کے پیچھے کمزوری کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ جس کی آخری حد بڑھاپا ہے۔ اس وقت تمام اعضاء ڈھیلے پڑجاتے اور قوی معطل ہونے لگتے ہیں۔ قوت و ضعف کا یہ سب اتار چڑھاؤ اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس طرح چاہے جس چیز کو بنائے۔ اور قوت و ضعف کے مختلف ادوار میں سے گزارے۔ اسی کو قدرت حاصل ہے اور وہی جانتا ہے کہ کس چیز کو کس وقت تک کن حالات میں رکھنا مناسب ہے۔ لہذا اسی خدا کی اور اس کے پیغمبروں کی باتیں ہمیں سننی چاہئیں۔ شاید اس میں یہ بھی اشارہ کردیا کہ جس طرح تم کو کمزوری کے بعد زور دیا، مسلمانوں کو بھی ضعف کے بعد زور پکڑیگا اور اپنے شباب و عروج کو پہنچے گا۔ اسکے بعد پھر ہوسکتا ہے کہ ایک زمانہ مسلمانوں کے ضعف کا آئے، سو یاد رکھنا چاہیے کہ خدائے قادر و توانا ہر وقت ضعف کو قوت سے تبدیل کرسکتا ہے۔ ہاں ایسا کرنے کی خاص صورتیں اور اسباب ہوتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
Ayah 30:55

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 30:55 in the Quran reader

اور جس دن قائم ہوگی قیامت قسمیں کھائیں گے گناہ گار کہ ہم نہیں رہے تھے ایک گھڑی سے زیادہ2 اسی طرح تھے الٹے جاتے3

2 یعنی قبر میں یا دنیا میں رہنا تھوڑا معلوم ہوگا جب مصیبت سر پر کھڑی نظر آئے گی کہیں گے کہ افسوس بڑی جلدی دنیا کی اور برزخ کی زندگی ختم ہوگئی۔ کچھ بھی مہلت نہ ملی جو ذرا سی دیر اور اس عذاب الیم سے بچے رہتے۔ یا دنیا میں کچھ زیادہ مدت ٹھہرنے کا موقع ملتا تو اس دن کے لئے تیاری کرتے یہ تو ایک دم مصیبت کی گھڑی سامنے آگئی۔ 3 یعنی جیسے اس وقت یہ کہنا جھوٹ اور غلط ہوگا اسی طرح سمجھ لو کہ دنیا میں بھی یہ لوگ غلط خیالات جماتے اور الٹی باتیں کیا کرتے تھے۔
Ayah 30:56

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:56 in the Quran reader

اور کہیں گے جن کو ملی ہے سمجھ اور یقین تمہارا ٹھہرنا تھا اللہ کی کتاب میں جی اٹھنے کے دن تک سو یہ ہے جی اٹھنے کا دن پر تم نہیں تھے جانتے4

4 یعنی مومنین اور ملائکہ اس وقت ان کی تردید کرینگے کہ تم جھوٹ بکتے ہو یا دھوکہ میں پڑے ہو جو کہتے ہو کہ قبر میں یا دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ ٹھہرنا نہیں ہوا۔ تم ٹھیک اللہ کے علم اور اس کی خبر اور لوح محفوظ کے نوشتہ کے موافق قیامت کے دن تک ٹھہرے، ایک منٹ کی بھی کمی نہیں ہوئی۔ آج عین وعدہ کے موافق وہ دن آپہنچا۔ اب وہ دیکھ لو جسے تم جانتے اور مانتے نہ تھے۔ اگر پہلے سے اس دن کا یقین کرتے تو تیار ہو کر آتے اور یہاں کی مسرتیں دیکھ کر کہتے کہ اس دن کے آنے میں بہت دیر لگی۔ بڑے انتظار و اشتیاق کے بعد آیا۔ جیسا کہ مومنین سمجھتے ہیں۔
Ayah 30:57

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 30:57 in the Quran reader

سو اس دن کام نہ آئے گا ان گناہ گاروں کو قصور بخشوانا اور نہ ان سے کوئی منانا چاہے5

5 یعنی نہ کوئی معقول عذر پیش کرسکیں گے جو کام آئے اور نہ ان سے کہا جائیگا کہ اچھا اب توبہ اور اطاعت سے اپنے پروردگار کو راضی کرلو، کیونکہ اس کا وقت گزر چکا اب تو ہمیشہ کی سزا بھگتنے کے سوا چارہ نہیں۔
Ayah 30:58

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ Open ayah 30:58 in the Quran reader

اور ہم نے بٹھلائی ہے آدمیوں کے واسطے اس قرآن میں ہر ایک طرح کی مثل اور جو تو لائے ان کے پاس کوئی آیت تو ضرور کہیں وہ منکر تم سب جھوٹ بناتے ہو6

6 یعنی اس وقت پچھتائیں گے اور آج خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کا موقع ہے قرآن کریم کیسی عجیب مثالیں اور دلیلیں بیان کر کے طرح طرح سے ان کو سمجھاتا ہے، پر ان کی سجھ میں کوئی بات نہیں آتی، کیسی ہی آیتیں پڑھ کر سنائیے یا صاف سے صاف معجزے دکھلائیے وہ سن کر اور دیکھ کر یہ ہی کہہ دیتے ہیں کہ تم (پیغمیر اور مسلمان) سب مل کر جھوٹ بنا لائے ہو۔ ایک نے چند آیتیں بنالیں دوسروں نے تصدیق کردی۔ ایک نے جادو دکھلایا دوسرے اس پر ایمان لانے کو تیار ہوگئے۔ اس طرح ملی بھگت کر کے اپنا مذہب پھیلانا چاہتے ہو۔
Ayah 30:59

كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:59 in the Quran reader

یوں مہر لگا دیتا ہے اللہ ان کے دلوں پر جو سمجھ نہیں رکھتے7

7 یعنی جو آدمی نہ سمجھے، نہ سمجھنے کی کوشش کرے اور ضد وعناد سے ہر بات کا انکار کرتا رہے اور اسی طرح شدہ شدہ اس کے دل پر مہر لگ جاتی ہے اور آخرکار ضد وعناد سے دل اتنا سخت ہوجاتا ہے کہ قبول حق کی استعداد بھی ضائع کر بیٹھتا ہے۔ العیاذ باللہ !
Ayah 30:60

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 30:60 in the Quran reader

سو تو قائم رہو بیشک اللہ کا وعدہ ٹھیک ہے اور اکھاڑ نہ دیں تجھ کو وہ لوگ جو یقین نہیں لاتے8

8 یعنی جب ان بدبختوں کا حال ضد وعناد کے اس درجہ پر پہنچ گیا تو آپ ﷺ ان کی شرارتوں سے رنجیدہ نہ ہوں۔ بلکہ پیغمبرانہ صبر و تحمل کے ساتھ اپنے دعوت و اصلاح کے کام میں لگے رہیں۔ اللہ نے جو آپ سے فتح و نصرت کا وعدہ کیا ہے یقینا پورا کر کے رہے گا۔ اس میں رتی برابر تفاوت و تخلف نہیں ہوسکتا۔ آپ اپنے کام پر جمے رہیے۔ یہ بد عقیدہ اور بےیقین لوگ آپ کو ذرا بھی آپ کے مقام سے جنبش نہ دے سکیں گے۔ تم سورة الروم وللہ الحمد والمنہ۔