29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 29:41

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:41 in the Quran reader

مثال ان لوگوں کی جنہوں نے پکڑے اللہ کو چھوڑ کر اور حمایتی جیسے مکڑی کی مثال بنا لیا اس نے ایک گھر اور سب گھروں میں بودا سو مکڑی کا گھر اگر ان کو سمجھ ہوتی8

8 یعنی گھر اس واسطے ہے کہ جان مال کا بچاؤ ہو، نہ مکڑی کا جالا کہ دامن کے جھٹکے سے ٹوٹ پڑے۔ یہ ہی مثال اس کی ہے جو اللہ کے سوا کسی کو اپنا بچانے والا اور محافظ سمجھے بدون مشیت الٰہی کچھ بچاؤ نہیں کرسکتے۔
Ayah 29:42

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:42 in the Quran reader

اللہ جانتا ہے جس جس کو وہ پکارتے ہیں اس کے سوائے کوئی چیز ہو9 اور وہ زبردست ہے حکمتوں والاف 10

9 یعنی ممکن تھا سننے والا تعجب کرے کہ سب کو ایک ہی ذیل میں کھینچ دیا کسی کو مستثنیٰ نہ کیا۔ بعض لوگ بت کو پوجتے ہیں، بعض آگ پانی کو، بعض اولیاء انبیاء یا فرشتوں کو، سو اللہ نے فرما دیا کہ اللہ کو سب معلوم ہیں۔ اگر کوئی ایک بھی ان میں سے مستقل قدرت و اختیار رکھتا تو اللہ سب کی یک قلم نفی نہ کرتا۔ 10 یعنی اللہ کو کسی کی رفاقت نہیں چاہیے، وہ زبردست ہے، اور مشورہ نہیں چاہیے کیونکہ حکیم مطلق ہے۔
Ayah 29:43

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ١ۚ وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ Open ayah 29:43 in the Quran reader

اور یہ مثالیں بٹھلاتے ہیں ہم لوگوں کے واسطے اور ان کو سمجھتے وہی ہیں جن کو سمجھ ہے11

11 مشرکین مکہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ " مکڑی " اور " مکھی " وغیرہ حقیر چیزوں کی مثالیں بیان کرتا ہے جو اس کی عظمت کے منافی ہیں اس کا جواب دیا، کہ مثالیں اپنے مواقع کے لحاظ سے نہایت موزوں اور ممثل لہ پر پوری منطبق ہیں۔ مگر سمجھدار ہی اس کا مطلب ٹھیک سمجھتے ہیں۔ جاہل بیوقوف کیا جانیں۔ مثال کا انطباق مثال دینے والے کی حیثیت پر نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ جس کی مثال ہے اس کی حیثیت کو دیکھو، اگر وہ حقیر و کمزور ہے تو تمثیل بھی ایسی ہی حقیر و کمزور چیزوں سے ہوگی۔ مثال دینے والے کی عظمت کا اس سے کیا تعلق۔
Ayah 29:44

خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 29:44 in the Quran reader

اللہ نے بنائے آسمان اور زمین جیسے چاہئیں12 اس میں نشانی ہے یقین لانے والوں کے لیے13

12 یعنی نہایت حکمت سے بنایا، بیکار پیدا نہیں کیا۔ 13 یعنی جب آسمان و زمین اس اکیلے نے بنا دیے تو چھوٹے چھوٹے کاموں میں اسے کسی شریک یا مددگار کی کیا احتیاج ہوگی۔ ہوتی تو ان بڑے کاموں میں ہوتی۔
Ayah 29:45

اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ Open ayah 29:45 in the Quran reader

تو پڑھ جو اتری تیری طرف کتاب1 اور قائم رکھ نماز بیشک نماز روکتی ہے بےحیائی اور بری بات سے2 اور اللہ کی یاد ہے سب سے بڑی3 اور اللہ کو خبر ہے جو تم کرتے ہو4

1 یعنی قرآن کی تلاوت کرتے رہئیے تاکہ دل مضبوط اور قوی رہے، تلاوت کا اجر وثواب الگ حاصل ہو۔ اس کے معارف و حقائق کا انکشاف بیش از بیش ترقی کرے۔ دوسرے لوگ بھی سن کر اس کے مواعظ اور علوم و برکات سے منتفع ہوں، جو نہ مانیں ان پر خدا کی حجت تمام ہو، اور دعوت و اصلاح کا فرض بحسن و خوبی انجام پاتا رہے۔ 2 نماز کا برائیوں سے روکنا دو معنی میں ہوسکتا ہے۔ ایک بطریق تسبب، یعنی نماز میں اللہ تعالیٰ نے خاصیت و تاثیر رکھی ہو کہ نمازی کو گناہوں اور برائیوں سے روک دے جیسے کسی دوا کا استعمال کرنا بخار وغیرہ امراض کو روک دیتا ہے۔ اس صورت میں یاد رکھنا چاہیے کہ دوا کے لئے ضروری نہیں کہ اس کی ایک ہی خوراک بیماری کو روکنے کے لئے کافی ہوجائے۔ بعض دوائیں خاص مقدار میں مدت تک التزام کے ساتھ کھائی جاتی ہیں۔ اس وقت ان کا نمایاں اثر ظاہر ہوتا ہے بشرطیکہ مریض کسی ایسی چیز کا استعمال نہ کرے جو اس دوا کی خاصیت کے منافی ہو۔ پس نماز بھی بلاشبہ بڑی قوی التاثیر دوا ہے۔ جو روحانی بیماریوں کو روکنے میں اکسیر کا حکم رکھتی ہے۔ ہاں ضرورت اس کی ہے کہ ٹھیک مقدار میں اس احتیاط اور بدرقہ کے ساتھ جو اطبائے روحانی نے تجویز کیا ہو خاصی مدت تک اس پر مواظبت کی جائے۔ اس کے بعد مریض خود محسوس کرے گا کہ نماز کس طرح اس کی پرانی بیماریوں اور برسوں کے روگ کو دور کرتی ہے۔ دوسرے معنی یہ ہوسکتے ہیں کہ نماز کا برائیوں سے روکنا بطور اقتضاء ہو یعنی نماز کی ہر ایک ہیئت اور اس کا ہر ایک ذکر مقتضی ہے کہ جو انسان ابھی ابھی بارگاہ الہٰی میں اپنی بندگی، فرمانبرداری، خضوع و تذلل، اور حق تعالیٰ کی ربوبیت، الوہیت اور حکومت و شہنشاہی کا اظہار و اقرار کر کے آیا ہے، مسجد سے باہر آکر بھی بد عہدی اور شرارت نہ کرے اور اس شہنشاہ مطلق کے احکام سے منحرف نہ ہو۔ گویا نماز کی ہر ایک ادا نمازی کو پانچ وقت حکم دیتی ہے کہ اور بندگی اور غلامی کا دعویٰ کرنے والے واقعی بندوں اور غلاموں کی طرح رہ۔ اور بزبان حال مطالبہ کرتی ہے کہ بےحیائی اور شرارت و سرکشی سے باز آ۔ اب کوئی باز آئے یا نہ آئے مگر نماز بلاشبہ اسے روکتی اور منع کرتی ہے جیسے اللہ تعالیٰ خود روکتا اور منع فرماتا ہے۔ کما قال تعالیٰ ۔ (اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ ) 16 ۔ النحل :90) پس جو بدبخت اللہ تعالیٰ کے روکنے اور منع کرنے پر برائی سے نہیں رکتے نماز کے روکنے پر بھی ان کا نہ رکنا محل تعجب نہیں۔ ہاں یہ واضح رہے کہ ہر نماز کا روکنا اور منع کرنا اسی درجہ تک ہوگا جہاں تک اس کے ادا کرنے میں خدا کی یاد سے غفلت نہ ہو۔ کیونکہ نماز محض چند مرتبہ اٹھنے بیٹھنے کا نام نہیں۔ سب سے بڑی چیز اس میں خدا کی یاد ہے۔ نمازی ارکان صلوٰۃ ادا کرتے وقت اور قرات قرآن یا دعاء و تسبیح کی حالت میں جتنا حق تعالیٰ کی عظمت و جلال کو مستحضر اور زبان و دل کو موافق رکھے گا اتنا ہی اس کا دل نماز کے منع کرنے کی آواز کو سنے گا۔ اور اسی قدر اس کی نماز برائیوں کو چھڑانے میں موثر ثابت ہوگی۔ ورنہ جو نماز قلب لاہی و غافل سے ادا ہو وہ صلوٰۃ منافق کے مشابہ ٹھہرے گی۔ جس کی نسبت حدیث میں فرمایا۔ " لا یذکر اللہ فیھا الا قلیلا۔ " اسی کی نسبت " لم یزدد بھا من اللہ الا بعدا " کی وعید آئی ہے۔ 3 یعنی نماز برائی سے کیوں نہ روکے جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کے یاد کرنے کی بہترین صورت ہے۔ کما قال تعالیٰ ۔ (وَاَ قِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ ) 20 ۔ طہ :14) اور اللہ کی یاد بہت بڑی چیز ہے۔ یہ وہ چیز ہے جسے نماز اور جہاد وغیرہ تمام عبادات کی روح کہہ سکتے ہیں۔ یہ نہ ہو تو عبادت کیا، ایک جسد بےروح اور لفظ بےمعنی ہے۔ حضرت ابو الدرداء وغیرہ کی احادیث کو دیکھ کر علماء نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ذکر اللہ (خدا کی یاد) سے بڑھ کر کوئی عبادت نہیں۔ اصلی فضیلت اسی کو ہے۔ یوں عارضی اور وقتی طور پر کوئی عمل ذکر اللہ پر سبقت لے جائے وہ دوسری بات ہے، لیکن غور کیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ اس عمل میں بھی فضیلت اسی ذکر اللہ کی بدولت آئی ہے۔ بہرحال ذکر اللہ تمام اعمال سے افضل ہے اور جب وہ نماز کے ضمن میں ہو تو افضل تر ہوگا۔ پس بندے کو چاہیے کہ کسی وقت خدا کے ذکر سے غافل نہ ہو خصوصاً جس وقت کسی برائی کی طرف میلان ہو فوراً خدا تعالیٰ کی عظمت و جلال کو یاد کرکے اس سے باز آجائے۔ قرآن و حدیث میں ہے کہ بندہ جب اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو یاد فرماتا ہے۔ بعض سلف نے آیت کا یہ ہی مطلب لیا ہے کہ نماز میں ادھر سے بندہ خدا کو یاد کرتا ہے اس لئے نماز بڑی چیز ہوئی لیکن اس کے جواب میں جو ادھر سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو یاد فرماتا ہے۔ یہ سب سے بڑی چیز ہے۔ جس کی انتہائی قدر کرنی چاہیے اور یہ شرف و کرامت محسوس کر کے اور زیادہ ذکر اللہ کی طرف راغب ہونا چاہئے۔ کسی شخص نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ اسلام کے احکام بہت ہیں، مجھے کوئی ایک جامع و مانع چیز بتلادیجئے، فرمایا " لا یزال لسانک رطبا من ذکر اللہ " (تیری زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رہنی چاہئے) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جتنی دیر نماز میں لگے اتنا تو ہر گناہ سے بچے، امید ہے آگے بھی بچتا رہے۔ اور اللہ کی یاد کو اس سے زیادہ اثر ہے یعنی گناہ سے بچے اور اعلیٰ درجوں پر چڑھے۔ " (موضح) یہ " لذکر اللہ اکبر۔ " کی ایک اور لطیف تفسیر ہوئی۔ 4 یعنی جو آدمی جس قدر خدا کو یاد رکھتا ہے یا نہیں رکھتا خدا تعالیٰ سب کو جانتا ہے۔ لہذا ذاکر اور غافل میں سے ہر ایک کے ساتھ اس کا معاملہ بھی جدا گانہ ہوگا
Ayah 29:46

وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 29:46 in the Quran reader

اور جھگڑا نہ کرو اہل کتاب سے مگر اس طرح پر جو بہتر ہو مگر جو ان میں بےانصاف ہیں5 اور یوں کہو کہ ہم مانتے ہیں جو اترا ہم کو اور اترا تم کو6 اور بندگی ہماری اور تمہاری ایک ہی کو ہے اور ہم اسی کے حکم پر چلتے ہیں7

5 یعنی مشرکوں کا دین جڑ سے غلط ہے اور اہل کتاب کا دین اصل میں سچا تھا، تو ان سے ان کی طرح مت جھگڑو کہ جڑ سے ان کی بات کاٹنے لگو۔ بلکہ نرمی، متانت، خیرخواہی اور صبرو تحمل سے واجبی بات سمجھاؤ۔ البتہ جو ان میں صریح بےانصافی، عناد اور ہٹ دھرمی پر تل جائے اس کے ساتھ مناسب سختی کا برتاؤ کرسکتے ہو اور آگے چل کر ایسوں کو سزا دینی ہے۔ (تنبیہ) پہلے قرآن کی تلاوت کا حکم تھا، اغلب ہے کہ منکرین اسے سن کر الجھنے لگیں، تو بتلادیا کہ بحث کے وقت فریق مقابل کی علمی و دینی حیثیت کا خیال رکھو۔ جوش مناظرہ میں صداقت و اخلاق کی حد سے نہ نکلو۔ جہاں کہیں جتنی سچائی ہو اس کا اعتراف کرو۔ 6 یعنی ہمارا جیسا کہ قرآن پر ایمان ہے اس پر بھی ایمان ہے کہ اللہ نے تمہاری ہدایت کے لئے حضرت موسیٰ و مسیح علیہما الصلوٰۃ والسلام اور دوسرے انبیاء پر جو کتابیں اتاریں بیشک وہ سچی تھیں۔ ایک حرف ان کا غلط نہ تھا۔ (گو تمہارے ہاتھ میں وہ آسمانی کتابیں اپنی اصلی صورت و حقیقت میں باقی نہ رہیں) ۔ 7 یعنی اصلی معبود ہمارا تمہارا ایک ہے۔ فرق اتنا ہے کہ ہم تنہا اسی کے حکم پر چلتے ہیں، تم نے اس سے ہٹ کر اوروں کو بھی خدائی کے حقوق و اختیارات دے دیے۔ مثلاً حضرت مسیح یا حضرت عزیر (علیہما السلام) کو یا احبارو رہبان کو۔ نیز ہم نے اس کے تمام احکام کو مانا سب پیغمبروں کی تصدیق کی، سب کتابوں کو برحق سمجھا اس کے آخری حکم کے سامنے سر تسلیم خم کردیا۔ تم نے کچھ مانا کچھ نہ مانا۔ اور آخری صداقت سے منکر ہوگئے۔
Ayah 29:47

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 29:47 in the Quran reader

اور ویسی ہی ہم نے اتاری تجھ پر کتاب8 سو جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو مانتے ہیں اور ان مکہ والوں میں بھی بعضے ہیں کہ اس کو مانتے ہیں اور منکر وہی ہیں ہماری باتوں سے جو نافرمان ہیں9

8 یعنی اس کتاب میں آخر تمہاری کتابوں سے کونسی بات کم ہے جو قبول کرنے میں تردد ہے۔ جس طرح انبیائے سابقین پر کتابیں اور صحیفے ایک دوسرے کے بعد اترتے رہے، پیغمبر آخرالزماں پر یہ کتاب لاجواب اتری اس کے ماننے سے اتنا انکار کیوں ہے۔ 9 یعنی جن اہل کتاب نے اپنی کتاب ٹھیک سمجھی وہ اس کتاب کو بھی مانیں گے اور انصافاً ماننا چاہیے۔ چناچہ ان میں سے جو منصف ہیں، وہ اس کی صداقت دل سے تسلیم کرتے ہیں۔ اور نہ صرف اہل کتاب بلکہ عرب کے بعض لوگ بھی جو کتب سابقہ کا کچھ علم نہیں رکھتے اس قرآن کو مانتے جا رہے ہیں۔ حقیقت میں قرآن کریم کی صداقت کے دلائل اس قدر روشن ہیں کہ بجز سخت حق پوش نافرمان کے کوئی ان کی تسلیم سے انکار نہیں کرسکتا۔
Ayah 29:48

وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 29:48 in the Quran reader

اور تو پڑھتا نہ تھا اس سے پہلے کوئی کتاب اور نہ لکھتا تھا اپنے داہنے ہاتھ سے تب تو البتہ شبہ میں پڑتے یہ جھوٹے10

10 نزول قرآن سے پہلے آپ کی عمر کے چالیس سال ان ہی مکہ والوں میں گزرے۔ سب جانتے ہیں کہ اس مدت میں نہ آپ کسی استاد کے پاس بیٹھے نہ کوئی کتاب پڑھی نہ کبھی ہاتھ میں قلم پکڑا، ایسا ہوتا تو ان باطل پرستوں کو شبہ نکالنے کی جگہ رہتی کہ شاید اگلی کتابیں پڑھ کر یہ باتیں نوٹ کرلی ہوں گی، ان ہی کو اب آہستہ آہستہ اپنی عبارت میں ڈھال کر سنا دیتے ہیں۔ گو اس وقت بھی یہ کہنا غلط ہوتا، کیونکہ کوئی پڑھا لکھا انسان بلکہ دنیا کے تمام پڑھے لکھے آدمی مل کر اور کل مخلوق کی طاقت کو اپنے ساتھ ملا کر بھی ایسی بےنظیر کتاب تیار نہیں کرسکتے، تاہم جھوٹوں کو بات بنانے کا ایک موقع ہاتھ لگ جاتا لیکن جب کہ آپ کا امیّ ہونا مسلمات میں سے ہے تو اس سرسری شبہ کی بھی جڑ کٹ گئی اور یوں ضدی لوگ کہنے کو تو اس کو بھی کہتے تھے۔ ( اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا) 25 ۔ الفرقان :5)
Ayah 29:49

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 29:49 in the Quran reader

بلکہ یہ قرآن تو آیتیں ہیں صاف ان لوگوں کے سینوں میں جن کو ملی ہے سمجھ11 اور منکر نہیں ہماری باتوں سے مگر وہی جو بےانصاف ہیں12

11 یعنی پیغمبر نے کسی سے لکھا پڑھا نہیں۔ بلکہ یہ وحی جو ان پر آئی ہمیشہ کو بن لکھے سینہ بسینہ جاری رہے گی۔ اللہ کے فضل سے علماء اور حفاظ و قراء کے سینے اس کے الفاظ و معانی کی حفاظت کریں گے اور آسمانی کتابیں حفظ نہ ہوتی تھیں۔ یہ کتاب حفظ ہی سے باقی ہے۔ لکھنا اس پر افزود ہے (موضح با ضافہ یسیر) 12 یعنی ناانصافی کا کیا علاج۔ ایک شخص یہ ہی ٹھان لے کہ میں کبھی سچی بات نہ مانوں گا۔ وہ روشن سے روشن چیز کا بھی انکار کردے گا۔
Ayah 29:50

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 29:50 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کیوں نہ اتریں اس پر کچھ نشانیاں اس کے رب سے تو کہہ نشانیاں تو ہیں اختیار میں اللہ کے اور میں تو بس سنا دینے والا ہوں کھول کر1

1 یعنی میرے قبضہ میں نہیں کہ جو نشان تم طلب کیا کرو وہی دکھلادیا کروں نہ کسی نبی کی تصدیق اس بات پر موقوف ہوسکتی ہے۔ میرا کام تو یہ ہے کہ بدی کے نتائج سے تم کو صاف لفظوں میں آگاہ کرتا رہوں باقی حق تعالیٰ میری تصدیق کے لئے جو نشان چاہے دکھلا دے، یہ اس کے اختیار میں ہے۔
Ayah 29:51

اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 29:51 in the Quran reader

کیا ان کو یہ کافی نہیں کہ ہم نے تجھ پر اتاری کتاب کہ ان پر پڑھی جاتی ہے بیشک اس میں رحمت ہے اور سمجھانا ان لوگوں کو جو مانتے ہیں2

2 یعنی کیا یہ نشان کافی نہیں جو کتاب انھیں دن رات پڑھ کر سنائی جاتی ہے اس سے بڑا نشان کون سا ہوگا۔ دیکھتے نہیں کہ اس کتاب کے ماننے والے کس طرح سمجھ حاصل کرتے جاتے ہیں اور اللہ کی رحمت سے بہرہ ور ہو رہے ہیں۔
Ayah 29:52

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 29:52 in the Quran reader

تو کہہ کافی ہے اللہ میرے اور تمہارے بیچ گواہ جانتا ہے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں3 اور جو لوگ یقین لاتے ہیں جھوٹ پر اور منکر ہوئے ہیں اللہ سے وہی ہیں نقصان پانے والے4

3 یعنی خدا کی زمین پر اس کے آسمان کے نیچے میں اعلانیہ دعویٰ رسالت کر رہا ہوں جسے وہ سنتا اور دیکھتا ہے پھر روز بروز مجھے اور میرے ساتھیوں کو غیر معمولی طریقہ سے بڑھا رہا ہے۔ برابر میرے دعوے کی فعلی تصدیق کرتا ہے۔ میری زبان پر اور ہاتھوں پر قدرت کے وہ خارق عادت نشان ظاہر کئے جاتے ہیں جن کی نظیر پیش کرنے سے تمام جن و انس عاجز ہیں۔ کیا میری صداقت پر اللہ کی گواہی کافی نہیں۔ 4 آدمی کی بڑی شقاوت اور خسران یہ ہے کہ جھوٹی بات کو خواہ کتنی ہی بدیہی البطلان ہو فوراً قبول کرلے اور سچی بات سے گو کتنی ہی صاف روشن ہو انکار کرتا رہے۔
Ayah 29:53

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 29:53 in the Quran reader

اور جلدی مانگتے ہیں تجھ سے آفت5 اور اگر نہ ہوتا ایک وعدہ مقرر) ٹھہرا ہوا (تو آپہنچتی ان پر آفت اور البتہ آئے گی ان پر اچانک اور ان کو خبر نہ ہوگی6

5 یعنی اگر باطل پر ہیں تو ہم پر دنیا میں کوئی آفت کیوں نہیں آتی۔ 6 یعنی ہر چیز اپنے وقت معین پر آتی ہے، گھبراؤ نہیں، وہ آفت بھی آکر رہے گی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ اس امت کا عذاب یہ ہی تھا مسلمانوں کے ہاتھ سے قتل ہونا اور پکڑے جانا۔ سو فتح مکہ کے لوگ بیخبر رہے کہ حضرت ﷺ کا لشکر سر پر آکھڑا ہوا۔
Ayah 29:54

یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 29:54 in the Quran reader

جلدی مانگتے ہیں تجھ سے عذاب 7 اور گھیر رہی ہے منکروں کو8

7 یہاں عذاب سے شاید آخرت کا عذاب مراد ہو جیسا کہ جواب سے ظاہر ہے۔ 8 یعنی آخرت کا عذاب تو فضول مانگتے ہیں، اس عذاب میں تو پڑے ہی ہیں۔ یہ کفر اور برے کام دوزخ نہیں تو اور کیا ہے جس نے ہر طرف سے انھیں گھیر رکھا ہے۔ موت کے بعد حقیقت کھل جائے گی کہ دوزخ کس طرح جلاتی ہے جب یہ ہی اعمال جہنم کی آگ اور سانپ بچھو بن کر لپٹیں گے۔
Ayah 29:55

یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:55 in the Quran reader

جس دن گھیر لے گا ان کو عذاب ان کے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے اور کہے گا چکھو جیسا کچھ تم کرتے تھے9

9 یہ اللہ تعالیٰ کہے گا، یا وہ عذاب ہی بولے گا جیسے زکوٰۃ نہ دینے والے کا مال۔ حدیث میں آیا ہے کہ سانپ ہو کر گلے میں پڑے گا، گلے چیرے گا اور کہے گا میں تیرا مال ہوں تیرا خزانہ ہوں۔
Ayah 29:56

یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 29:56 in the Quran reader

اے بندوں میرے جو یقین لائے ہو میری زمین کشادہ ہے سو میری ہی بندگی کرو10

10 یعنی یہ مکہ کے کافر اگر تم کو تنگ کرتے ہیں تو خدا کی زمین تنگ نہیں دوسری جگہ جا کر خدا کی عبادت کرو۔
Ayah 29:57

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:57 in the Quran reader

جو جی ہے سو چکھے گا موت پھر ہماری طرف پھر آؤ گے11

11 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جب کافروں نے مکہ میں بہت زور باندھا تو مسلمانوں کو ہجرت کا حکم ہوا۔ چناچہ اسی تراسی گھر حبشہ چلے گئے۔ اس کو فرمایا کوئی دن کی زندگی ہے جہاں بن پڑے وہاں کاٹ دو ، پھر ہمارے پاس اکٹھے آؤ گے۔ اس میں مہاجرین کی تسلی کردی تاکہ وطن چھوڑنا اور حضرت سے جدا ہونا دل پر بھاری نہ گزرے۔ گویا جتلا دیا کہ وطن، خویش و اقارب، رفقاء اور چھوٹے بڑے آج نہیں کل چھوٹیں گے۔ فرض کرو اس وقت مکہ سے ہجرت نہ کی تو ایک روز دنیا سے ہجرت کرنا ضروری ہے مگر وہ بےاختیار ہوگا۔ بندگی اس کا نام ہے کہ اپنی خوشی اور اختیار سے ان چیزوں کو چھوڑ دے جو پروردگار حقیقی کی بندگی میں مزاحم اور خلل انداز ہوتی ہیں۔
Ayahs 29:58–59

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ Open ayah 29:58 in the Quran reader

اور جو لوگ یقین لائے اور کیے بھلے کام ان کو ہم جگہ دیں گے بہشت میں جھروکے نیچے بہتی ہیں ان کے نہریں سدا رہیں ان میں خوب ثواب ملا کام والوں کو

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 29:59 in the Quran reader

جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب پر بھروسہ رکھا1

1 یعنی جو صبر واستقلال سے اسلام و ایمان کی راہ پر جمے رہے اور خدا پر بھروسہ کر کے گھر بار چھوڑ کر وطن سے نکل کھڑے ہوئے ان کو اس وطن کے بدلے وہ وطن ملے گا اور یہاں کے گھروں سے بہتر گھر دیے جائیں گے۔
Ayah 29:60

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ١ۖ٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:60 in the Quran reader

اور کتنے جانور ہیں جو اٹھا نہیں رکھتے اپنی روزی دیتا ہے ان کو اور تم کو بھی اور وہی ہے سننے والا جاننے والاف 2

2 یہ روزی کی طرف سے خاطر جمع کردی کہ " اکثر جانوروں کے گھر میں اگلے دن کا قوت نہیں ہوتا۔ نیا دن اور نئی روزی " (موضح) پھر جو خدا جانوروں کو روزی پہنچاتا ہے کیا اپنے وفادار عاشقوں کو نہ پہنچائے گا۔ خوب سمجھ لو رزاق حقیقی وہ ہے جو سب کی باتیں سنتا اور دلوں کے اخلاص کو جانتا ہے۔ ہر ایک کا ظاہر و باطن اس کے سامنے ہے۔ کسی کی محنت وہاں رائیگاں نہیں ہوسکتی۔ جو لوگ اس کے راستہ میں وطن چھوڑ کر نکلے ہیں انھیں ضائع نہیں کرے گا۔ سامان معیشت ساتھ لے جانے کی فکر نہ کریں۔ کتنے جانور ہیں جو اپنی روزی اپنی کمر پر لادے نہیں پھرتے، پھر بھی رازق حقیقی ان کو ہر روز رزق پہنچاتا ہے۔
Ayah 29:61

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 29:61 in the Quran reader

اور اگر تو لوگوں سے پوچھے کہ کس نے بنایا ہے آسمان اور زمین کو اور کام میں لگایا سورج اور چاند کو تو کہیں اللہ نے پھر کہاں سے الٹ جاتے ہیں3

3 یعنی رزق کے تمام اسباب (سماویہ و ارضیہ) اسی نے پیدا کئے سب جانتے ہیں، پھر اس پر بھروسہ نہیں کرتے کہ وہ ہی پہنچا بھی دے گا۔ مگر جتنا وہ چاہے نہ جتنا تم چاہو۔ یہ اگلی آیت میں سمجھا دیا ہے (موضح) ۔
Ayah 29:62

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 29:62 in the Quran reader

اللہ پھیلاتا ہے روزی جس کے واسطے چاہے اپنے بندوں میں اور ناپ کردیتا ہے جس کو چاہے4 بیشک اللہ ہر چیز سے خبردار ہے5

4 ناپ کردیتا ہے یہ نہیں کہ بالکل نہ دے۔5 یعنی یہ خبر اسی کو ہے کہ کس کو کتنا دینا چاہئے۔
Ayah 29:63

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 29:63 in the Quran reader

اور جو تو پوچھے ان سے کس نے اتارا آسمان سے پانی پھر زندہ کردیا اس سے زمین کو اس کے مرجانے کے بعد تو کہیں اللہ نے تو کہہ سب خوبی اللہ کو ہے پر بہت لوگ نہیں سمجھتے6

6 یعنی مینہ بھی ہر کسی پر برابر نہیں برستا اور اسی طرح حال بدلتے دیر نہیں لگتی۔ ذرا دیر میں مفلس سے دولتمند کردے۔
Ayah 29:64

وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:64 in the Quran reader

اور یہ دنیا کا جینا تو بس جی بہلانا اور کھیلنا ہے اور پچھلا گھر جو ہے سو وہی ہے زندہ رہنا اگر ان کو سمجھ ہوتی7

7 یعنی آدمی کو چاہیے یہاں کی چند روزہ زندگی سے زیادہ آخرت کی فکر کرے کہ اصلی و دائمی زندگی وہ ہے۔ دنیا کے کھیل تماشے میں غرق ہو کر عاقبت کو بھول نہ بیٹھے۔ بلکہ یہاں رہ کر وہاں کی تیاری اور سفر آخرت کے لئے تو شہ درست کرے۔
Ayahs 29:65–66

فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 29:65 in the Quran reader

پھر جب سوار ہوئے کشتی میں پکارنے لگے اللہ کو خالص اسی پر رکھ کر اعتقاد پھر جب بچا لایا ان کو زمین کی طرف اسی وقت لگے شریک بنانے

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:66 in the Quran reader

تاکہ مکرتے رہیں ہمارے دئیے ہوئے سے اور مزے اڑاتے رہیں سو عنقریب جان لیں گے1

1 یعنی چاہیے تو یہ تھا کہ آدمی دنیا کے مزوں میں پڑ کر خدا کو اور آخرت کو فراموش نہ کرے۔ لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب کشتی طوفان میں گھر جائے تو بڑی عقیدت مندی سے اللہ کو پکارتے ہیں۔ پھر جہاں آفت سر سے ٹلی اور خشکی پر قدم رکھا، اللہ کے احسانوں سے مکر کر جھوٹے دیوتاؤں کو پکارنا شروع کردیا۔ گویا غرض یہ ہوئی کہ اللہ کی نعمتوں کا کفران کرتے رہیں اور دنیا کے مزے اڑاتے رہیں۔ خیر بہتر ہے چند روز دل کے ارمان نکال لیں، عنقریب پتہ لگ جائے گا کہ اس بغاوت و شرارت، احسان فراموشی اور ناسپاسی کا نتیجہ کیا ہے۔
Ayah 29:67

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 29:67 in the Quran reader

کیا نہیں دیکھتے کہ ہم نے رکھ دی ہے پناہ کی جگہ امن کی اور لوگ اچکے جاتے ہیں ان کے آس پاس سے کیا جھوٹ پر یقین رکھتے ہیں اور اللہ کا احسان نہیں مانتے2

2 مکہ کے لوگ اللہ کے گھر کے طفیل دشمنوں سے پناہ میں تھے۔ حالانکہ سارے ملک عرب میں فساد اور کشت و خون کا بازار گرم تھا۔ بتوں کے جھوٹے احسان مانتے ہیں اللہ کا یہ سچا احسان نہیں مانتے۔
Ayah 29:68

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 29:68 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ بےانصاف کون ہے جو باندھے اللہ پر جھوٹ یا جھٹلائے سچی بات کو جب اس تک پہنچے کیا دوزخ میں بسنے کی جگہ نہیں منکروں کے لئے3

3 یعنی سب سے بڑی ناانصافی یہ ہے کہ اللہ کا شریک کسی کو ٹھہرائے۔ یا اس کی طرف وہ باتیں منسوب کرے جو اس کی شان کے لائق نہیں۔ یا پیغمبر جو سچائی لے کر آئے ہیں اسے سنتے ہی جھٹلانا شروع کردے۔ کیا ان ظالموں کو معلوم نہیں کہ منکروں کا ٹھکانا دوزخ ہے جو ایسی بیباکی اور بےحیائی سے عقل و انصاف کے گلے پر چھری پھیرنے پر آمادہ ہوگئے ہیں۔
Ayah 29:69

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 29:69 in the Quran reader

اور جنہوں نے محنت کی ہمارے واسطے ہم سجھا دیں گے ان کو اپنی راہیں4 اور بیشک اللہ ساتھ ہے نیکی والوں کے5

4 یعنی جو لوگ اللہ کے واسطے محنت اٹھاتے اور سختیاں جھیلتے ہیں اور طرح طرح کے مجاہدات میں سرگرم رہتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ایک خاص نور بصیرت عطا فرماتا اور اپنے قرب و رضا یا جنت کی راہیں سجھاتا ہے۔ جوں جوں وہ ریاضات و مجاہدات میں ترقی کرتے ہیں۔ اسی قدر ان کی معرفت و انکشاف کا درجہ بلند ہوتا جاتا ہے اور وہ باتیں سوجھنے لگتی ہیں کہ دوسروں کو ان کا احساس تک نہیں ہوتا۔ 5 یعنی اللہ کی حمایت و نصرت نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (تم سورة العنکبوت فللہ الحمد و اللمنہ)